جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا اعزاز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ مئی ۲۰۱۱ء
اصل عنوان: 
نوجوانوں کے مقابلے اور مسابقت کا اصل میدان

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میرے لیے مادر علمی کی حیثیت رکھتا ہے اور میری تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ میں نے ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۹ء تک یہاں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ہے اور دورۂ حدیث کے ساتھ رسمی تعلیم سے فراغت بھی یہیں سے پائی ہے۔ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے ۱۹۵۲ء میں اس درسگاہ کا آغاز کیا، پھر ایک دو سال کے بعد والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی شریک کار ہوگئے اور تعلیمی نظام کی سربراہی انہوں نے سنبھال لی۔ ان کے ساتھ ہمارے ایک بزرگ استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی دامت برکاتہم بھی اس جدوجہد میں ابتدا سے شامل تھے جو آج کل جامعہ محمدیہ چائنہ چوک اسلام آباد میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہیں اور ضعف و علالت کے باوجود مسلسل تدریسی خدمات میں مصروف ہیں۔ مجھے تعلیمی و تدریسی ذوق حضرت والد صاحبؒ سے ملا ہے، فکری اور نظریاتی تربیت حضرت صوفی صاحبؒ کے زیر سایہ ہوئی ہے اور عملی سیاست اور تحریکی زندگی میں میرے سب سے پہلے استاذ اور مربی حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی ہیں۔ پہلے دو بزرگ دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، اللہ تعالٰی جنت الفردوس میں انہیں اعلٰی درجات سے نوازیں اور استاذ محترم حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی دامت برکاتہم کا سایہ صحت و عافیت کے ساتھ ہمارے سروں پر تا دیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین۔

اس وقت جامعہ نصرۃ العلوم کے تذکرے کا باعث گزشتہ دنوں کویت میں تجوید و قراءت کے حوالے سے منعقد ہونے والا بین الاقوامی مقابلہ ہے جس میں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ تجوید کے استاذ قاری وسیم اللہ امین نے عالمی سطح پر تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ قاری وسیم اللہ امین کا تعلق قلعہ دیدار سنگھ سے ہے، انہوں نے تجوید و قراءت کی ابتدائی تعلیم مدرسہ اشرف العلوم باغبانپورہ گوجرانوالہ میں حاصل کی اور پھر جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تجوید و قراءت کا کورس مکمل کر کے وہیں تدریس کا آغاز کر دیا۔ جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ تجوید و قراءت کے صدر مدرس مولانا قاری سعید احمد ہمارے عزیز شاگردوں میں سے ہیں، سبع عشرہ کے مستند قاری ہیں اور درس نظامی کے بھی فاضل ہیں، انہوں نے دورۂ حدیث جامعہ نصرۃ العلوم میں کیا، بہت اچھے لہجے میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں، تجوید پر ان کا تصنیف کردہ ایک کتابچہ بھی ہے، فن پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے استاذ ہیں، اور اگرچہ جسمانی طور پر معذور ہیں مگر تدریسی اور انتظامی صلاحیتوں سے بہرہ ور ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کا خوبی کے ساتھ مظاہرہ کر کے جامعہ کی نیک نامی کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ جامعہ نصرۃ العلوم کے بعض فضلاء اس سے قبل بھی متعدد بین الاقوامی مقابلوں میں امتیازی پوزیشنیں حاصل کر چکے ہیں:

  • ۲۵ جنوری ۲۰۰۷ء کو مکہ مکرمہ میں تحفیظ القرآن کا بین الاقوامی مقابلہ سعودی عرب کے محکمہ اوقاف کے زیراہتمام منعقد ہوا جس میں ۴۵ ممالک کے حفاظ شریک ہوئے، اس میں جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تجوید قاری محمد فرقان نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پانچویں پوزیشن حاصل کی اور قیمتی انعامات کے حقدار قرار پائے۔
  • ۲۳ ستمبر ۲۰۰۹ء کو مکہ مکرمہ میں منعقدہ عالمی مقابلے میں پچاس سے زائد ممالک کے حفاظ کے ساتھ شریک ہو کر جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تجوید قاری محمد طیب اشرفی نے ساتویں پوزیشن حاصل کی۔
  • سالِ رواں کے آغاز یعنی جنوری ۲۰۱۱ء کے پہلے ہفتے کے دوران مکہ مکرمہ میں تحفیظ القرآن الکریم کا بین الاقوامی مقابلہ منعقد ہوا جس کا اہتمام مسجد الحرام میں کیا گیا۔ اس میں پاکستان کی نمائندگی جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے استاذ قاری محمد یاسین کے فرزند حافظ عمار یاسر نے کی اور تیسری پوزیشن حاصل کر کے ایک لاکھ روپے نقد انعام اور شیلڈ کے مستحق قرار پائے۔ قاری محمد یاسین کا تعلق آزاد کشمیر ضلع باغ کے علاقہ تھب سے ہے اور حافظ عمار یاسر نے نصرۃ العلوم میں حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی ہے۔
  • مذکورہ بالا عالمی مقابلہ ۱۳ اپریل تا ۲۰ اپریل ۲۰۱۱ء دولتِ کویت کی وزارتِ اوقاف و شئون اسلامیہ کے زیر اہتمام کویت کے شیراٹن ہوٹل میں ہوا جس میں ۵۵ کے لگ بھگ ممالک کے قراء کرام نے حصہ لیا اور اس میں قاری وسیم اللہ امین نے تیسری پوزیشن حاصل کر کے امیر کویت سے ۹ لاکھ روپے کا نقد انعام اور اعزازی شیلڈ وصول کی۔ یہ بلاشبہ جہاں جامعہ نصرۃ العلوم کے لیے اعزاز ہے وہاں گوجرانوالہ شہر اور پاکستان کے لیے بھی اعزاز ہے کہ ان کی نمائندگی کرتے ہوئے قاری وسیم اللہ امین نے یہ امتیازی پوزیشن حاصل کی۔

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۹ مئی ۲۰۱۱ء کو ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت جامعہ نصرۃ العلوم کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نے کی جبکہ ملک کے معروف خطیب مولانا عبد الکریم ندیم مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، جمعیۃ علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الحئی آف دھیرکوٹ اور باغ آزاد کشمیر کے ضلع مفتی مولانا مفتی عبد الشکور شریک ہوئے جبکہ شہر کے علماء کرام اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ مولانا قاری سعید احمد، قاری وسیم اللہ امین اور حافظ عمار یاسر نے تلاوت کلام پاک سے حاضرین کو محظوظ کیا اور مولانا عبد الکریم ندیم نے اپنے مخصوص انداز میں قرآن کریم کی عظمت و حفاظت اور اعجاز و اعزاز کا تذکرہ کرتے ہوئے اس اعزاز پر جامعہ نصرۃ العلوم اور اس کے مذکورہ سپوتوں کو خراج تحسین پیش کیا، جبکہ راقم الحروف نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا۔

اسی طرح ۲۰ مئی کو جامع مسجد صدیق اکبر پیپلز کالونی گوجرانوالہ میں بھی ایک خصوصی تقریب ہوئی جس میں راقم الحروف کے علاوہ مفتی فخر الدین عثمانی، مولانا طارق جیلانی، مولانا ندیم احمد ندیم اور دیگر حضرات نے خطاب کیا اور قاری وسیم اللہ امین اور حافظ عمار یاسر سمیت جامعہ نصرۃ العلوم کے ممتاز فرزندوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس تقریب میں جامع صدیق اکبر کے خطیب مولانا ندیم احمد ندیم کے فرزند کی دستاربندی بھی کی گئی جنہوں نے حال ہی میں قرآن کریم مکمل حفظ کیا ہے۔

راقم الحروف نے اپنی گزارشات میں کہا کہ خیر کے کاموں میں مقابلے کی قرآن کریم نے ترغیب دی ہے اور اچھے کاموں میں صحت مندانہ مقابلہ پر ہی معاشرے اور تمدن کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر انسان میں آگے بڑھنے اور مقابلہ کرنے کا جذبہ نہ ہوتا تو انسانی معاشرہ اور تمدن کبھی تشکیل نہ پاتا اور جنگل کے جانوروں کی طرح انسانی سوسائٹی بھی اسی معیار پر زندگی بسر کرتی۔ قرآن کریم نے ’’وفی ذالک فلیتنافس المتنافسون‘‘ کہہ کر خیر کے کاموں میں مقابلے کی ترغیب دی ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متعدد مواقع پر اس مقابلے کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے بلکہ بعض مقابلوں میں خود بھی حصہ لیا ہے۔ آج ہمارے مقابلے جن میدانوں میں ہوتے ہیں وہ مسابقت کے صحیح اور اصل میدان نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور مسابقت کا اصل میدان دین اور علم ہے، خیر کے کام ہیں اور دینی خدمات ہیں۔ اس سے صلاحیتوں میں ترقی ہوتی ہے، استعداد بڑھتی ہے، معاشرے میں خیر کے کاموں کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور اس سب کچھ کے ساتھ ساتھ اجر و ثواب اور اللہ تعالٰی کی رضامندی بھی حاصل ہوتی ہے۔