تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

گوجرانوالہ کے بہت سے علماء کرام کا یہ معمول سالہا سال سے چلا آرہا ہے کہ وہ سال میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک اجتماعی سہ روزہ لگاتے ہیں اور دو تین روز دعوت و تبلیغ کے ماحول میں گزارتے ہیں، اس سہ روزہ میں مجھے بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سال تیس کے لگ بھگ علماء کرام کے اس سہ روزہ کی تشکیل دارالعلوم الشہابیہ سیالکوٹ میں ہوئی اور تین دن ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ اعمال میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

۱۶ اکتوبر ۲۰۱۸ء

ملی مجلس شرعی پاکستان کی چند اہم تجاویز

کافی عرصہ کے بعد ملی مجلس شرعی پاکستان کا اجلاس گزشتہ اتوار کو لاہور میں منعقد ہوا جس میں مختلف تعلیمی و فقہی مسائل پر باہمی مشاورت کے ساتھ مشترکہ موقف طے پایا۔ مجلس کے دفتر کی طرف سے اجلاس کی جاری کردہ رپورٹ قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔ ’’ملی مجلس شرعی پاکستان تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک مشترکہ علمی فورم ہے جو وقتاً فوقتاً اپنے اجلاس منعقد کر کے معاشرے کو درپیش مسائل کو زیربحث لاتا اور ان کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ موقف سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملی مجلس شرعی پاکستان کی چند اہم تجاویز

۱۳ اکتوبر ۲۰۱۸ء

سی پیک کے چند توجہ طلب پہلو

وزیر اعظم جناب عمران خان نے گزشتہ روز کوئٹہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ CPEC کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور بلوچستان کو اس کا حق دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات بلوچستان کے بعض سرکردہ حضرات کی طرف سے اس سلسلہ میں چند تحفظات کے اظہار کے پس منظر میں کہی ہے جبکہ اس کے ساتھ حکومت پاکستان کے مشیر تجارت و صنعت جناب عبد الرزاق داؤد کا ایک روز قبل کا یہ بیان بھی قابل توجہ ہے کہ ہمیں عقل سے کام لینا ہوگا، یہ نہ ہو کہ سی پیک انڈسٹریل زون میں چینی آجائیں اور ہماری صنعتیں بند ہو جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سی پیک کے چند توجہ طلب پہلو

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۸ء

علماء کرام کی جدوجہد کا تسلسل

ان دنوں ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی رکن سازی کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ پانچ سالہ مدت کے لیے رکن سازی اور تنظیم نو کے عمل میں احباب ہر سطح پر سرگرم عمل ہیں۔ رکن سازی کے بعد مرحلہ وار جماعتی انتخابات ہوں گے اور پھر مرکزی انتخابات کے بعد نومنتخب مجلس عاملہ اگلے پانچ سال کے لیے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا نظم و نسق سنبھال لے گی ۔سندھ کے شہید راہنما ڈاکٹر خالد محمود سومروؒ کے فرزند مولانا راشد محمود سومرو مرکزی ناظم انتخابات کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کرام کی جدوجہد کا تسلسل

۷ اکتوبر ۲۰۱۸ء

سی پیک معاہدات پر بحث کی ضرورت

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ’’سی پیک معاہدات‘‘ کو قومی اسمبلی میں زیربحث لایا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ یہ قرضے ہیں یا سرمایہ کاری ہے؟ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح افغانستان سے مہاجر یہاں آئے تھے اب چینی گوادر میں بہت تعداد میں آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کی معدنیات چین لے جا رہا ہے اور ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا کہ کتنا سونا اور دوسری معدنیات نکل رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سی پیک معاہدات پر بحث کی ضرورت

۳ اکتوبر ۲۰۱۸ء

پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظِ ختمِ نبوت سیمینار

پاکستان پیپلز پارٹی گکھڑ نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے اس سال بھی ’’تحفظ ختم نبوت سیمینار‘‘ کا اہتمام کیا جو ۲۸ ستمبر کو ایک شادی ہال میں منعقد ہوا اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، پیپلز پارٹی کی ضلعی و مقامی قیادت، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار حضرات اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجھے بطور مہمان خصوصی اس میں شرکت کا اعزاز بخشا گیا اور میں اپنے ذوق و مزاج کے خلاف ساڑھے تین چار گھنٹے تک مسلسل اس مسند پر براجمان رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظِ ختمِ نبوت سیمینار

۳۰ ستمبر ۲۰۱۸ء

افغان تنازعہ کا تاریخی پس منظر اور اس کا نیا راؤنڈ

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورۂ افغانستان کے بعد افغان تنازعہ ایک نئے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی میز بچھانے کے لیے ازسرنو کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس مرحلہ میں نئی تجاویز اور امکانات کا جائزہ لینے سے قبل اب تک کی مجموعی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈال لینا ضروری محسوس ہوتا ہے اس لیے ہم اپنے ایک طویل تجزیاتی مضمون کے کچھ متعلقہ حصے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان تنازعہ کا تاریخی پس منظر اور اس کا نیا راؤنڈ

۲۴ ستمبر ۲۰۱۸ء

خطبائے کرام سے چند گزارشات

چند ہفتے قبل میں نے اس کالم میں قرائے کرام اور نعت خواں حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کیں تو ایک معروف نعت خواں دوست نے فون پر شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے بارے میں تو بہت کچھ لکھ دیا ہے مگر خطباء اور مقررین کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ میں نے عرض کیا کہ اسی کالم میں یہ عرض کر دیا تھا کہ ابھی کہنے کی بہت سی باتیں باقی ہیں جو موقع و محل کی مناسبت سے ان شاء اللہ تعالٰی لکھی جاتی رہیں گی۔ چنانچہ آج خطبائے کرام اور مقررین کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں مگر پہلے مرحلے میں تمہید کے طور پر کچھ واقعات پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خطبائے کرام سے چند گزارشات

۱۲ ستمبر ۲۰۱۸ء

ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے قوم کا عزم

ستمبر کو یومِ دفاعِ پاکستان اور ۷ ستمبر کو یومِ ختم نبوت تھا، بحمد اللہ تعالٰی دونوں دن خاصی مصروف رہی۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ہمارے قومی فرائض میں سے ہے اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع بھی اہم ترین ملی تقاضا ہے چنانچہ ملک بھر میں دونوں حوالوں سے بھرپور جوش و خروش کا اظہار کیا گیا جس میں تھوڑا بہت ہمارا حصہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے قوم کا عزم

۱۲ ستمبر ۲۰۱۸ء

وزیر اعظم سے مجوزہ ملاقات۔ ایک ضروری وضاحت

وزیراعظم جناب عمران خان کے ساتھ مجوزہ ملاقات اور ہماری معذرت کے بارے میں مختلف تبصرے مسلسل سامنے آرہے ہیں، بہت سے دوست اس معذرت سے اتفاق کر رہے ہیں اور اختلاف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں جن کا کہنا ہے کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ دونوں طرف مخلصین ہیں جو پورے اخلاص کے ساتھ اپنی بات کہہ رہے ہیں اور دلائل و قرائن بھی کسی کے کمزور نہیں ہیں مگر چونکہ سوالات کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو صورتحال رونما ہوئی وہ قارئین کے سامنے رکھ دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیر اعظم سے مجوزہ ملاقات۔ ایک ضروری وضاحت

۹ ستمبر ۲۰۱۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔