عدل و انصاف اور سیرت نبویؐ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۷ء

(دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ میں سیرتِ نبویؐ پر گفتگو جسے تحریری شکل دی گئی۔)

عدل قرآن کریم کی اصطلاح ہے اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَان (سورۃ النحل: ۹۰) کہ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی میں بھی ایک اسم ’’عادل‘‘ ہے یعنی اللہ تعالیٰ عدل کرنے والے ہیں۔ اور جناب نبی کریمؐ کے اسماء میں بھی ایک اسم ’’عادل‘‘ ہے یعنی رسول اللہؐ بھی عدل کے پیکر تھے، عدل کرنے والے تھے۔ ہر چیز کا حق ادا کرنے کو عدل کہتے ہیں۔ عدل کے مقابلے میں ظلم کا لفظ آتا ہے۔ ظلم کہتے ہیں کسی کے ساتھ ناحق سلوک کرنے کو، کسی کے حق کو ضبط کرنا یا کسی کا حق دوسرے کو دے دینا۔ لغوی اصطلاح میں وضع الشئی فی غیر محلہ ظلم کا معنٰی ہے کسی چیز کو اس کے اصل مقام کے بجائے کسی دوسری جگہ پر رکھنا۔ اسی طرح ہر چیز کو اس کی اصل جگہ پر رکھنے کو عدل کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عادل ہیں، جناب نبی کریمؐ عادل ہیں اور ہمیں بھی عدل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں یہ تلقین کی گئی ہے کہ ہم عدل کریں اور ظلم نہ کریں۔ جس طرح عدل کا دائرہ بہت وسیع ہے اسی طرح ظلم کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے، حقوق کا دائرہ جتنا وسیع ہے عدل و انصاف کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع ہے۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ صفاتِ حمیدہ میں جتنی بھی عمدہ صفات ہیں جناب رسول اللہؐ پوری دنیا میں ان صفات کے سب سے بڑے مظہر ہیں، اسی طرح عدل میں بھی جناب نبی کریمؐ مخلوقات میں سب سے بڑے عادل ہیں۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ غزوۂ حنین کے موقع پر غنیمت کا بہت زیادہ مال مسلمانوں کے ہاتھ آیا، یہ مال بہت قسموں میں تھا جس میں بکریاں، اونٹ، سونا، چاندی اور دیگر بہت سا سامان تھا۔ رسول اللہؐ نے یہ مال مجاہدین میں تقسیم کیا لیکن جو نئے نئے مسلمان ہونے والے عرب قبیلوں کے سردار تھے ان کو زیادہ دیا۔ اس میں مصلحت یہ تھی کہ ان لوگوں کو اپنے ساتھ مانوس کیا جائے کہ یہ اپنے قبیلوں کے سردار تھے اور اسلام کی ظاہری شان و شوکت دیکھ کر مسلمان ہوئے تھے۔ اس پر ایک آدمی ذوالخویصرہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ منافقین میں سے تھا اس نے اعتراض کر دیا۔ اس نے کہا کہ اس تقسیم میں تو عدل کا لحاظ نہیں رکھا گیا، حالانکہ حضورؐ نے امت کی ضرورت کے پیش نظر ایک مصلحت کے تحت یہ تقسیم فرمائی تھی۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ کسی نے ذوالخویصرہ کی یہ بات رسول اللہؐ کو بتا دی کہ یا رسول اللہؐ فلاں شخص نے یہ بات کہی ہے۔ اس پر حضورؐ نے ایک جملہ فرمایا من یعدل اذ لم اعدل کہ اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون عدل کرے گا؟ چنانچہ یہی ہمارا عقیدہ ہے کہ جناب رسول اللہؐ مخلوقات میں سب سے زیادہ عدل کرنے والے ہیں۔ حضورؐ نے عدل اور ظلم کا تقابل بہت وسیع مفہوم میں بیان فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ساتھ عدل

ہمیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی ظلم نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عدل کرو اور ظلم نہ کرو۔ اب اللہ تعالیٰ کے ساتھ کون ظلم کر سکتا ہے؟ ہمارے ہاں ظلم کا معنٰی محدود ہے کیونکہ ہم ظلم کا معنٰی یہ لیتے ہیں کہ کسی کے ساتھ زیادتی یا ناانصافی کا معاملہ کیا جائے لیکن جناب نبی کریمؐ نے اسے وسیع مفہوم میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عدل کیا ہے اس کے بارے میں قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی اَ لَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَم یَلَبِسُوْا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُّھْتَدُوْن (سورۃ الانعام: ۸۲) کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ایمان کے ساتھ ظلم کا التباس نہ ہونے دیا ان کے لیے امن ہے اور وہ ہدایت پر ہوں گے۔ یعنی ایمان کے ساتھ اگر ظلم خلط ملط ہوگیا تو پھر امن اور ہدایت نہیں ہے اور اگر ایمان کے ساتھ ظلم کا اختلاط نہیں ہے تو پھر نجات بھی ہے اور ہدایت بھی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ایمان کی قبولیت کی شرط یہ قرار پائی کہ ایمان کے ساتھ ظلم شامل نہ ہونے پائے۔ اس آیت کریمہ کے متعلق صحابہ کرامؓ پریشان ہوگئے کہ یہ تو بہت سخت شرط ہے، ان کے ذہنوں میں ظلم کا عام مفہوم تھا۔ وہ یہ سمجھے کہ اس آیت سے گھر کے افراد سے، رشتہ دار وں سے، دوست احباب سے اور زندگی کے عام معاملات میں زیادتی اور کمی بیشی مراد ہے۔ چھوٹی موٹی زیادتی تو انسان سے ہوتی ہی رہتی ہے۔ صحابہ کرامؓ کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ اگر آپس کے حقوق میں کمی بیشی نجات کی شرط قرار پائی ہے تو پھر کسی کا بھی ایمان قبول نہیں ہوگا۔

چنانچہ بعض صحابہ کرامؓ آپس میں اکٹھے ہوئے اور چہ میگوئیاں ہوئیں، پھر چند صحابہؓ مل کر جناب نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہؐ ھلکنا ہم تو مارے گئے۔ آپؐ نے پوچھا کیا ہوا؟ صحابہ کرامؓ نے قرآن کریم کی مذکورہ آیت کے متعلق بتایا کہ ایمان کی قبولیت کی بہت سخت شرط لگ گئی ہے۔ پھر کہا کہ اینا لم یظلم یا رسول اللّٰہ کہ یا رسول اللہ ہم میں سے کون ہے جس سے تھوڑی بہت زیادتی نہیں ہو جاتی۔ انبیاء کرام تو معصوم ہوتے ہیں لیکن عام انسانوں سے معاملات میں کہیں نہ کہیں کمی بیشی ہو ہی جاتی ہے۔ اس پر رسول اللہؐ نے فرمایا کہ تم لوگوں کی پریشانی بجا ہے لیکن تم اس آیت کا معنٰی غلط سمجھے ہو، اس آیت میں ظلم سے مراد وہ نہیں ہے جو تم سمجھے ہو۔ اس آیت میں ظلم سے مراد وہ ہے جو حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا تھا یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْم (سورۃ لقمان: ۱۳) کہ اے بیٹے ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

ایک ظلم وہ ہے جو ایک انسان دوسرے انسان سے کرتا ہے لیکن ایک ظلم وہ ہے جو انسان اپنے خالق سے کرے۔ کسی انسان کا حق مارنا تو ظلم ہے ہی، اللہ تعالیٰ کا حق مارنا اس سے بھی بڑا ظلم ہے۔ اب اگر اس آیت کا ترجمہ کیا جائے تو بات صاف ہو جاتی ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ شرک کو شامل نہ ہونے دیا تو ان کا ایمان قبول ہوگا اور وہ ہدایت پر ہوں گے۔ متقدمین کی پرانی اصطلاح میں توحید کو عدل کہا جاتا ہے۔ معتزلہ خود کو اہل العدل والتوحید کہتے تھے۔ توحید کا معنٰی ہے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، حتیٰ کہ بعض فرقے شرک کے وہم سے اللہ تعالیٰ کی صفات کو بھی اس کی ذات کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔

اپنی ذات کے ساتھ عدل

ہمیں اپنے ساتھ بھی عدل کرنے کا حکم دیا گیا، جناب نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اپنے نفس کے ساتھ بھی عدل کرو۔ بہت سی روایات ہیں کہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے اپنے ساتھ سختی کا ارادہ کیا تو حضورؐ نے اس سے منع فرمایا۔ حضرت سلمان فارسیؓ ایک مرتبہ حضرت ابوالدرداءؓ کے ہاں مہمان ٹھہرے تو دیکھا کہ ان کے میزبان رات کو حسب ضرورت آرام کرنے اور اپنے گھر والوں کو وقت دینے کے بجائے ساری رات نماز میں کھڑے ہو کر عبادت کرتے رہتے ہیں۔ اس پر حضرت سلمان فارسیؓ نے ان سے کہا ان لربک علیک حقًا، ولنفسک علیک حقًا، ولأھلک علیک حقًا، (وفی روایۃ: ولزورک علیک حقًا)، فأعط کل ذی حق حقہ (بخاری، رقم ۱۹۶۸) کہ تیرے رب کے بھی تجھ پر حق ہیں، تمہارے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے، آنے جانے والے مہمانوں کا بھی تجھ پر حق ہے، پس ہر حق والے کو اس کا حق ادا کرو۔ حضورؐ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کہ صدق سلمان کہ سلمانؓ نے سچ بات کہی۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ نے ارادہ کر لیا کہ ساری زندگی رات کو جاگ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کروں گا اور ساری زندگی روزانہ ایک قرآن کریم پڑھوں گا۔ حضورؐ نے اس سے منع فرمایا کہ یہ اپنے اوپر ظلم ہے۔ تمہارے بدن کا تجھ پر حق ہے کہ اسے خوراک اور آرام دو، اور تمہاری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے کہ اسے نیند دو۔ چنانچہ اپنے ساتھ بھی انصاف کا حکم دیا گیا۔

اہل خانہ کے ساتھ عدل

گھر کے ماحول میں عدل کا حکم دیا گیا ہے، خود جناب نبی کریمؐ بھی اپنے گھر میں عدل برقرار رکھتے تھے۔ حضورؐ کی بیک وقت ۹ بیویاں تھیں جن کے حقوق میں حضورؐ نے برابری کی۔ طبعی اُنس انسان کے اختیار میں نہیں ہے، جہاں حضورؐ نے دیکھا کہ یہ معاملہ میرے اختیار میں نہیں ہے تو وہاں فرما دیا اللّٰھم ھذا قسمی فیما املک فلا تواخذنی فیما لا أملک کہ اے اللہ ! اپنی استطاعت کی حد تک میں برابر تقسیم کرتا ہوں، اس لیے جو بات میرے بس میں نہیں ہے اس میں میرا مواخذہ نہ کرنا۔ حضورؐ کا طبعی تعلق حضرت عائشہؓ سے زیادہ تھا لیکن ظاہری معاملات کی تقسیم تمام ازواج کے ساتھ برابر کی تھی، حتیٰ کہ جہاں ضرورت محسوس ہوتی وہاں اجازت لیتے تھے۔ عام ایام میں تو آپؐ نے ازواج کے گھروں میں رات گزارنے کی باریاں مقرر کی ہوئی تھیں لیکن زندگی کے آخری ایام میں جب جناب نبی کریمؐ بیمار ہوئے تو یہ معمول قابل عمل نہ رہا۔ آپؐ کی ازواج مطہرات نے محسوس کیا کہ آپؐ ایک ہی جگہ اپنی بیماری کا وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ انتظامی طور پر تو مشکل تھا ہی لیکن آپؐ کی طبیعت کا بھی تقاضا تھا کہ ایک ہی جگہ بیماری کے ایام گزاروں جو کہ حضرت عائشہؓ کا حجرا تھا۔ چنانچہ تمام ازواج اکٹھی ہوئیں آپس میں مشورہ کیا اور پھر حضورؐ کو اس بات کی اجازت دی کہ یارسول اللہ ! ہم اپنی باریوں کے دنوں سے دستبردار ہوتی ہیں تاکہ آپؐ ایک ہی گھر میں اطمینان سے یہ وقت گزار سکیں۔ پھر نبی کریمؐ نے اپنے آخری ایام بیماری کی حالت میں حضرت عائشہؓ کے حجرے میں گزارے۔ حتیٰ کہ حضورؐ دعا فرمایا کرتے تھے کہ یا اللہ ! جو میرے اختیار میں ہے ان میں تو میں برابر تقسیم کرتا ہوں لیکن جو چیز میرے اختیار میں نہیں ہے، جیسے طبعی میلان، یا اللہ ! مجھ سے اس کے بارے میں مواخذہ نہ کرنا۔

قرآن کریم نے جہاں ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دی ہے وہاں ایک شرط بھی لگائی ہے فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلَاثَ وَرُبٰع وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً (سورۃ النساء: ۳) کہ جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو لیکن اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی نکاح کرو۔ یعنی اگر دو شادیاں کر سکتے ہو تو کرو، تین شادیاں کر سکتے ہو تو کرو، حد یہ ہے کہ چار تک شادیاں کر سکتے ہو لیکن عدل اس کی شرط ہے۔ عدل کا معنٰی ہے تمام معاملات میں برابری کرنا، ہر بیوی کو اس کا پورا حق ادا کرنا اور کسی کو ترجیح نہ دینا۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو معلق کر دیا یعنی اس کے حقوق ادا کرنے بند کر دیے تو قیامت کے دن اس کے جسم کا ایک حصہ مفلوج ہوگا۔ حقوق کا معاملہ صرف ازدواجی تعلقات نہیں ہیں بلکہ اس میں روز مرہ زندگی کے باقی حقوق بھی شامل ہیں، مثلاً خرچے میں اور کھانے پینے میں کمی بیشی کر دی کہ ایک بیوی کو بہتر دیا اور دوسری کو اس کے برابر نہیں دیا، یا پھر رہائش میں کمی بیشی کر دی کہ ایک کو تو اچھی رہائش دی لیکن دوسری کو اس معیار کی رہائش نہیں دی، یا عزت و توہین کے معاملات میں ایک کی عزت و وقار کا لحاظ ہے اور دوسری سے بے پرواہی ہے۔ غرض یہ کہ حقوق میں روز مرہ زندگی کی تمام ضروریات شامل ہیں، قرآن کریم نے بھی یہی شرط لگائی کہ اگر تمہیں اس بات کا ڈر ہے کہ تم اپنی بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر ایک بیوی تک ہی محدود رہو۔ دوسرے لفظوں میں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت اس صورت میں ہے جب ایک آدمی سب بیویوں کے حقوق برابر ادا کر سکے۔ اگر آدمی یہ محسوس کرے کہ اس سے انصاف کا معاملہ نہیں ہوگا تو پھر ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں ہے۔ یہ میاں بیوی کے معاملے میں قرآن کریم اور نبی کریمؐ کی تعلیم ہے کہ اتنا ہی معاملہ اپنے ذمے لو جتنا بخوبی نبھا سکتے ہو۔

اولاد کے معاملے میں بھی عدل کا حکم دیا گیا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک صاحب رسول اللہؐ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری اولاد میں سے ایک لڑکا ایک بیوی سے ہے جبکہ باقی دوسری بیویوں سے ہیں۔ میری بیوی تقاضا کر رہی ہے کہ میں اپنی جائیداد میں سے اپنے اس بیٹے کو حصہ دوں، میں اسے حصہ دینے پر تیار ہوں لیکن اس پر میں آپؐ کو گواہ بنانا چاہتا ہوں۔ حضورؐ نے پوچھا، کیا تم نے باقی بیٹوں کو بھی جائیداد میں سے حصہ دیا ہے؟ اس نے کہا، یا رسول اللہ نہیں۔ حضورؐ نے فرمایا، ظلم پر مجھے گواہ مت بناؤ۔ چنانچہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی انصاف کا حکم دیا گیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ، اپنی جان کے ساتھ، اپنے گھر کے ساتھ، سوسائٹی کے ساتھ، جس کا جو حق ہے وہ اسے ادا کرو، عدل اسی کا نام ہے۔ اگر کہیں حق تلفی ہوگی تو یہ ظلم شمار ہوگا۔

قانون کی نظر میں برابری

آج کے حالات میں ایک بات کا چرچا عام ہے کہ قانون کی نظر میں سب کے حقوق میں برابری ہونی چاہیے، یہ بات بھی عدل کے تقاضوں میں سے ہے۔ جناب رسول اللہؐ نے یہی فرمایا ہے، بخاری شریف کی روایت کے مطابق قانون کی نظر میں سب کے برابر نہ ہونے کو سوسائٹی کی تباہی اور بربادی کا سبب بتایا گیا ہے۔ ایک مرتبہ یہودیوں کا ایک جوڑا بدکاری میں پکڑا گیا، یہودی مقدمہ لے کر حضورؐ کی عدالت میں آئے، جوڑا گرفتار تھا اور ان پر بدکاری کا جرم ثابت ہوگیا۔ آپؐ نے یہودیوں سے پوچھا، یہ بتاؤ کہ تمہارے ہاں اِس جرم کی سزا کیا ہے؟ تم یہودی ہو اور ایک شریعت کو مانتے ہو تمہارے ہاں بھی ایک قانون اور ضابطہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں اس جرم کی سزا یہ ہے کہ دونوں کے منہ کالے کیے جائیں اور گدھے پر بٹھا کر پورے شہر کا چکر لگایا جائے اور ساتھ مار پٹائی بھی کی جائے۔ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ جو پہلے یہودی علماء میں سے تھے اور اب مسلمان ہو چکے تھے، حضورؐ نے ان سے پوچھا کہ کیا تورات میں اس جرم کی سزا یہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ! یہ لوگ غلط بیانی کر رہے ہیں کیونکہ تورات میں یہ سزا نہیں ہے بلکہ یہ سزا انہوں نے خود گھڑ لی ہے، تورات میں رجم یعنی سنگسار کی سزا ہے۔ لیکن جب ان لوگوں نے اصرار کیا کہ تورات میں یہی لکھا ہوا ہے جو ہم نے بتایا ہے تو اس پر آپؐ نے فرمایا کہ تورات لے کر آؤ۔ چنانچہ مجلس میں تورات لائی گئی اور یہودی عالم سے کہا گیا کہ اس جرم کی سزا پڑھ کر سناؤ، اس نے اس سزا کے متعلق آیتیں اس طرح پڑھیں کہ درمیان کی آیت چھوڑ دی۔ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے اس کی خیانت پکڑ لی اور کہا یا عدو اللّٰہ ! اقرأ ھذا کہ اللہ کے دشمن یہ بھی تو پڑھ یہ کیا لکھا ہوا ہے۔ یہاں حضرت عبد اللہؓ بن سلام نے بتایا کہ یا رسول اللہ! تورات میں اس جرم کی اصل سزا تو رجم ہی تھی لیکن جوں جوں زمانہ بدلا یہودی علماء نے اس سزا کے اطلاق میں خیانت کرنا شروع کر دی کہ جب کوئی غریب آدمی اس جرم میں پکڑا جاتا تو اسے سنگسار کر دیتے لیکن کوئی امیر اور صاحب ثروت آدمی پکڑا جاتا تو اس کو نرم سی سزا دے کر خانہ پری کر دیتے۔

پنجابی کی ایک کہاوت کے مطابق اسے ’’ہل لمبا ڈال لینا‘‘ کہتے ہیں۔ کہاوت یہ ہے کہ کسی گاؤں کے ایک مولوی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ فلاں جرم کی سزا کیا ہے؟ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہل (زمین کھودنے والا زراعتی آلہ) زمین پر کھڑا کر کے اس کے برابر روٹیوں کا ڈھیر لگایا جائے اور پھر وہ ڈھیر صدقہ کر دیا جائے۔ اس شخص نے بتایا کہ مولوی صاحب! یہ جرم آپ کے بیٹے نے کیا ہے۔ مولوی صاحب فوراً بولے کہ اگر ہل زمین پر لٹا کر اس کے برابر روٹیوں کا ڈھیر اکٹھا کیا جائے تو بھی ٹھیک ہے۔ تو حضرت عبد اللہ بن سلامؓ نے بتایا کہ یہودیوں کا یہ طرز عمل تھا کہ عام آدمی کو تو اصل سزا دیتے لیکن اثر و رسوخ والے کی سزا میں ترمیم کر دیتے۔ یہاں نبی کریمؐ نے ایک بات فرمائی جو کہ کسی بھی معاشرے میں انصاف کی بنیاد ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب کسی قوم میں یہ بات آجائے کہ عام آدمی جرم کرے تو سزا مختلف ہو اور کوئی بڑا آدمی جرم کرے تو سزا مختلف ہو، پھر اس قوم کو تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی قوم کی تباہی کا آغاز ہی یہیں سے ہوتا ہے کہ قانون کی نظر میں اونچ نیچ آجائے۔

رسول اللہؐ اور عدل

اس معاملہ میں خود جناب نبی کریمؐ کی سنت مبارکہ کیا تھی؟ مستدرک حاکم کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہؐ تشریف فرما تھے صحابہ کرامؓ کی مجلس لگی ہوئی تھی، ایک صحابیؓ آکر بیٹھے جنہوں نے جسم پر صرف ایک ہی چادر باندھی ہوئی تھی اور ان کی کمر ننگی تھی۔ اس زمانے میں دو چادریں کم ہی لوگوں کو میسر ہوتی تھیں، زیادہ تر لوگوں کے پاس جسم ڈھانپنے کے لیے صرف ایک ہی چادر ہوا کرتی تھی۔ حضورؐ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی آپؐ نے بیٹھے بیٹھے بے تکلفی سے ان صحابیؓ کی ننگی کمر پر چھڑی مار دی۔ حضورؐ کا ہاتھ ذرا سخت لگ گیا اور صحابیؓ کی کمر پر خراشیں آگئی۔ صحابیؓ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! آپ نے مجھے چھڑی ماری ہے میں تو اس کا بدلہ لوں گا۔ آج کے زمانے میں تو سربراہ مملکت کو عدالت میں ویسے بھی نہیں طلب کیا جا سکتا اور جہاں طلب کیا جا سکتا ہے وہاں بھی حکومتی اثر و رسوخ عدالتی کاروائی میں آڑے آجاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ بات عام ہے کہ بادشاہ ہو یا سربراہِ مملکت جب تک وہ اپنے منصب پر فائز رہتا ہے عدالت میں طلبی سے مستثنیٰ ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسی بات حضورؐ کی مجلس میں بھی کہی جا سکتی تھی کہ بھئی حضورؐ سے بدلے کا حق مانگنے کی یہ جسارت تم نے کیسے کی! حضورؐ سے بڑا وی آئی پی اس دنیا میں کون ہوگا؟ لیکن جناب نبی کریمؐ نے صحابی کے مطالبے پر کیا رد عمل ظاہر کیا؟ آپؐ نے چھڑی ان صحابی کے ہاتھ میں دے کر اپنی کمر سامنے کر دی، آپؐ نے اس بارے میں کوئی عذر پیش نہیں کیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور میں حاکمِ وقت ہوں اس لیے کوئی مجھ سے بدلہ لینے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ حالانکہ کوئی بات بھی امتیاز کی ایسی نہیں ہے جو حضورؐ میں نہیں تھی۔ ان صاحب نے چھڑی پکڑی اور کہا کہ یا رسول اللہ! بدلہ برابر نہیں ہے اس لیے کہ آپ نے میری ننگی کمر پر چھڑی ماری ہے جبکہ آپ نے کرتا پہن رکھا ہے، آپؐ پہلے اپنا کرتا اتاریے۔ ہم تو آج کے ماحول میں اپنے پیر و مرشد کے لیے، اپنے استاد کے لیے ایسی بات برداشت نہیں کرتے۔ حضورؐ مسکرائے کرتا اتارا اور کمر سامنے کر دی، ان صحابیؓ نے چھڑی پھینکی اور حضورؐ سے لپٹ گئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! وہ ہاتھ ٹوٹ نہ جائیں جو آپ پر اٹھیں، میں تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کے جسم سے جسم ملانے کا بہانہ تلاش کر رہا تھا۔ لیکن جناب نبی کریمؐ نے عدل کا تقاضا پورا کیا اور یہ تصور دیا کہ قانون کی نظر میں انصاف سے کوئی مستثنیٰ نہیں ہے۔

اسی طرح آپؐ نے چوری کے ایک مقدمہ میں فاطمہ مخزومیہ کے حوالے سے فرمایا کہ کیا تم ایک عورت کی اس لیے سفارش کرتے ہو کہ وہ بڑے خاندان کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ چوری کرے گی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دوں گا۔ اب حضورؐ سے بڑا خاندان کس کا ہو سکتا ہے لیکن نبی کریمؐ نے یہ تعلیم دی کہ جرم کی سزا یکساں ہے چاہے کسی بڑے خاندان کا فرد جرم کرے یا کسی چھوٹے خاندان کا۔ معاشرے میں عدل قائم ہوگا تو مساوات کا ماحول پیدا ہوگا۔

انبیاء کرامؑ کے ساتھ عدل

یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات کے درجات میں ترجیحات رکھی ہیں۔ قرآن کریم میں ہے تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْض (سورۃ البقرہ: ۲۵۳) کہ یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء کرامؑ میں سب سے افضل جناب نبی کریمؐ کی ذات گرامی ہے، پھر دیگر بڑے انبیاء جیسے حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسٰیؑ، حضرت عیسٰیؑ، حضرت نوحؑ اور ان کے بعد دوسرے انبیاء و رسول ہیں۔ لیکن یہ درجہ بندی ترازو پر تولنے کے لیے نہیں ہے کہ یہ دیکھنا شروع کر دیا جائے کہ کون انیس ہے اور کون بیس ہے۔ بسا اوقات ہم ایسا کر دیتے ہیں لیکن ایسے موازنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق دو واقعات بخاری شریف میں آتے ہیں۔

ایک واقعہ یہ ہے کہ دو ساتھیوں میں انبیاء کرام کے متعلق کچھ اس طرح گفتگو ہو رہی تھی کہ فلاں موقع پر حضرت یونسؑ تھے اس لیے ایسا ہوا اگر ہمارے پیغمبر ہوتے تو معاملہ یوں نہ ہوتا بلکہ مختلف ہوتا۔ حضورؐ کو یہ بات پتہ چلی تو آپؐ ناراض ہوئے اور فرمایا لا تفضلونی علی یونس ابن متیٰ کہ مجھے یونس علیہ السلام پر فضیلت مت دو۔ یعنی آپؐ نے فرمایا کہ مجھے انبیاء پر اس طرح تقابل کر کے فضیلت مت دو کہ یہ بات فلاں نبی میں نہیں تھی لیکن رسول اللہؐ میں ہے۔ ایک ہے ترجیح کہ حضورؐ کا درجہ سب انبیاء سے افضل ہے لیکن ایک ہے تقابل کہ آمنے سامنے رکھ کر موازنہ کیا جائے کہ یہ بات فلاں نبی میں نہیں تھی جبکہ فلاں نبی میں تھی۔کیونکہ جس نبی کے بارے میں یہ بات کہیں گے کہ اس میں فلاں صفت نہیں تھی، اس سے اہانت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کسی نبیؑ کے بارے میں اہانت کا کوئی پہلو بھی ہو اس سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔

حضرت موسٰیؑ کے حوالے سے ایک واقعہ مسلم شریف میں ہے۔ ایک زمانے میں مدینہ منورہ میں یہودی بھی رہتے تھے اور مسلمان بھی۔ ایک یہودی اور مسلمان بازار میں آپس میں جھگڑ پڑے، دونوں آپس میں کوئی سودا کر رہے تھے کہ یہودی نے یہ کہہ کر قسم اٹھائی والذی فضل موسیٰ علی الانبیاء کہ اس پروردگار کی قسم جس نے حضرت موسٰیؑ کو سارے انبیاء پر فضیلت دی۔ مسلمان کو اس بات پر غصہ آیا کہ اس یہودی نے حضرت موسٰیؑ کو ہمارے پیغمبر رسول اللہؐ سے افضل کہا ہے، اس نے یہودی کو تھپڑ مار دیا ۔ مسلمان نے کہا کہ انبیاء پر فضیلت تو جناب نبی کریمؐ کو ہے۔ اس پر یہودی استغاثہ لے کر حضورؐ کی خدمت میں آیا اورکہا یا محمد! آپ کے ساتھی نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ آپؐ نے پوچھا کیوں تھپڑ مارا ہے؟ اس نے معاملہ بتایا تو اس پر حضورؐ اپنے ساتھی سے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تقابل کی فضا قائم کر کے ہم انبیاء کا موازنہ مت کرو۔ حضورؐ نے اسے بھی عدل کا تقاضا قرار دیا۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی کہ حق کے تعین میں کسی کے ساتھ زیادتی مت کرو۔ قرآن و حدیث میں عدل کے سینکڑوں پہلو بیان ہوئے ہیں جن میں سے جناب نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ کے حوالے سے چند ایک پہلو میں نے آپ کی خدمت میں ذکر کر دیے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: