مولانا مفتی محمودؒ اور اکرم درانی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ دسمبر ۲۰۰۲ء

اکرم درانی صاحب سے ممکن ہے کسی موقع پر ملاقات ہوئی ہو مگر مجھے یاد نہیں ہے۔ اور صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ کے لیے ان کے انتخاب سے قبل اخبارات میں کبھی کبھار ان کا نام پڑھنے کے علاوہ ان کا کوئی تعارف ذہن میں نہیں تھا۔ اس لیے مجھے متحدہ مجلس عمل کی طرف سے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کے منصب کے لیے ان کے چناؤ پر تعجب ہوا کہ اس انتہائی نازک اور حساس موقع پر اس انتہائی اہم منصب کے لیے کسی معروف اور بھاری بھر کم شخصیت کی بجائے ان کا انتخاب آخر کس بنیاد پر کیا گیا ہے؟

رمضان المبارک سے قبل میں برطانیہ میں تھا اور ماہ مبارک کے دوسرے ہفتے کے دوران وطن واپسی ہوئی ہے۔ تب سے گوجرانوالہ میں رمضان المبارک کے حوالہ سے مقامی مصروفیات کے حصار میں ہوں جس کی وجہ سے متحدہ مجلس عمل کے قائدین میں سے کسی سے ملاقات بھی ابھی تک نہیں ہو پائی۔ ورنہ ملاقات کی صورت میں پہلا سوال ذہن میں یہی تھا کہ اکرم درانی کون ہیں اور اتنے اہم اور نازک منصب کے لیے ان کا انتخاب کیسے کر لیا گیا ہے؟ میرا خیال تھا کہ اگر آئینی رکاوٹ نہ ہو تو صوبہ سرحد کا وزیر اعلیٰ مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، یا قاضی حسین احمد میں سے کسی کو ہونا چاہئے۔ کیونکہ افغانستان کے پڑوس میں متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کو اپنے منشور پر عملدرآمد بلکہ کاروبار حکومت چلانے میں بھی جن رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور جن چیلنجوں کے امکانات دن بدن واضح ہوتے جا رہے ہیں ان سے نمٹنے کے لیے صرف صوبائی اسمبلی میں اکثریت اور اچھے وزراء کی ٹیم کافی نہیں ہوگی بلکہ حکومتی ٹیم کے کپتان کے طور پر کسی بھاری بھرکم شخصیت کی بھی ضرورت ہوگی۔

چنانچہ صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ کے لیے متحدہ مجلس عمل کی طرف سے جناب اکرم درانی کا نام سامنے آنے پر مجھے تشویش ہوئی اور پہلا تاثر ذہن میں یہ ابھرا کہ شاید ایم ایم اے کی قیادت کو صوبہ سرحد کی حکومت کا کاروبار چلانے میں متوقع مشکلات کا پوری طرح احساس نہیں ہے، یا وہ اس معاملہ میں اس قدر سنجیدہ نہیں ہے جتنا کہ اسے ہونا چاہئے۔ بھلا ہو برادرم حامد میر صاحب کا کہ انہوں نے اپنے کالم ’’قلم کمان‘‘ میں یہ بتا کر میری تشویش ایک حد تک کم کر دی کہ اکرم درانی کا خاندانی تعلق فقیر ایپیؒ کے اس حریت پسند اور مجاہد گروہ سے ہے جس نے ایک عرصہ تک اس خطہ میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جہاد آزادی کا محاذ گرم رکھا اور جس کا نام سامنے آتے ہی حریت اور جہاد کے حقیقی مفہوم سے آشنا مسلمانوں کی گردنیں عقیدت و محبت سے خم ہو جاتی ہیں۔

فقیر ایپیؒ تحریک آزادی کے نامور مجاہدین میں سے تھے اور حامد میر کے بیان کے مطابق اکرم درانی فقیر ایپیؒ کے دست راست حاجی گل نوازؒ کے پوتے ہیں، جن کا گھر انگریزوں نے اس جرم میں بموں سے اڑا دیا تھا اور ان کی جائداد ضبط کر کے کوڑیوں کے مول فروخت کر دی تھی کہ وہ اپنے ملک اور قوم کی آزادی کے لیے ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے۔ اور غیر ملکی قابضین سے وفاداری کی اسناد حاصل کرنے کی بجائے ان سے اپنے وطن سے نکل جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ حاجی گل نوازؒ کا یہ پوتا اگر اپنے عظیم دادا کے ساتھ رشتے کے علاوہ فکری وابستگی بھی رکھتا ہے اور یقیناًرکھتا ہوگا تو میں متحدہ مجلس عمل کو اس حسن انتخاب پر داد دیتا ہوں اور جناب اکرم درانی کو صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کے حیثیت سے اپنی سیاسی زندگی کے ایک نئے دور کے آغاز پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

اکرم درانی اور ان کی کا بینہ نے حلف برداری کے مرحلہ سے گزر کر صوبہ سرحد کا کاروبار حکومت سنبھال لیا ہے اور اب انہیں خود کو اس اعتماد کا اہل ثابت کرنے کی لیے عملی پیش رفت کرنی ہے جس کا اظہار صوبہ سرحد کے عوام نے ۱۰ اکتوبر کے انتخاب میں کھلے بندوں کیا ہے۔ اور انہیں ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے بھی خود کو ہر وقت چوکس رکھنا ہے جو صوبہ سرحد سے باہر نہ صرف پاکستان کے دیندار عوام بلکہ دنیا بھر کی اسلامی تحریکات اور دینی کارکنوں نے صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت سے وابستہ کر لی ہیں۔

میں اس سے قبل ایک مضمون میں اس بات کا تذکرہ کر چکا ہوں کہ اسلامائزیشن کے حوالہ سے دنیا بھر کے دینی کارکن اور اسلامی تحریکات سب سے زیادہ پاکستان سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ اور اس سلسلہ میں ان کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ ۱۰ اکتوبر کے الیکشن کے بعد تین الگ الگ عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں نے مجھے یہ سمجھ کر صوبہ سرحد کا کاروبار حکومت بہتر چلانے کے لیے متعدد مشوروں سے نوازا کہ ان معاملات سے شاید میرا بھی کوئی عملی تعلق ہے یا میں بھی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہوں۔

ایک عرب دانش ور کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کے وزرائے کرام کو عوام کے روز مرہ مسائل کے حل میں زیادہ دلچسپی لینی چاہئے، ذاتی کردار کے حوالہ سے دیانت، خدمت اور سادگی کی روایات کو زندہ کرنا چاہئے، حکمرانوں اور عوام کے درمیان قائم کئے گئے مصنوعی فاصلوں کو کم کرنا چاہئے، اور ایک ایسی دیانت دار، کفایت شعار، خدمت گزار اور با اصول حکومت کا نقشہ پیش کرنا چاہئے جو دوسری حکومتوں سے واقعتا مختلف دکھائی دے۔ اور پھر آئندہ الیکشن میں ملک کے دوسرے صوبوں کے عوام بھی صوبہ سرحد کے عوام کی پیروی کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

صوبہ سرحد میں اس سے قبل مولانا مفتی محمودؒ بھی دس ماہ تک وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ان کا دور اگرچہ عبوری آئین کا دور تھا، ابھی ۱۹۷۳ء کا دستور نہیں آیا تھا اور مرکز اور صوبوں کے تعلقات کار اور تقسیم کار کا حتمی طور پر فیصلہ نہیں ہوا تھا جبکہ مفتی صاحبؒ صوبہ میں حکومت کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ دستور ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خان عبدالولی خان کے سر گرم رفیق کار کی حیثیت سے ایک فعال اپوزیشن راہ نماکا کردار بھی ادا کر رہے تھے۔ ان کے حکومت معاملات میں مرکز کی مداخلت کا یہ حال تھا کہ شراب پر پابندی جیسے مسئلہ پر ان کے پورے دور حکومت میں مرکز ان سے مسلسل خط و کتابت کرتا رہا جس کا مقصد ان پر دباؤ ڈال کر اس معاملہ میں انہیں اپنی پالیسی میں لچک پیدا کرنے پر مجبور کرنا تھا۔

مفتی مولانا محمودؒ نے ہمیں خود بتایا کہ انہوں نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہی جب صوبہ سرحد میں شراب کی تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تو مرکز نے ایک مراسلہ میں ان سے کہا کہ شراب کی مد میں صوبائی حکومت کو ٹیکس کی جو آمدنی ہوتی تھی وہ اس پابندی کی وجہ سے بند ہو جائے گی اور اس خسارہ کو پورا کرنے کے لیے مرکز ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ مفتی صاحبؒ نے جواب دیا کہ کوئی بات نہیں ہم اپنے اخراجات میں کمی کر کے یہ خسارہ پورا کر لیں گے۔

اس کے بعد مرکز کا دوسرا خط آیا کہ غیر مسلموں کے ہاں شراب حرام نہیں ہے اس لیے ان کے لیے بڑے شہروں میں شراب کی چند دکانیں کھول دینی چاہئیں۔ مفتی صاحبؒ نے اس کا جواب دیا کہ غیر مسلموں کو شراب پینے کی اجازت ہو سکتی ہے لیکن انہیں شراب مہیا کرنا ہماری ذمہ دار نہیں ہے۔

اس کے بعد مرکز سے تیسرا خط آیا کے بعض بیماریوں میں شراب بطور دوا ستعمال ہوتی ہے اس لیے گنجائش کی کوئی صورت نکالنا ضروری ہے۔ مفتی صاحبؒ نے اس کے جواب میں صوبائی ہیلتھ سیکرٹری کی سربراہی میں ایک میڈیکل بورڈ بنا دیا اور اس کے ذمہ لگایا کہ وہ ایسی بیماری کی نشاندہی کرے جو مہلک ہو اور جس کا شراب کے علاوہ کوئی متبادل علاج موجود نہ ہو۔ مفتی صاحبؒ کا ارشاد یہ تھا کہ اگر واقعی ایسی کوئی بیماری موجود ہے جو مہلک ہے اور شراب کے علاوہ اس کا کوئی متبادل علاج نہیں ہے تو وہ ایسی بیماری کے لیے ہسپتالوں میں شراب کے استعمال کی اجازت دینے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن میڈیکل بورڈ کی رپورٹ یہ تھی کہ ایسی کوئی بیماری سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

مولانا مفتی محمودؒ نے اس طرح کی رکاوٹوں، مشکلات اور مداخلت کے باوجود نہ صرف کاروبار حکومت کامیابی کے ساتھ چلایا بلکہ مرکز میں اپوزیشن راہ نما کا رول بھی باوقار طریقہ سے نبھایا، سادگی اور کفایت شعار کی نقشہ پیش کیا، اور پھر اصولوں کی خاطر از خود اقتدار سے الگ ہو کر دنیا کو بتا دیا کہ اہل حق اور اہل دین کے نزدیک اقتدار مقصد نہیں بلکہ مقاصد کے حصول کے لیے صرف ایک ذریعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

جناب اکرم درانی نے مولانا مفتی محمودؒ کی یہ سیٹ سنبھالی ہے اور خوش قسمتی سے ان کا تعلق بھی مفتی صاحبؒ ہی کی جماعت سے ہے اس لیے لوگ ان سے بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نہ صرف مولانا مفتی محمودؒ کی روایات کو زندہ کریں گے بلکہ ان کے مشن کو عملاً آگے بڑھانے کے لیے بھی سنجیدہ محنت کریں گے۔ مفتی صاحبؒ کی پشت پر تو مینڈیٹ بھی اتنا بڑا نہیں تھا اور چالیس کے ایوان میں ان کی اپنی پارٹی کی سیٹیں صرف چھ تھیں، باقی سب کچھ ان کی حکمت و تدبر کا کرشمہ تھا۔ اکرم درانی ان سے کہیں زیادہ و بھاری مینڈیٹ کے ساتھ صوبہ سرحد کے حکمران بنے ہیں اس لیے وہ زیادہ حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ اپنے منشور کی طرف پیش رفت کر سکتے ہیں۔ البتہ ’’حکمت و تدبر‘‘ کے بارے میں انہیں مولانا مفتی محمودؒ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اور انہی سے راہ نمائی حاصل کرنا ہوگی۔ اگر انہوں نے ایسا کرنے کا اہتمام کر لیا تو ان شاء اللہ تعالیٰ وہ متحدہ مجلس عمل اور اپنے ووٹروں کے ہاں سر خرو ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مشن اور منشور کے ساتھ بھی صحیح طور پر انصاف کر سکیں گے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس میں کامیابی اور سرخروئی عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔