اس دوران ایک اور اہم واقعے نے نفاذِ شریعت کے حوالے سے حکمران طبقات سے عوام کی مایوسی میں اضافہ کیا۔ وہ یہ کہ بہاولپور، سوات، قلات، خیرپور اور دیگر ایسی ریاستوں میں جہاں برطانوی استعمار کے تسلط کے دوران عدالتی سطح پر شرعی قوانین کی عملداری موجود تھی، پاکستان کے ساتھ ان کے الحاق کے ساتھ ہی ان میں شرعی قوانین کا نظام ختم کر دیا گیا۔ جس نے عوام اور دینی حلقوں میں اس سوچ کو پختہ کر دیا کہ آزادی کے مقصد کے حصول، نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ، اور اسلامی شریعت کی عملداری کے لیے جو کچھ کرنا ہے خود انہی کو کرنا ہے، اور ملک کی رولنگ کلاس سے اس کے لیے کسی حمایت یا سہولت کی توقع عبث ہے۔