کیا قرآن کریم صرف پڑھ لینا کافی ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ جون ۲۰۱۶ء

30 مئی کو سیالکوٹ روڈ گوجرانوالہ میں بٹرانوالی کے مقام پر جامعہ محمودیہ کے سالانہ جلسہ دستاربندی میں قرآن کریم کے حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ چھ بچوں نے آج قرآن کریم کا آخری سبق سنایا ہے اور وہ حفاظ کرام کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ آج ان کی دستاربندی بھی کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں قرآن کریم یاد رکھنے کی توفیق دیں اور عمل و خدمت کے مواقع نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ ان بچوں نے قرآن کریم حفظ کیا ہے اور صحیح تلفظ کے ساتھ تجوید کے مطابق قرآن کریم پڑھا ہے۔ ہم سب بحمد اللہ تعالیٰ قرآن کریم کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے ہیں، اور اب رمضان المبارک قریب آرہا ہے اس میں قرآن کریم کا پڑھنا سننا ہر طرف عام ہوگا کہ یہ قرآن کریم کا سیزن ہے اور قرآنی برکات کی بہار ہے جس میں ہر مسلمان کچھ نہ کچھ پڑھنے سننے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔

اس حوالہ سے میں ایک سوال یہ کرنا چاہوں گا کہ کیا قرآن کریم صرف پڑھ لینا کافی ہے کہ جیسے کیسے پڑھ سکے پڑھ لیا، یا صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے؟ کسی بھی زبان میں اس کے الفاظ صحیح تلفظ کے ساتھ نہ پڑھے جائیں تو اس کا معنٰی بدل جاتا ہے، بلکہ بعض دفعہ معنٰی بگڑ بھی جاتا ہے۔ ہم اردو کا کوئی لفظ اگر غلط بول دیں تو ٹوک دیا جاتا ہے کہ یہ لفظ اس طرح نہیں ہے اسے یوں پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح انگریزی کا کوئی لفظ صحیح طور پر نہ بولا جائے تو اس پر ٹوک دیا جاتا ہے اور صحیح تلفظ بتایا جاتا ہے۔ عربی میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ کوئی لفظ صحیح طریقہ سے نہ پڑھا جائے تو معنٰی بدل جاتا ہے، اور اگر یہ معنٰی قرآن کریم میں بدلے تو اس کی سنگینی زیادہ ہو جاتی ہے۔ کسی لفظ کا کوئی حرف صحیح ادا نہ کیا جائے یا کسی لفظ میں کوئی حرف تیزی یا بے پروائی کی وجہ سے پورا نہ پڑھا جائے، دونوں صورتوں میں معنٰی مختلف ہو جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک لفظ کا ذکر کروں گا۔ سورۃ الفاتحہ قرآن کریم کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی سورۃ ہے، اس میں ایک لفظ ہے انعمت علیھم کہ اے اللہ ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے انعام فرمایا ہے۔ لیکن عام طور پر تیزی سے یہ لفظ انمت پڑھا جاتا ہے اور جلدی میں عین کا حرف پڑھنے سننے میں نہیں آتا۔ اس صورت میں ظاہری معنٰی یہ بن جاتا ہے کہ ’’جن لوگوں پر تو نے نیند طاری کر دی‘‘۔ یوں آیت کا مفہوم بالکل بدل کر رہ جاتا ہے۔ چنانچہ یہ مسئلہ ہمارے ذہنوں میں موجود رہنا چاہیے کہ قرآن کریم کا صرف پڑھ لینا کافی نہیں ہے بلکہ صحیح تلفظ کے ساتھ اور آرام کے ساتھ پڑھنا بھی ضروری ہے تاکہ معنٰی میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔ اور یہ ہر مسلمان کے لیے خواہ وہ مرد ہو، عورت ہو، بوڑھا ہو، جوان ہو، یکساں طور پر ضروری ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ان بچوں نے تو قرآن کریم مکمل یاد کیا ہے جو بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ دنیا میں بحمد اللہ تعالیٰ اس وقت قرآن کریم کے کروڑوں حفاظ موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس پاک کلام کا اعجاز ہے لیکن ہر مسلمان کو کچھ نہ کچھ قرآن کریم یاد ہونا ضروری ہے۔ ہمیں اس کا تھوڑا سا اندازہ کر لینا چاہیے کہ ہر مسلمان مرد، عورت، بوڑھے، بچے کو کم سے کم کتنا قرآن کریم یاد کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک بات پر غور کر لیں کہ پانچ وقت کی نماز ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ان پانچ نمازوں کی رکعتوں کو شمار کرلیں اور یہ دیکھ لیں کہ ان میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کتنی رکعتوں میں قرآن کریم پڑھنا لازمی ہے اور اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کیا ہے۔

نبی کریمؐ کی سنت مبارکہ یہ ہے کہ آپؐ تمام نمازوں میں سورتیں بدل بدل کر پڑھتے تھے۔ بڑی سورتیں بھی پڑھتے تھے، درمیانی بھی پڑھتے تھے اور چھوٹی سورتیں بھی تلاوت کرتے تھے۔ کسی وقت تنہا بیٹھ کر ہر مسلمان کو ضرور حساب کر لینا چاہیے کہ وہ اگر حضورؐ کی سنت کے مطابق نماز پڑھنا چاہتا ہے تو اسے چھوٹی بڑی کتنی سورتیں زبانی یاد ہونی چاہئیں۔ کیونکہ زبانی یاد ہوں گی تبھی نماز میں پڑھ سکے گا۔ ہم نے عام طور پر یہ معمول بنا رکھا ہے کہ دو چار چھوٹی سورتیں یاد کر لیتے ہیں اور ہر نماز میں انہی کو بار بار پڑھتے رہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے نماز تو بہرحال ہو جاتی ہے لیکن یہ یاد رکھیں کہ سنت کے مطابق نہیں ہوتی۔ میرے محتاط اندازے کے مطابق ہر مسلمان کو کم سے کم آخری پارہ تو ضرور زبانی یاد ہونا چاہیے تب وہ سنت کے مطابق پانچ نمازیں روزانہ ادا کر سکے گا۔

اس لیے جس طرح ہمارے بچے قرآن کریم یاد کرتے ہیں ہمیں خود بھی کچھ نہ کچھ ضرور یاد کرنا چاہیے اور صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے کی کسی استاذ سے مشق کرنی چاہیے۔ یہ قرآن کریم کا حق ہے اور ہم سب کی دینی ذمہ داریوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: