خدماتِ علماء دیوبند کانفرنس: قائدین اور شرکاء سے چند گزارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ مئی ۲۰۰۴ء

باغ آزاد کشمیر میں آل جموں و کشمیر جمعیۃ علمائے اسلام کے زیر اہتمام ’’خدماتِ علماء دیوبند کانفرنس‘‘ کا آغاز ہو چکا ہے اور جنوبی ایشیا میں علمائے دیوبند کے تاریخی کردار پر خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمارے نزدیک نئی نسل کو اپنے ماضی کے ساتھ منسلک رکھنے اور اسے فکری و علمی رہنمائی سے بہرہ ور کرنے کے لیے اس قسم کی کانفرنسوں کا مسلسل انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے وسیع اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گزشتہ کم و بیش ڈیڑھ سو برس کے دوران اس خطۂ زمین میں اسلامی تعلیم و ثقافت کو زندہ رکھنے اور عام مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کے لیے علمائے دیوبند نے جو کردارا دا کیا ہے اس کا مختصر اور سرسری تذکرہ ہم گزشتہ کالم میں کر چکے ہیں۔ اور آج اس حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں کہ مستقبل کے امکانات و خدشات اور ضرورتوں کا دائرہ کیا ہے اور علمائے دیوبند کے ماضی کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے اس قافلۂ حق و صداقت پر اس حوالہ سے کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

مستقبل کے خدشات اور تقاضوں کو سیاسی، معاشی، عسکری، سائنسی، تہذیبی، دینی، فکری، تعلیمی اور معاشرتی دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے کیونکہ اقوام کی برادری میں کسی قسم کا کردار اور مقام طے کرنے کے لیے ان دائروں کا لحاظ ضروری ہوتا ہے۔ مگر ہم ان میں سے صرف ان دائروں پر گفتگو کریں گے جن سے علمائے کرام اور دینی حلقوں کا براہ راست تعلق ہے اور وہ سیاسی، معاشرتی، تعلیمی، ثقافتی، فکری اور تعلیمی دائرے ہیں جو اس وقت دنیا بھر میں جاری تہذیبی کشمکش کے باعث فکری اور ثقافتی دائروں میں سمٹ کررہ گئے ہیں اور عالمی تہذیبی کشمکش تیزی کے ساتھ اپنے بنیادی اور فیصلہ کن نکات پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ یہ کشمکش نئی نہیں ہے کہ انسانی سوسائٹی کو اپنی خواہشات اور سوچ کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے یا انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات اور وحی الہی کی پابندی قبول کر کے خود کو اس کی حدود میں رکھنا ہے:

  • انسانی سوسائٹی اور معاشرت کے آغاز سے ہی اس کشمکش کا آغاز ہوگیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے ہر پیغمبر کو ایسے ہی لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی پابندی قبول کرنے کی بجائے اپنی عقل اور خواہشات کو فائنل اتھارٹی سمجھتے ہوئے اس کے مطابق زندگی بسر کرنے پر مصر تھے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل یہ کشمکش علاقائی اور قومی سطح پر الگ الگ دائروں میں تھی جبکہ آنحضرتؐ کی تشریف آوری کے بعد یہ کشمکش اور معرکہ آرائی علاقائی، نسلی اور قومی حدود کی بجائے بین الاقوامی اور عالمی حیثیت اختیار کر گئی۔ کیونکہ نبی کریمؐ نے پوری نسل انسانی کے لیے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور قرآن و سنت کی صورت میں اسلامی تعلیمات کو بلا امتیاز تمام انسانوں کے لیے واجب الاطاعت قرار دیا۔
  • دوسری طرف عقل اور معاشرتی خواہشات کی بنیاد پر تشکیل پانے والے فلسفہ اور نظام نے بھی رفتہ رفتہ عالمی نیٹ ورک کی شکل اختیار کر لی اور اس وقت کا عالمی منظر یہ ہے کہ آسمانی تعلیمات کی نفی کرنے والی تمام اقوام انسانی سوسائٹی کی اجتماعی سوچ اور خواہشات کو حرف آخر قرار دے کر پوری دنیا کا نظام اس کے مطابق چلانے پر متفق ہوگئی ہیں اور اس کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔ جبکہ ان کے مقابلہ میں صرف اور صرف اسلام ایک ایسے دین کے طور پر میدان میں موجود ہے جو انسانی سوسائٹی کی رہنمائی اور قیادت کے دعوے سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور عالم اسلام کے دینی حلقے مختلف شعبوں میں اس رہنمائی اور قیادت کو دوبارہ عملی شکل میں لانے کے لیے مسلسل مصروفِ عمل ہیں۔

اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ قرآن و سنت کی صورت میں اس کی اصل تعلیمات محفوظ حالت میں دنیا کے سامنے موجود ہیں اور مغرب کی آزادانہ معاشرت نے نسل انسانی کے لیے جو مسائل کھڑے کر دیے ہیں اسلام ان کے حل کے لیے خود کو متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے دینی حلقوں کے خلاف مغرب کے موجودہ غیظ و غضب کی اصل وجہ یہی ہے کہ جب دیگر مذاہب مغرب کے ’’گلوبل‘‘ فلسفہ و ثقافت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں تو مسلمان اس کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں۔ مگر یہ اسلام کی حقانیت کی ایک واضح دلیل ہے کہ عام مسلمانوں اور ان کے دینی حلقوں کے خلاف جوں جوں مغرب کے غیظ و غضب میں اضافہ ہو رہا ہے اسی رفتار کے ساتھ اسلام کے ساتھ مسلمانوں کی بے لچک وابستگی اور کمٹمنٹ بھی پختہ سے پختہ تر ہوتی جا رہی ہے اور یہی پہلو موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش کا سب سے زیادہ دلچسپ اور فیصلہ کن پہلو ہے۔

آج ہمارے دینی حلقوں کا سب سے بڑا مورچہ یہی ہے اور یہی فکری و تہذیبی رہنمائی کا وہ سب سے بڑا سرچشمہ ہے جس سے باقی سارے شعبے نکلتے ہیں۔ علمائے دیوبند نے گزشتہ ڈیڑھ صدی میں اسی مورچے پر جنگ لڑی ہے اور مسلمانوں کے عقائد و ایمان کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں دینی تعلیمات کے ساتھ وابستہ رکھنے اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی عملی شکل کو مسلم معاشرہ میں برقرار رکھنے کی جدوجہد کی ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ کامیاب رہی ہے۔ مغرب کی نئی یلغار کا بڑا ہدف یہی ہے اور تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ہماری رائے یہ ہے کہ یہ آخری اور فیصلہ کن راؤنڈ ہے اور جس طرح گزشتہ صدی کی یہ فکری اور تہذیبی جنگ مسلم حکمرانوں، رؤساء اور مراعات یافتہ طبقوں کی بجائے غریب مسلمانوں اور دینی حلقوں نے لڑی ہے، مستقبل کی یہ تہذیبی جنگ بھی عام مسلمانوں اور دینی حلقوں نے ہی لڑنی ہے۔ اس کے لیے حکمرانوں اور مراعات یافتہ طبقوں سے کوئی امید رکھنا خود فریبی کی بات ہوگی۔ ان طبقوں سے ماضی کی طرح ایسے افراد ضرور ملتے رہیں گے جو شخصی حوالوں سے اس کشمکش میں دینی حلقوں کو سپورٹ کریں گے لیکن بحیثیت طبقہ ان کا وزن ماضی کی طرح اب بھی بدیشی آقاؤں کے پلڑے میں ہوگا اور وقت آنے پر اب بھی وہ وہی کچھ کریں گے جو ماضی میں کرتے رہے ہیں۔اس لیے ہماری دینی حلقوں بالخصوص علماء دیوبند سے اس سلسلہ میں پہلے مرحلہ میں دو گزارشات ہیں:

  1. ایک یہ کہ انہیں بہرحال اس تعلیمی، ثقافتی، نظریاتی، فکری اور معاشرتی کشمکش کا تسلسل قائم رکھنا ہے جو وہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
  2. اور دوسری بات یہ ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی انہیں یہ جنگ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اور صرف عام مسلمانوں کے تعاون کے ساتھ لڑنی ہے اور اس سلسلہ میں ریاستی اداروں اور حکمران طبقات کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہونے کی بجائے ان سے ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

البتہ اپنی ترجیحات اور طریق کار پر نظرثانی کرتے ہوئے ہمیں ان تبدیلیوں کا ادراک کرنا ہوگا جو رونما ہو چکی ہیں اور جن کا لحاظ رکھے بغیر ہم اپنی جنگ مستقبل میں جاری نہیں رکھ سکتے۔ مثلاً اس سے قبل یہ جدوجہد اپنے ملک اور علاقہ کے تقاضوں اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے جاری رہی مگر اب اس جدوجہد کا دائرہ اور طریق کار طے کرتے ہوئے نہ صرف پورے عالم اسلام بلکہ گلوبل ہیومن سوسائٹی کی ضروریات اور تقاضوں کو مجموعی طور پر سامنے رکھنا ہوگا اور اس کے لیے اپنی ترجیحات پر مکمل طور پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اس کے بغیر اس جدوجہد کو مستقبل میں نتیجہ خیز نہیں بنایا جا سکے گا:

  • ذہن سازی، تعلیم و تربیت، فکری رہنمائی اور عوامی رابطہ کے پرانے ذرائع اور وسائل سے چمٹے رہنے کی بجائے جدید دور کے ذرائع اور وسائل تک رسائی حاصل کرنا ہوگی اور ان سے استفادہ کرنا ہوگا، ورنہ ہم اپنی جدوجہد کے ساتھ انصاف نہیں کر سکیں گے۔
  • عام مسلمانوں کو تعلیم، ذہن سازی اور فکری تربیت کے مؤثر طریقوں کے ساتھ اپنی جدوجہد میں زیادہ سے زیادہ شریک کرنا ہوگا کیونکہ ہماری اصل قوت عالم اسباب میں یہی ہے۔ رائے عامہ کو نظر انداز کرنے اور عام مسلمانوں سے لاتعلق اور بے نیاز رہنے کی روش پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
  • نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالمی سطح پر ایسے حلقوں اور طبقات کو تلاش کر کے ان سے روابط استوار کرنا ہوں گے جو مغرب کے فکری غلبہ، معاشی بالادستی اور سیاسی اجارہ داری کے خلاف مصروفِ جدوجہد ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر حلقہ کی ہر بات سے اتفاق کیا جائے لیکن جدوجہد کے بنیادی نکتہ سے اتفاق کرنے والے ہر طبقہ اور حلقہ کا تعاون حاصل کرنا کسی بھی جدوجہد میں پیش رفت کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔
  • اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کرنے والے عالمی اداروں، لابیوں اور حلقوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا ہوں گی اور ان کے طریق کار اور ہتھیاروں سے واقفیت حاصل کر کے ان کے توڑ اور مقابلہ کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔
  • مطالعہ و تحقیق اور تجزیہ و تحلیل کا ذوق ہمارے حلقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے اور بہت جگہوں پر ہماری پسپائی کا سب سے بڑا سبب یہی ہوتا ہے۔ ہم جذباتیت، سطحیت اور بے خبری کے ماحول میں فیصلے کرتے ہیں اور نتائج و عواقب کا بروقت اندازہ کیے بغیر چل پڑتے ہیں۔ اس روش سے جان چھڑانا ہوگی اور مطالعہ و تحقیق کے ہتھیاروں سے پوری طرح مسلح ہو کر یہ فکری جنگ لڑنا ہوگی۔

اگرچہ باغ آزادکشمیر کی ’’خدماتِ علماء دیوبند کانفرنس‘‘ کی تقاریر اور ایجنڈے کا رخ ہماری ان گزارشات سے مختلف ہے اور روایتی جذباتی انداز میں اپنے اکابر کی خدمات کا تذکرہ اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا ہی اس کانفرنس کا ماحصل دکھائی دے رہا ہے لیکن ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ان امور کی طرف کانفرنس کے اربابِ حل و عقد اور آل جموں و کشمیر جمعیۃ علمائے اسلام کی قیادت کو توجہ دلا رہے ہیں جو اس کانفرنس کو مستقبل کی ضروریات کے حوالہ سے بامقصد بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ کانفرنس کے قائدین اور شرکاء ہماری ان معروضات پر توجہ کی زحمت ضرور فرمائیں گے۔

درجہ بندی: