مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ اگست ۲۰۱۴ء
اصل عنوان: 
او آئی سی ۔ اے روسیاہ! تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تین دن کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اسرائیلی درندگی کا مسلسل نشانہ بننے والے فلسطینیوں نے وقتی طور پر کچھ سکون کا سانس لیا ہے۔ تین دن کے بعد کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے سیکرٹری جنرل عیاض امین مدنی کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ:

’’او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے، مذہبی نہیں۔ ہم ممبر ممالک کے درمیان تحقیق، تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اگر او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے تو کس لیے؟ اس وقت فوری طور پر قرارداد کی ضرورت ہے مگر اقوام متحدہ میں کیس فائل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ امریکہ اسے ویٹو کر دے گا۔ ہم نے اسرائیلی جارحیت کا معاملہ عالمی عدالت برائے جنگی جرائم میں لے جانے کا سوچا تھا مگر فلسطین اور اسرائیل دونوں اس کے ممبر نہیں۔ ہر ملک کی اپنی ذمہ داری ہے اور او آئی سی تمام ممالک کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتی۔ پوری دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ فلسطینیوں کی کیسے مدد کی جا سکتی ہے؟‘‘

دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ امید تھی کہ جلد یا بدیر او آئی سی کا سربراہی اجلاس ہوگا اور مسلم حکومتوں کے سربراہ فلسطینی ممالک کو اسرائیلی درندگی سے نجات دلانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کریں گے۔ لیکن سیکرٹری جنرل صاحب نے صاف جواب دے دیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہر ملک اپنی ذمہ داریاں خود پوری کرے۔ ادھر غزہ کی صورت حال یہ ہے کہ مکانات ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں، شہداء اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے، اور اسرائیل کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ وہ تین دن کی جنگ بندی بھی جاری رکھے گا یا نہیں، بعد کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

اس کے ساتھ آج (۶ اگست) کے ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر یہ بھی ہے کہ رمضان المبارک کے ختم ہوتے ہی لندن کی سڑکوں پر ’’سپر کاروں‘‘ کا رش پڑ چکا ہے۔ عرب ممالک کے با اثر ترین افراد اپنی مہنگی ترین گاڑیوں سمیت یہاں پہنچ چکے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں نجی طیاروں پر آنے والی ان گاڑیوں کی فی گاڑی لاکھوں ڈالروں میں قیمت ہے۔ اور اس صورت حال پر مقامی رہائشی بھی سخت برہم نظر آتے ہیں۔ لندن کے مہنگے ترین علاقہ ’’نائٹس برج‘‘ کی جانب سے مقامی پولیس کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پوری رات عرب باشندے سڑکوں پر تیز رفتاری سے گاڑیاں بھگاتے ہیں، ایک طرف تو ان گاڑیوں نے شہریوں کا سونا محال کر رکھا ہے، دوسری طرف تیز رفتاری سے جانوں کو الگ خطرہ ہے۔ پھر دن کے وقت غلط پارکنگ کی وجہ سے شہریوں کو مسائل رہتے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق صرف متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو غلط پارکنگ پر کیے گئے جرمانے ایک سال میں دگنے ہو چکے ہیں۔ اسی طرح قطر اور سعودی شہری بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں۔ گزشتہ برس مشرق وسطیٰ سے آنے والی گاڑیوں کو اسی ہزار پاؤنڈ سے زیادہ رقم کے جرمانے کیے گئے۔ تاہم اس صورت حال سے مقامی ہوٹل اور ریستوران مالکان بے حد خوش نظر آتے ہیں کیونکہ آنے والے دنوں میں پر تعیش ہوٹلوں میں پیسہ پانی کی طرح بہایا جائے گا۔ اب اسے مسلمانوں کی بے حسی کہیں یا وقت گزارنے کا محبوب مشغلہ!

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے بیان اور عرب ممالک کے با اثر اور متمول افراد کی عیش پرستی کے اس منظر کے بعد اب فلسطینیوں کے مستقبل کے بارے میں کچھ سوچنے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور کیا عرب ممالک کے حکمران اور عیش پرست طبقے اس بات سے مطمئن ہوگئے ہیں کہ اسرائیل کی یہ درندگی صرف غزہ اور فلسطین تک محدود رہے گی اور اس مورچہ کو سر کرنے کے بعد وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم بالخصوص ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے نقشے میں رنگ بھرنے کے لیے مزید پیش رفت نہیں کرے گا؟ یہ خبر پڑھ کر ہمیں سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۱۶ یاد آگئی ہے اور ڈر لگنے لگا ہے کہ:

’’اور جب ہم کسی علاقے کو تباہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے عیش پرست لوگوں کو ڈھیل دے دیتے ہیں ، اور جب وہ فسق و فجور کی انتہا کر کے حجت پوری کر دیتے ہیں تو ہم اس بستی اور علاقے کو تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔‘‘

البتہ اس سارے تناظر میں ایک اچھی خبر بھی ہے جس نے دل کو تسلی دی ہے کہ مسلم حکمرانوں کی غیرت و حمیت بالکل راکھ نہیں ہوگئی بلکہ کہیں کہیں اس کی چنگاریاں موجود ہیں جنہیں ہوا دی جائے تو حمیت و غیرت کی تپش کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خبر بھی لندن سے ہے کہ برطانوی حکومت کی پاکستانی نژاد مسلمان خاتون سعیدہ وارثی نے برطانیہ کی اسرائیل نواز پالیسی پر احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ کے بارے میں برطانیہ کی پالیسی کی مزید حمایت نہیں کر سکتیں، اس لیے انہوں نے وزیر اعظم کو استعفیٰ بھجوا دیا ہے۔

سعیدہ وارثی کا یہ اعلان جہاں ایک مسلمان بیٹی کی ملی حمیت کا غماز اور مسلمانوں میں غیرت و حمیت کی کسی نہ کسی درجہ میں موجودگی کا اظہار ہے وہاں او آئی سی کے سربراہوں اور سیکرٹری جنرل کے نام یہ پیغام بھی ہے کہ اگر وہ فلسطینیوں کی حمایت میں عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تو او آئی سی کے مردہ گھوڑے کی لاش کو دفنا دینے کا اعلان تو کر سکتے ہیں، اس میں دیر کس بات کی ہے۔ ہمیں عیاض امین مدنی اور سعیدہ وارثی کے ان بیانات پر سودا کا یہ شعر یاد آرہا ہے اور ہم اسے مسلم حکمرانوں کی نذر کرنا چاہتے ہیں کہ:

سودا قمار عشق میں شیریں سے کوہ کن
بازی اگرچہ لے نہ سکا سر تو دے سکا
کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز
اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا
درجہ بندی: