علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا ’’درس نظامی گروپ‘‘

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ سماجی علوم کے ڈین ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی گزشتہ دنوں برطانیہ کے دورے پر آئے اور لندن، برمنگھم، نوٹنگھم، ہڈر شفیلڈ، اور شفیلڈ میں سیرت النبیؐ کے عنوان پر مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔ یہ دورہ انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم برمنگھم کے مہتمم مولانا قاری تصور الحق کی دعوت پر کیا اور وہ اس مدرسہ کی آٹھویں سالانہ سیرت کانفرنس میں مہمان خصوصی تھے جو 28 جون کو نیزبی سنٹر آلم راک برمنگھم میں مولانا ڈاکٹر اختر الزمان غوری کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ اور مندرجہ بالا شہروں میں مدرسہ قاسم العلوم کی طرف سے منعقدہ دیگر سیرت کانفرنسوں میں انہوں نے اظہار خیال کیا۔ ان اجتماعات میں راقم الحروف کو بھی شرکت اور خطاب کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے جامعۃ الہدٰی نوٹنگھم کی تعلیمی مشاورت میں شرکت کی۔ اور ان کی روانگی سے ایک روز قبل ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے ان کے اعزاز میں دارالامہ کمرشل روڈ لندن ایسٹ میں خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس میں سرکردہ علماء کرام، ماہرین تعلیم، اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ڈاکٹر صاحب تعلیمی شعبہ کے آدمی ہیں اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے ممتاز فضلاء میں شمار ہونے کے علاوہ عصری علوم پر بھی اچھی خاصی دسترس رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کی گفتگو کا دائرہ زیادہ تر تعلیمی امور تک محدود رہا اور انہوں نے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کو تعلیمی امور کے حوالہ سے ان کی بنیادی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔

ڈاکٹر طفیل ہاشمی کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں پاکستان میں بچوں کو گھر، مسجد، سکول، اخبارات، ریڈیو، ٹی وی، اور سوسائٹی کے مختلف حوالوں سے اسلام کے بارے میں معلومات کچھ نہ کچھ ملتی رہتی ہیں، اس لیے سمجھے بغیر قرآن کریم کی ناظرہ تعلیم کسی حد تک کفایت کر جاتی ہے۔ لیکن مغربی ممالک میں نئی نسل کو دین سے آگاہ کرنے کا واحد ذریعہ دینی مکاتب ہیں جو مساجد میں قائم ہیں اور شام کو دو گھنٹے قرآن کریم کی تعلیم دیتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے پاس دینی معلومات حاصل کرنے کا اور کوئی کارآمد ذریعہ موجود نہیں ہے۔ اس لیے ان ذیلی مکاتب میں قرآن کریم کی صرف ناظرہ تعلیم پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ایک پیریڈ ایسا ضرور رکھا جائے جس میں انہیں ان کی زبان میں اور ان کی ذہنی نفسیات کے مطابق بنیادی دینی معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ دین کے ضروری امور سے باخبر ہو سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی پود کو دینی تعلیم دینے والے اساتذہ کی تربیت کا بطور خاص اہتمام کیا جائے اور انہیں انگلش میں اچھی گفتگو کی صلاحیت پیدا کرنے اور بچوں کی نفسیات پر عبور حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے، کیونکہ اس کے بغیر وہ بچوں کو مطمئن نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ماحول میں پرورش پانے والا بچہ کسی بھی بات کو ماننے سے پہلے اس کی وجہ جاننا چاہتا ہے اور سمجھے بغیر کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ اس لیے اساتذہ کی ایسی تربیت ضروری ہے کہ وہ اسلامی عقائد و احکام کی فلاسفی سے خود بھی واقف ہوں اور بچوں کو ان کی زبان میں اچھی طرح سمجھا سکیں۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ دنیا کے ہر انسان تک اسلام کی دعوت پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے اور نبوت کا دروازہ بند ہو جانے کے بعد دعوت اسلام کی ڈیوٹی اجتماعی طور پر ملت اسلامیہ کو منتقل ہوگئی ہے۔ اس لیے ہمارا اصل کام تو یہ ہے کہ اس غیر مسلم معاشرہ میں اسلام کی دعوت کو عام کریں اور تمام غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینا تو رہا ایک طرف، خود اپنی نئی نسل کو مسلمان باقی رکھنا ہمارے لیے مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اور ہم ابھی تک اس کا کوئی واضح حل تلاش نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لیے ابلاغ کے جدید ذرائع کو اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ آج کی نظریاتی اور تہذیبی کشمکش کا سب سے بڑا اور مؤثر ہتھیار میڈیا ہے اور میڈیا کے جدید ترین ذرائع اور تکنیک کو اختیار کیے بغیر ہم یہ جنگ کامیابی کے ساتھ نہیں لڑ سکتے۔

سیرت النبیؐ کے ان اجتماعات میں رفاقت کے علاوہ راقم الحروف کو ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی سے مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ مجھے زیادہ دلچسپی ان سے اس پروگرام کی تفصیلات جاننے میں تھی جو درس نظامی کی تعلیم کے سلسلہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ڈاکٹر صاحب موصوف کی نگرانی میں گزشتہ سال شروع کیا ہے۔

درس نظامی کے نصاب کی تعلیم ہمارے ہاں دینی مدارس میں دی جاتی ہے جہاں آخری درجہ دورۂ حدیث کو حاصل ہے۔ اور اس سے فراغت کے بعد ایک طالب علم کو عالم دین ہونے کی سند مل جاتی ہے۔ اس سند کو کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے ایم اے اسلامیات و عربی کے برابر تسلیم کیا تھا جسے بعض یونیورسٹیوں نے قبول کیا اور بعض نے اس سے گریز کیا۔ جس کی وجہ سے اس سند کو تسلیم کرنے کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ مختلف حکومتوں نے دینی مدارس کو ایک مشترکہ نصاب پر آمادہ کرنے اور ان کے لیے مشترکہ کنٹرولنگ نظام قائم کرنے کی کوشش کی جسے ان مدارس نے اپنی آزادی اور خودمختاری کے منافی سمجھتے ہوئے رد کر دیا۔ اس کے بعد محکمہ تعلیم نے سرکاری سکولوں اور کالجوں میں درس نظامی کے نصاب کو سرکاری نصاب کے ساتھ ایڈجسٹ کرکے سرکاری تعلیمی اداروں میں ’’درس نظامی گروپ‘‘ کے نام سے انٹرمیڈیٹ کی سطح تک تعلیم دینے کا اعلان کیا اور اس کے ’’نصاب‘‘ کی تفصیل بھی طے کر دی، مگر اسے بھی دینی حلقوں میں پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔

اس ماحول میں ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی نے، جو خود بھی درس نظامی کے فاضل اور علماء کے ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کی طرف سے ’’درس نظامی گروپ‘‘ کا اعلان کیا تو فطری طور پر دلچسپی پیدا ہوئی کہ اس کی کچھ تفصیل اور نتائج سے آگاہی حاصل کی جائے۔ چنانچہ میرے متعدد سوالات کے جواب میں انہوں نے جو تفصیل بتائی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ طالب علم کسی بھی دینی مدرسہ میں پڑھتے ہوئے اس تعلیمی پروگرام میں شریک ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ اس کے مدرسہ کی تعلیم میں کوئی حرج ہوتا ہے اور نہ ہی کسی دینی مدرسہ کے نظام میں کوئی مداخلت ہوتی ہے جس سے دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری کے لیے کوئی خطرہ محسوس ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ طالب علم کو زیادہ تر انہی مضامین کا امتحان دینا ہے جن کی تعلیم وہ دینی مدرسہ میں حاصل کر رہا ہے، اس لیے اس پر بہت زیادہ بوجھ بھی نہیں پڑتا۔ البتہ قرآن، حدیث، فقہ، عربی، اور دیگر ضروری دینی علوم کے ساتھ میٹرک میں اردو، انگریزی، مطالعہ پاکستان، جنرل ریاضی، اور جنرل سائنس کے مضامین کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ میٹرک کے بعد صرف اردو، انگلش، اور مطالعہ پاکستان لازمی مضامین کا امتحان دے کر دو سال میں آٹھ مضامین مکمل کرنے کے بعد میٹرک کی طرح ایف اے اور بی اے کی سند حاصل کر سکتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بی اے تک دورۂ حدیث سے پہلے تک کے نصاب کو سمو دیا گیا ہے جسے دینی مدارس کی اصطلاح میں موقوف علیہ کہتے ہیں۔ اس کے بعد طالب علم کی مرضی ہے، چاہے تو کسی دینی مدرسہ میں دورۂ حدیث میں شریک ہو جائے یا چاہے تو کسی مضمون میں کسی بھی یونیورسٹی سے ایم اے کر لے۔ اس پروگرام میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے فیس بھی زیادہ نہیں رکھی گئی اور فی سمسٹر ایک سو روپیہ فیس ہے۔ یعنی چار پانچ سو روپے کے خرچہ سے ایک طالب علم میٹرک یا ایف اے کر سکتا ہے۔ جبکہ کوئی دینی مدرسہ ایک تعلیمی ادارے کے طور پر اس پروگرام سے منسلک ہو تو فیس میں مزید رعایت، مدرسہ کو امتحانی سنٹر قرار دینے، اور یونیورسٹی کی طرف سے ٹیوٹر مہیا کرنے کی سہولت بھی دی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر طفیل ہاشمی کا کہنا ہے کہ اس وقت اڑھائی ہزار کے لگ بھگ طلبہ اس پروگرام میں شریک ہیں جو اس کے اچھے آغاز کی علامت ہیں۔ خدا کرے کہ وہ اس پروگرام کو مزید بڑھانے میں کامیاب ہوں، آمین۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۲۹ جولائی ۱۹۹۸ء