حفظ حدیث کا ذوق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱ مئی ۲۰۱۵ء

گزشتہ ماہ کے دوران ملک کے مختلف شہروں کے دینی مدارس میں بخاری شریف کے آخری سبق کی بیسیوں مجالس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور تھوڑی بہت گفتگو کا موقع بھی ملا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے مگر دو روز قبل شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں ایک ایسی تقریب میں حاضری کا شرف حاصل ہوا ہے جس کی خوشی کے اظہار کے لیے یقیناًمیرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

پرانے دور میں احادیث کو زبانی یاد کرنے کا ذوق پایا جاتا تھا اور قرآن کریم کی طرح حدیث کے حفاظ بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ یہ شوق رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے اور آج احادیث کو اہتمام کے ساتھ یاد کرنے اور یاد کرانے کا کوئی نظم کم از کم ہمارے علم میں نہیں ہے۔ قریب کے دور میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ اس شرف کے ساتھ موصوف تھے کہ انہیں ہزاروں احادیث سند اور متن کے ساتھ یاد تھیں جن کی تعداد دس ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ وہ ہر مجلس میں احادیث سنانے کا ذوق رکھتے تھے۔ مجھے کم و بیش دو عشروں تک ان کی مجالس میسر رہی ہیں اور یہ یاد نہیں ہے کہ خلوت یا جلوت کی کوئی مجلس ایسی ہو جس میں انہوں نے کوئی نہ کوئی حدیث نہ سنائی ہو۔ وہ ’’فنا فی حدیث الرسول‘‘ تھے اور اکثر یہ پڑھا کرتے تھے کہ

ما ہر چہ خواندہ ایم فراموش کردہ ایم
الا حدیثِ یار کہ تکرار می کنیم
یعنی ہم نے جو کچھ بھی پڑھا ہے سب بھلا دیا ہے سوائے دوست کی باتوں کے جن کا ہم تکرار کرتے رہتے ہیں۔

یقیناً اب بھی کچھ بزرگ اس ذوق کے ہوں گے جو ہمارے علم میں نہیں ہیں، اس لیے چند ماہ قبل حضرت درخواستیؒ کے فرزند ارجمند مولانا فداء الرحمن درخواستی کے ساتھ حسن ابدال میں ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارہ ’’مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ ‘‘ میں اس بات پر مشاورت ہوئی کہ حفظ حدیث کے اس ذوق کو زندہ کرنے کے لیے کوئی صورت اختیار کرنی چاہیے اور ذہین نوجوان علماء کرام کو توجہ دلانی چاہیے کہ وہ محدثین کی اس روایت کے احیاء کے لیے محنت کریں۔

اس فضا میں گزشتہ روز شاہکوٹ جانا میرے لیے اس خوشخبری کا باعث بنا کہ ایک نوجوان عالم دین نے تن تنہا اس کا آغاز کر دیا ہے۔ شاداب ٹیکسٹائل ملز شاہکوٹ کی جامع مسجد کے امام مولانا محمد طیب کہتے ہیں کہ انہیں ایک موقع پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں نصیب ہوئی جن کے پاس چند حفاظ حدیث بزرگ بیٹھے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یعنی مولانا محمد طیب سے کہا کہ وہ بھی ان کے پاس بیٹھ جائیں۔ وہ تھوڑی دیر وہاں بیٹھے اور اس کے بعد ان کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اس کی تعبیر یہ سمجھے کہ انہیں حدیث نبویؐ یاد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے بخاری شریف حفظ کرنا شروع کر دی اور کچھ عرصہ میں مکمل یاد کر لی۔ اس کے بعد انہوں نے دوسرے دوستوں کو بھی ترغیب دینا شروع کی۔ شاداب مل کے قریب ہی مسجد عائشہؓ کے امام مولانا محمد عابد، فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور اس پر آمادہ ہوئے اور انہی سے بخاری شریف یاد کرنا شروع کر دی۔ انہوں نے کم و بیش دو سال میں پوری بخاری شریف یاد کر لی اور آخری سبق سنانے کے لیے شاداب ملز کی مسجد میں اس تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ان سے بخاری شریف کی آخری روایت سننے کا اعزاز میں نے حاصل کیا۔

میرے لیے یہ بات بھی بے حد خوشی کی تھی کہ مولانا محمد طیب جنہوں نے خود بخاری شریف یاد کر کے اپنے ایک دوست کو یاد کرائی، جامعہ نصرۃ العلوم کے فضلاء میں سے ہیں اور ان کی شادی گکھڑ میں ہوئی ہے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ان کا نکاح بھی ہمارے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے پڑھایا تھا۔ لیکن جب وہ اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ انہوں نے حضرت شیخ ؒ کی قبر پر برکت اور ایصال ثواب کے لیے بخاری شریف کی کتاب الایمان زبانی پڑھی ہے تو میرے دل میں رشک و حسرت کے جذبات امڈتے ہوئے آنکھوں تک جا پہنچے تھے۔

اس پر مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آگیا کہ روسی استعمار سے ازبکستان کی آزادی کے بعد ایک موقع پر مولانا مفتی نظام الدین شامزئیؒ ، مولانا فداء الرحمن درخواستی، مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ ، مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ ، اور دیگر علماء کرام کے ساتھ ازبکستان جانے کا موقع ملا تو ہم تاشقند اور سمرقند کے مختلف مراکز کے علاوہ خرتنگ میں حضرت امام بخاریؒ کی قبر پر بھی حاضر ہوئے۔ہماری حاضری وہاں دعا کے لیے تھی مگر مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ اپنے ساتھ بخاری شریف لے کر گئے تھے۔ ان کے کہنے پر ہم سب وہاں بیٹھ گئے اور انہوں نے بخاری شریف کی آخری روایت وہاں اس انداز سے پڑھی جیسے کوئی شاگرد اپنے استاذ کو سبق سنا رہا ہو۔ ہم بھی ان کے سامعین میں تھے اور اس سعادت میں شریک تھے۔

بہرحال مولانا محمد طیب اور مولانا محمد عابد کا یہ ذوق دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی اور دل میں ایک امید سی پیدا ہوگئی ہے کہ اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو ماضی کی اس بابرکت روایت کا احیاء کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی
درجہ بندی: