نئے اوقاف قوانین ۔ تمام مکاتب فکر کے راہنماؤں کا مشترکہ اعلامیہ

دس اپریل کو منصورہ لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان ‘‘کے زیر اہتمام ’’کل جماعتی تحفظ مساجد و مدارس کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبوں میں نافذ ہونے والے اوقاف کے نئے قوانین کا جائزہ لیا گیا اور ان قوانین کو شرعی احکام، دستوری دفعات، قومی خودمختاری اور مسلمہ شہری حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے اور اس سلسلہ میں عوامی آگاہی و بیداری کی ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اپریل ۲۰۲۱ء

ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز

تین اپریل کو دو روز کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا۔ اہل حدیث دوستوں نے مسجد قاضیاں ڈیرہ شہر میں عصر کے بعد مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے سرکردہ حضرات کے اجتماع کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں ممتاز اہل حدیث راہنما مولانا محمد یوسف طیبی اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا اہم نکتہ یہ تھا کہ ہماری نئی نسل کا میٹرک سے پہلے کا دائرہ دینی تعلیمات سے بے خبری کا شکار ہے جبکہ کالج اور یونیورسٹی کا دائرہ شکوک و شبہات اور تذبذب کے حصار میں دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اپریل ۲۰۲۱ء

اسٹیٹ بینک کے بارے میں مجوزہ قانونی ترامیم کا جائزہ

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالہ سے ملکی قوانین میں مجوزہ ترامیم ان دنوں قومی حلقوں میں زیربحث ہیں اور انہیں قومی خودمختاری کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ریٹائرڈ سیشن جج چودھری خالد محمود نے ان کا جائزہ لیا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۲۱ء

وقف املاک کے نئے قوانین اور ہماری ذمہ داری

ملک بھر میں نافذ کیے جانے والے وقف املاک کے نئے قوانین کے بارے میں دینی حلقوں میں آگاہی اور بیداری کا ماحول بحمد اللہ تعالیٰ بنتا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ قوانین جس عجلت میں منظور کرائے گئے ہیں اور جس طرح خاموشی کے ساتھ ان پر عملداری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے وہ بجائے خود محل نظر ہے اور پس پردہ عزائم کی غمازی کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۲۰۲۱ء

نیا اوقاف ایکٹ اور مساجد کی رجسٹریشن

مختلف شہروں میں مساجد کی رجسٹریشن کے حوالہ سے محکمہ اوقاف کی طرف سے مساجد کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور محکمہ اوقاف کا عملہ ہر سطح پر خلاف معمول متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد کے لیے نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ سے جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس کے تناظر میں محکمہ اوقاف کی یہ نقل و حرکت خصوصی طور پر لائق توجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۲۱ء

مساجد و اوقاف کا نیا قانون اور دینی قیادتوں کی ذمہ داری

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مشترکہ طور پر احکام شریعت اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے۔ جبکہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی قیادت کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر ذمہ دار حکومتی راہنماؤں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اعتماد میں لے کر قانون میں ترامیم کرتے ہوئے اسے دینی حلقوں کے لیے قابل قبول بنائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۲۱ء

توہین رسالتؐ اور آزادیٔ رائے کے حوالہ سے مغرب کا افسوسناک رویہ

ملکۂ برطانیہ ایلزبتھ دوم نے سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ (سر) کا خطاب دے کر مسلمانوں کے پرانے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے اور اس پر عالم اسلام میں احتجاج کی ایک نئی لہر شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ملکۂ برطانیہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے نزدیک ایک انتہائی قابل نفرت شخص کو اس اعزاز کے لیے کس بنیاد پر چنا ہے اس کی باقاعدہ وضاحت تو وہی کر سکتی ہیں لیکن ایک عام مسلمان کا دنیا کے کسی بھی خطے میں تاثر یہی ہے کہ اس سے سلمان رشدی کی ان خرافات کی ملکۂ برطانیہ کی طرف سے تائید جھلکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۷ء

ریاستِ مدینہ کیسے وجود میں آئی؟

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب سوسائٹی میں جو تبدیلیاں کی تھیں ان میں سب سے پہلی اصلاح یہ ہے کہ عربوں کو ریاست کا تصور دیا ۔ نبی کریمؐ کے یثرب پہنچتے ہی پہلے سال کے اندر ریاست بن گئی، حضورؐ کو اس کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے ایک دستور طے ہو گیا۔ میثاق مدینہ میں جناب نبی کریمؐ، مہاجرین، انصار کے دونوں قبیلے بنو اوس اور بنو خزرج، یہود کے تینوں قبیلے بنو قینقاع، بنو قریظہ اور بنو نضیر کے علاوہ اردگرد کے دیگر قبائل بھی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے سلسلہ میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ ذمہ داری

اسلام آباد کے بہت سے سرکردہ وکلاء محترم حافظ ملک مظہر جاوید ایڈووکیٹ کی سربراہی میں تحفظ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں جو لائقِ تحسین ہے۔ گذشتہ دنوں ان کی محنت و کاوش سے خصوصی عدالت برائے انسدادِ دہشت گردی کے جج راجہ جواد عباسی نے سوشل میڈیا پر توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے تین مجرموں کو سزائے موت، جبکہ ایک مجرم کو دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ محترم وکلاء کا یہ گروپ ’’انٹرنیشنل لائیرز فورم اسلام آباد‘‘ کے عنوان سے سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ فروری ۲۰۲۱ء

اختلاف رائے اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

رائے کا اختلاف فطری بات ہے، جہاں علم ہو گا اور عقل ہو گی وہاں اختلاف بھی ہو گا۔ اختلاف کا ہونا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اختلاف کا نہ ہونا فطرت کے منافی ہے۔ ہماری امت کے دو سب سے بڑے بزرگوں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کے درمیان بھی اختلاف ہوتا رہا ہے جو ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے ان دو بڑے بزرگوں کے درمیان متعدد امور میں اختلافات کا ذکر روایات میں ملتا ہے جن میں سے صرف تین واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو خلافت صدیق اکبرؓ کے مختصر دور میں پیش آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۲۱ء

Pages