ایک مسلمان کی تکلیفیں اور غم

مسند دارمی کی روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، مجلس لگی ہوئی ہے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے ہیں سامنے۔ ایک آیت نازل ہوئی لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتاب من یعمل سوء یجز بہ۔

اس کا تھوڑا سا پس منظر یہ ہے کہ ایک مشترک مجلس تھی جس میں یہودی بھی تھے، مسلمان بھی تھے، اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے، مدینہ کا ماحول مشترک تھا۔ تو ایک یہودی نے کہہ دیا کہ ہمیں کس نے پوچھنا ہے یار ہم وی آئی پی ہیں، انبیاء کی اولاد ہیں، سیدھے جنت میں جائیں گے۔ ایک صحابی نے پاس بیٹھے ہوئے سنا تو اس کو غصہ آیا، اچھا! تم انبیاء کی اولاد ہو، سیدھے جنت میں جاؤ گے؟ ہم انبیاء کے سردار کے ساتھی ہیں، ہمیں کون روکے گا، سیدھے جائیں گے۔ مجلسوں میں یہ باتیں ہو جاتی ہیں۔ ہو جاتی ہیں یا نہیں؟

اللہ رب العزت نے قرآن کریم کی آیت اتاری لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتاب من یعمل سوء یجز بہ بھئی دیکھو! مغالطے میں نہ رہنا، نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر فیصلے ہوں گے، نہ تمہاری آرزوؤں پر فیصلے ہوں گے، فیصلے اعمال پر ہوں گے۔ آیت نازل ہوئی تو حضورؐ نے سنا دی کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اس کا جملہ ہے من یعمل سوء یجز بہ جس نے کوئی غلط کام کیا بھگتنا پڑے گا، سادہ ترجمہ کر رہا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کی نا، اس کو لازماً سزا ملے گی۔

یہ آیت جب سنی تو حضرت صدیق اکبرؓ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا، کپکپانے لگے۔ کاد اَن یسقط قریب تھا کہ گر پڑتے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑ گئی مالک یا ابا بکر ابوبکر خیر تو ہے، کیا ہوا؟ یا رسول اللہ! آپ نے سنایا کیا ہے! جس نے چھوٹی سی غلطی بھی کی اس کو بھگتنی پڑے گی، اس کو سزا مل کر رہے گی۔ یا رسول اللہ! چھوٹی موٹی غلطیاں تو ہوتی رہتی ہیں، کون بچے گا ہم میں سے؟ چھوٹی موٹی غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں، اور کس دن نہیں ہوتیں؟ ہوتی رہتی ہیں۔ ہم تو مارے گئے۔ اگر معیار یہ ہے کہ چھوٹی سی غلطی پر بھی پکڑ ہو گی اور سزا ملے گی تو مارے گئے۔ پریشانی سمجھ میں آئی ہے؟ یہ پریشانی کا اظہار کون کر رہا ہے؟

حضورؐ نے فرمایا، اوہو ٹھیک ہے، ابوبکر گبھراؤ نہیں۔ یجز بہ غلطی کی سزا ملے گی، یہ سب کچھ آخرت میں نہیں ہو گا، دنیا میں بھی اللہ تعالٰی کسی نہ کسی بدلے چیز کا کفارہ بنا دیتے ہیں۔ مومن کو کوئی تکلیف، کوئی غم، کوئی پریشانی، کوئی نقصان ہوتا ہے، کوئی بھی ہوتا ہے، کسی نہ کسی گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے۔ ایک جملہ فرمایا ، اگر چلتے چلتے پاؤں میں کانٹا چبھا ہے نا، یہ بھی کسی گناہ کا کیا ہو جائے گا؟ کفارہ ہو جائے گا۔ اس لیے مومن یہیں سے واش ہو کر جاتا ہے۔