اللہ اور رسولؐ کی اطاعت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۱۱ء

(۱۴ نومبر ۲۰۱۱ء کو بعد نماز عشاء امام بخاریؒ مسجد، بروک لین، نیویارک میں خطاب۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس مسجد میں پہلے بھی کئی بار حاضری اور آپ حضرات کے ساتھ ملاقات ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اور مہر بانی ہے کہ اس نے ہمیں ایک بار پھر اس مسجد میں جمع ہونے، نماز عشاء با جماعت پڑھنے اور اس کے بعد دین کی کچھ باتیں کہنے اور سننے کے لیے جمع کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری نماز قبول فرمائیں، مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں، اور دین کی جو بات سمجھ میں آئے اس پر عمل کی توفیق سے بھی نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ آج آپ حضرات سے دو تین مسئلوں پر تھوڑی تھوڑی بات کرنا چاہوں گا۔

اللہ اور رسولؐ دونوں کی اطاعت لازمی ہے

ایک یہ کہ قرآن کریم میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ اس کے رسولؐ کی بھی اطاعت کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ دونوں ہمارے مستقلاً مطاع ہیں۔ اس لیے ہم پر جس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ضروری ہے اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی بجا آوری بھی ضروری ہے۔ کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بہت سے کاموں کا حکم دیا ہے، ان کے ساتھ جناب نبی اکرمؐ نے بھی ہمیں بہت سے احکام دیے ہیں۔ چنانچہ دین اللہ و رسولؐ دونوں کے احکام کی پیروی کا نام ہے اور جب تک دونوں کی اطاعت نہیں ہوگی، دین مکمل نہیں ہو گا۔

مثلاً نماز ہی کو لے لیجیے جو اسلام کے فرائض میں سب سے اہم فریضہ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں آیات میں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، اس کی پابندی کی تلقین کی ہے، اس کے ترک پر اپنی ناراضگی اور جہنم کے عذاب سے ڈرایا ہے اور اس کی اہمیت واضح فرمائی ہے، لیکن کہیں یہ نہیں بتایا کہ دن رات میں ہم نے کتنی نمازیں پڑھنی ہیں، نمازوں کے اوقات کیا ہیں، اس کی رکعات کتنی ہیں، ہر رکعت میں رکوع اور سجدے کتنے ہیں، اور نماز کی ترتیب اور کیفیات کیا ہیں ؟ یہ سب باتیں ہمیں آنحضرتؐ کے ارشادات اور سنت سے ملتی ہیں۔ چونکہ نماز کی تفصیلات سے آپؐ نے امت کو آگاہ فرمایا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے احکام اور حضورؐ کے ارشادات و اعمال دونوں کو جمع کریں گے تو نماز مکمل ہو گی اور ہم صحیح طریقہ سے نماز پڑھ سکیں گے۔ لیکن اگر ہم آپؐ کی حدیث و سنت کو (نعوذ باللہ) نظر انداز کر کے صرف قرآن کریم کی بنیاد پر نماز پڑھنا چاہیں گے تو ایک نماز بھی نہیں پڑھ سکیں گے۔ یہی صورت حال اسلام کے باقی فرائض اور دین کے دوسرے احکام کی ہے کہ اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ (سورہ النساء ۴ ۔ آیت ۵۹) ان دونوں کو جمع کر کے ہی ہم ان کی بجا آوری کر سکیں گے۔

اس بات کی مزید وضاحت کے لیے قرآن کریم کی دو آیات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔ جب مسلمانوں کو اجازت ملی کہ وہ سفر میں نماز قصر کر سکتے ہیں اور چار رکعتوں کی بجائے سفر میں وہ دو رکعت ادا کریں گے تو قرآن کریم میں اس حکم کے ساتھ یہ شرط مذکور ہے کہ

وَاِذَا ضَرَبْتُـمْ فِى الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلَاةِۖ اِنْ خِفْتُـمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا۔ (سورہ النساء ۴ ۔ آیت ۱۰۱)

’’اور جب تم سفر کے لیے نکلو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں سے کچھ کم کر دو، اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔‘‘

یعنی حالت جنگ میں یا دشمنوں کے علاقہ سے گزرتے ہوئے تمہیں خطرہ ہوکہ دشمن کہیں اچانک حملہ نہ کردیں تو چار کی بجائے دو رکعتیں پڑھ لو اور سنت و نفل کو چھوڑ د و۔ اس طرح یہ قصر اور دوگانہ نماز حالت جنگ اور دشمن کے حملہ کے خطرہ کے ساتھ مشروط قرار پاتی ہے۔ لیکن جناب نبی اکرمؐ جب حجۃ الوداع کے سفر پر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو آتے جاتے نماز قصر پڑھتے رہے حالانکہ کسی طرف سے کوئی خطرہ کی بات نہیں تھی اور نہ ہی دشمن کے خطرے کا کوئی دور دور تک امکان تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ کو اشکال ہوا کہ قصر کی نماز تو قرآن کریم نے حالت خوف کے ساتھ مشروط کی ہے مگر ہم حالتِ امن میں بھی قصر نماز پڑھتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ اشکال حضورؐ کی خدمت میں پیش کیا تو جناب رسول اللہؐ نے بہت خوبصورت جواب دیا کہ ’’اللہ تعالیٰ کا صدقہ کیوں واپس کرتے ہو؟‘‘ اس کا میں اپنی زبان میں یوں ترجمہ کیاکرتا ہوں کہ ہم حالت امن میں قصر کرتے جا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نہیں روکا تو تم کیوں اس بارے میں بات کرتے ہو؟ ظاہر بات ہے کہ وحی کا سلسلہ تو جاری تھا، اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت نہ ہوتی تو وحی آجاتی کہ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ جب وحی میں اس عمل سے منع نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے بھی حالتِ امن میں قصر کی اجازت ہو گئی ہے۔ اس طرح حالتِ جنگ میں قصر نماز اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے اور حالت امن میں قصر نماز جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ سے ہے۔ اور جس نکتہ کی طرف میں توجہ دلانا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ دونوں قصروں میں احکام اور ثواب و اجرکے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔

قرآن کریم کی ایک اور آیت مقدسہ کو بھی دیکھ لیں کہ جب یہ حکم نازل ہو اکہ مسلمانو! آپس میں جب تجارت کاکوئی بڑا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اوراس پر گواہ بنا لیا کرو تا کہ بعد میں کوئی تنازعہ کھڑا نہ ہو، اس کے ساتھ ہی یہ حکم ہوا کہ

وَاِنْ كُنْتُـمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَّقْبُوْضَةٌ۔ (سورۃ البقرہ ۲ ۔ آیت ۲۸۳)

’’اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو گروی کو قبضہ میں دے دیا جائے۔‘‘

یعنی اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے کی سہولت موجود نہیں پاتے تو رہن کا معاملہ کر لیا کرو کہ جس کے ذمہ قرض ہے وہ ضمانت کے لیے کوئی چیز رہن کے طور پر دوسرے فریق کے قبضہ میں دے دے، جو رقم کی ادائیگی کے بعد واپس کر دی جائے۔ رہن کے احکام واضح ہیں جو آپ حضرات نے متعدد بار سنے ہوں گے اور یہ رہن کاروبار اور قرضوں میں آج بھی ہرجگہ چلتا ہے۔ لیکن یہاں جو بات توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے رہن کو سفر کی حالت اور لکھنے کی سہولت موجود نہ ہونے کی صورت کے ساتھ خاص کیا ہے، اقامت کی حالت اور لکھنے کی سہولت موجود ہونے کے حالات اس میں شامل نہیں ہیں۔ مگر رہن کے احکام و ضوابط میں فقہاء کرام نے کہیں بھی اس کا فرق نہیں رکھا اور سفر و حضر ہر حالت میں رہن کا تعامل امت میں جاری چلا آرہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ حالتِ اقامت کا رہن کہاں سے آگیا؟ اس پر محدثین اور فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ جناب رسول اللہؐ کے ایک واقعہ کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ آپؐ نے مدینہ منورہ میں ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ رہن رکھ کر اس سے غلہ ادھار لیا تھا جبکہ یہ نہ سفر کا معاملہ تھا اور نہ ہی لکھنے کی سہولت مفقود تھی۔ یہاں فقہاء فرماتے ہیں کہ حالتِ سفر کا رہن تو قرآن کریم سے ثابت ہے جبکہ حالتِ اقامت کا رہن جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ سے ثابت ہے۔ اور دونوں رہنوں میں احکام و مسائل کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ اس لیے میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ دین صرف قرآن کریم کے احکام کو ماننے اور اللہ تعالیٰ کے فرامین کی اطاعت کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور سنن مبارکہ بھی اسی طرح واجب الاطاعت ہیں جس طرح قرآن کریم کے احکام کی اطاعت ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ کی اطاعت آنحضرتؐ کی اطاعت پر موقوف ہے

دوسری بات یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو بھی جناب نبی اکرمؐ کی اطاعت پر موقوف کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ مَّنْ يُّطِــعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّـٰهَ (سورہ النساء ۴ ۔ آیت ۸۰) کہ جس نے رسول اکرمؐ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ اس لیے کہ قرآن کریم کے احکام و فرامین کی شرح و تعبیر میں فائنل اتھارٹی جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی ہے۔ قرآن کریم کی کسی آیت، جملہ یا لفظ کی جو تشریح حضورؐ نے کی ہے وہی اس کا اصل معنٰی ہے اور وہی اس آیت، جملہ یا لفظ سے اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ اسی طرح قرآن کریم کے کسی حکم پر جس طرح آپؐ نے عمل کیا ہے، وہی اس پر عمل کی حتمی شکل ہے، اس سے ہٹ کر قرآن کریم کے کسی حکم پر عمل کی کوئی اور کیفیت اختیار کی جائے گی تو وہ قرآن کریم پر عمل تصور نہیں ہو گا۔

قرآن کریم پڑھتے ہوئے اور اس کے احکام کو سمجھتے ہوئے بعض جگہ اشکال پیداہو جاتا ہے۔ اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے اس لیے کہ خود حضرات صحابہ کرامؓ کو بھی بعض آیات قرآنی کے سمجھنے میں اشکال ہو جاتا تھا، احادیث میں بیسیوں واقعات اس سلسلہ میں مذکور ہیں۔ اور بسا اوقات تو قرآن کریم کی آیت اور جناب نبی اکرمؐ کے ارشاد میں بظاہر تعارض محسوس ہونے لگتا تھا لیکن اس قسم کا کوئی مسئلہ در پیش ہوتا تو حضرات صحابہ کرامؓ حضورؐ سے ہی رجوع کرتے تھے اور اس کی وضاحت میں آپؐ جو بھی فرمادیتے وہی اس آیت کریمہ کا صحیح مصداق سمجھا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی منشا و مراد قرار پاتا تھا۔ اس سلسلہ میں بہت سے واقعات میں سے ایک واقعہ کا تذکرہ کر رہا ہوں۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرتؐ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا من حوسب عذب کہ جس کا حساب کتاب ہوا اسے ضرور عذاب ہو گا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ! قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِىَ كِتَابَهُ بِيَمِيْنِهٖ o فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْـرًا o وَيَنْقَلِبُ اِلٰٓى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا۔ (سورۃ الانشقاق ۸۴ ۔ آیات ۷ تا ۹)

’’پھر جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو اس سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے اہل و عیال میں خوش واپس آئے گا۔‘‘

بلکہ ایک جگہ قرآن کریم میں یوں ہے کہ فَيَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتَابِيَهْ اِنِّىْ ظَنَنْتُ اَنِّىْ مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ فَهُوَ فِىْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ (سورہ الحاقہ ۶۹ ۔ آیات ۱۹ تا ۲۱) کہ وہ کہے گا آؤ میرا نامہ اعمال اور رزلٹ کارڈ دیکھو، مجھے یقین تھا کہ مجھے یہی نتیجہ ملے گا، پس وہ خوشی کی زندگی میں ہوگا۔ حضرت عائشہؓ کا مطلب یہ تھا کہ قرآن کریم کی ان آیات کی رو سے حساب کتاب کے بعد بھی بہت سے لوگوں کو نجات اور خوشی ملے گی جبکہ آپؐ فرما رہے ہیں کہ من حوسب عذب جس کا حساب ہوا سے عذاب دیا جائے گا۔

بظاہر یہ تعارض قرآن کریم اور حدیث نبویؐ میں نظر آتا ہے کہ قرآن کریم کچھ اور فرما رہا ہے جبکہ حضورؐ کچھ اور۔ لیکن آپؐ نے یہاں ایک جملہ میں جواب دیا اور بات صاف کر دی ذاک العرض یا عائشۃ! اے عائشہؓ جس حساب کی بات قرآن کریم میں کی گئی ہے وہ صرف پیشی ہے، یعنی سرسری پیشی پر ایک آدھ سوال کے ساتھ نجات کا پروانہ مل جائے گا۔ اما من نوقش فقد عذب لیکن جس کا مناقشہ ہوا یعنی جس کا ریکارڈ طلب کر لیا گیا وہ عذاب سے نہیں بچے گا۔ میں اس کی ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں انکم ٹیکس کی ادائیگی کے لیے تاجر حضرات حساب کتاب کا گوشوارہ پیش کرتے ہیں۔ انکم ٹیکس آفیسر نے اگر اس گوشوارے پر ایک دو سوال کر کے بات نمٹا دی تو جان چھوٹ گئی، لیکن اگر اس نے تفصیلی حساب کتاب کے لیے ریکارڈ طلب کر لیا تو مارے گئے۔

یہاں جس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ بظاہر ایک تعارض قرآن کریم کی آیت اور حضورؐؐ کے ارشاد میں دکھائی دے رہا ہے مگر یہاں بھی وضاحت کی اتھارٹی جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی ہے کہ انہوں نے جو وضاحت کر دی وہی فائنل ہے اور وہی اس آیت کریمہ سے اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ کا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت کا جو مطلب اور مفہوم جناب نبی اکرمؐ نے اپنے قول یا عمل سے طے کر دیا ہے اس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت شمار ہو گی اور اگر کوئی اپنی مرضی کرنا چاہے گا کہ میں تو قرآن کریم کی اس آیت یا جملے سے یہ سمجھتا ہوں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا ۔

قرآن کریم کی تعبیر و تشریح کی فائنل اتھارٹی کون؟

جبکہ تیسری بات آپ حضرات کی خدمت میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی کسی آیت یا جملے کا مفہوم سمجھنے میں بسا اوقات اس کا شان نزول معلوم نہ ہونے کی وجہ سے دقت پیش آتی ہے اور جب تک وہ پس منظر معلوم نہ ہو آیت کریمہ کا صحیح مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ اس پر بھی احادیث میں متعدد واقعات موجود ہیں جن میں سے ایک کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

قدامہ بن مظعونؓ بدری صحابی ہیں، حضرت عمرؓ کے برادر نسبتی اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے ماموں تھے۔ انہیں حضرت عمرؓ نے ایک صوبے کا گورنر بنایا تو وہاں سے رپورٹ آئی کہ حضرت قدامہ بن مظعونؓ کبھی کبھی شراب پیتے ہیں۔ امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے انکوائری کرائی تو بات درست ثابت ہوئی جس پر انہیں مدینہ منورہ طلب کر لیا گیا۔ وہ جب پیش ہوئے تو امیر المؤمنینؓ کے استفسار پر انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ کبھی کبھی شرا ب پیتے ہیں۔ اس کی دلیل انہوں نے یہ بیان کی کہ کبھی کبھی شراب پینے کی قرآن کریم نے اجازت دی ہے کہ جن آیات میں شراب کی حرمت بیان کر کے اس کے پینے سے حتمی طور پر منع کیا گیا اور شراب نوشی کو شیطانی عمل اور نری گندگی قرار دیا گیا ہے، ان میں سے ایک آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ

لَيْسَ عَلَى الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوٓا۔ (سورہ المائدہ ۵ ۔ آیت ۹۳)

’’جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان پر کوئی گناہ نہیں اگر انہوں نے اس چیز میں سے کچھ کھا پی لیا۔‘‘

حضرت قدامہ بن مظعونؓ کا استدلال فیما طعموا سے تھا کہ تھوڑی بہت چکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے میں کبھی کبھار پی لیتا ہوں۔ حافظ ابن حجرؒ نے ’’الاصابۃ‘‘ میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کر کے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت قدامہؓ کے اس استدلال کو مسترد کر دیا اور ان پر شراب نوشی کی حد جاری کی۔ مفسرین کرامؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ جب شراب کی حرمت کا حتمی حکم جاری ہوا اور اسے ’’رجس‘‘ قرار دے کر اس سے قطعی طور پر منع کر دیا گیا تو بعض صحابہ کرامؓ کو اشکال ہوا کہ جب یہ گند اور نجاست ہے تو ہمارے جو ساتھی اس کی حرمت کے اعلان سے پہلے شراب پیتے تھے اور ان میں سے بہت سے اسی حالت میں فوت بھی ہو گئے ہیں، ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ جو ایمان اور عمل صالح والے لوگ ایمان و تقویٰ کے ساتھ اس سے قبل شراب پیتے رہے ہیں ان پر کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کہ جب شراب حرام نہیں ہوئی تھی تو پینے میں کوئی حرج بھی نہیں تھا۔ گویا اس ’’فیما طعموا‘‘ کا تعلق مستقبل سے نہیں بلکہ ماضی سے ہے۔

میں آپ حضرات سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ اگر ا س آیت کریمہ کا یہ پس منظر ہمیں معلوم نہ ہو تو کیا اس کا صحیح مطلب اور مصداق ہم سمجھ پائیں گے؟ بہت سے لوگوں کو قرآن کریم کی بعض آیات کو سمجھنے اور ان کے صحیح مطلب تک پہنچنے میں دشواری اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ اس آیت کریمہ کے حوالہ سے جناب نبی اکرمؐ کی قولی یا عملی تشریح کو معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور آیت کے شان نزول سے واقفیت کی زحمت گوارا نہیں کرتے بلکہ اپنے فہم اور علم کے زور سے آیت کریمہ کا مفہوم و مصداق طے کرنے کی کوشش میں گمراہ ہو جاتے ہیں۔

اس لیے آج کی میری ان گزارشات کے خلاصے کے طور پر یہ بات ذہن میں رکھیے کہ ہم پر صرف قرآن کریم کے احکام کی اطاعت فرض نہیں بلکہ ان کے ساتھ جناب نبی اکرمؐ کے احکام کی پیروی بھی اسی طرح فرض ہے۔ اور قرآن کریم کی کسی آیت، جملہ یا لفظ کی وہی تشریح و تعبیر حتمی ہے جو جناب نبی اکرمؐ نے اپنے قول یا عمل کے ساتھ کی ہے۔ اور اگر قرآن کریم کی کسی بات کو سمجھنے میں دقت پیش آئے تو اس کے لیے آنحضرتؐ کی حدیث و سنت کے ساتھ ساتھ اس آیت کریمہ کے شان نزول اور پس منظر کو سمجھنا بھی ضروری ہے، اس کے بغیر قرآن کریم کا صحیح معنٰی و مفہوم متعین نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت پر صحیح طریقہ سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں،آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: