فلسطین کی آزادی اور مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی / یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے، احتیاط کیجئے!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ اپریل ۱۹۸۲ء

عالمِ اسلام میں ۱۴ اپریل کو سعودی عرب کے فرمانروا اور اسلامی کانفرنس کے چیئرمین شاہ خالد کی اپیل پر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے خلاف یومِ احتجاج منایا گیا۔ اس روز پورے عالمِ اسلام میں کاروباری ادارے بند رہے، احتجاجی مظاہرے ہوئے، جلسوں کا اہتمام کیا گیا اور دنیائے اسلام نے بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطین کی آزادی کے سلسلہ میں عرب بھائیوں کے ساتھ یکجہتی اور یگانگت کا اظہار کیا اور بیت المقدس میں گزشتہ دنوں نہتے نمازیوں پر یہودیوں کی وحشیانہ فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ پاکستان میں بھی یہ دن روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا، تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل رہا، زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے بیت المقدس کے ساتھ اپنی محبت و عقیدت کا پرجوش مظاہرہ کیا اور احتجاجی اجتماعات اور مظاہروں کے ذریعے فلسطینی اور عرب بھائیوں کو مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا۔

بیت المقدس اور فلسطین پر صہیونیوں کا ناجائز قبضہ ایک عرصہ سے عالمی رائے عامہ کو اپنی طرف متوجہ کیے ہوئے ہے اور اقوامِ عالم متعدد بار اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق اور بیت المقدس پر فلسطینیوں کے استحقاق کی حمایت کر چکی ہے لیکن اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی اور سامراجی قوتوں کی پشت پناہی کے باعث عالمی رائے عامہ کی پرواہ کیے بغیر جارحیت اور اشتعال انگیزی کی راہ پر گامزن ہے۔ عراق کی ایٹمی تنصیبات پر شرمناک حملہ، لبنان میں مسلح مداخلت اور دنیا میں کسی بھی مسلمان ملک کی ایٹمی تنصیبات کو برداشت نہ کرنے کی دھمکیوں کے بعد مسجدِ اقصیٰ میں مظلوم مسلمانوں پر وحشیانہ حملہ یہ سب کچھ اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیز کاروائیوں کا ایک حصہ ہے۔ جبکہ یہ تازہ واردات عین اس وقت ہوئی ہے جبکہ اسرائیل کو امریکی سرپرستی میں ہونے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے تحت مصری علاقوں کو چند روز تک خالی کرنا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل یہ اشتعال انگیزی جان بوجھ کر صرف اس لیے کر رہا ہے تاکہ اسے ان علاقوں کو خالی نہ کرنے کا کوئی بہانہ مل سکے اور وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے دامن چھڑا سکے۔

اسلامی کانفرنس کے چیئرمین اور حرمین شریفین کے خادم کی حیثیت سے شاہ خالد نے عالمِ اسلام سے ہڑتال کی اپیل کر کے اسرائیلی حرکات کا بروقت نوٹس لیا ہے اور مسلم ممالک نے جس طرح اس اپیل پر لبیک کہتے ہوئے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے وہ اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ دنیائے اسلام بیت المقدس اور فلسطین کے قضیہ کو پورے عالم اسلام کا مسئلہ سمجھتی ہے اور اس کے حل کے لیے ہر نوع کی قربانی کے لیے تیار ہے۔ ہم عالمِ اسلام کی سطح پر اتحاد، یکجہتی اور یگانگت کے اس پرجوش اظہار پر اسلامی کانفرنس کے چیئرمین شاہ خالد اور دیگر مسلم قائدین کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ملتِ اسلامیہ کو حقیقی اتحاد و استحکام کی منزل سے ہمکنار فرمائیں تاکہ اقوامِ عالم کی برادری میں ملتِ اسلامیہ اپنا صحیح مقام حاصل کر سکے، آمین یا الہ العالمین۔

یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے، احتیاط کیجئے!

مؤقر روزنامہ نوائے وقت نے ۱۳ اپریل کی اشاعت میں اسرائیل کی ’’مسلم آزاری اور امریکہ‘‘ کے عنوان کے تحت اداریہ کا اختتام ان جملوں پر کیا ہے:

’’امریکی قیادت کو احساس کرنا چاہیے کہ وہ اس قوم کے لیے دنیا بھر کی نفرت کیوں کما رہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی چڑھانے سے دریغ نہیں کیا تھا۔ امریکہ کی عیسائی آبادی اور اس کی نمائندہ قیادت یہودیوں سے کس خیر کی توقع کر رہی ہے؟‘‘

اس سے قبل مؤقر روزنامہ جنگ نے بھی ایک قریبی اشاعت میں روم کے بعض ڈاکٹروں کی تحقیق کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو موضوعِ بحث بنایا۔ ہم اس سلسلہ میں دونوں مؤقر روزناموں کے مدیرانِ گرامی سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ اس مسئلہ کا تعلق اسلام کے مسلمہ عقائد اور ملتِ اسلامیہ کے دینی جذبات سے ہے اس لیے پاکستان کی مسلم رائے عامہ کی نمائندگی کرنے والے قومی جرائد کو اس سلسلہ میں اظہارِ خیال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ملتِ اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، نہ وہ سولی پر چڑھے اور نہ ان کی موت واقع ہوئی بلکہ وہ زندہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں قدرت کاملہ سے آسمانوں پر اٹھا لیا ہے اور قیامت سے قبل وہ زمین پر تشریف لا کر ملتِ اسلامیہ کی قیادت کرتے ہوئے خلافتِ اسلامیہ کے نظام کا احیاء فرمائیں گے۔

ہمیں امید ہے کہ قومی صحافت کے ذمہ دار حضرات پاکستان کی مسلم رائے عامہ کے عقائد و جذبات کا ضرور پاس کریں گے۔

درجہ بندی: