جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ اگست ۲۰۱۳ء

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے عام انتخابات کے لیے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اگلے سال ہونے والے انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کر سکے گی۔ روزنامہ پاکستان میں 2 اگست کو آئی این پی کے حوالہ سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عدالت میں درخواست کی گئی تھی کہ چونکہ جماعت اسلامی کے منشور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا ذکر کیا گیا ہے جو ریاست کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی ہے، اس لیے جماعت اسلامی کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جائے اور الیکشن کمیشن میں اس کی رجسٹریشن کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ عدالت کے تین رکنی بینچ نے پینل کے سربراہ معظم حسین سمیت درخواست گزار کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے درخواست قبول کر لی ہے اور جماعت اسلامی کی الیکشن کے لیے رجسٹریشن کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ جماعت اسلامی کچھ عرصہ سے بنگلہ دیش کے عدالتی نظام کے زیر عتاب ہے اور جماعت کے معمر راہ نما پروفیسر غلام اعظم سمیت متعدد راہ نماؤں کو سزائے موت اور طویل المدت قید کی دیگر سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

بنگلہ دیش جب دستوری طور پر مشرقی پاکستان تھا اور پاکستان کا آئینی حصہ تھا یہ تب کی بات ہے کہ مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے لیے آزادی کے نام پر تحریک چلائی گئی تھی جو صرف سیاسی نہیں بلکہ عسکری بھی تھی، اس عسکری اور سیاسی تحریک کو بھارت کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور اس کی حمایت میں بھارت نے وسیع پیمانے پر فوجی مداخلت کی تھی۔ اس وقت مشرقی پاکستان کی جماعت اسلامی نے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر پاکستان کی حکومت اور فوج کا ساتھ دیا تھا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کے عسکری ونگ ’’مکتی باھنی‘‘ کا ’’البدر‘‘ اور ’’الشمس‘‘ کے نام سے عسکری ونگ بنا کر مقابلہ کیا تھا۔

جماعت اسلامی کے اس کردار سے سیاسی بنیادوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اس وقت اس سے اختلاف کرنے والوں میں ہم بھی شامل تھے لیکن بنگلہ دیش کی اس وقت کی دستوری حیثیت اور متحدہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے کے دائرے میں تمام تر سیاسی اختلاف کے باوجود جماعت اسلامی کے اس دور کے کردار کو ملکی دستور اور حب الوطنی کے مسلمہ تقاضوں سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بنگلہ دیش قائم ہوجانے، اس کو تسلیم کر لینے اور اس کے دستوری نظام کا حصہ بن جانے کے بعد بنگلہ دیش کے دستور کی خلاف ورزی کے حوالہ سے کی جانے والی کوئی کاروائی تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن ایک ملک کے قیام سے پہلے کی سرگرمیوں اور کاروائیوں کو ملک کے دستور کے تحت عدالتی کاروائیوں کا نشانہ بنانا سیاسی انتقام کے علاوہ اور کسی ٹائٹل کا مستحق نہیں سمجھا جا سکتا۔ خود پاکستان کے قیام سے پہلے اس خطہ کی متعدد سیاسی جماعتوں نے قیام پاکستان سے اختلاف کیا تھا اور تحریک پاکستان کی پوری شدت کے ساتھ مخالفت کی تھی لیکن جب پاکستان وجود میں آگیا اور اس کے قیام کے مخالفین نے اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے شہری کے طور پر اس کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر دیا تو پاکستان کی عدالتی نظام نے جس میں بنگلہ دیش بھی مشرقی پاکستان کے طور پر شریک تھا، اس طرح کی کوئی کاروائی نہیں کی جو بنگلہ دیش کی عدالتیں اپنے دستوری وجود سے پہلے کی سرگرمیوں پر کچھ عرصہ سے مسلسل کر رہی ہیں۔

قیام پاکستان کے بہت سے مخالفین جن میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، خان عبد الغفار خان مرحوم اور عبد الصمد اچکزئی مرحوم جیسی بڑی شخصیات شامل تھیں، پاکستان کے باعزت شہری تسلیم کیے گئے، ملک کے سیاسی نظام کا حصہ بنے اور ان کے الیکشن میں حصہ لینے اور اقتدار تک رسائی حاصل کرنے کے حق سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔ بنگلہ دیش میں بھی ابتداء میں اس سے مختلف طرز عمل اختیار نہیں کیا گیا، جماعت اسلامی سمیت بہت سے سیاسی حلقے جو بنگلہ دیش کے قیام کے مخالف تھے، انہیں بنگلہ دیش کا شہری تسلیم کیا گیا، وہ سیاسی نظام کا حصہ بنے اور انتخابات میں حصہ بھی لیتے رہے لیکن اب چار عشروں کے بعد اچانک بنگلہ دیش کے عدالتی نظام کو خیال آیا ہے کہ داخل دفتر کی جانے والی فائلوں کو از سرِ نو اُن کی گرد جھاڑ کر ان میں مدفون کیسوں کو ’’ ری اوپن‘‘ کیا جائے اور ان کی بنیاد پر داروگیر کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔

ہمیں بنگلہ دیش کی عدالتوں کے دستوری اور قانونی دائرہ کار سے بحث نہیں ہے، یقیناًملک کے دستور نے انہیں اس قسم کے اختیارات دے رکھے ہوں گے لیکن مذکورہ پس منظر میں اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے ان عدالتی فیصلوں کو سمجھنے میں ہمیں الجھن پیش آرہی ہے اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ ’’بے وقت کی راگنی‘‘ بنگلہ دیش کے اس ’’سیکولر تشخص‘‘ کو بچانے کے لیے چھیڑی گئی ہے جسے نارمل ذرائع سے بنگلہ دیش کے عوام کو قبول کروانے میں پیش رفت کے امکانات کو کمزور دیکھتے ہوئے متبادل طریقوں سے اس کا رنگ گہرا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی چار عشروں پر مشتمل سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ نوے فی صد مسلم اکثریت اور عوامی سطح پر ٹھوس اسلامی روایات رکھنے والے اس ملک کا قیام تو سیکولر عنوان سے عمل میں آیا تھا لیکن اس کا سیکولر تعارف بنگلہ دیش کے عوام کو ہضم نہیں ہوا۔ چنانچہ خلافت اسلامیہ کے قیام کے علمبردار حافظ جی حضورؒ نے جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلفاء میں سے تھے جب خلافت کے عنوان سے بنگلہ دیش کے صدارتی الیکشن میں حصہ لیا تو اسلامی نظام اور خلافت کے لیے بنگلہ دیشی عوام کے جذبات دیدنی تھے اور بہت سے سیاسی ذرائع اب تک یہ بات دہرا رہے ہیں کہ اگر مبینہ طور پر دھاندلی نہ ہوتی تو حافظ جی حضورؒ صدارتی الیکشن کی دوڑ میں دوسرے امیدواروں سے آگے تھے۔

پھر 1988ء میں بنگلہ دیش کی منتخب پارلیمنٹ نے اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب بھی دستوری طور پر قرار دے دیا تھا جو بنگلہ دیش کے عوام کے دینی جذبات کا مظہر تھا، لیکن عوامی لیگ نے ملک کے سیکولر تشخص کے نام پر اپنے دورِ حکومت میں اسے ’’ریورس گیئر‘‘ لگا دیا اور اب بھی وہ اسی سیکولر تشخص کے تحفظ کے لیے ہر طرف ہاتھ پاؤں ما رہی ہے۔

ایک مسلم ریاست کے اسلامی تشخص یا سیکولر شناخت کی یہ کشمکش صرف بنگلہ دیش میں نہیں ہے۔ ترکی تقریباً پون صدی تک اس کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اب ماضی کی طرف لوٹنے کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔ الجزائر اسی کشمکش میں خانہ جنگی کے جانگسل مرحلہ سے گزر چکا ہے۔ مصر میں الجزائر کی طرح سول سوسائٹی اور رائے عامہ کے میدان کو ناہموار پا کر سیکولر قوتوں نے فوج اور عدالت کی قوتوں کا سہارا لینے کو ترجیح دی ہے۔ ہمارے ہاں پاکستان میں بھی سیکولر حلقے پاکستان کے اسلامی تشخص اور مذہبی شناخت کو دستور کے صفحات سے کھرچ ڈالنے کے لیے پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ اس طرح پورا عالم اسلام اسلامی قوتوں اور سیکولر حلقوں کے درمیان کشمکش کا وسیع منظر پیش کر رہا ہے اور یہ بات نکھر کر سامنے آرہی ہے کہ اس کشمکش میں سول سوسائٹی اور رائے عامہ بہرحال اسلامی قوتوں کے ساتھ ہے، بلکہ دن بدن اس کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے جبکہ سیکولر حلقوں کے لیے متبادل ذرائع کا سہارا لینے کے سوا کوئی آپشن دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے ہمیں اس سے پریشانی ضرور ہے لیکن حالات کا رُخ یہ بتاتا ہے کہ دنیا بھر کی مسلم ریاستوں کے اسلامی تشخص کو سیکولر تصورات کی دھند میں گم کر دینے کی مہم اب آخری راؤنڈ میں ہے اور ناکامی بہرحال اس کا مقدر بن چکی ہے۔

البتہ بنگلہ دیش کی مذکورہ عدالت کے اس فیصلے سے ایک بات اور واضح ہوگئی ہے کہ ہمیں ’’سیکولرازم‘‘ کا گورکھ دھندا سمجھانے کی جو یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ سیکولر ازم مذہب کی نفی کا نام نہیں ہے بلکہ مذاہب کے وجود کو تسلیم اور ان کا احترام کرتے ہوئے ان کے درمیان کشمکش میں ریاست کو فریق نہ بنانے کا نام ہے۔ یہ سراسر فریب اور دھوکہ ہے، اس لیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو رسمی طور پر تسلیم کرنا بھی سیکولر ازم کے منافی ہے تو پھر کون سا مذہب اور اس کا کون سا احترام باقی رہ جاتا ہے؟ شاید اکبر الٰہ آبادیؒ نے اسی موقع کے لیے کہا تھا:

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
درجہ بندی: