اٹھارہویں آئینی ترمیم ۔ چند گزارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ اپریل ۲۰۱۰ء
اصل عنوان: 
آئینی ترامیم اور عوامی ریلیف

قومی اسمبلی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل صدر آصف علی زرداری نے اس کے حوالے سے پارلیمنٹ میں خطاب بھی فرما دیا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیمی بل کے اس مسودہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستوری اتفاق کے بعد یہ دوسرا قومی اتفاق ہے جس پر کم و بیش سب سیاسی حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے اور کہا ہے کہ اس اتفاق کے بعد قوم ایک بڑے بحران سے نکل آئی ہے۔ بادی النظر میں ایسا ہی دکھائی دیتا ہے اور ہماری خواہش اور دعا ہے کہ خدا کرے ایسا ہی ہو، آمین یا رب العالمین۔

  • اس بات کو باعثِ اطمینان قرار دیا جا رہا ہے کہ سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے دستور میں آمریت کی جو علامتیں شامل کر لی گئی تھیں، اٹھارہویں ترمیم کے اس بل کی منظوری کی صورت میں دستور ان سے پاک ہو جائے گا اور ۱۹۷۳ء کا دستور اپنے اصلی تناظر میں اور اصل روح کے ساتھ بحال ہو جائے گا۔
  • وزیراعظم اور صدر کے اختیارات میں توازن قائم ہونے کی خوشخبری بھی اس میں شامل ہے۔
  • صوبوں کے اختیارات میں اضافے کی نوید بھی اس کا حصہ ہے۔
  • تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی کا خاتمہ بعض سیاسی رہنماؤں کی ذہنی الجھن کے خاتمے کا باعث بنا ہے۔
  • دستور سے جنرل ضیاء الحق مرحوم کا نام نکال دینے کی بات بھی بعض سیاستدانوں کی نفسیاتی تسکین کا ذریعہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
  • صوبہ سرحد کے نئے نام ’’خیبر پختون خوا‘‘ پر آئینی کمیٹی کا اتفاق بہت سے لوگوں کے لیے باعثِ مسرت ہے۔
  • اور سینٹ کے ارکان کی تعداد میں اضافے کے ساتھ اس میں اقلیتوں کی نمائندگی شامل کرنے کو بھی جمہوریت کی طرف پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

خود ہم نے یکم اپریل کو چیچہ وطنی اور ۴ اپریل کو سیالکوٹ میں عالمی مجلس احرار اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنسوں میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک کے اسلامی تشخص، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام، تحفظِ ناموس رسالتؐ اور عقیدہ ختم نبوتؐ کے تحفظ، وفاقی شرعی عدالت، قراردادِ مقاصد اور دیگر اسلامی دفعات کو دستور میں بے اثر بنانے کے لیے بعض ملکی اور بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے جو تجاویز دستوری کمیٹی کے سامنے رکھی گئی تھیں اور جن کے لیے مختلف اطراف سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا، دستوری کمیٹی نے انہیں درخور اعتناء نہیں سمجھا اور ایسی تجاویز کو قبول نہ کر کے پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور کی اسلامی بنیادں کے ساتھ پارلیمنٹ کی کمٹمنٹ کا ایک بار پھر اظہار کر دیا ہے۔ یہ بات شاید بعض دوستوں کے لیے اہم نہ ہو اور کچھ حضرات کو اس سے مایوسی بھی ہوئی ہو مگر پاکستان میں نفاذِ اسلام کے ایک شعوری کارکن کی حیثیت سے میرے نزدیک یہ بہت اہم بات ہے اور دستوری اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کے تمام ارکان اس پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

اس سب کچھ کے باوجود کچھ خلا خلا سا محسوس ہو رہا ہے اور لگتا ہے کہ جو کچھ ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔ اور قوم کی خاموش نگاہیں جن سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے بار بار اٹھ رہی تھیں وہ سوالات جوں کے توں موجود ہیں اور انہیں ایک بار پھر مستقبل کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ایک بات تو عمران خان نے کہی ہے کہ دستوری ترامیم میں عام آدمی کے لیے کچھ نہیں ہے اور اس کے روزمرہ مسائل و مشکلات کا کوئی حل ان ترامیم میں شامل نہیں ہے۔

یہ بات کچھ غلط بھی نہیں ہے اس لیے کہ عام آدمی کا مسئلہ غربت، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بے روزگاری، بداَمنی، لا قانونیت، کرپشن، ہوشربا طبقاتی تفاوت و امتیاز، اور قومی وسائل پر بعض طبقوں کی اجارہ داری ہے۔ ان کے بارے میں کسی سنجیدہ اور مؤثر قومی پالیسی کے بغیر عام آدمی کو ریلیف ملنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ کہا جا سکتا ہے اور شاید یہی کہا جائے گا کہ دستوری ترامیم کا مقصد ملکی نظام کی اصلاح ہے اور جب نظام ٹھیک طرح سے کام کرنے لگے گا تو عام آدمی کے مسائل بھی حل ہونا شروع ہو جائیں گے، لیکن یہ:

تا تریاق از عراق آوردہ شود
مار گزیدہ مردہ شود

والی بات ہے اور ’’کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک‘‘ کا معاملہ ہے۔ بے چارے نظام کو کوئی صحیح رخ پر کام کرنے کا موقع دے گا تو عام آدمی کے مسائل حل ہونا شروع ہوں گے، جبکہ اس کے بغیر عام شہری کے لیے ’’نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی‘‘ کا ورد کرتے رہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔

اسی ۱۹۷۳ء کے دستور کی تدوین و تشکیل کے دوران قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمودؒ نے قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی، اور یہ بات مفتی صاحبؒ سے میں نے براہِ راست سنی ہے، کہ عام آدمی کی بنیادی ضروریات بالخصوص روٹی، کپڑا اور مکان کی حد کا تعین کر کے اس کے لیے قانونی ضمانت فراہم کی جائے اور دستوری طور پر اس کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے عدالت سے رجوع کر سکے۔ مفتی صاحبؒ کا کہنا تھا کہ یہ بات سن کر بھٹو مرحوم نے کانوں کو ہاتھ لگا لیے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ مفتی صاحبؒ نے کہا کہ دستوری طور پر یہ حق تسلیم کر کے حالات کو اس حد تک تیار کرنے کے لیے پانچ یا دس سال کا استثناء اس میں شامل کر دیا جائے مگر بھٹو مرحوم نے یہ تجویز بھی قبول نہیں کی تھی۔

ہمارے نزدیک آج بھی اس کا حل یہی ہے کہ طبقاتی معیشت پر نظر ثانی کی جائے اور خلافتِ راشدہ کی طرز پر بیت المال کا نظام قائم کر کے عام آدمی کو اس کی تسلیم شدہ بنیادی ضروریات کے لیے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے، اس کے بغیر اس کا کوئی حل نہیں ہے۔ کسی سیاستدان کو تیسری بار وزیراعظم بننے کا موقع ملتا ہے یا نہیں، اس کا غریب آدمی کے ساتھ (براہ راست) کیا تعلق ہے؟ غریب شخص کو تو اپنی ضروریات درکار ہیں اور اپنی مشکلات سے نجات ہی اس کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ اسے اگر نظام کے صحیح طور پر کام کرنے تک ٹالا جاتا رہے گا تو اگلی نسلیں بھی شاید ان دستوری ترامیم سے کوئی ریلیف حاصل نہ کر سکیں۔

ہمارے ایک صاحب قلم دوست مولانا محمد ازہر (خیر المدارس، ملتان) نے اپنے ایک حالیہ کالم میں آئینی ترامیم کے حوالے سے یہ بات کہی ہے کہ اس ترمیمی بل میں دستور کی اسلامی دفعات پر عملدرآمد اور اس سلسلہ میں پائی جانے والی خامیوں کی اصلاح کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ان کی یہ بات درست لگتی ہے، اس لیے کہ اگر پاکستان کو ایک آئیڈیل رفاہی اسلامی ریاست بنانا فی الواقع مقصود ہے تو اس کے لیے دستور میں اسلامی دفعات کی صرف موجودگی کافی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کا اہتمام بھی ضروری ہے اور اس سلسلہ میں دستور میں پائے جانے والے خلا یا خامیوں کو دور کرنا بھی ضروری ہے۔

اس کے علاوہ دو باتیں خود ہمیں کھٹکتی ہیں جن کا اظہار ضروری معلوم ہوتا ہے:

  1. ایک یہ کہ صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں توازن کی بات کی گئی ہے، جو اچھی بات ہے، اور اس کے ساتھ عدالت عظمیٰ کے وقار اور اختیارات کے تحفظ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مگر ہمارے ہاں اختیارات کے استعمال میں کشمکش صرف صدر، وزیراعظم اور چیف جسٹس کے مابین تو نہیں ہوتی، ان کے علاوہ ’’ان دیکھے‘‘ اختیارات کا سرچشمہ بھی موجود ہے جو ہمیشہ حاوی ہوتا ہے اور فیصلہ کن پوزیشن میں رہتا ہے، اسے دستور کے دائرے میں لانے اور بیلنس کرنے کی کوئی بات ہمیں ان ترامیم میں دکھائی نہیں دی۔
  2. دوسری بات یہ کہ قومی خودمختاری اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ داخلی معاملات میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلت نے ہمارے تمام قومی اداروں کو مفلوج کر رکھا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس بیرونی مداخلت کا ذریعہ ہم خود ہی بنتے ہیں اور اس کا راستہ ہموار کرنے والے بھی ہم میں سے ہی ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ہماری بے بسی کی انتہا یہ ہے کہ پارلیمنٹ کسی قومی مسئلہ پر ایک متفقہ موقف طے کرتی ہے مگر وہ بعض افراد یا طبقات کے مفادات کی ترجیحات کے فریزر میں منجمد ہو کر رہ جاتا ہے۔ دستوری اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کو اس سلسلہ میں بھی کوئی حل تلاش کرنا چاہیے تھا اور ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کا ذریعہ بننے والوں کا راستہ روکنے کے لیے کوئی ٹھوس طریق کار پارلیمنٹ کے سامنے رکھنا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر پارلیمنٹ خود اپنے فیصلوں کا تحفظ نہ کر سکے تو اس ساری تگ و دو کا کیا فائدہ؟