اقبالؒ کا تصور اجتہاد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۶ء

علامہ محمد اقبالؒ جنوبی ایشیا میں امت مسلمہ کے وہ عظیم فکری راہ نما تھے جنہوں نے اس خطے پر برطانوی استعمار کے تسلط اور مغربی فکر وثقافت کی یلغار کے دور میں علمی، فکری اور سیاسی شعبوں میں ملت اسلامیہ کی راہ نمائی کی اور ان کی ملی جدوجہد کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی نئی نسل اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو مغرب کے فکر وفلسفہ اور تمدن وثقافت سے مرعوب ہونے اور اس کے سامنے فکری طور پر سپر انداز ہونے سے محفوظ رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ انہوں نے تہذیب مغرب کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ بے لچک وفاداری، اپنے ماضی کے ساتھ وابستگی اور اپنی اسلامی شناخت کو باقی رکھنے کا سبق دیا اور پھر اس اسلامی شناخت کے جداگانہ وجود کے لیے ایک الگ مسلم ریاست کے قیام کی طرف جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی عملی راہ نمائی کی جس کے نتیجے میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مستقل ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔

یہ اسلام کے اعجاز کا اظہار تھا کہ جب یورپ کو مذہب کے ساتھ ریاست کا تعلق ختم کیے ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا، صدیوں سے چلی آنے والی اسلامی خلافت کے مرکز ترکی نے ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے اس تصور کو قبول کر کے سیکولر ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور کم وبیش ساری دنیا میں مذہب کو ریاستی معاملات سے بے دخل کر نے کا عمل تیزی سے جاری تھا۔ اس طوفانی دور میں جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے اس آندھی کے مخالف سمت سفر کا آغاز کیا اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے صرف دو عشروں کے بعد اسلام کے نام پر اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ایک نیا ملک قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے جسے بلاشبہ علامہ محمد اقبالؒ کی فکری راہ نمائی کا کرشمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ ایک عظیم فلسفی، مفکر، دانشور اور شاعر تھے جنہوں نے اپنے دور کی معروضی صورت حال کے کم وبیش ہر پہلو پر نظر ڈالی اور مسلمانوں کو ان کے مستقبل کی صورت گری کے لیے اپنی سوچ اور فکر کے مطابق راہ نمائی مہیا کی۔ وہ پیغمبر اور معصوم نہیں تھے کہ ان کی ہر بات کو الہام اور وحی کے طور پر آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا جائے اور نہ ہی اس دور کے معروضی حالات جامد وساکت تھے کہ ان کی بنیاد پر قائم کی جانے والی کسی رائے اور موقف کوحتمی قرار دے دیا جائے- البتہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنی دانست اور علمی بساط کی حد تک امت مسلمہ کو ملی معاملات میں بھرپور راہ نمائی مہیا کرنے کی کوشش کی اور بہت سے امور میں امت کے مختلف طبقات نے اس راہ نمائی سے عملی فائدہ اٹھایا۔

علامہ محمد اقبالؒ نے اجتماعی زندگی کے جن میدانوں کو اپنی فکری تگ وتاز کی جولان گاہ بنایا، ان میں ملت اسلامیہ کی تہذیبی، معاشرتی اور ثقافتی زندگی کا وہ فکری خلا بھی تھا جو مسلمانوں کے علمی وسیاسی زوال اور اس کے پہلو بہ پہلو مغرب کے سائنسی وصنعتی عروج اور دنیا پر اس کی سیاسی وعسکری بالادستی کے پس منظر میں بہت زیادہ نمایاں دکھائی دینے لگا تھا۔ مسلمانوں کے دور عروج میں جہاں وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات یعنی قرآن وسنت کے علوم کی تحقیقات وتشریحات اور انسانی معاشرت کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ان کے انطباق کا علمی سفر مسلسل جاری تھا، وہاں سائنسی وعمرانی علوم میں ارتقا اور پیش رفت بھی گاڑی کے دوسرے پہیے کا کردار ادا کر رہی تھے لیکن بدقسمتی سے اندلس کے مغرب کے سامنے سپر انداز ہو جانے کے بعد قائم ہونے والی دو بڑی مسلم سلطنتوں خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت کو عمرانیا ت اور سائنس وٹیکنالوجی کے ساتھ وہ دل چسپی نہیں تھی جو معاصر اقوام کے ساتھ زندگی کے سفر میں برابری اور توازن قائم رکھنے کے لیے ضروری تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم ’’ون ویلنگ‘‘ کرتے ہوئے جتنی دیر چل سکے، چلتے رہے اور جب اس مسابقت کا دوسرا فریق بہت زیادہ آگے نکل گیا تو ہم آہستہ آہستہ لڑھکتے ہوئے غلامی کے کھڈے میں جا گرے۔

یہ بھی اسی المیہ کا ایک حصہ ہے کہ وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے انسانی زندگی اور معاشرت کے ساتھ انطباق کے حوالے سے بھی ہم نے اس وقت تک ہو جانے والے علمی کام پر قناعت کر لی اور مزید پیش رفت کی رفتار اس قدر کم کر دی کہ اس کے مقابل دوسری طرف نظر آنے والی تیز رفتاری کے سامنے وہ بالکل جمود اور سکتہ کا منظر پیش کرنے لگی۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اجتہاد کے بند ہونے کے حوالے سے اپنے خطبے میں جو کچھ کہا ہے، وہ اسی خلا کی نشان دہی ہے لیکن وہ خود مجتہد اور فقیہ نہیں تھے اور نہ ہی اجتہاد اور فقہ سے ان کا کبھی عملی واسطہ رہا ہے، اس لیے ایک مفکر اور فلسفی کے طور پر خلا کی نشان دہی اور اسے پر کرنے کی ضرورت کا احساس دلانے کی حد تک ان کی بات بالکل درست ہے، مگر اس کے عملی پہلووں، ترجیحات اور دائرۂ کار کا تعین چونکہ ان کے شعبہ کا کام نہیں تھا، اس لیے اس باب میں ان کے ارشادات پر گفتگو کی خاصی گنجایش موجود ہے اور یہ گفتگو اس موضوع کا تقاضا بھی ہے۔

بعض روایات کے مطابق علامہ محمد اقبالؒ نے اس حوالے سے علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ ، علامہ سید سلیمان ندویؒ ، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اور دیگر اہل علم سے جو توقعات وابستہ کر لی تھیں اور ا س سلسلے میں بعض رابطوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے، میرے خیال میں اس کا پس منظر یہی تھا اور اس ضمن میں ایک روایت مجھ تک پہنچی ہے جس کا اس مرحلہ پر ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ صاحب ۱۹۴۴ سے ۱۹۸۲ تک خطیب رہے اور اس کے بعد سے یہ ذمہ داری میرے سپرد ہے۔ وہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کے شاگرد تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کا دار العلوم دیوبند کی انتظامیہ سے اختلاف ہوا اور شاہ صاحبؒ نے دار العلوم سے الگ ہو جانے کا فیصلہ کیا تو علامہ محمد اقبال ؒنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ شاہ صاحب لاہور آ جائیں کیونکہ فقہ اسلامی کی تجدید کا جو کام ان کے ذہن میں ہے، وہ ان کے خیال میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور وہ یعنی علامہ اقبالؒ مل کر کر سکتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کے کہنے پر لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے اس مقصد کے لیے مسجد اور اس کے ساتھ ایک علمی مرکز تعمیر کرایا گیا جو لاہور کے ایک تاجر خواجہ محمد بخش مرحوم نے، جو آسٹریلیا میں تجارت کرتے تھے، علامہ اقبالؒ کے کہنے پر تعمیر کیے۔ اسی حوالے یہ آسٹریلیا مسجد اور اس کے ساتھ ’’آسٹریلیا وقف بلڈنگ‘‘ کہلاتا ہے ، مگر علامہ انور شاہ کاشمیری اس کے لیے تیار نہ ہوئے او رمولانا مفتی عبد الواحدؒ کے بقول اس کی وجہ یہ تھی کہ شاہ صاحبؒ کے لاہور میں ڈیرہ لگانے کی صورت میں دار العلوم دیوبند کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا جو وہ کسی حالت میں نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے لاہور آنے سے انکار کر دیا اور پھر ان کے کہنے پر انہی کے ایک شاگرد حضرت مولانا عبد الحنان ہزارویؒ کو آسٹریلیا مسجد کا خطیب مقرر کیا گیا۔ یہ حالات کے جبر کا ایک پہلو تھا کہ علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ لاہور آنے پر آمادہ نہ ہوئے، ورنہ اپنے وقت کی یہ دو عبقری شخصیات مل کر اس کام کے لیے بیٹھ جاتیں تو آج کی علمی اور فقہی دنیا کا منظر بالکل مختلف ہوتا۔

میرا یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ فکری اور نظری طور پر اجتہاد کی ضرورت کا ضرور احساس دلا رہے تھے اور ان کی یہ بات وقت کا ناگزیر تقاضا تھی، لیکن اس کے عملی پہلوؤں کی تکمیل کے لیے ان کی نظر ان علمائے کرام پر تھی جو قرآن وسنت کے علوم سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور اجتہاد کی اہلیت سے بہرہ ور تھے، چنانچہ اجتہاد کے بارے میں اپنے خطبہ میں پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دینے کی بات کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ ایک جگہ فرماتے ہیں:

’’یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ کسی جدید مسلم مجلس آئین کی قانون سازی کے بارے میں جس کی ترکیب کم از کم موجودہ حالات میں ایسے ہی اشخاص سے ہو سکتی ہے جنہیں زیادہ تر قانون اسلام کی باریکیوں کا علم نہیں ہے۔ ایسی مجلس آئین ساز قانون کی تشریح کرتے وقت بڑی سخت غلطیوں کی مرتکب ہو سکتی ہے۔ ہم کسی طرح ایسی تشریحی غلطیوں کے امکانات کی مکمل پیش بندی یا کم از کم انھیں گھٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ۱۹۰۶ء کے ایرانی دستور میں دنیاوی امور سے واقف علماے مذہب کی ایک علیحدہ کمیٹی بنا دی گئی ہے جسے مجلس کے عمل قانون سازی کی نگرانی اور دیکھ بھال کا اختیار ہوگا۔ میری رائے میں یہ خطرناک التزام شاید ایرانی نظریہ قانون کی رو سے ضروری سمجھ کر کیا گیا ہے۔ ا س نظریہ قانون کی رو سے بادشاہ ملک وسلطنت کا محض امین ہے جو درحقیقت امام غائب کی ملک ہے۔ علما، امام غائب کے نمائندوں کی حیثیت سے پوری زندگی کی نگرانی اور دیکھ بھال اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگرچہ میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ امام غائب کے اس سلسلہ جانشینی کی غیر موجودگی میں وہ کس طرح نیابت امام کا حق ثابت کر سکتے ہیں، بہرحال ایران کا دستوری نظریہ چاہے کچھ ہی ہو، یہ التزام خطرے سے خالی نہیں۔ اگر حنفی ممالک میں اس تجربہ کو دہرایا بھی جائے تو وہ محض عارضی اور وقتی ہونا چاہیے۔ ۔ علما کو خود مجلس آئین ساز کا نہایت اہم اور مرکزی عنصر ہونا چاہیے تاکہ قانون سے متعلقہ مسائل پر آزادانہ مباحث کی معاونت وراہ نمائی کر سکیں۔ غلط تشریحات کو روکنے کا موثر علاج صرف یہی ہے کہ اسلامی ممالک میں قانون کے رائج الوقت نظام تعلیم کی اصلاح کی جائے، اس کا دائرہ وسیع کیا جائے اور اس کی تحصیل کے ساتھ جدید اصول قانون کا گہرا مطالعہ بھی شامل کر دیا جائے۔‘‘

خطبہ اجتہاد کے اس اقتباس کے دیگر بہت سے پہلوؤں سے قطع نظر یہاں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک عملی اجتہا دکا تعلق ہے اور قرآن وسنت کی جدید تعبیر وتشریح کا سوال ہے، وہاں علامہ اقبالؒ علماے کرام ہی کو اس کا بنیادی کردار سمجھتے ہیں اور اسلامی علوم سے بے بہرہ افراد پر مشتمل پارلیمنٹ سے قرآن وسنت کی تشریح میں بڑی سخت غلطیوں کے ارتکاب کے خطرہ سے وہ نہ صرف پوری طرح آگاہ ہیں بلکہ اس کے علاج کے طور پر علماء کرام کو مجلس آئین ساز کے ’’نہایت اہم اور مرکزی عنصر‘‘ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

جہاں تک ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا تعلق ہے کہ اجتہاد کے لیے اصول وضوابط ازسرنو وضع کیے جائیں، اس ضمن میں علامہ محمد اقبالؒ اپنے مذکورہ خطبہ میں فرماتے ہیں:

’’اس مقالے میں مجھے اجتہاد کے پہلے درجے یعنی اجتہاد مطلق کے متعلق کچھ کہنا ہے۔ اہل سنت اس درجہ اجتہاد کے نظری امکانات کے تو قائل ہیں لیکن جب سے مذاہب فقہ کی ابتدا ہوئی ہے، عملی طور پر اسے اس لیے نہیں مانتے کہ مکمل اجتہاد کے لیے جن قیود وشرائط کی حصار بندی کر دی گئی ہے، ان کا کسی ایک فرد واحد میں مجتمع ہونا قریب قریب ناممکن ہے۔‘‘

میرے خیال میں اگر اس مسئلے کا ایک اور پہلو سے جائزہ لے لیا جائے تو شاید اہل سنت کے موقف پر اس اعتراض کی ضرورت باقی نہ رہے۔ وہ یہ کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہو جانے کا تعلق اہلیت وصلاحیت کے فقدان یا شرائط کے مجتمع نہ ہونے سے نہیں بلکہ ضرورت مکمل ہو جانے سے ہے، اس طور پر کہ جس طرح ہر علم اور فن میں بنیادی اصول وضوابط طے ہونے کا تاریخ میں ایک بار ہی موقع آتا ہے اور جب وہ ایک بار طے ہو جاتے ہیں تو پھر وہ علم ہمیشہ کے لیے انہی بنیادی ضوابط کے حصار کا پابند ہو جاتا ہے اور اس کے لیے بنیادی اصول بار بار وضع نہیں کیے جاتے۔ کسی بھی علم وفن کو دیکھ لیجیے، اس کے چند اساسی قوانین ایسے ہوتے ہیں جو متبدل نہیں ہوتے اور اس علم اور فن کا تمام تر ارتقا انہی اساسی قوانین کی روشنی میں ہوتا رہتا ہے۔ ان اساسی قوانین کی دوبارہ تشکیل کا دروازہ اس لیے بند نہیں ہوتا کہ کسی نے اسے بند کر دیا ہے یا اب کسی میں اس کی صلاحیت نہیں رہی، بلکہ اس دروازے کے بند ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔ اسی طرح قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح اور اجتہاد کے اصول وضع ہونے کا ایک دور تھا جب دو چار نہیں بلکہ بیسیوں فقہی مذاہب وجود میں آئے مگر ان میں سے پانچ چھ کو امت میں قبول حاصل ہوا اور باقی تاریخ کی نذر ہو گئے۔ اب کسی نئے فقہی مذہب کے اضافے کی گنجایش نہیں ہے، اس لیے نہیں کہ اس کا دروازہ کسی نے بند کر دیا ہے یا اس کی صلاحیت واہلیت ناپید ہو گئی ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ کام ایک بار مکمل ہو جانے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں رہی اور ان مسلمہ فقہی مذاہب کے اصول وقوانین میں وہ تمام تر گنجایشیں اور وسعتیں موجود ہیں جن کی روشنی میں ہر دور کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ کے مذکورہ خطبہ کے حوالے سے ایک اور بات کو پیش رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس خطبے کا بیشتر حصہ ترکی کی فکری اور دستوری نشاۃ ثانیہ کے پس منظر میں ہے جس کے بارے میں علامہ اقبالؒ کا یہ خیال اس خطبے میں صاف طور پر جھلکتا ہے کہ شاید یہ اجتہاد کا عمل تھا جس کے ذریعے ترکی اسلام اور مسلمانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتا تھا، لیکن وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ کا یہ خیال اور تاثر درست نہ تھا، اس لیے کہ جدید ترکی کا یہ عمل اسلام میں اجتہاد کا نہیں بلکہ اس سے انقطاع اور یورپ کی طرح مذہب کو ریاستی معاملات سے کلیتاً بے دخل کر دینے کا تھا جس کا رد عمل خود ترکی میں سامنے آ چکا ہے اور جس کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ یورپی یونین کی جس رکنیت کے لیے ترکی نے یہ ساری قربانیاں دی تھیں، پون صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اس کے لیے ابھی تک ایک موہوم خواب ہی کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس مرحلے میں اس تاریخی حقیقت کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب علماے کرام کو نئی ریاست کی دستوری حیثیت کا تعین کرنے کے لیے فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے ماضی کی روایات سے بے لچک طو رپر بندھے رہنے کے بجائے وقت کے تقاضوں اور علامہ اقبالؒ کی فکر کا ساتھ دیا جس کی واضح مثال قرارداد مقاصد اور تمام مکاتب فکر کے ۲۲ سرکردہ علماے کرام کے ۳۱ متفقہ دستوری نکات میں خلافت عثمانیہ کے خاندانی اور موروثی نظام کی بحالی پر زور دینے کے بجائے عوام کی رائے اور مرضی کو حکومت کی تشکیل کی بنیاد تسلیم کرنے کی صورت میں موجود ہے۔ اسی طرح عقیدۂ ختم نبوت کے منکر قادیانیوں کو مرتد کا درجہ دے کر فقہی احکام کے مطابق گردن زدنی قرار دینے کے بجائے علامہ اقبالؒ کی تجویز کی روشنی میں غیر مسلم اقلیت کی حیثیت دے کر ان کے جان ومال کے تحفظ کے حق کو تسلیم کرنا بھی ملک کے علما کا ایک ایسا اجتہادی فیصلہ ہے جس کے پیچھے علامہ محمد اقبالؒ کی فکر کارفرما دکھائی دیتی ہے، جبکہ ۷۳ء کے دستور میں پارلیمنٹ کو قرآن وسنت کے اصولوں کی پابندی کی شرط پر قانون سازی کی حتمی اتھارٹی تسلیم کیے جانے کو بھی اسی تسلسل کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

آخر میں علامہ اقبالؒ کے خطبہ اجتہاد کے حوالے سے ایک بات اور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ ماضی کے اجتہادات کو حتمی نہ سمجھا جائے اور ان کے بارے میں نظر ثانی کا دروازہ کھلا رکھا جائے۔ اگرچہ اس بارے میں ہم تحفظات رکھتے ہیں، کیونکہ اس بحث کی خاصی گنجایش موجود ہے کہ ماضی کے کون سے اجتہادات میں نظر ثانی کی ضرورت ہے اور کون سے اجتہادات میں یہ ضرورت موجود نہیں ہے، مگر ایک بات کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس ’’خطبہ اجتہاد‘‘ پر بھی تو پون صدی گزر چکی ہے۔ اس پون صدی میں دنیا کے ماحول اور عالم اسلام کے حالات میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں، ان پلوں کے نیچے سے بہت سے مزید پانی بہہ چکا ہے اور یقیناًآج کے معروضی حالات اور ضروریات کا نقشہ وہ نہیں ہے جو پون صدی پہلے کا تھا۔ اس لیے کیا ضروری ہے کہ ہمارے ذہنوں کی سوئیاں ۱۹۳۰ء پر ہی رکی رہیں اور کیا ہم ۲۰۰۶ کے عالمی تناظر اور بین الاقوامی ماحول میں اپنی ضروریات اور ترجیحات کا ازسرنو جائزہ نہیں لے سکتے؟