کیا ریاست کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ جون ۲۰۱۶ء

ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر گزشتہ دنوں ہونے والی گفتگو کے حوالہ سے بعض دوستوں نے سوال کیا ہے کہ کیا اسلامی ریاست کو اپنے شہریوں کے کسی گروہ کے بارے میں یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں؟ میں نے ان سے عرض کیا کہ اگر کسی ریاست کا تشخص اسلامی ہے، اس کے دستور و قانون کی بنیاد اسلام ہے، اور اسے اپنے شہریوں کے ہر طبقہ کے ساتھ اس کے مذہب و عقیدہ کے حوالہ سے معاملہ کرنا ہے تو پھر اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہوگا کہ وہ شہریوں میں مسلمان اور غیر مسلم کا فرق واضح کیے بغیر اپنے تشخص اور دستوری بنیاد کو باقی رکھ سکے۔ سیکولر ریاست کا معاملہ جدا ہے کہ سیکولر تشخص برقرار رکھتے ہوئے بلاشبہ اس کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ شہریوں میں مذہب کی بنیاد پر تفریق کرے۔ اور بات صرف اسلام کی نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ ہر مذہب کو پیش آسکتا ہے۔ مثلاً ویٹی کن سٹی ایک مذہبی ریاست ہے تو پھر وہ اپنے دائرہ کار میں مسیحی اور غیر مسیحی کا فرق کیے بغیر اپنی ریاستی ذمہ داریوں کو کسی طرح بھی سر انجام نہیں دے سکتی۔ اسی طرح ایک اسلامی ریاست کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مسلم اور غیر مسلم کے فرق کا لحاظ رکھے اور جہاں ابہام ہو اسے دور کرنے کے لیے وہ اپنا کردار ادا کرے۔

اس حوالہ سے سب سے پہلے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ ’’اسلامی ریاست‘‘ کا تصور کیا ہے اور اس کے دستور و قانون میں کون سے امور بنیاد کا کردار ادا کرتے ہیں۔ میں دلائل کی بحث میں پڑے بغیر تاریخی تناظر میں اس کا جائزہ لینا چاہوں گا کہ جب اسلامی ریاست وجود میں آئی تو وہ کن اصولوں پر قائم ہوئی تھی اور اس قسم کے مسائل کو اس نے کس طریقہ سے ڈیل کیا تھا۔ یہ بات تاریخی طور پر مسلمہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت جزیرۃ العرب کسی ریاستی وجود اور باقاعدہ حکومت سے آشنا نہیں تھا۔ لیکن جناب رسول اللہؐ نے جب دنیا سے پردہ فرمایا تو پورا جزیرۃ العرب ایک باقاعدہ ریاست کی شکل اختیار کر چکا تھا اور اس میں ایک منظم حکومت تشکیل پا چکی تھی جس کے سربراہ اپنی حیات میں جناب رسالت مآبؐ خود تھے اور ان کے وصال کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو اسی ریاست و حکومت کا سربراہ چنا گیا تھا۔ ظاہر بات ہے کہ یہ ریاست و حکومت حضورؐ کی تئیس سالہ محنت کا ثمرہ تھا جس کی بنیاد وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات پر تھی، اسی لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے رسول اکرمؐ کے جانشین کے طور پر اپنی حکومتی ذمہ داریوں کا آغاز کیا تو پہلے خطبہ میں ہی واضح طور پر اعلان کر دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور جانشین ہیں، اس لیے وہ قرآن و سنت کی ہدایات کے دائرے میں حکومت کریں گے۔

جزیرۃ العرب کی یہ نئی قائم ہونے والی ریاست و حکومت صرف اپنی سرحدوں کے دائرے میں محدود نہیں تھی بلکہ اس وقت کی دونوں عالمی حکومتوں اور سپر پاورز یعنی ایران اور روم کے لیے نہ صرف چیلنج کی حیثیت اختیار کر گئی تھی بلکہ عالمی قیادت کے حصول کے لیے بیک وقت دونوں قوتوں سے نبرد آزما ہو کر اس نے ان کو بتدریج عالمی قیادت کے منظر سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ پھر خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ، اور خلافت عثمانیہ کی صورت میں کم و بیش بارہ سو سال تک دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکومت کی تھی اور تمام تر سیاسی گروہ بندیوں اور اقتدار کی باہمی کشمکش کے باوجود ان سب ادوار میں ریاست کے قوانین و احکام اور معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد قرآن و سنت کی تعلیمات پر رہی ہے۔

اسلامی ریاست کا کوئی تصور بارہ صدیوں کے اس تاریخی اور واقعاتی تناظر سے آنکھیں بند کر کے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے مجھے ان دانش وروں پر تعجب ہوتا ہے جو دوسروں کو تو زمینی حقائق اور تاریخی پس منظر کے احترام کا سبق دیتے رہتے ہیں مگر خود اسلامی ریاست جیسے اساسی مسئلہ پر تمام تر زمینی حقائق اور بارہ سو سالہ تاریخی تناظر کو یکسر نظر انداز کر کے محض فلسفیانہ موشگافیوں پر اسلامی ریاست کا تعارف کرانے کی سعیٔ لاحاصل میں مصروف ہیں۔ اسلامی ریاست کے حوالہ سے ایک بات سب کو اپنے ذہنوں میں بالکل واضح کر لینی چاہیے کہ اگر اس سے مراد وہ ریاست و حکومت ہے جو خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں قائم کی تھی اور اپنی حیات مبارکہ میں ہی اس کا دائرہ پورے جزیرۃ العرب تک وسیع کر دیا تھا، پھر اسے خلفاء راشدین نے ایک عالمی ریاست و حکومت کی شکل دے دی تھی، تو ہمیں آج کے دور میں اسلامی ریاست و حکومت کی دستوری اور فکری اساس اسی کو بنانا ہوگا۔ کیونکہ اسے نظر انداز کر کے قائم ہونے والی کوئی ریاست و حکومت جو کچھ بھی ہو مگر اسلامی کہلانے کی حقدار نہیں ہوگی۔

اس اصولی وضاحت کے بعد ہم اصل نکتہ کی طرف واپس آتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد جب ان کی قائم کردہ ریاست و حکومت نے خلافت کا ٹائٹل اختیار کیا تو خلیفۂ اول حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنے کام کا آغاز ہی اس عمل سے کیا تھا کہ عقیدہ ختم نبوت کے منکرین مسیلمہ کذاب، طلیحہ اور سجاح کو ان کے پیروکاروں سمیت مرتد قرار دے کر ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ زکوٰۃ کے منکرین کو بھی اسی کھاتے میں شمار کر کے ان کے خلاف لشکرکشی کی تھی۔ منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم قرار دینے میں تو ان سے کسی نے اختلاف نہیں کیا تھا مگر منکرین زکوٰۃ کو ان کے ساتھ شمار کرنے میں حضرت عمرؓ کو ابتداء میں تردد تھا اور اس پر دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان بحث و مباحثہ بھی ہوا تھا جس کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے فیصلے کی دوٹوک حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔

چنانچہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو تاریخی فیصلہ ۱۹۷۴ء میں صادر کیا تھا وہ ایک اسلامی ریاست کے دائرہ اختیار بلکہ فرائض میں شامل تھا۔ البتہ غیر مسلم قرار دینے کے باوجود ان کے خلاف عسکری کاروائی سے گریز کرتے ہوئے انہیں اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کی حیثیت دے دی گئی تھی۔ اور یہ بھی شاید جناب نبی کریمؐ کی اس سنت مبارکہ اور حکمت عملی کی پیروی تھی کہ جن منافقین کو قرآن کریم نے کافر قرار دیا تھا ان کے خلاف کوئی فوجی ایکشن لینے کی بجائے انہیں بطور شہری برداشت کر کے مسلسل حکمت عملی کے ذریعہ منظر عام سے غائب ہونے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔

درجہ بندی: