دفاعی پالیسی ۔ قرآنی احکام کی روشنی میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ وفاق، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ اگست ۱۹۹۶ء

قومی حلقوں میں ان دنوں ایٹمی پروگرام کے حوالہ سے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے لیے حکومت پاکستان کی آمادگی زیر بحث ہے اور اسے امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دے کر اس پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ مجوزہ معاہدہ جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 51 ویں اجلاس میں زیر بحث آنے والا ہے اس کے تحت ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کو کسی بھی ملک کی ایٹمی تنصیبات کو چیک کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ اس سمجھوتے کے ضمن میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ ایٹمی توانائی کے حوالہ سے بین الاقوامی طاقتوں کی قائم کردہ حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کی اقتصادی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ اس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے انہیں تباہ کرنے کا اختیار بھی عالمی ادارے کو مل جائے۔

اس وقت دنیا میں امریکہ، روس، چین، فرانس، اور برطانیہ باضابطہ طور پر ایٹمی قوت شمار ہوتے ہیں جبکہ اسرائیل، بھارت، اور پاکستان کو ایٹمی صلاحیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ اسرائیل اور بھارت اپنی ایٹمی صلاحیت کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت غیر اعلان شدہ ہے بلکہ ہمارے حکمرانوں کے بقول عالمی دباؤ کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی توانائی کے حصول کا پروگرام منجمد کیا جا چکا ہے اور اسے رول بیک کرنے کے لیے دباؤ جاری ہے۔

سی ٹی بی ٹی پر پاکستان اور بھارت دونوں اب تک دستخط کرنے سے انکار کرتے چلے آرہے ہیں اور پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ جب تک بھارت اس پر دستخط نہ کردے پاکستان دستخط نہیں کرے گا کیونکہ یہ علاقہ میں فوجی قوت کے توازن کا مسئلہ ہے جس سے صرف نظر کرنا پاکستان کی سالمیت کے منافی ہوگا۔ مگر اب جبکہ بھارت دستخط سے انکار پر بدستور ڈٹا ہوا ہے، حکومت پاکستان نے اس سمجھوتے پر یکطرفہ طور پر دستخط کرنے کا عندیہ دے دیا ہے جس پر قومی حلقوں میں بجا طور پر تشویش و اضطراب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی فوجی قوت کے بارے میں بھی امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کے اس دباؤ کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان اپنی قوت کو کم کردے اور دفاعی اخراجات کو عالمی قوتوں کی مقرر کردہ حدود میں لے آئے، اس صورت میں پاکستان کے دفاع کی ضمانت دینے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

ہم اس موقع پر اس مسئلہ کی شرعی حیثیت کا جائزہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ ایک مسلمان ملک ہونے کے علاوہ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے نافذ العمل دستور کی رو سے بھی ہم ہر معاملہ میں شرعی حدود کے دائرہ میں رہنے کے پابند ہیں۔ فوجی قوت کے بارے میں قرآن کریم نے ایک ہی جملہ میں مسلمانوں کو واضح ہدایت دے دی ہے کہ

وَاَعِدُّوْا لَـهُـمْ مَّا اسْتَطَعْتُـمْ مِّنْ قُوَّةٍ ۔ (سورہ انفال ۸ ۔ آیت ۶۰)

’’اور ان کے مقابلہ میں جتنی قوت تمہارے بس میں ہو فراہم کرو‘‘۔

اس کے ساتھ ہی اس کی حد بھی بیان فرمائی کہ

تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّـٰهِ وَعَدُوَّكُمْ۔ (سورہ انفال ۸ ۔ آیت ۶۰)

’’تاکہ اس قوت کے ساتھ تم اللہ کے اور اپنے دشمن کو خوفزدہ کر سکو‘‘۔

آج کی اصطلاح میں اس کا معنی یہ ہوں گے کہ دشمن کے مقابلہ میں طاقت کا توازن تمہارے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ترمذی شریف کی ایک روایت بھی ملاحظہ فرمالیں جس میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ انصار مدینہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد اپنے باغات اور کاروبار وغیرہ سے بے نیاز ہو کر ہمہ تن حضور علیہ السلام کے ساتھ ہوگئے تھے اور مسلسل جنگوں کی وجہ سے ان کی معاشی حالت خاصی متاثر ہوگئی تھی، غالباً غزوۂ خیبر کے بعد انہوں نے باہمی مشورہ کیا کہ اب اسلام کو پہلے کی طرح کا خطرہ نہیں رہا اور صورتحال خاصی بہتر ہوگئی ہے اس لیے ہمیں جہاد پر زیادہ خرچ کرنے کی بجائے اب اپنے باغات اور کاروبار سدھارنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اس موقع پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ

وَاَنْفِقُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ۔ (سورہ البقرہ ۲ ۔ آیت ۱۹۶)

’’اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو‘‘۔

گویا اللہ رب العزت نے انصار مدینہ کو تنبیہ فرمائی اور دفاعی اخراجات کی کمی کو ’’قومی خودکشی‘‘ قرار دیا۔ ان احکام الٰہی کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایٹمی توانائی کے حصول کے سلسلہ میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنا اور دفاعی اخراجات میں کمی کی تجاویز قومی خودکشی کے مترادف ہیں۔ چنانچہ ہر باغیرت اور محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ اس پر جتنا احتجاج اس کے بس میں ہو وہ اس سے گریز نہ کرے۔ ؔ