اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کرنے کی تجویز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۹ء

روزنامہ جناح لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ آئین میں ترامیم تجویز کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اے این پی نے یہ تجویز دی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کر کے عوامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا جائے اور ایم کیو ایم بھی اس تجویز کی حمایت کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی دستوری اصلاحات کمیٹی اس وقت دستور میں ضروری ترامیم تجویز کرنے پر کام کر رہی ہے اور اس کے سامنے سیکولر حلقوں کی طرف سے اس قسم کی تجاویز بھی آرہی ہیں کہ ملک کا نام تبدیل کر دیا جائے، قرارداد مقاصد کو محض علامتی دفعہ کی حیثیت دے دی جائے، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور تحفظ ناموس رسالتؐ کے قوانین میں ترامیم کی جائے، وغیر ذٰلک۔

جہاں تک ملک کے نام میں تبدیلی کا تعلق ہے اس سے قبل صدر محمد ایوب خان مرحوم نے بھی یہ قدم اٹھایا تھا اور اسلامی کا لفظ حذف کر کے ملک کو ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دینے کا اعلان کیا تھا جس پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا تھا اور ایوب خان مرحوم کو یہ قدم واپس لینا پڑا تھا۔ اس دور میں اس سلسلہ میں منعقد ہونے والے عوامی احتجاج جلسوں میں سعید علی ضیاء صاحب کی ایک نظم بہت مقبول ہوئی تھی جس کا یہ شعر ابھی تک ہمارے کانوں میں گونج رہا ہے:

ملک سے نام اسلام کا غائب مرکز ہے اسلام آباد
پاک حکمراں زندہ باد پاک حکمراں زندہ باد

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص کے خلاف یہ سازشیں ایک عرصہ سے چل رہی ہیں اور اب بھی عالمی استعمار کے ایجنڈے میں یہ بات شامل ہے کہ پاکستان کو ایک سیکولر ریاست کا درجہ دے دیا جائے، جس کے لیے ملک میں عالمی استعمار کے ہمنوا حلقے اس قسم کی تجاویز وقتاً فوقتاً پیش کرتے رہتے ہیں، لیکن ان شاء اللہ تعالیٰ اس قسم کی کوئی کوشش ماضی کی طرح آئندہ بھی کامیاب نہیں ہو گی۔ البتہ دینی حلقوں کو چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور تمام دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستوری اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کو اس سلسلہ میں عوامی جذبات سے با ضابطہ طور پر آگاہ کرنے کا ضرور اہتمام کریں۔