حکمت عملی کا جہاد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ جنوری ۲۰۱۶ء

(گزشتہ دنوں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام آسٹریلیا مسجد لاہور میں منعقدہ سیرت کانفرنس میں ’’منافقین کے خلاف جہاد کی نبویؐ حکمت عملی‘‘ کے موضوع پر خطاب کا موقع ملا، اس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔)

بعد الحمد الصلوٰۃ۔ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالہ سے ایک پہلو پر آج چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا، قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے جناب نبی اکرمؐ کو حکم دیا يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْـهِـمْ۔ (سورہ التحریم ۶۶ ۔ آیت ۹) کہ اے نبیؐ! کافروں اور منافقین کے ساتھ جہاد کریں اور ان پر سختی کریں۔ چنانچہ آپؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کے دس سالہ دور میں کافروں کے خلاف مسلسل جہاد کیا۔ طبقات ابن سعدؒ کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرمؐ کے غزوات کی تعداد ستائیس ۲۷ ہے جو دس سال کے اندر ہوئے اور سارے جہاد کفار کے خلاف تھے جبکہ یہ بات غور طلب ہے کہ منافقین کے خلاف کون سا جہاد ہوا؟ اس لیے کہ دس سالہ مدنی دور میں منافقوں کے خلاف ایک بار بھی ہتھیار نہیں اٹھایا گیا، وہ مدینہ منورہ میں رہے اور سارے معاملات میں شریک رہے، شرارتیں بھی کرتے رہے اور بڑے بڑے فتنے انہوں نے کھڑے کئے مگر ایک بار بھی ان کے خلاف تلوار استعمال نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ جناب نبی اکرمؐ سے بعض سرکردہ منافقوں کو قتل کرنے کی اجازت مانگی گئی مگر جناب سرور کائنات ؐنے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

منافقوں نے اسلام کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف جو بڑی بڑی حرکتیں اور شرارتیں کیں ان میں سے چند کا ذکر کروں گا۔ غزوۂ احد کے موقع پر حضورؐ ایک ہزار کا لشکر لے کر احد کے دامن میں آئے تھے جن میں سے تین سو افراد رئیس المنافقین عبد اللہ بن أبی کی سربراہی میں میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے، یہ صریح غداری تھی اور وفاداری سے انحراف تھا۔ بعد میں وہ میدان احد میں مسلمانوں کو پہنچنے والے نقصانات پر طعنے بھی دیتے رہے جن کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ غزوۂ احد سے فارغ ہونے کے بعد خود مسلمانوں میں سے ایک گروہ نے اس بات کی تحریک کی کہ میدان احد سے واپس آجانے والے ان منافقوں کے خلاف جنگ لڑنی چاہئے اور جب اس پر باہمی اختلاف رائے ہو گیا تو قرآن کریم نے یہ فرما کر اس جنگ سے روک دیا کہ فَمَا لَكُمْ فِى الْمُنَافِقِيْنَ فِـئَـتَـيْنِ (سورہ النساء ۴ ۔ آیت ۸۸) کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہوں میں کیوں بٹ گئے ہو؟ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ نے منافقین کی حرکات کا قرآن میں تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا، ان کی مذمت بھی کی مگر مسلمانوں کو ان کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر قذف و تہمت کے حوالہ سے عبد اللہ بن أبی اور دیگر منافقین کا طرز عمل سب کے سامنے ہے، انہوں نے ایک ماہ تک مدینہ منورہ میں فتنہ بپا کیے رکھا۔ خود جناب رسول اللہؐ وحی آنے تک پریشانی کا شکار رہے، مسجد نبویؐ میں اس مسئلہ پر صحابہ کرامؓ میں جھگڑا ہوتے ہوتے رہ گیا۔ قرآن کریم میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی پاکدامنی کا اعلان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی مذمت کی مگر ان کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے گئے۔ حتیٰ کہ حضرت سعد بن معاذؓ نے کھلے اجتماع میں عبداللہ بن أبی کو قتل کر دینے کی بات کی مگر اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

ایک موقع پر عبد اللہ بن أبی اور اس کے چند ساتھیوں نے سفر کے دوران مہاجرین کے خلاف باتیں کیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ اب مدینہ منورہ واپس پہنچنے پر لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْـهَا الْاَذَلَّ (سورہ المنافقون ۶۳ ۔ آیت ۸) کہ ہم میں سے جو طاقت ور ہو گا وہ دوسروں کو مدینہ منورہ سے نکال دے گا۔ حضرت زید بن ارقم ؓ یہ باتیں سن رہے تھے، انہوں نے حضورؐ کو بتایا تو طلب کرنے پر منافقین نے آپؐ کے سامنے اتنی قسمیں کھائیں کہ آقائے نامدارؐ نے حضرت زید بن ارقمؓ کو ڈانٹ دیا اور ان کی رپورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس پر قرآن کریم میں سورۃ المنافقون نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ منافقوں کی قسمیں جھوٹی ہیں اور زید بن ارقمؓ نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے۔

یہ چند شرارتیں ہیں جو میں نے ذکر کی ہیں جبکہ مدینہ منورہ میں منافقوں نے شرارتوں اور فتنوں کا ماحول مسلسل قائم رکھا۔ حتیٰ کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر ایک جگہ چودہ منافقین گھات لگائے کھڑے تھے جنہوں نے جناب رسول اللہؐ کے وہاں سے گزرنے پر ان کو شہید کرنے کے ارادے سے گھیر لیا، انہوں نے اپنے منہ لپیٹ رکھے تھے۔وہ اپنے ناپاک منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکے مگر حضورؐ نے ان سب کو پہچان لیا۔ وہ سب کے سب مدینہ منورہ میں رہنے والے منافقین تھے، ان کے نام آپؐ نے اپنے ساتھی حضرت حذیفہؓ کو اس شرط کے ساتھ بتا دیے کہ وہ کسی اور کو اس سے آگاہ نہیں کریں گے۔ چنانچہ حضرت حذیفہؓ نے ان ناموں کو مرتے دم تک راز میں رکھا جس کی وجہ سے وہ صاحب سر رسول اللّٰہ یعنی رسول اللہؐ کے رازدار کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں۔

اس قسم کی حرکتوں پر بعض منافقوں بالخصوص عبد اللہ بن ابی کو قتل کرنے کی اجازت مانگی گئی اور اجازت مانگنے والوں میں حضرت عمرؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ بھی شامل ہیں، مگر آنحضرتؐ نے اجازت دینے سے انکار فرما دیا۔ اور اس کی وجہ یہ ارشاد فرمائی کہ

’’اس طرح لوگ یہ کہیں گے کہ محمدؐ نے اپنے کلمہ گو ساتھیوں کو بھی قتل کرنا شروع کر دیا ہے۔‘‘

ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ قرآن کریم میں منافقوں کے خلاف جہاد کرنے کے صریح حکم کے باوجود عملی صورت حال یہ رہی کہ حضورؐ نے نہ ان کے خلاف تلوار اٹھائی اور نہ ہی ان میں سے کسی کو قتل کرنے کی اجازت دی۔ حتیٰ کہ آپؐ کو شہید کرنے کیلئے گھیر لینے والے چودہ منافقوں کے ناموں کو بھی خفیہ رکھا جن کا حضرت حذیفہؓ کے سوا کسی کو پتہ نہیں چل سکا، یہ وہ کلمہ گو کافر ہیں جنہیں خود قرآن کریم نے کافر قرار دیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں تو اس کی بنیاد کسی استدلال و استنباط پر ہوتی ہے جس میں خطا کا احتمال بھی موجود ہوتا ہے۔ لیکن ان کلمہ گو منافقوں کو قرآن کریم نے وماھم بمؤمنین اور انھم لکاذبون کہہ کر کافر قرار دیا مگر انہیں قتل کرنے اور ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی اس لیے کہ وہ کافر ہونے کے باوجود ’’کلمہ گو‘‘ تھے۔

سوال یہ ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے ان کلمہ گو کافروں کے خلاف جنگ نہیں لڑی اور ان میں سے کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی تو منافقوں کے خلاف جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کے اس حکم کا کیا ہوا جو قرآن کریم میں آج بھی موجود ہے؟ کیا یہ سوچا بھی جا سکتا ہے کہ حضورؐ نے اس قرآنی حکم پر عمل نہیں کیا؟ ایسا نہیں ہے بلکہ رسول اکرمؐ نے اس حکم پر پورا عمل کیا، منافقوں کے خلاف جہاد کیا، لیکن وہ جہاد تلوار کا نہیں بلکہ حکمت عملی کا تھا جس کے نتیجے میں حضورؐ کے دور میں ہی یہ منافقین ختم ہو گئے تھے۔ چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان منافقوں کا تاریخ میں کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔

یہ حکمت عملی کا جہاد کیا تھا اسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلہ میں پہلی بات تو وہی ہے جو میں نے ذکر کی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ دنیا کو یہ تاثر اور پیغام نہیں دینا چاہتے تھے کہ وہ اپنے کلمہ گو ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں اس لئے کہ اس سے اسلام کی دعوت کو نقصان پہنچتا ہے اور باقی دنیا کے سامنے مسلمانوں کا تعارف صحیح نہیں رہتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جناب نبی اکرم ؐ کی حکمت عملی یہ تھی کہ منافقین کا یہ گروہ مدینہ منورہ میں اپنا الگ تشخص قائم نہ کر سکے، اس کا امکان سب سے پہلے غزوہ احد کے موقع پر پیدا ہوا تھا جب منافقین تین سو کی تعداد میں الگ ہو گئے تھے۔ ایک ہزار میں سے تین سو کا الگ ہو جانا ان کی طرف سے قوت کا اظہار تھا اور اپنے الگ تشخص کی علامت بھی تھی۔ اگر اس موقع پر ان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے جاتے تو مدینہ منورہ کے اندر ایک مستقل محاذ قائم ہو جاتا اور مسلم سوسائٹی لوگوں کی نظروں میں دو حصوں میں بٹ جاتی۔ آنحضرتؐ نے اس صورت حال سے بچنے کیلئے ان کی اتنی بڑی حرکت کو نظر انداز کر دیا اور ان کے خلاف کوئی عملی کاروائی نہیں کی گویا ان کے اس وار کو حکمت عملی سے ناکام بنا دیا۔

دوسرا موقع ’’مسجد ضرار‘‘ کی تعمیر کا تھا۔ یہ بھی منافقین کی طرف سے اپنے الگ تشخص کے اظہار کی کوشش تھی جسے قرآن کریم نے كُفْرًا وَّتَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ (سورہ التوبہ ۹۔ آیت ۱۰۷) سے تعبیر کیا ہے۔حضورؐ نے کمال حکمت عملی سے یہ مسجد تو ختم کر دی مگر ان منافقین کے خلاف کوئی ایکشن نہ لے کر ان کے الگ تشخص اور گروہ بندی کے امکانات بھی ناکام بنا دیے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاد جس طرح تلوار سے ہوتا ہے اسی طرح حکمت عملی سے بھی ہوتا ہے۔ جہاں تلوار کی ضرورت ہے وہاں ہتھیار اٹھانا جہاد ہے اور جہاں حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے وہاں حکمت و دانش سے کام لینا اور ہتھیار نہ اٹھا نا بھی جہاد ہی کہلاتا ہے۔ آج کے دور میں اور دنیا کے موجودہ حالات میں اس حکمت نبویؐ کو سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: