مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک صورتحال ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ ستمبر ۲۰۱۶ء
اصل عنوان: 
مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک صورتحال

پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمان درخواستی نے ۲۰ ستمبر کو کچھ اہم مسائل پر مشاورت کے لیے چند سرکردہ جماعتی احباب کو اسلام آباد میں طلب کیا اور ان کی صدارت میں جامع مسجد سلمان فارسیؓ ایف ٹین ٹو میں بعد نماز ظہر یہ مشاورتی نشست منعقد ہوئی۔ شرکاء میں مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مفتی محمد سیف الدین گلگتی، مولانا عبد الرؤف محمدی، مولانا ثناء اللہ غالب، حافظ سید علی محی الدین، مولانا صلاح الدین فاروقی، قاری عبید اللہ عامر، جناب سعید احمد اعوان، مولانا محمد الیاس چترالی، مولانا پیر فضل حکیم، مولانا زبیر احمد درخواستی، حافظ محمد معاویہ، حافظ محمد حذیفہ خان سواتی اور راقم الحروف شامل تھے۔

اجلاس میں سودی نظام کے حوالہ سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ سرکلر اور خیبر پختون خواہ اسمبلی میں پرائیویٹ سود پر پابندی کے لیے کیے گئے حالیہ فیصلے پر غور کیا گیا اور ان دونوں اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں سودی نظام کی نحوست کو کم کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ پیش رفت ہو رہی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک نے اپنی تمام شاخوں کو جو سرکلر بھجوایا ہے اس میں غیر سودی بینکاری کے لیے مضاربہ، مشارکہ، مرابحہ اور وکالہ کی ان شرعی صورتوں کو اختیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے جو ممتاز ارباب علم و فقہ نے بینکاری نظام کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے کے لیے تجویز کی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی غیر سودی بینکاری کے لیے شروع کیے جانے والے سسٹم کی بعض کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے جو موجودہ حالات میں ایک مثبت کوشش ہے۔ لیکن اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے ارباب دانش اور مفتیان کرام کو اس کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لے کر اس سلسلہ میں ماہرین معیشت کی مؤثر اور بروقت راہ نمائی کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اسی طرح صوبہ خیبر پختون خواہ کی اسمبلی نے پرائیویٹ سود پر پابندی کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بھی خوش آئند ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر اصل بات عملدرآمد کی ہے۔ اس لیے کہ پنجاب اسمبلی نے بھی ۲۰۰۷ء میں پرائیویٹ سود کو غیر قانونی قرار دے کر اس پر سزا مقرر کی تھی مگر اس پر عملدرآمد میں کوئی پیش رفت اب تک دکھائی نہیں دی۔ اس لیے سودی نظام و قوانین کی نحوست کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس سلسلہ میں اب تک سامنے آنے والے مثبت اقدامات پر عملدرآمد کے لیے بینکاری، تجارت، اور معیشت کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور کارکنوں کی فکری و عملی تربیت کا اہتمام ضروری ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اس بارے میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے مشترکہ فورم ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کا جلد از جلد اجلاس طلب کیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں دینی مدارس کے حوالہ سے پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کے حالیہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ دینی مدارس پر دباؤ کے حکومتی اقدامات کا دائرہ مسلسل پھیلتا جا رہا ہے جس سے دینی تعلیم کے شعبہ میں خدمات سر انجام دینے والے مدرسین، طلبہ، اور مدارس کے منتظمین میں عدم تحفظ اور حوصلہ شکنی کی فضا قائم ہو رہی ہے۔ سندھ کی حکومت نے اس قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے بارے میں دینی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ جبکہ پنجاب حکومت نے بھی اس بات کی منظوری دے دی ہے کہ دینی مدرس کی حسابات کی چیکنگ اور چھان بین خفیہ اداروں کے ذریعہ کرائی جائے اور اس کے ساتھ ہی حکومت پنجاب نے یہ سفارش بھی وفاقی حکومت سے کر دی ہے کہ تمام دینی مدارس کو وفاقی وزارت تعلیم کے انتظام میں دے دیا جائے۔ اجلاس میں ان اقدامات کو دینی مدارس کے خلاف امتیازی اور جانبدارانہ پالیسی کا مظہر قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جب ملک بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کے ہر شعبہ میں ہزاروں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں اور انہیں تسلیم کیا جا رہا ہے تو صرف دینی مدارس کو پرائیویٹ سیکٹر سے نکال کر وزارت تعلیم کے انتظام میں دینے کی بات کیوں کی جا رہی ہے؟ اسی طرح ملک بھر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے حسابات کی چیکنگ کا جو نظام موجود ہے اس سے ہٹ کر دینی مدارس کے معاملات کو خفیہ اداروں کے سپرد کردینے کا کیا جواز ہے؟

یہ معاملہ اس صورتحال میں خصوصاً قابل غور ہے کہ قرآن و سنت، فقہ و شریعت، اور عربی زبان کی تعلیم کے لیے سرکاری تعلیمی نظام میں کوئی اہتمام موجود نہیں ہے جبکہ یہ ذمہ داری اصل میں سرکاری تعلیمی نظام کی ہے۔ مگر پرائیوٹ سطح پر جو تعلیمی ادارے یہ خدمت سر انجام دے رہے ہیں ان پر دباؤ ڈال کر اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر کے دینی تعلیم کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے جس کا واضح مطلب یہ بنتا ہے کہ یہ اقدامات دینی مدارس کے خلاف نہیں بلکہ دینی تعلیم کے خلاف ہیں اور عالمی سیکولر ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ملک بھر میں غیر ملکی سرمائے سے کام کرنے والی ہزاروں این جی اوز کی ان سرگرمیوں پر تو حکومت خاموش ہے جو ملک کے نظریہ کے خلاف اور اسلامی تہذیب و اقدار کو مٹانے کے لیے مسلسل جاری ہیں، نہ ان کی سرگرمیوں کو روکا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کے حسابات کی چیکنگ اور چھان بین کے لیے خفیہ اداروں کو متحرک کیا جا رہا ہے، مگر قرآن و سنت کی تعلیم کو فروغ دینے اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرنے والے اداروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان حالات میں علمائے کرام اور دینی حلقوں کی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کے لیے ۶ اکتوبر جمعرات کو اسلام آباد میں علمائے کرام اور دینی راہنماؤں کا ایک وسیع تر مشاورتی اجلاس طلب کیا جائے گا اور انہیں اس سلسلہ میں مؤثر کردار ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر شدید تشویش و اضطراب کا اظہار کیا گیا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور پورے مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ تصادم کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے جو پوری دنیا کے امن اور خاص طور پر عالم اسلام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے شدید خطرہ ہے۔ اس کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ او آئی سی فوری طور پر متحرک ہو اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان شریعت کونسل کے اجلاس میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان، ترکی، اور مصر کی حکومتیں اس سلسلہ میں قائدانہ کردار ادا کریں اور ان ملکوں کی قیادتیں ریاض اور تہران سے مشترکہ طور پر رابطہ کر کے ایک دوسرے کے خلاف دونوں کی شکایتوں کا جائزہ لیں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مؤثر کردارا دا کریں۔

اجلاس میں سعودی عرب کی سلامتی و استحکام اور حرمین شریفین کے پر امن ماحول کے تحفظ کو پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے تمام مسلم حکمرانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے امن کو درپیش خطرات پر نظر رکھیں اور ان کے سدباب کے لیے کردار ادا کریں۔ اجلاس میں ایرانی حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کے مسلسل پھیلاؤ کی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور اردگرد کے ممالک کی طرف سے ان کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مبینہ الزامات پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔