سیرت طیبہ اور امن عامہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ جنوری ۲۰۱۵ء
اصل عنوان: 
اسوۂ حسنہ کا ایک اہم پہلو

ضلع گجرات میں مولانا حافظ محمد عمر عثمانی اور ان کے رفقاء کی ٹیم گزشتہ چند سالوں سے ’’جمعیۃ علماء اہل سنت‘‘ کے عنوان سے متحرک ہے اور دینی و فکری بیداری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ باذوق اور زندہ دل علماء کے اس گروپ نے اپنے پروگراموں میں ایک ندرت یہ شروع کر رکھی ہے کہ ملک کے مختلف دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے ضلع گجرات کے علماء کرام کی اپنی سالانہ تقریب میں دستار بندی کا اہتمام کرتے ہیں جس سے دینی تعلیم کے شعبہ میں ضلع کی پیش رفت سامنے آتی ہے۔ نوجوان فضلاء کا ایک دوسرے سے تعارف اور رابطہ ہوتا ہے اور دینی جدوجہد میں حوصلہ و اعتماد بڑھتا ہے۔ مختلف مواقع پر ایسی تقریبات میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری تشریف لا چکے ہیں۔ اس سال یہ تقریب ۳۱ دسمبر کو نماز عشاء کے بعد نور ریسٹورنٹ پنجن کسانہ کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی جس میں جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے مہتمم مولانا مفتی محمد طیب، جامعہ فاروقیہ راولپنڈی کے مہتمم مولانا قاضی عبد الرشید، مداح رسولؐ قاری ابوبکر مدنی، حافظ محمد عمر عثمانی اور دیگر علماء کرام کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، جامعہ امدادیہ فیصل آباد، جامعہ عربیہ رائے ونڈ، جامعہ حنفیہ تعلیم اسلام جہلم اور دیگر جامعات سے گزشتہ سال دورہ حدیث کی تکمیل کرنے والے ضلع گجرات کے پچیس فضلاء کی دستار بندی کی گئی۔ راقم الحروف نے جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مجھ سے پہلے اپنی گفتگو میں حضرت مولانا مفتی محمد طیب نے امن عامہ کے حوالہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ اور اسوہ حسنہ کا ذکر کیا ہے اور اس کے اس پہلو پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے کہ آنحضرتؐ نے دس سالہ مدنی زندگی میں جہاں بہت سے غزوات کی قیادت فرمائی ہے اور جہاد و قتال کیا ہے وہاں دوسری قوموں کے ساتھ بہت سے معاہدات بھی کیے ہیں۔ اور باہمی صلح و امن کے معاملات بھی فرمائے ہیں جن کا آغاز میثاق مدینہ سے ہوا تھا اور اس کے بعد درجنوں اقوام کے ساتھ وقتاً فوقتاً معاہدے کیے گئے۔ میں بھی اسی گفتگو کو آگے بڑھاؤں گا اور یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جناب نبی اکرمؐ نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے، معاشرہ میں منافرت اور فساد کو پھیلنے سے روکا ہے، اور عام لوگوں کے امن کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات و احساسات کا بھی پوری طرح لحاظ رکھا ہے۔ اسی طرح سوسائٹی میں فساد کا ذریعہ بننے والی باتوں کی جناب رسول اللہؐ نے سختی کے ساتھ نفی فرمائی ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔ اس حوالہ سے بیسیوں واقعات میں سے ایک دو کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔

قبیلہ بنو مصطلق کی طرف زکوٰۃ و عشر کی وصولی کے لیے آنحضرتؐ کی طرف سے تشریف لے جانے والے عامل کا استقبال کرنے کے لیے قبیلہ کے لوگ مسلح ہو کر گاؤں سے باہر جمع ہوئے تو مدینہ منورہ سے تشریف لانے والے بزرگ انہیں ہتھیار بکف دیکھ کر مغالطہ کا شکار ہوگئے کہ یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ منظر دیکھتے ہی واپس مدینہ کی طرف لوٹ گئے، انہوں نے جب کچھ لوگوں کو بتایا کہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے بڑی مشکل سے جان بچا کر آیا ہوں تو مدینہ میں کھلبلی مچ گئی اور لوگ رد عمل میں اس قبیلہ کے خلاف کاروائی کا تقاضہ کرنے لگے۔ اتنے میں قبیلہ کے سردار بھی مدینہ منورہ پہنچ گئے اور وضاحت کی کہ ہم قتل کرنے کے لیے نہیں بلکہ استقبال اور پروٹوکول کے لیے ہتھیار بکف ہو کر جناب رسول اللہؐ کے قاصد کے انتظار میں بستی سے باہر کھڑے تھے۔

اس موقع پر قرآن کریم میں یہ حکم نازل ہوا کہ اے ایمان والو! جب اس قسم کی کوئی خبر آئے تو رد عمل میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے خبر کی تحقیق کر لیا کرو، تاکہ کسی قوم کے خلاف کاروائی کر ڈالنے کے بعد یہ معلوم کر کے تمہیں شرمندگی نہ ہو کہ وہ خبر تو صحیح نہیں تھی۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی جھوٹی سچی خبر سنتے ہی موبائل فونوں کا میسج سسٹم متحرک ہو جاتا ہے اور ٹی وی چینلوں پر پٹیاں چل جاتی ہیں۔ چند گھنٹوں میں وہ خبر ہر طرف پھیل کر اپنا کام دکھا چکتی ہے، اور فساد و جدال کے معرکے بپا ہو چکتے ہیں تو دوسرے دن پتہ چلتا ہے کہ وہ میسج درست نہیں تھا اور وہ ٹی وی کی پٹی تحقیق کے بغیر تھی۔ آج معاشرے میں ہر طرف پھیلنے والے فساد و قتال پر قابو پانے کے لیے ہمیں خبر کی تحقیق کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ میسج اور پٹی کی اس وبا کو کنٹرول کرنا ہوگا اور حضورؐ کے اس ارشاد گرامی کو زیادہ سے زیادہ عام کرنا ہوگا کہ:

’’کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو تحقیق کے بغیر آگے بیان کر دے۔‘‘

ہمارے ہاں ایک اور بیماری پھیلتی جا رہی ہے کہ تکفیر اور اس کی بنیاد پر قتل کا رجحان عام ہو رہا ہے۔ فلاں کافر ہے اسے قتل کر دو، اور فلاں مرتد ہے اس لیے واجب القتل ہے۔ جبکہ اس حوالہ سے بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ میں علماء کرام کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے اس پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ آپؐ کو مدینہ منورہ میں عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھ اس کے سینکڑوں ساتھیوں کی ریشہ دوانیوں کا مسلسل سامنا رہا۔ ان لوگوں پر خود قرآن کریم نے ’’وماہم بمؤمنین‘‘ کہہ کر کفر کا فتویٰ لگایا۔ اسلام اور رسول اکرمؐ کے خلاف ان کی متعدد سازشیں ثابت ہوگئیں مگر آپؐ نے انہیں قتل نہیں کیا۔ بلکہ حضرت عمرؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کی درخواست کے باوجود انہیں قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اور قتل نہ کرنے یا اس کی اجازت نہ دینے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ لوگ یہ کہیں گے کہ محمدؐ تو اپنے کلمہ گو ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی اقدام کا اپنی جگہ صحیح ہونا کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی دیکھنا سنت نبویؐ ہے کہ اس کے عمومی اثرات کیا ہوں گے اور دنیا والے اس کا کیا مطلب سمجھیں گے؟

اسی طرح قریش کی طرف سے خانہ کعبہ کی تعمیر کے دوران بیت اللہ کی ابراہیمی بنیادوں کو نظر انداز کر دینے پر حضورؐ خوش نہیں تھے۔ انہوں نے اس خواہش کا برملا اظہار فرما دیا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ بیت اللہ کی عمارت کو شہید کر کے اسے دوبارہ ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کر دوں۔ لیکن ایسا نہ کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ قوم قریش نئی نئی مسلمان ہوئی ہے، یہ اس بات کو محسوس کریں گے کہ ان کا تعمیر کردہ بیت اللہ شہید کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ کسی بھی کام کے عمومی اثرات کا لحاظ رکھنا اور عام لوگوں کے جذبات و احساسات کا احترام کرنا بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے۔ اور اگر غور کیا جائے تو اسوہ نبویؐ کے اس پہلو کو سامنے رکھنے کی صورت میں ہم معاشرتی فساد اور باہمی قتل و قتال کے بہت سے معاملات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

میری علماء کرام سے گزارش ہے کہ آج کے حالات کے تناظر میں حضورؐ کی سیرت طیبہ اور اسوہ حسنہ کے ان پہلوؤں کو زیادہ وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ کیونکہ جس دلدل میں قومی سطح پر ہم بری طرح پھنس چکے ہیں اس سے نکلنے کا راستہ یہی ہے۔

درجہ بندی: