حضرت عیسٰیؑ کی شان میں گستاخی اور عالمی کلیسا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۵ دسمبر ۱۹۹۹ء

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق نے نومبر 1999ء کی اشاعت میں عالمی مسیحی کلیسا کے اس طرز عمل پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ایک بدبخت مسیحی کی طرف سے کی جانے والی بدترین گستاخی پر بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ماہنامہ کلام حق کے مدیر محترم میجر ٹی ناصر نے لکھا ہے کہ

’’گزشتہ دنوں انگلستان کا ایک بدبخت ملحد نام نہاد مسیحی خداوند یسوع مسیح کی شان میں بدترین گستاخی کا مرتکب ہوا، عالمگیر کلیسا نے اس بے ادبی پر اپنے منافق لب سی لیے لیکن انگلستان ہی میں المہاجرون نامی اسلامی تنظیم نے اس بدبخت مصنف و ڈرامہ نویس کے خلاف خداوند مسیح یا حضرت عیسٰیؑ کی شان میں گستاخی کے جرم میں اس پر سزائے موت کا فتویٰ دے دیا ہے۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کے مرتکب مذکورہ مصنف کے بارے میں ہم معلومات حاصل کر رہے ہیں تاہم سردست اتنی بات معلوم ہوئی ہے کہ ایک بدبخت ڈرامہ نویس نے اپنے ڈرامہ میں حضرت عیسٰیؑ کو (نعوذ باللہ) ایک ہم جنس پرست کے طور پر پیش کیا ہے جس پر مسیحی دنیا کے مذہبی رہنماؤں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ المہاجرون نے اس گستاخ مسیح کی موت کا فتویٰ جاری کر دیا ہے۔

’’المہاجرون‘‘ کے بارے میں ان کالموں میں ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ یہ برطانیہ میں پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے پرجوش نوجوانوں کی تنظیم ہے جو دنیا میں خلافت اسلامیہ کے احیاء کے جذبہ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ان نوجوانوں میں اکثریت ان لڑکوں اور لڑکیوں کی ہے جو برطانیہ میں پیدا ہوئے، وہیں پلے بڑھے، وہاں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی، اور اسلام کے بارے میں مغرب کے متعصبانہ رویہ کے ردعمل میں وہ اسلام کے ساتھ وابستگی اور وفاداری میں آگے بڑھتے گئے۔ حتیٰ کہ ان میں سے بہت سے نوجوان بچوں اور بچیوں کے دینی جذبات، حلال و حرام کا امتیاز، عبادات کی پابندی، اور اسلامی حمیت ہم جیسے دیندار کہلانے والے مسلمانوں کے لیے بھی قابل رشک ہے۔ شام کے ایک شافعی المسلک عالم دین الشیخ عمر بکری محمد اس تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں جن کی پرجوش سرگرمیاں وقتاً فوقتاً عالمی پریس کی خبروں کی زینت بنتی رہتی ہیں اور حضرت عیسٰیؑ کی شان میں گستاخی کرنے والے مسیحی ڈرامہ نویس کی موت کا فتویٰ بھی انہوں نے جاری کیا ہے۔

الشیخ عمر بکری محمد نے اپنے فتویٰ میں لکھا ہے کہ ملت اسلامیہ کے تمام مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کسی پیغمبر کی شان میں گستاخی کی سزا موت ہے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر ہیں جن کی نبوت اور سچائی پر ہم مسلمان اسی طرح ایمان رکھتے ہیں جس طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارا ایمان ہے۔ اور حضرت عیسٰیؑ کی محبت و عقیدت اور احترام کو اسی طرح ہم اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں جس طرح حضرت محمدؐ اور اللہ تعالیٰ کے کسی بھی پیغمبر کی محبت و عقیدت اور احترام ہمارے ایمان میں شامل ہے۔ اس لیے جیسے حضرت محمدؐ رسول اللہ کی شان اقدس میں گستاخی کی سزا موت ہے اسی طرح حضرت عیسٰیؑ کی شان میں گستاخی کرنے والا مذکورہ مسیحی ڈرامہ نویس بھی سزائے موت کا مستحق ہے۔

جہاں تک مذہب اور مذہبی شعائر کی توہین پر سزائے موت کا تعلق ہے یہ حکم صرف اسلامی شریعت کا نہیں بلکہ مسیحی شریعت میں بھی اس جرم کی یہی سزا بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ مسیحی اشاعت خانہ 36 فیروز پور روڈ لاہور کی شائع کردہ ’’قاموس الکتاب‘‘ کے مطابق مسیحی مذہبی قوانین میں جن جرائم پر موت کی سزا کا حکم ہے ان میں

  • والدین پر ہاتھ اٹھانا،
  • خدا کے خلاف کفر بکنا،
  • سبت کے دن کی بے حرمتی کرنا،
  • جادوگر ہونا،
  • زنا کا ارتکاب،
  • بت پرستی،
  • اور حیوانات سے غیر طبعی تعلق قائم کرنا شامل ہے۔

جبکہ موت کی سزا کے طریقوں میں

  • سنگسار کرنا،
  • آگ میں جلانا،
  • تلوار سے قتل کرنا،
  • پھانسی پر لٹکانا،
  • آرے سے چیرنا،
  • اور پہاڑ سے نیچے گرا دینے کی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔

اس لیے ان دو اصولی باتوں میں مسیحی شریعت اور اسلامی شریعت میں کوئی اختلاف نہیں اور ان کے بارے میں دونوں کا قانون یکساں ہے۔ ایک یہ کہ مذہب اور مذہبی طبقات (جن میں خدا کی ذات کے بعد سب سے محترم ہستی پیغمبر ہے) کی توہین اور گستاخی جرم ہے۔ دوسرا یہ کہ اس جرم کی سزا موت ہے۔ البتہ مسلمانوں میں ابھی تک شریعت اور اس کے نفاذ کا تصور موجود ہے جو ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ موجود رہے گا اس لیے ان کے ہاں مذہبی حمیت اور غیرت بھی پائی جاتی ہے اور اس کا اظہار بھی حسب موقع ہوتا رہتا ہے۔ مگر دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ مسیحی دنیا کی غالب اکثریت اپنی مذہبی تعلیمات اور شرعی احکام سے ذہنی اور عملی طور پر لاتعلق ہو چکی ہے اور ان کے نزدیک انبیاء کرامؑ اور قومی لیڈروں کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہا۔ اس لیے جس طرح قومی لیڈروں میں اچھائی اور برائی کے دونوں پہلو قابل قبول ہوتے ہیں اسی طرح انبیاء کرامؑ کی طرف کسی غلط بات اور کردار کی نسبت بھی انہیں تعجب میں نہیں ڈالتی اور وہ معمول کی بے حسی کے ساتھ انبیاء کرامؑ حتیٰ کہ حضرت عیسٰیؑ کی شان اقدس میں گستاخی کو بھی برداشت کر لیتے ہیں۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حوالہ سے قرآن کریم کی تعلیمات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات واضح ہیں اور یہودیوں کی الزام تراشی اور بہتان طرازی کے جواب میں حضرت عیسٰیؑ کا دفاع اور ان کی طہارت و پاکیزگی کا اظہار جس طرح اسلام نے کیا ہے خود مسیحیت کی مذہبی قیادت بھی حضرت عیسٰیؑ اور ان کی والدہ مکرمہ حضرت مریمؑ کے دفاع و صفائی میں وہ کچھ نہیں کر سکی۔ چنانچہ المہاجرون نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گستاخی پر جس غیرت و حمیت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کا عین تقاضہ ہے۔

البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ کسی مجرم کو سزا دینا عدالت کا کام ہے اور اس کا اہتمام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اس کام کو عام لوگوں کے حوالہ کردینا ٹھیک نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ المہاجرون کا موقف اس بارے میں یہ ہو کہ جہاں اسلامی حکومت اور اسلامی عدالت کا وجود نہ ہو وہاں اس قسم کے ناگزیر معاملات کی ذمہ داری اجتماعی طور پر ملت اسلامیہ کو منتقل ہو جاتی ہے اور اسلامی تنظیمات ان امور میں ملت کی نمائندگی کرتی ہیں مگر یہ موقف بہرحال قابل غور ہے اور علمی و فقہی بنیاد پر اس کو قبول کرنا شاید آسان نہ ہو۔ تاہم جہاں معاملہ دینی حمیت و غیرت کا ہو اور سوال انبیاء کرامؑ کی عزت و احترام کا ہو اور اس کے جائز اظہار کی کوئی قانونی شکل نظر نہ آرہی ہو وہاں غیرت مند لوگوں کے لیے متبادل قانونی ذرائع کی تلاش کی گنجائش نہیں رہتی اور غیرت و حمیت کا طوفان اپنا راستہ کہیں نہ کہیں نکال ہی لیتا ہے۔

درجہ بندی: