بھارتی سپریم کورٹ میں تین طلاقوں کا مسئلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۷ء

بھارتی سپریم کورٹ میں اس وقت ’’تین طلاقوں ‘‘ کا مسئلہ زیر بحث ہے اور اس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ تین طلاقوں کو جرم قرار دے دیا جائے اور انہیں قانونی طور پر تسلیم نہ کیا جائے۔ تمام مسلم مکاتب فکر کی مشترکہ نمائندہ تنظیم ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ اس سلسلہ میں مسلمانوں کے موقف کا دفاع کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ میں دونوں طرف کے موقف کا خلاصہ دو خبروں کی صورت میں ملاحظہ فرمائیں جو چیف جسٹس جے ایس کیبر کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش کیے گئے۔

’’سینئر وکیل راج جیٹھ ملانی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا آئینی طور پر بھی مساویانہ حقوق پر حملہ ہے، بیک وقت تین طلاقیں دینے کا حق صرف شوہر کو حاصل ہے جو آئین کے آرٹیکل ۱۴ کی خلاف ورزی ہے۔ جیٹھ ملانی نے کہا کہ اس طرح طلاق دینے کا طریق کار بے رحمانہ اور قرآن کریم کے اصولوں کے بھی خلاف ہے جس کی کسی بھی صورت وکالت نہیں کی جا سکتی۔ تین طلاقوں سے متاثرہ خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دنیا کا کوئی بھی قانون شوہر کی خواہش پر بیوی کو سابق بیوی بنانے کی اجازت نہیں دیتا اور یہ لاقانونیت کی سب سے بڑی قسم ہے۔‘‘ (روزنامہ اوصاف لاہور ۱۳، مئی ۲۰۱۷ء)

دوسری طرف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل کپل سبل نے، جو کانگریس کے سینئر لیڈر بھی ہیں، عدالت میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ

’’مسلمان گزشتہ چودہ سو برس سے اس قانون پر عمل کر رہے ہیں اور یہ ان کے عقیدے سے وابستہ معاملہ ہے ، اسے غیر قانونی کیسے کہا جا سکتا ہے؟ انہوں نے تین طلاق کو نہ صرف مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان سے وابستہ معاملہ بتایا بلکہ اس کا موازنہ بھگوان رام کے ایودھیا میں پیدا ہونے کے سلسلہ میں ہندوؤں کے عقیدہ سے بھی کیا اور کہا کہ اگر بھگوان رام کے ایودھیا میں پیدا ہونے کے سلسلہ میں ہندوؤں کے عقیدے پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا تو تین طلاق پر ایسا کیوں ہے؟‘‘ (روزنامہ انصاف لاہور ۱۷ ،مئی ۲۰۱۷ء)

اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی اٹارنی جرنل مکل روھسکی نے عدالت کو بتایا ہے کہ

’’اگر سپریم کورٹ تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیتا ہے تو حکومت شادی اور طلاق کے ضابطے کیلئے قانون بنانے کو تیار ہے۔‘‘

جبکہ اس صورت حال پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے یہ ریمارکس بھی روزنامہ اوصاف (۱۳ مئی) میں شائع ہونے والی خبر کا حصہ ہیں کہ

’’باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے کچھ مسالک میں بیک وقت تین طلاقیں دیناجائز ہے لیکن پھر بھی بیک وقت تین طلاقیں دے کر مسلمانوں میں نکاح کو ختم کرنے کی یہ سب سے بدترین قسم ہے۔‘‘

نکاح و طلاق کے اسلامی احکام و قوانین اس وقت دنیا بھر میں زیر بحث ہیں اور اس وجہ سے کہ ان کی بنیاد آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی پر ہے، انہیں آج کے مروّجہ اس بین الاقوامی فلسفہ و نظام کے منافی سمجھا جاتا ہے جس میں آسمانی تعلیمات سے دست برداری اختیار کر کے سوسائٹی کی اجتماعی عقل و خواہش کو ہی تمام احکام و قوانین کی بنیاد بنا لیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے حوالہ سے مختلف تضادات سامنے آتے ہیں اور باعث نزاع بنتے رہتے ہیں۔ اس کشمکش کا سب سے بڑا میدان بھارت ہے جہاں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان نکاح کے جائز نہ ہونے کے ساتھ ساتھ مرد کو یکطرفہ طلاق کے حق کا مسئلہ بھی بڑے تنازعات میں شامل ہے ۔ اس سلسلہ میں بھارت کے تمام مسلم مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ کے فورم پر جمع ہیں اور مسلمانوں کے خاندانی نظام و قوانین کے تحفظ کیلئے مصروف جدو جہد ہیں۔

قرآن و سنت کے واضح ارشادات کی روشنی میں مسلمان مرد کا غیر مسلم عورت سے اور غیر مسلم عورت کا مسلمان مرد سے نکاح درست نہیں ہے، اس لیے مسلمان غیر مسلموں میں رشتہ نہ دیتے ہیں نہ لیتے ہیں۔ اور صرف ہندوستان کے غیر مسلموں کو نہیں بلکہ دنیا بھر کے غیر مسلموں خصوصاً سیکولر حلقوں کو اعتراض ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اسی طرح قرآن کریم نے طلاق کا حق خاوند کو دیا ہے جبکہ بیوی کو براہ راست طلاق کا حق دینے کی بجائے خلع کے عنوان سے مطالبۂ طلاق کا حق دیا ہے اور اس کے لیے ایک پورا نظام پیش کیا ہے تا کہ عورت کے ساتھ ظلم اور اس کی حق تلفی نہ ہو سکے، مگر آج کے مروّجہ عالمی نظام و فلسفہ کا مطالبہ ہے کہ بیوی کو بھی خاوند کی طرح طلاق کا مساویانہ حق دیا جائے تا کہ مرد وعورت کی مساوات قائم ہو سکے ۔ ہمارے ہاں پاکستان میں عائلی قوانین کے تحت بنائے جانے والے نکاح فارم میں ’’تفویض طلاق‘‘ کا خانہ اسی خلا کو پُر کرنے کیلئے شامل کیا گیا تھا اور اب بعض قانونی حلقوں کی طرف سے خلع کو عورت کی طرف سے مطالبہ طلاق کی بجائے طلاق کے براہ راست حق سے جو تعبیر کیا جا رہا ہے وہ بھی اسی پس منظر میں ہے۔

تین طلاقوں کے حوالہ سے ایک بحث تو ہمارے ہاں فقہی حلقوں میں ہے کہ ایک مجلس میں یا ایک جملہ میں تین طلاقیں بیک وقت دینے سے ایک طلاق واقع ہو تی ہے یا تینوں واقع ہو جاتی ہیں مگر انڈیا کی سپریم کورٹ میں اس کی صورت مختلف ہے اور وہاں زیر بحث مسئلہ کی نوعیت یہ نظر آتی ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں اکٹھی دینے سے نکاح یکسر ختم ہو جاتاہے اور رجوع یا نکاح ثانی کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ اس طرح نظر ثانی کا موقع دیے بغیر نکاح کا رستہ کلی طو رپر یکلخت ختم ہو جانے کو وہاں کے بعض حلقوں میں نا انصافی قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس کا ہمارے ہاں کی تین طلاقوں کی بحث سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے کہ اس سے ہٹ کر اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کو وقفہ وقفہ کے ساتھ تین الگ الگ طلاقیں دیتا ہے تو تیسری طلاق کے بعد وہاں بھی یہی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم کے واضح ارشاد کے مطابق رجوع یا نکاح ثانی کا حق تمام مسلم فقہی مکاتب فکر کے نزدیک متفقہ طور پر تیسری طلاق کے بعد یکلخت اور کلی طو رپر ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے مسئلہ بیک وقت تین طلاقوں کا ہو یا وقفہ وقفہ سے تیسری طلاق کا دونوں صورتوں کا آخری نتیجہ ایک ہی ہے کہ ایسی طلاق جس کے بعد نظر ثانی کی گنجائش نہ رہے۔ اس حوالہ سے زیر بحث ہے کہ مرد کو طلاق کا یکطرفہ حق حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ نظر ثانی کی گنجائش کو ختم کر دینے کا جو حق حاصل ہے وہ سیکولر حلقوں کے خیال میں (نعوذ باللہ) دہری زیادتی ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ زیر بحث کیس میں اس کا جائزہ لے رہی ہے اور اس سے تقاضہ یہ ہے کہ اسے نہ صرف جرم تصور دیا جائے بلکہ اسے قانوناً غیر مؤثر بھی قرار دے دیا جائے۔

جہاں تک ’’تین طلاقوں‘‘ کے ناپسندیدہ ہونے کا تعلق ہے اسلام سرے سے طلاق کو ہی ناپسندیدہ ترین عمل (ابغض المباحات) قرار دیتا ہے اور بیک وقت تین طلاقوں کو ’’طلاق بدعت‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ لیکن طلاق ایک ایسی معاشرتی ضرورت بلکہ مجبوری ہے کہ مسیحیت اور ہندوازم میں مذہبی طور پر سرے سے طلاق کا تصور ہی نہیں تھا مگر انہیں اس معاشرتی مجبوری کو بالآخر ضرورت تسلیم کرنا پڑا ہے بلکہ مغربی دنیا نے تو ضرورت سے زیادہ ہی اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔

اس پس منظر میں کیا بیک وقت تین طلاقیں دینے کے عمل کو ’’جرم‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟ ہمارے ہاں پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ جب اسمبلی میں پیش کیا گیا ، اس وقت حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین کے ساتھ مذاکرات کے دوران سرکردہ علماء کرام کی کمیٹی نے یہ تجویز کیا تھا ۔ روزنامہ پاکستان لاہور (۱۴ اکتوبر ۲۰۰۶ء) میں شائع شدہ راقم الحروف ہی کی ایک رپورٹ میں اس کا ذکر اس طرح موجود ہے کہ

’’پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور ان کے رفقاء کو ممتاز علماء کرام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا حسن جان، مولانا مفتی منیب الرحمن، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی، راقم الحروف ابو عمار زاہد الراشدی، مولانا اخلاق احمد اور حافظ محمد عمار یاسر نے مشورہ دیا ہے کہ اگر حکومت واقعی پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالہ سے عملی پیش رفت کرنا چاہتی ہے تو اسے مندجہ ذیل قانونی اقدامات کرنے چاہئیں۔

  1. خواتین کو عملاً وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے اس کے سدّ باب کیلئے مستقل قانون بنایا جائے۔
  2. بعض علاقوں میں خواتین کو ان کی مرضی کے خلاف نکاح پر مجبور کیا جاتا ہے اس کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے اور اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔
  3. بیک وقت تین طلاقیں دینے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے اور ایسی دستاویز لکھنے والے نوٹری پبلک اور وثیقہ نویس کو بھی شریک جرم قرار دیا جائے۔
  4. قرآن کریم کے ساتھ نکاح کی مذموم رسم کا سدّ باب کیا جائے۔
  5. جبری وٹہ سٹہ یعنی نکاح شغار کو قانوناً جرم قرار دیا جائے۔
  6. عورتوں کی خرید و فروخت اور انہیں میراث بنانے کے غیر شرعی رواج اور رسوم کا قانونی سد باب کیا جائے۔‘‘

ہم نے ان تجاویز میں یہ تسلیم کیا تھا کہ تین طلاقیں بیک وقت دینا معاشرتی طور پر بہت بُرا عمل ہے اور شرعی طور پر ’’طلاق بدعت‘‘ شمار ہوتا ہے اس لیے اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ دیا جانا چاہئے۔ لیکن تین طلاقیں بیک وقت دینے کی صورت میں طلاق شرعاً واقع ہو جاتی ہے یا نہیں یہ ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اور اس پر جمہور فقاء اہل سنت کا یہ موقف صدیوں سے چلا آرہا ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دینے سے خاوند گناہ گار ہو گا اور دنیا میں بھی اسے اس برے عمل پر سزادی جا سکتی ہے لیکن اس کے ایسا کرنے سے طلاق بہرحال واقع ہو جائے گی اور جیسی اس نے کہی ہے ویسی ہی واقع ہو گی ، اسے قانوناً غیر مؤثر کر دینا محل نظر ہے جس کی مسلمہ شرعی اصولوں کی روشنی میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص کسی کو بندوق سے ایک، دو یا تین گولیاں مار دے تو وہ سخت گناہ گار ہے اور اس نے قبیح ترین جرم کا ارتکاب کیا ہے جس پر اسے دنیا اور آخرت دونوں جگہ سزا ہو گی۔ لیکن اس عمل کے سخت ترین گناہ اور جرم ہونے کی وجہ سے اس کی گولیاں غیر مؤثر نہیں ہو جائیں گی کیونکہ وہ اپنا کام بہرحال کریں گی اور جتنی گولیاں وہ مارے گا اتنی ہی لگیں گی۔

یہ مسئلہ انڈیا کے سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے اور وہاں کے مسلمان اس پر جو اجماعی موقف اختیار کیے ہوئے ہیں ہم ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کیلئے دعا گو بھی ہیں۔ چونکہ اس قسم کی بحثیں ہمارے ہاں بھی ہوتی رہتی ہیں بلکہ اب تو یہ مباحث عالمی مکالمہ کا حصہ بن چکے ہیں ، اس لیے اس سلسلہ میں چند گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کر دی ہیں۔اللہ تعالیٰ دنیا بھر کے مسلمانوں کو قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے ساتھ وابستہ رہنے اور ان کی حفاظت کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: