حافظ خلیل الرحمن ضیاء مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

صبح نماز کے لیے نیند سے بیدار ہوا تو موبائل فون پر پہلا میسج یہ پڑھنے کو ملا کہ ہمارے پرانے دوست اور ساتھی حافظ خلیل الرحمن ضیاء کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حافظ خلیل الرحمن ضیاء گوجرانوالہ کے معروف صحافی تھے، جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے بلکہ میرے دورہ حدیث کے ساتھی تھے۔ ان کے والد محترم مولانا نور الدین رحمہ اللہ تعالیٰ گوجرانوالہ کے ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جنہیں پورے علاقے میں ولی سمجھا جاتا تھا۔ اور وہ ولی ہی تھے کہ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے تلامذہ اور مریدین میں ان کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ ان کے ہاں بے تکلفی سے کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ حالانکہ حضرت لاہوریؒ کی سفر کے دوران کھانے پینے کے معاملہ میں احتیاط سب دوستوں کو معلوم ہے۔ ہاتھ سے محنت مزدوری کر کے اپنا خرچہ چلاتے تھے اور ساری عمر لوگوں کو حضرت لاہوریؒ کی طرز پر قرآن کریم کا ترجمہ پڑھاتے اور مساجد میں درس دیتے ہوئے گزار دی۔

حافظ خلیل الرحمن ضیاء درس نظامی کی تعلیم سے میرے ساتھ فارغ ہوئے اور صحافت سے منسلک ہوگئے۔ ہفت روزہ نوائے گوجرانوالہ اور ہفت روزہ احباب کے ایڈیٹر رہے۔ اور روزنامہ جنگ، وفاق اور اخبار جہاں کے رپورٹر کے طور پر ایک عرصہ تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ان دنوں گوجرانوالہ میں پاکستان ٹی وی کے نمائندہ خصوصی تھے۔ تراویح میں قرآن کریم سنانے کا معمول آخر تک قائم رکھا، اپنے گھر میں ہر سال اہتمام کرتے تھے۔ اور ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی تھی کہ ختم قرآن کریم کے موقع پر میں ضرور حاضری دوں، جس کا بہت دفعہ موقع حاصل ہوا۔

اللہ تعالیٰ حافظ خلیل الرحمن ضیاء کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔