شخصی اور تجارتی سود

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۲ جون ۲۰۰۲ء

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سود کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل دائر ہوگئی ہے اور ان سطور کی اشاعت تک اپیل کی سماعت شروع ہو چکی ہوگی۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں پاکستان میں رائج تمام سودی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر سودی قوانین کو ختم کر کے ان کی جگہ اسلامی مالیاتی قوانین کا نفاذ عمل میں لائے۔ یہ مدت 30 جون 2002ء کو ختم ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے حکومت نے سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مدت ختم ہونے سے قبل موجودہ مالیاتی نظام کے تسلسل کو باقی رکھنے کا کوئی راستہ نکالا جا سکے۔

سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے رکن جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی کو اس منصب سے فارغ کر دیا گیا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سودی قوانین کے خلاف عدالت عظمیٰ کا مذکورہ فیصلہ انہوں نے تحریر کیا تھا اور اب وہ اس فیصلہ کو مزید معطل رکھنے اور اس پر عملدرآمد کی مدت میں توسیع کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دے رہے تھے، اس لیے مبینہ طور پر وہ آرڈر ہی واپس لے لیا گیا ہے جس کے تحت انہیں 1996ء میں سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کا رکن بنایا گیا تھا۔ ان کی جگہ نئے رکن کا تقرر ہوگیا ہے اور سودی قوانین کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بنچ مقرر کیا جا چکا ہے۔

حکومتی حلقے موجودہ مالیاتی نظام کے تسلسل کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہتے ہیں اور سودی قوانین کو اسلامی قوانین میں تبدیل کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہیں۔ اس کی غمازی اٹارنی جنرل آف پاکستان کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایسے علماء تلاش کر رہے ہیں جو سود کا شرعی طور پر جواز پیش کر سکیں۔ اس لیے اس سلسلہ میں اب تک ہونے والے اقدامات کی روشنی میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ حکومت عدالت عظمیٰ سے اس فیصلہ پر عملدرآمد کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرانے یا کم از کم مزید مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی اور موجودہ سود پر مبنی مالیاتی نظام کو 30 جون کے بعد بھی جاری رکھا جا سکے گا۔

سود کو تمام آسمانی شریعتوں میں مشترکہ طور پر حرام اور ناجائز کی حیثیت حاصل رہی ہے اور جس طرح قرآن کریم نے سود کے لین دین سے منع کیا ہے بائبل میں بھی اس کی ممانعت موجود ہے۔ چنانچہ بائبل کی کتاب خروج باب 22 آیت 25 میں یہ ہدایت درج ہے کہ

’’اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہے کچھ قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔‘‘

اسی طرح بائبل کی کتاب استثناء باب 23 آیت 19 میں کہا گیا ہے کہ

’’تو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا یا کسی اور ایسی چیز کا جو بیاج پر دی جاتی ہے۔‘‘

جبکہ زبور باب 15 کی آیت 5 میں اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ

’’وہ اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا۔‘‘

چنانچہ قرآن کریم سورہ النساء کی آیات 153 تا 161 میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور لعنت و غضب کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہیں سود کے لین دین سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ سود لیتے تھے۔ قرآن کریم میں سورہ البقرہ کی آیات 275 تا 279 میں اللہ تعالیٰ نے سود کے لین دین سے منع کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ سود سے رقم میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ بے برکتی ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ

’’اے ایمان والو ! اگر تم سود کھانے سے باز نہیں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔‘‘

اسی طرح سورہ آل عمران آیت 130 میں سود خوری سے منع کرتے ہوئے سورہ الروم آیت 39 میں سمجھا گیا ہے کہ تم رقم میں اضافے کے لیے جو سود کا کاروبار کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک رقم میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ صدقہ خیرات کرنے سے رقم میں برکت ہوتی ہے اور وہی اصل اضافہ ہے۔

سود کے بارے میں عام طور پر ایک غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے کہ قرآن کریم میں جس سود سے منع کیا گیا ہے اس سے مراد شخصی قرضہ ہے کہ اگر کوئی ضرورت مند اپنی کسی ضرورت کے لیے قرض لے تو اس پر سود نہ لیا جائے، اس سے مراد تجارتی سود نہیں ہے کیونکہ تجارتی سود کوئی ضرورت مند ذاتی ضرورت کے لیے نہیں لیتا بلکہ مالدار لوگ تجارتی مقاصد کے لیے سود کا لین دین کرتے ہیں جس میں باہمی رضامندی شامل ہوتی ہے اس لیے تجارتی سود اس حرمت میں شامل نہیں ہے۔ لیکن یہ سراسر مغالطہ آفرینی ہے کیونکہ قرآن کریم میں جہاں سود کی حرمت کا ذکر کیا گیا ہے وہاں مشرکین کی یہ دلیل بھی بیان کی گئی ہے کہ سود تو کاروبار ہی کی طرح ہے اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی یہ دلیل ذکر کرنے کے بعد سورۃ البقرہ کی مذکورہ آیات میں اس کی نفی فرمائی ہے کہ سود اور تجارت میں فرق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تجارت کو جائز کہا ہے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تجارتی سود بھی اسی طرح رائج تھا جیسے شخصی قرضوں پر سود کا لین دین ہوتا تھا۔ چنانچہ مولانا شبلیؒ نعمانی نے ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں طائف والوں کے مسلمان ہونے کا واقعہ میں لکھا ہے کہ جب طائف کا وفد آنحضرتؐ کی خدمت میں آیا تو اسلام قبول کرنے کے لیے جو شرائط پیش کیں ان میں ایک شرط یہ تھی کہ ہم سود کا لین دین نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے لیے ان کی ایک دلیل یہ تھی کہ ہمارے تمام تر کاروبار کا مدار سود پر ہے اس کے بغیر ہم کاروبار جاری نہیں رکھ سکتے۔ لیکن جناب نبی اکرمؐ نے یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا اور طائف والوں کو قبول اسلام کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ یہ شرط بھی واپس لینا پڑی۔ اسی طرح ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں ہی درج ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے نجران کے عیسایوں کے ساتھ ان کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری کا جو معاہدہ کیا اس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگر نجران والوں نے سود کا لین دین کیا تو معاہدہ ختم ہو جائے گا۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے خیبر پر ایک عامل مقرر کیا تاکہ وہاں کی پیداوار سے بیت المال کا حصہ وصول کرے، وہ عامل واپس آیا تو اس کے پاس تمام کی تمام عمدہ کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے دریافت کیا کہ کیا خیبر کی ساری کھجوریں ایسی ہوتی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں نے ردی کھجوریں زیادہ مقدار میں دے کر عمدہ کھجوریں ان کے عوض تھوڑی مقدار میں لے لی ہیں۔ حضورؐ نے اس سے منع فرمایا کہ یہ سود ہے اس کی بجائے ایسا کیا کرو کہ ردی کھجوریں نقد رقم کے عوض بیچ کر اس نقد رقم سے عمدہ کھجوریں خرید لیا کرو۔

بخاری اور مسلم میں یہ روایت بھی ہے کہ حضرت بلالؓ ایک بار عمدہ کھجوریں حضورؐ کی خدمت میں لائے۔ آپؐ نے پوچھا کہ یہ اتنی عمدہ کھجوریں کہاں سے آئی ہیں؟ حضرت بلالؓ نے کہا کہ میرے پاس ردی کھجوریں تھیں میں نے انہیں زیادہ مقدار میں دے کر ان کے عوض تھوڑی مقدار میں عمدہ کھجوریں لے لی ہیں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ یہ تو عین سود ہے۔ ایسا مت کرو بلکہ اگر یہ کرنا ہو تو ردی کھجوریں کسی اور چیز کے عوض بیچ کر اس کے بدلے عمدہ کھجوریں لیا کرو۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں شخصی سود اور تجارتی سود میں کوئی فرق نہیں بلکہ دونوں کو یکساں طور پر حرام قرار دیا گیا ہے اور تجارتی سود کی آڑ میں سود کو جائز قرار دینے کی کوشش دراصل عذر لنگ ہے جس کے بارے میں حافظ ابن القیمؒ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی پہلے ہی بیان فرما دی ہے کہ

’’ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ تجارت کے نام پر سود کو حلال قرار دینے لگیں گے۔‘‘