مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان کا فلسفہ و فکر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ نومبر ۲۰۱۶ء

جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں ’’مجلس یادگار شیخ الاسلاؒ م پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے حوالہ سے منعقد ہونے والے سیمینار کا گزشتہ کالم میں تذکرہ کیا تھا۔ میں نے اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں انہیں تھوڑے سے اضافہ کے ساتھ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے بارے میں گفتگو کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ مثلاً ان کا قبول اسلام کیسے ہوا؟ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں چیانوالی کے سکھ گھرانے کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا تو اس کے اسباب کیا تھے اور وہ کن حالات و مراحل سے گزر کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بوٹا سنگھ نامی نوجوان جب مسلمان ہوا تو سیالکوٹ سے جام پور اور وہاں سے بھرچونڈی شریف سندھ تک کے سفر کی داستان بھی توجہ کی مستحق ہے۔ بھرچونڈی شریف سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کی ایک اہم خانقاہ ہے، عارف باللہ حضرت حافظ محمد صدیقؒ اس وقت اس سلسلہ کے سب سے بڑے پیشوا تھے، ان کی خدمت میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی حاضری اور حضرت حافظ صاحبؒ سے استفادہ اور کسبِ فیض ایک مستقل موضوع بحث ہے۔ سیالکوٹ کے ایک نومسلم نوجوان کو وہاں ایسی محبت و شفقت ملی کہ وہ اپنے علاقائی نسبت ہی بھول گیا اور ہمیشہ کے لیے سندھی کا تعارف اختیار کر لیا۔

ابھی ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر امجد علی شاکر اپنے خطاب میں بتا رہے تھے کہ مولانا سندھیؒ پہلے صوفی بنے اور پھر عالم دین بنے۔ وہ اسی بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ یہ مسلم نوجوان پہلے بھرچونڈی شریف کی خانقاہ پہنچا اور پھر وہاں سے دیوبند کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے بعد دیوبند میں مولانا سندھی کے تعلیم حاصل کرنے اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ کے ساتھ تعلق، استفادہ اور رفاقت کا دور ہے کہ انہوں نے اپنے وقت کے سب سے بڑے محدث، فقیہ، صوفی اور تحریک آزادی کے عظیم قائد کے معتمد ترین شاگرد اور ساتھی کا مقام کیسے حاصل کر لیا؟

پھر آزادیٔ وطن کی جدوجہد میں ان کے کردار اور محنت و قربانی کا دور آتا ہے کہ اس عظیم مشن کے لیے صرف اپنے ملک میں محنت نہیں کی بلکہ دنیا بھر میں دربدر کی خاک چھانی اور ایک قومی جدوجہد کو بین الاقوامی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ مختلف ملکوں کا یہ سفر ہوائی جہاز اور لگژری کاروں کا نہیں بلکہ پیدل یا زیادہ سے زیادہ عام سطح کی پبلک ٹرانسپورٹ کا تھا۔ اس سفر کی ایک جھلک اس واقعہ میں دیکھی جا سکتی ہے جو میں نے اپنے شیخ محترم حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے سنا ہے کہ مولانا سندھیؒ نے حضرت شیخ الہندؒ کے حکم پر کابل کا سفر کرنا تھا، وہ سی آئی ڈی کے تعاقب سے بچنے کے لیے ادھر ادھر گھومتے ہوئے دین پور شریف پہنچے تو وہاں بھی اردگرد مخصوص لوگوں کو نگرانی کرتے ہوئے پایا۔ چند دن وہاں رہے مگر ان کی نگاہوں سے بچ کر نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہ دی۔ ایک دن تیز جلاب کی کوئی دوائی کھالی جس سے سخت اسہال شروع ہوگئے، نگرانوں نے یہ دیکھ کر کہ اب تو یہ دو تین دن تک کسی طرف جانے کے قابل نہیں رہے، نگرانی میں تھوڑی غفلت دکھائی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر مولانا سندھیؒ اسی حالت میں وہاں سے نکلے اور چھپتے چھپاتے قندھار کی طرف روانہ ہوگئے اور اپنی منزل تک پہنچ جانے تک کسی کو محسوس نہ ہونے دیا کہ وہ کون ہیں، کہاں سے آرہے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں؟

یہ بات بھی تحقیق و مطالعہ کا اہم موضوع ہے کہ اپنی وطنی تحریک کو بین الاقوامی رخ دینے کے لیے اس مرد قلندر نے کیا کیا پاپڑ بیلے۔ اس وقت سلطنت برطانیہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت شمار ہوتی تھی اور اس کے حریفوں میں جرمنی، خلافت عثمانیہ اور جاپان نمایاں تھے۔ ان تینوں بڑی قوتوں کو ایک منصوبے پر متفق کر کے آزادیٔ وطن کی قومی تحریک میں تعاون پر آمادہ کرلینا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اس کے لیے سبھاش چندر بوس، مہندر پرتاب، برکت اللہ بھوپالیؒ ، عبید اللہ سندھیؒ اور محمد میاں انصاریؒ جیسے اصحابِ عزیمت کا حوصلہ کام آیا۔ اس حوصلہ اور اس کے مظاہر سے آج کی دنیا بالخصوص نئی نسل کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا سندھیؒ کی زندگی کا ایک پہلو ایک مفکر اور اجتہادی صلاحیتوں سے بہرہ ور بلند پایہ عالم دین کا بھی ہے، انہوں نے قرآن و سنت کی صرف تعبیر و تشریح نہیں کی بلکہ اپنے دور کی سماجی ضروریات اور معاشی تقاضوں کے ساتھ ان کی تطبیق و توفیق کی راہیں بھی نکالی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کی ساری تعبیرات کو قبول کیا جائے لیکن ان کا یہ ذوق و جذبہ آج بھی ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ قرآن و سنت کے علوم صرف کتب اور درسگاہ کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان کا اصل مقام سماج اور معاشرہ ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اپنے دور کے سماج اور سوسائٹی سے آگاہی بھی ضروری ہے اور ایک مفکر و مجتہد کا اصل کام یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور سماج کی ضروریات کے درمیان تطبیق و مفاہمت کی راہیں تلاش کرے اور انسانی سوسائٹی کے مسائل و مشکلات کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل پیش کرے۔

میں نے مولانا سندھیؒ کی جدوجہد، خدمات اور حیات کے چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارے فاضل محققین کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ لیکن آج میں ایک اور پہلو کے حوالہ سے بات کرنا چاہوں گا کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں قرآن کریم کے اعجاز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آنے والے دور میں جو نظاموں اور معاشرتی قوانین کے تقابل کا دور ہوگا، اس پہلو کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت کا پیش کردہ نظام اور اس کے معاشرتی احکام و قوانین دنیا کے تمام نظاموں سے بہتر ہیں اور انسانی سوسائٹی کے مسائل و مشکلات کو زیادہ بہتر طور پر حل کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں مولانا سندھیؒ کی علمی و فکری جدوجہد کو دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے دور کے عالمی نظاموں کے درمیان مقابلہ کو وسیع تناظر اور گہری نظر سے دیکھا ہے، انہوں نے ہماری طرح اخباری خبروں اور سنی سنائی باتوں پر اپنے فکر و فلسفہ کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ خود ان عالمی نظاموں کے مراکز میں جا کر ان کی اکھاڑ پچھاڑ کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا۔ انہوں نے مغرب کے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مقابلہ میں کمیونزم کے ابھرتے ہوئے طوفان کو ماسکو میں بیٹھ کر دیکھا۔ خلافت عثمانیہ کے بکھرنے کے عمل کا استنبول میں رہ کر مشاہدہ کیا، اور عرب قومیت کے نام پر عالم اسلام کا شیرازہ بکھیرے جانے کے مراحل کو مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر سمجھا۔ انہوں نے مغرب کے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مقابلہ میں ابھرتے ہوئے سوشلزم کی ان حالات کے تناظر میں تحسین ضرور کی لیکن یہ بات بھی دوٹوک انداز میں واضح کی کہ انسانی سوسائٹی کے مسائل کا اصل حل صرف قرآن کریم میں ہے اور اس کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ کو راہ نما بنانے کی ضرورت ہے۔

مولانا سندھیؒ کو اس بات کا زندگی بھر قلق رہا کہ ہم مسلمانوں کے پاس اسلام کے عادلانہ سماجی نظام کا کوئی عملی نمونہ عصر حاضر میں موجود نہیں ہے اس لیے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظاموں سے نجات حاصل کرنے کے لیے دنیا کو کمیونزم اور سوشلزم کی طرف رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ اور وہ اس نمونہ کے قیام کے لیے ساری زندگی محنت کرتے رہے۔ البتہ ان کا دور نظاموں کے تقابل کا دور تھا اور انہوں نے اپنے دور کے نظاموں کے باہمی مقابلہ کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ کی طرف لوگوں کی راہنمائی کی۔ مولانا سندھیؒ کی بعض تعبیرات و تشریحات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اپنے دور کے مسائل اور تقاضوں کو براہ راست معروضی حالات کے تحت سمجھنا ضروری ہے اور انسانی سوسائٹی کی راہنمائی کے لیے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ سے راہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس پس منظر میں ایک طالب علمانہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلی صدی نظاموں کے ٹکراؤ کی صدی تھی مگر آج کا دور تہذیبوں کے تصادم کا دور ہے۔ مغرب کی تہذیب و ثقافت پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام کو اپنے دائرے میں سمیٹ لینے کے چکر میں ہے۔ اس لیے آج کے علماء کرام اور دانش وروں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تہذیبوں کے اس تصادم اور ثقافتوں کے اس ٹکراؤ کو سمجھنے کی کوشش کریں، آج کے عصر کا ادراک حاصل کریں، اور اس سولائزیشن وار میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں امت مسلمہ بلکہ نوع انسانی کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں جس کے لیے ولی اللہی فکر و فلسفہ کی روشنی آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ میرے نزدیک آج کی نسل کے لیے مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا پیغام یہی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمت راہنمائی کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔