وکلاء کرام ! خدا کے لیے سنجیدگی اختیار کریں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ خدام الدین، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ جون ۱۹۹۰ء

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں زیر بحث شریعت بل پیش کرنے کے خلاف قرارداد منظور کی تو سابق وزیر اطلاعات راجہ ظفر الحق نے، جو خود بھی ایک ممتاز وکیل ہیں، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مجلس میں کہا تھا کہ

’’وکلاء کی اکثریت نے شریعت بل کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔‘‘

یہ بات عجیب سی لگی کہ ہائی کورٹ کے وکلاء آخر کسی بل پر مطالعہ کیے بغیر تبصرہ کیسے کر سکتے ہیں۔ لیکن 20 جون کو روزنامہ نوائے وقت لاہور کے ادارتی صفحہ میں ملک کے معروف قانون دان جناب ملک امجد حسین ایڈووکیٹ کا ایک مضمون شریعت بل کے خلاف شائع ہوا ہے جس نے جناب راجہ محمد ظفر الحق کے تبصرہ کی حرف بہ حرف تصدیق کر دی ہے۔ ملک صاحب نے اپنے مضمون میں اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ

’’اس بل کی تفصیلات پڑھنے کا موقع تو نہیں ملا لیکن ملک عزیز میں اس کے بارے میں اختلافات کا سلسلہ اخبارات میں نظر سے گزرا ہے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ صاحب مضمون کو سرے سے یہ معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ شریعت بل کس نے پیش کیا ہے اور اس کا متن کیا ہے۔ چنانچہ وہ شریعت بل کا تعارف ان الفاظ سے کرا رہے ہیں کہ

’’سینٹ نے حال ہی میں سابق صدر ضیاء الحق مرحوم کی طرف سے بذریعہ آرڈینینس جاری شدہ شریعت قانون کو اب متفقہ طور پر چند ترامیم کے ساتھ پاس کر دیا ہے۔‘‘

حالانکہ سینٹ کا 13 مئی کو پاس کردہ شریعت بل صدر ضیاء الحق مرحوم کا جاری کردہ آرڈینینس نہیں ہے کیونکہ ضیاء مرحوم کا ’’شریعت آرڈینینس‘‘ جسے آئینی مدت گزرنے سے قبل صدر غلام اسحاق خان نے دوبارہ جاری کیا تھا، قومی اسمبلی یا سینٹ میں مقررہ مدت کے اندر پیش ہی نہ ہو سکا تھا اور اسی وجہ سے وہ ختم ہو چکا تھا۔ جبکہ زیربحث ’’شریعت بل‘‘ 13 جولائی 1985ء کو سینٹ میں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے پیش کیا تھا جو مسلسل پانچ سال تک زیر بحث رہا۔ اس پر سینٹ کی متعدد کمیٹیوں کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی غور کیا اور مختلف حلقوں کی طرف سے ترامیم پیش کیں۔ چنانچہ ان تمام رپورٹوں اور ترامیم و تجاویز کی روشنی میں سینٹ نے 13 مئی 1990ء کو شریعت بل منظور کر لیا۔

شریعت بل سے ناواقفیت اور اس کا مطالعہ نہ کرنے ہی کی وجہ سے ملک امجد حسین صاحب نے اپنے مضمون میں وہ نکات اس کے خلاف اٹھائے ہیں جن کا سرے سے بل میں تذکرہ ہی نہیں ہے۔ مثلاً انہوں نے حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی فقہ کے اختلافات کے حوالہ سے شریعت بل کو ہدف تنقید بنایا ہے جبکہ شریعت بل کے پورے متن میں کسی جگہ ان میں سے کسی فقہ کا سرے سے کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

ہم وکلاء کرام کے اس حق کے مخالف نہیں ہیں کہ وہ شریعت بل کے متن پر ناقدانہ نظر ڈالیں اور انہیں فکری یا عملی طور پر اس میں کوئی خامی نظر آئے تو اس کی نشاندہی کریں۔ لیکن خدا شاہد ہے کہ ہمیں ہائی کورٹ کے وکلاء سے اس غیر سنجیدہ رویہ کی توقع ہرگز نہیں تھی کہ وہ شریعت بل کا مطالعہ کیے بغیر اس کے خلاف لنگر لنگوٹ کس لیں گے۔ ملک میں قانون دان طبقہ کا اپنا ایک مقام ہے اور بالخصوص ہائی کورٹ کے وکلاء سے قوم ایک سنجیدہ طرز عمل کی توقع رکھتی ہے، اس لیے ہم جناب ملک امجد حسین صاحب اور ہائی کورٹ کے دیگر وکلاء سے بصد ادب گزارش کریں گے کہ نفاذ شریعت کا مسئلہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس کے پیچھے قوم کی دو سو سالہ قربانیاں اور ہزاروں شہداء کا خون ہے، اس لیے اس مسئلہ پر خدا کے لیے سنجیدگی اختیار کریں اور روایتی انداز سے ہٹ کر اپنے ایمان، ضمیر اور قانونی مہارت کا صحیح اور مثبت استعمال کریں۔