قرآن کریم سے ہمیں یہ راہنمائی ملتی ہے کہ جہاں کسی غلطی کی نشان دہی ہوتی ہو اور اس وقت کے معروضی حالات میں اس کا اعتراف کرنا ضروری ہو تو اسے تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ غلطی کا الزام لگانے والوں کو ان کے جرائم بھی یاد دلائے جائیں اور تقابل کر کے بتایا جائے کہ ان کے جرائم انسانیت، امن اور اصول و اخلاقیات کے حوالے سے زیادہ بڑے جرائم ہیں، اس لیے انہیں دوسروں پر اعتراض کرنے سے قبل اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔