مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مہاجر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عمومی زندگی تنگ دستی اور فقر و فاقہ کی تھی۔ آہستہ آہستہ حالات بہتر ہونا شروع ہوئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے وہ وقت بھی دکھایا کہ حضرت ابو مسعود انصاریؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ جب اجتماعی کاموں کے لیے چندہ دینے کی بات فرمایا کرتے تھے تو ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا تھا، ہم بازار جا کر لوگوں کی مزدوری کر کے تھوڑی بہت کمائی کرتے تھے، اس میں سے کچھ اپنے خرچہ کے لیے رکھ لیتے تھے اور باقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔ یہ بتا کر حضرت ابو مسعود انصاریؓ فرماتے ہیں کہ اب تو ہمارے پاس لاکھوں درہم موجود رہتے ہیں۔