حسبہ ایکٹ اور وفاقی حکومت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۵ء

سرحد کی صوبائی اسمبلی نے ’’حسبہ بل‘‘ بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ حسبہ ایکٹ میں صوبائی سطح پر ایک احتسابی نظام تجویز کیا گیا ہے جو صوبائی محتسب کی نگرانی میں قائم ہوگا اور صوبہ بھر میں عوامی سطح پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری کے ساتھ معاشرتی خرابیوں اور منکرات کے سدباب کے لیے کام کرے گا۔ بل میں جن منکرات اور خرابیوں کے خلاف یہ شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں کھلے بندوں شرعی احکام کی خلاف ورزی کی روک تھام، اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور حقوق کے تحفظ ، عورتوں کو وراثت میں ان کا حصہ اور دیگر حقوق دلوانے، بچوں کی ملازمت کی حوصلہ شکنی، فحاشی کے فروغ کو روکنے اور فضول خرچی سے لوگوں کو روکنے اور سادگی اور کفایت شعاری کی طرف رغبت دلانے جیسے اہم امور شامل ہیں۔ یہ امور ایسے ہیں جو ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں اور ان کی طرف ایک عرصہ سے مختلف حلقے حکومت کو توجہ دلا رہے ہیں لیکن وفاقی حکومت کو اعتراض ہے کہ یہ آئین کی حدود سے تجاوز ہے اور اس سے ایک متوازی نظام قائم ہوسکتا ہے جس سے نظم و نسق میں خرابی پیدا ہوگی، اور حسبہ بل پر اعتراض کرنے والوں کا موقف ہے کہ مذکورہ بالا مقاصد کے لیے پہلے سے قوانین اور سسٹم موجود ہے، اس لیے کسی نئے بل کی ضرورت نہیں ہے اور اس بل سے خواہ مخواہ الجھنیں پیدا ہوں گی۔

جہاں تک احتساب کے نظام کا تعلق ہے اس کی ضرورت بہرحال موجود ہے اور یہ ہماری ماضی کی روایات کا حصہ ہے۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں ایسے افراد کا تذکرہ ملتا ہے جنہیں بازار اور پبلک مقامات میں لوگوں کی نگرانی اور سرزنش کے لیے مقرر کیا جاتا تھا جبکہ خلافت عباسیہ کے دور میں تو اسے ایک باقاعدہ شعبہ کی شکل دے دی گئی تھی۔ دائرہ معارف اسلامیہ (اردو) کے مطابق خلافت عثمانیہ کے دور میں پبلک امور کی نگرانی کے لیے تین باضابطہ شعبے کام کرتے تھے:

  1. عدلیہ جہاں لوگوں کی باضابطہ شکایات پر کاروائی کی جاتی تھی،
  2. شرطہ (پولیس) جو قابل دست اندازی پولیس معاملات میں دخل دیتی تھی، اور
  3. جن معاملات میں پولیس دخل نہیں دے سکتی تھی اور جن کے بارے میں عدلیہ تک شکایات نہیں جاتی تھیں ایسے معاملات کی نگرانی اور انہیں نمٹانے کے لیے ہر سطح پر محتسب کا تقرر کیا جاتا تھا اور اس طرح معاشرتی نظام خیر و خوبی کے ساتھ چلتا تھا۔

یہ صورتحال آج بھی اسی طرح ہے اس لیے کہ بہت سی معاشرتی خرابیاں ایسی ہیں جو پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں اور ان کے بارے میں عدلیہ تک شکایت لے جانے کا تکلف بھی روا نہیں رکھا جاتا، ایسی معاشرتی خرابیوں کو بالکل کھلا چھوڑ دینا اور ان پر کسی قسم کی قدغن اور نگرانی کا موجود نہ ہونا معاشرہ میں بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔ اس لیے عدلیہ اور پولیس سے ہٹ کر عوامی سطح پر ایک نظام احتساب کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور ہمارے خیال میں سرحد اسمبلی کا منظور کردہ ’’حسبہ بل‘‘ اس ضرورت کو خاصی حد تک پورا کرتا ہے۔

جہاں تک اس کے آئین سے متصادم ہونے کا تعلق ہے، ہمارے خیال میں بل میں آئینی حدود کے اندر رہنے کی ضمانت کے بعد اس سلسلہ میں خواہ مخواہ شبہ کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر کوئی تکنیکی الجھن موجود ہے تو اسے باہمی افہام و تفہیم سے دور کیا جا سکتا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ ان مقاصد کے لیے پہلے سے موجود قوانین کافی ہیں ان کے ہوتے ہوئے کسی نئے نظام اور قانون کی ضرورت نہیں ہے ، ہمارے خیال میں یہ اعتراض بے جا ہے اس لیے کہ ملک میں کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کو روکنے کے لیے عام قوانین موجود ہیں اور ایک سسٹم پہلے سے چلا آرہا ہے لیکن ان قوانین اور سسٹم کی موجودگی میں حکومت نے ’’نیب‘‘ کا ادارہ قائم کر رکھا ہے جو اپنے الگ قوانین، نظام اور اختیارات رکھتا ہے اور پہلے سے موجود قوانین کے باوجود وہ مسلسل کام کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی خرابی کو روکنے میں مروجہ سسٹم اور قوانین کامیاب نہ ہو رہے ہوں تو ان کی موجودگی میں کسی خصوصی اور الگ نظام کا قیام اس درجہ قابل اعتراض نہیں ہے جس کا ’’حسبہ بل‘‘ کے بارے میں بار بار اظہار کیا جا رہا ہے۔

ہمیں امید ہے کہ عدالت عظمیٰ ان تمام امور کو پیش نظر رکھے گی اور اسے وفاقی اور صوبائی حکومت کے تنازعہ کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے بنیادی مقصد کی روشنی میں اس بل کا جائزہ لے کر اس کی تکنیکی کمزوریاں (اگر ہیں تو) دور کرتے ہوئے اس کے حق میں مثبت فیصلہ صادر کرے گی۔