خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ اور حضرت ابو حازمؒ کے درمیان مکالمہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
یکم جولائی ۱۹۹۹ء
اصل عنوان: 
بادشاہِ وقت اور درویش عالمِ دین

اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ ایک دفعہ دمشق سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے چند روز کے لیے مدینہ منورہ رکے تو شہر کے سرکردہ لوگ ان سے ملاقات کے لیے آئے۔ خلیفہ نے اس موقع پر دریافت کیا کہ کیا شہر میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے صحابہ کرامؓ میں سے کسی کی زیارت کا شرف حاصل کر رکھا ہو؟ لوگوں نے بتایا کہ تابعین میں سے حضرت ابوحازمؒ مدینہ منورہ میں موجود ہیں۔ خلیفہ نے ان کو پیغام بھجوایا اور وہ ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ اس موقع پر خلیفۂ وقت اور اس درویش عالم کے درمیان جو گفتگو ہوئی اسے امام عبد اللہ بن عبد الرحمن دارمیؒ (المتوفی ۲۵۵ھ) نے ’’سنن دارمی‘‘ کے ابواب العلم میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کا کچھ حصہ قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ نے کہا کہ حضرت یہ کیا بے مروتی ہے کہ مدینہ منورہ کے بڑے بڑے لوگ میری ملاقات کے لیے آئے ہیں اور آپ نے بلائے بغیر آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ حضرت ابوحازمؒ نے کہا کہ اس سے پہلے نہ آپ مجھے جانتے تھے اور نہ میں نے آپ کو دیکھا ہوا تھا اس لیے کسی تعارف کے بغیر آنے کا کوئی معنٰی نہیں تھا۔

خلیفہ نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہم موت کو ناپسند کرنے لگے ہیں؟ ابوحازمؒ نے جواب دیا کہ تم لوگوں نے دنیا آباد کر رکھی ہے اور آخرت کو ویران چھوڑا ہوا ہے۔ اور جب کوئی شخص آبادی سے ویرانی کی طرف جاتا ہے تو ناپسندیدگی محسوس ہوتی ہی ہے۔

خلیفہ نے پوچھا کہ کل ہم اللہ تعالیٰ کے حضور کس کیفیت میں پیش ہوں گے؟ ابوحازمؒ نے فرمایا کہ نیکوکار تو اس طرح پیش ہوگا جیسے گھر سے غائب شخص اپنے گھر واپس آتا ہے۔ اور نافرمان اس طرح پیش ہوگا جیسے بھاگے ہوئے غلام کو پکڑ کر اس کے گھر واپس لایا جائے۔ یہ سن کر خلیفہ آبدیدہ ہوگیا اور کہا کہ یہ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہمارے لیے کیا ہے؟ فرمایا کہ اپنے اعمال کو کتاب اللہ پر پیش کر کے خود فیصلہ کرو۔ کیونکہ قرآن کریم میں ہے کہ نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے اور نافرمان جہنم میں جائیں گے۔

خلیفہ نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کہاں ہوگی؟ ابوحازمؒ نے جواب میں قرآن کریم کی آیت پڑھی کہ ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔‘‘

خلیفہ نے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ جواب دیا کہ فرائض کی پابندی اور حرام کاموں سے اجتناب سب سے افضل عمل ہیں۔

خلیفہ نے سوال کیا کہ کون سی بات سب سے زیادہ عدل کی بات ہے؟ فرمایا کہ جس شخص سے خوف یا امید وابستہ ہو اس کے سامنے حق بات کہنا۔

خلیفہ نے پوچھا کہ مومنوں میں سب سے زیادہ سمجھدار کون ہے؟ فرمایا کہ جو خود اللہ تعالیٰ کی اطاعت والے عمل کرتا ہے اور دوسروں کی ایسے اعمال کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔

خلیفہ نے دریافت کیا کہ سب سے زیادہ احمق کون ہے؟ فرمایا کہ جو اپنے کسی ظالم بھائی کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اپنا دین برباد کر دے۔

خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے پوچھا کہ حضرت ہمارے موجودہ حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت ابوحازمؒ نے فرمایا کہ کیا تم مجھے اس سوال سے معاف نہیں کر سکتے۔ خلیفہ نے کہا کہ نہیں، آپ مجھے ضرور نصیحت کریں۔ ابوحازمؒ نے کہا کہ امیر المومنین! آپ کے آباؤ اجداد نے تلوار کے زور پر لوگوں پر غلبہ پا لیا تھا اور ان کے مشورہ اور رضامندی کے بغیر اس ملک پر جبرًا قبضہ کر لیا تھا، حتیٰ کہ اس مقصد کے لیے بے شمار لوگ قتل ہوگئے۔ اس پر مجلس میں ایک شخص نے کہا کہ اے ابوحازمؒ آپ نے اچھی بات نہیں کہی۔ حضرت ابوحازمؒ نے فورًا جواب دیا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علماء سے وعدہ لے رکھا ہے کہ وہ حق بات لوگوں کے سامنے ضرور بیان کریں گے اور اسے نہیں چھپائیں گے۔خلیفہ نے دریافت کیا کہ اب اصلاح کی کیا صورت ہے؟ فرمایا کہ لوگوں پر زبردستی کرنا چھوڑ دو، مروت اختیار کرو، اور بیت المال کی رقوم لوگوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کرو۔ سلیمان بن عبد الملکؒ نے پوچھا کہ اس کی بنیاد ہمارے لیے کیا ہوگی؟ فرمایا کہ حلال ذرائع سے مال حاصل کرو اور حلال مصارف پر صرف کرو۔

خلیفہ نے پوچھا کہ ابوحازمؒ کیا آپ ہماری مصاحبت میں رہنا پسند کریں گے؟ فرمایا کہ میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔ خلیفہ نے دریافت کیا کہ کس لیے؟ فرمایا مجھے ڈر ہے کہ اگر میرے دل میں آپ کے لیے میلان پیدا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ مجھے زندگی اور موت دونوں کے عذاب چکھا دیں گے۔

خلیفہ نے کہا کہ آپ کی کوئی ضرورت ہو تو ہمیں بتائیں۔ ابوحازمؒ نے جواب دیا کہ کیا آپ مجھے جہنم کی آگ سے بچا کر جنت میں لے جا سکتے ہیں؟ خلیفہ نے کہا یہ تو میرے بس میں نہیں ہے۔ ابوحازمؒ نے کہا کہ پھر میرا آپ سے کوئی کام نہیں ہے۔

خلیفہ نے کہا کہ میرے لیے دعا کر دیجیے۔ اس پر حضرت ابوحازمؒ نے دعا کی کہ ’’اے اللہ! اگر سلیمان آپ کا دوست ہے تو اس کے لیے دنیا و آخرت کے کام آسان فرما دیں۔ اور اگر آپ کا دشمن ہے تو پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی مرضی کے کاموں کی طرف موڑ دیں۔

خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ نے کہا کہ حضرت مجھے کوئی وصیت کریں۔ ابوحازمؒ نے فرمایا کہ بہت مختصر وصیت کرتا ہوں کہ: ’’اپنے رب کی تعظیم کرو اور ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے ایسے مقام پر دیکھے جہاں سے اس نے تجھے منع کر رکھا ہے۔ اور ایسے مقام سے گم پائے جہاں کا اس نے تجھے حکم دیا ہوا ہے۔‘‘

اس گفتگو کے بعد حضرت ابوحازمؒ رخصت ہوئے تو خلیفہ سلیمان عبد الملکؒ نے ان کی خدمت میں ایک سو دینار بھیجے اور پیغام دیا کہ یہ آپ کے لیے ہدیہ ہیں اور آپ کے لیے میرے پاس اور بھی بہت کچھ ہے۔ حضرت ابوحازمؒ نے یہ رقم واپس لوٹا دی اور ایک تفصیلی خط لکھا کہ امیر المومنین! میں آپ کے لیے اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ ہمارے درمیان ہونے والی گفتگو بے مقصد ہو جائے ۔ اور اے امیر المومنین! میں اس رقم کو آپ کے لیے پسند نہیں کرتا تو اسے اپنے لیے کیسے پسند کروں گا؟ پھر ابوحازمؒ نے اپنے خط میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ تفصیل کے ساتھ نقل کیا جس کا متعلقہ حصہ یہ ہے:

جب حضرت موسیٰؑ مصر سے ہجرت کر کے مسافرت کے عالم میں مدین کے چشمے پر پہنچے اور وہاں حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریوں کے ریوڑ کو پانی پلایا تو حضرت شعیبؑ نے اپنی ایک لڑکی کو بھیج کر حضرت موسیٰؑ کو گھر بلوایا۔ اس وقت اس خاتون کی زبان سے یہ جملہ نکلا کہ میرا باپ آپ کو بلا رہا ہے تاکہ آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے اس کا بدلہ دے۔ یہ بات حضرت موسیٰؑ کو محسوس ہوئی، چنانچہ مسافرت اور بھوک کی شدت کے باوجود جب حضرت شعیبؑ نے کھانے کی دعوت دی تو حضرت موسیٰؑ نے جواب میں اعوذ باللہ پڑھ دیا۔ حضرت شعیبؑ نے پوچھا کہ کیا تم بھوکے نہیں ہو؟ حضرت موسٰیؑ نے جواب دیا کہ بھوکا تو ہوں مگر اس عمل کے معاوضے میں کھانا نہیں کھانا چاہتا جو میں نے آپ کی بکریوں کو پانی پلایا ہے۔ کیونکہ میں جس خاندان سے ہوں ہم اپنی کوئی نیکی اس پوری زمین جتنے سونے کے عوض بھی فروخت نہیں کرتے۔ حضرت شعیبؑ نے کہا کہ نہیں یہ معاوضہ نہیں ہے بلکہ ہماری خاندانی روایت ہے کہ ہم مہمان کو کھانا کھلایا کرتے ہیں تو اس پر حضرت موسیٰؑ نے کھانا قبول کیا۔

یہ واقعہ بیان کر کے حضرت ابوحازمؒ نے خلیفہ سلیمان عبد الملکؒ کو اپنے خط میں لکھا کہ یہ رقم جو آپ نے بھیجی ہے اگر تو اس گفتگو کے عوض ہے جو ہمارے درمیان ہوئی تو یہ میرے لیے مردار اور خنزیر کی طرح ہے جسے میں حالت اضطرار کے سوا جائز نہیں سمجھتا۔ اور اگر یہ رقم بیت المال میں میرا حق سمجھ کر بھیجی گئی ہے تو اس بیت المال پر میری طرح اور لوگوں کا بھی حق ہے۔ اگر سب حق داروں کے درمیان برابر تقسیم کر کے میرا حصہ بنتا ہے تو قبول کر لوں گا ورنہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

امام دارمیؒ نے یہ تاریخی واقعہ نقل کر کے اس پر جو عنوان قائم کیا ہے وہ ہم سب کے لیے قابل توجہ ہے۔ یہ عنوان ہے ’’باب اعظام العلم‘‘ یعنی علم کی تعظیم کرنا اور اس کی عظمت کو ملحوظ رکھنا۔ چنانچہ اس واقعہ میں ’’عظمت علم‘‘ کے دونوں پہلو موجود ہیں۔ اہل دنیا اور اصحاب اقتدار کے لیے علم کی عظمت کو ملحوظ رکھنے کا راستہ یہ ہے کہ وہ علم کی ضرورت کو محسوس کریں، اہل علم کو تلاش کر کے ان سے رابطہ رکھیں، ان سے استفادہ کریں، ان کی دعائیں لیں، ان کا احترام کریں اور ان کی نصیحتوں کو غور سے سنیں۔ جبکہ خود اہل علم کے لیے علم کی عظمت کو ملحوظ رکھنے کی صورت یہ ہے کہ وہ علم کے وقار کو قائم رکھیں، اسے اہل دنیا اور اصحاب اقتدار تک رسائی کا ذریعہ نہ بنائیں، استغناء اور بے نیازی کا دامن نہ چھوڑیں، علم کے بدلے دنیا حاصل کرنے کا راستہ اختیار نہ کریں، اور ہر حال میں حق گوئی کو اپنا شعار بنائیں۔

کہتے ہیں کہ گاڑی کے پہیے اپنی اپنی جگہ سب صحیح حالت میں بھی ہوں مگر ان کے درمیان ’’بیلنس‘‘ درست نہ ہو تو گاڑی لڑکھڑانے لگتی ہے اور اگر بیلنس درست کرنے کی طرف توجہ نہ دی جائے تو گاڑی ایک طرف لڑھک جاتی ہے۔ اس لیے آج جبکہ ہماری قومی زندگی کی گاڑی مسلسل لڑکھڑا رہی ہے تو کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ ’’ارباب دین و علم‘‘ اور ’’اصحاب دنیا و اقتدار‘‘ تھوڑی دیر رک کر اس گاڑی کی ’’ویل بیلنسنگ‘‘ ہی چیک کر لیں؟