انتخابی امیدواروں سے دینی و قومی تقاضوں کی پاسداری کا وعدہ لیا جائے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جولائی ۲۰۱۸ء

بحمد اللہ تعالیٰ پاکستان شریعت کونسل کی اس تجویز کو مسلسل پذیرائی حاصل ہو رہی ہے کہ انتخابی امیدواروں سے دینی و قومی مقاصد کے لیے تحریری وعدہ لینے کا ماحول پیدا کیا جائے تاکہ الیکشن کے اصل مقاصد کی طرف ملک کے منتخب نمائندوں کو توجہ دلائی جا سکے اور جس کام کے لیے انہیں منتخب کیا جاتا ہے متعلقہ اسمبلیوں میں وہ اس کی انجام دہی کا اہتمام کر سکیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک و قوم کے لیے پالیسیوں کے تعین اور قانون سازی کے تقاضوں کا اکثر منتخب ارکان کو نہ تو شعور و ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کا صحیح اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جس قانونی مسودہ کے حق میں یا اس کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں اس کا مقصد و ضرورت اور افادیت و اہمیت کیا ہے؟ تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے گزشتہ دنوں ملک کی منتخب پارلیمنٹ میں جو صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور ارکان اسمبلی کو خود اپنی پاس کردہ بعض ترامیم واپس لینا پڑی تھیں وہ اس کی تازہ ترین شہادت ہے۔ ورنہ اس سے قبل اس قسم کے کئی واقعات ہو چکے ہیں کہ قانون پاس ہو کر نافذ ہو جاتا ہے مگر جب اسے منظور کرنے والے ارکان اسمبلی سے پوچھا جاتا ہے تو وہ اس کے مقصد و مفہوم تک سے بے خبر ہوتے ہیں۔ ایک دو واقعات میرے ذاتی تجربہ و مشاہدہ سے بھی گزرے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کے سابقہ دور حکومت میں قومی اسمبلی نے قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کے دستوری بل کی منظوری دی تو اس کے ساتھ یہ شق شامل کر دی گئی کہ اس کا اطلاق سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے پر نہیں ہوگا۔ یعنی قرآن و سنت کو سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے پر بالادستی حاصل نہیں ہوگی۔ میں نے اس کے لیے ووٹ دینے والے ایک ایم این اے سے پوچھا کہ آپ نے قرآن و سنت کی بالادستی کو محدود کیسے کر دیا ہے؟ تو وہ کانوں کو ہاتھ لگانے لگے کہ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ آپ نے تو کر دیا ہے اور جب اس دفعہ کا مفہوم سمجھایا تو کہنے لگے کہ مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں تھا۔ اسی طرح بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی مرحوم کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ایک بار صوبائی اسمبلی نے یہ متفقہ قرارداد پاس کی کہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اب تک کی جانے والی تمام ترامیم ختم کر کے اسے اپنی اصل شکل میں بحال کیا جائے۔ میں نے ایک رکن اسمبلی سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے بھی اس کے لیے ووٹ دیا ہے تو بتایا کہ ہاں میں نے بھی ووٹ دیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تحفظ ختم نبوت کے دستوری فیصلہ، قرارداد مقاصد کو دستور کا باضابطہ حصہ قرار دینے اور وفاقی شرعی عدالت کے وجود کو ختم کر دینا چاہتے ہیں؟ کہا کہ نہیں میں تو ایسا نہیں چاہتا۔ میں نے عرض کیا کہ یہ سارے اقدامات ان دستوری ترامیم کے ذریعے ہوئے ہیں جنہیں ختم کرانے کے لیے صوبائی اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کی ہے۔

اس طرح کے بیسیوں واقعات ہماری پارلیمانی تاریخ کا حصہ ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ اکثر ارکان اسمبلی قانون سازی کے تقاضوں اور اس کے نتائج و ثمرات سے بے خبر ہوتے ہیں۔

  • اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں الیکشن اور ووٹ کا مقصد عام طور پر صرف یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ رکن اسمبلی کے ذریعے کون کون سے کام کرائے جا سکتے ہیں اور کون کون سی سہولتیں اور مفادات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
  • جبکہ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ریاستی اداروں کو بھی اس سے غرض نہیں ہوتی کہ اسمبلیاں اپنا اصل کام کس طرح کر رہی ہیں اور نہ ہی ان کی طرف سے ارکان اسمبلی کو قانون سازی اور قومی مفادات کے حوالہ سے ضروری بریفنگ اور تربیت مہیا کرنے کا کوئی مستقل اہتمام موجود ہے ، چنانچہ ایسے لگتا ہے کہ دستوری اور قومی و دینی تقاضوں سے ارکان اسمبلی کی بیگانگی ان کے لیے بھی ناقابل قبول نہیں ہے۔

اس کا ایک حل یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جس طرح مختلف ملکوں میں اشیائے صرف کے خریداروں کے فورم ہوتے ہیں اور صارفین کی تنظیمیں ہوتی ہیں جو بازار میں اشیائے صرف کی قیمتوں اور اتار چڑھاؤ پر نظر رکھتی ہیں، بوقت ضرورت اس کے لیے آواز اٹھاتی ہیں اور متعلقہ محکموں کو توجہ دلاتی رہتی ہیں، اسی طرح ہر حلقۂ انتخاب میں ووٹروں کے بھی مختلف فورم وجود میں آنے چاہئیں جو اپنے حلقہ سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور حسب موقع اسے ضروری کاموں کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔ یہ کام ووٹروں کا کوئی بھی حلقہ کر سکتا ہے لیکن اگر علماء کرام اور دینی کارکن اس کے لیے وقت نکال سکیں تو ایسے معاملات میں دینی اور نظریاتی پہلوؤں کا رجحان غالب رہے گا۔ مگر اس کے لیے شرط ہے کہ اس محنت کو خالصتاً قومی دائرہ میں رکھا جائے اور اسے فرقہ وارانہ ترجیحات اور ذاتی یا گروہی مفادات میں ملوث نہ ہونے دیا جائے۔ ہمارے خیال میں اگر ہر حلقہ انتخاب میں کچھ حضرات آپس میں انڈر اسٹینڈنگ کرلیں کہ وہ باہمی مشاورت کے ساتھ اپنے رکن اسمبلی کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے اور علاقائی مسائل کے ساتھ ساتھ دینی اور قومی ضروریات کی طرف اسے توجہ دلاتے رہیں گے تو صورتحال میں خاصا فرق آسکتا ہے۔

قومی اور دینی اہمیت کے چند نمایاں امور کا اس کالم میں تذکرہ ہو چکا ہے اور اس کے لیے ہماری تجویز یہ ہے کہ یہ کام دو مرحلوں میں ہو سکتا ہے:

  • پہلے مرحلے میں الیکشن کے ہر امیدوار سے تحریری وعدہ لیا جائے کہ وہ ان امور کی پاسداری کا اہتمام کرے گا اور اس وعدہ کی بنیاد پر اس کی حمایت کا اعلان کیا جائے۔ یہ وعدہ ہر امیدوار سے اس کے ووٹر لے سکتے ہیں اور کسی بھی حلقہ میں کچھ ووٹروں کو تیار کر کے امیدوار سے اجتماعی طور پر بات کی جائے تو کوئی امیدوار بھی اسے نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ مگر اس کے لیے مقامی سطح پر محنت کرنا ہوگی جو زیادہ مشکل نہیں ہے۔
  • جبکہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ الیکشن کے بعد منتخب ہونے والے رکن اسمبلی کو ضرورت کے وقت اس وعدہ کی اس کے ووٹروں کی طرف سے یاددہانی کرائی جائے اور وعدہ کا پاس نہ کرنے والے رکن اسمبلی سے باز پرس کا ماحول بنایا جائے۔ یہ جمہوری اور قانونی طریقہ ہے جسے اخلاق و قانون کے دائرے میں کیا جائے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ووٹروں کا حق ہے کہ وہ جسے منتخب کر رہے ہیں اس کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور بوقت ضرورت اسے یاد دلانے کے ساتھ ساتھ وعدہ پورا نہ کرنے پر اس سے باز پرس کی کوئی معقول صورت بھی نکالیں۔

گزشتہ روز چند دوستوں نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فرمائش کی ہے کہ تجویز کے ساتھ تحریری وعدہ کا کوئی مناسب مضمون بھی پیش کر دیا جائے تاکہ جو حضرات ایسا کرنا چاہیں ان کے لیے آسانی ہو جائے۔ چنانچہ نمونہ کے طور پر ایک مضمون تجویز کیا جا رہا ہے جسے سامنے رکھ کر مقامی ماحول اور ضروریات کے مطابق تحریری وعدہ کا مضمون طے کیا جا سکتا ہے۔

بسم اللہ الرحمان الرحیم۔

میں مسمی _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ ولد _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ امیدوار قومی/صوبائی اسمبلی حلقہ نمبر _ _ _ _ _ _ اپنے ووٹروں سے وعدہ کرتا ہوں کہ منتخب ہونے کے بعد اپنے فرائض دستور کے مطابق سرانجام دینے، اپنے حلقہ کے مسائل و مشکلات حل کرانے اور علاقائی ترقی و بہبود کے لیے بھرپور محنت کروں گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ

  1. ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کا سدباب اور قومی خودمختاری و ملکی سالمیت کا تحفظ میری پہلی ترجیح ہوگی۔
  2. دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے تحفظ اور ان پر عملدرآمد کی جدوجہد کروں گا۔
  3. عقیدۂ ختم نبوت و ناموس رسالتؐ اور ناموس صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ کے تحفظ کی کوششوں کا پوری طرح ساتھ دوں گا۔
  4. سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ہر ممکن سعی کروں گا۔
  5. ناخواندگی و جہالت کے خاتمہ اور تعلیم و آگاہی کے فروغ، بالخصوص قرآن و سنت کے علوم کی ترویج کے لیے کوشاں رہوں گا۔
  6. عریانی و فحاشی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے سیلاب کی روک تھام اور اسلامی تہذیب و ثقافت نیز خاندانی نظام کے تحفظ و فروغ کے لیے کام کروں گا۔
  7. گروہی، لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ تعصبات کے خاتمہ اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے محنت کروں گا۔
  8. دینی اداروں اور شخصیات کی کردارکشی کے رجحان اور ان کے خلاف منفی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کروں گا۔

میں وعدہ کرتا ہوں کہ ان میں سے کسی معاملہ میں پارٹی پالیسی خدانخواستہ مختلف ہونے کی صورت میں بھی قومی و دینی تقاضوں کو ترجیح دوں گا۔

تحریری وعدہ کی یہ عبارت صرف نمونہ کے طور پر ہے تاکہ اسے دیکھ کر ہر علاقہ اور حلقہ کے حضرات اپنے حالات کے مطابق ’’وعدہ نامہ‘‘ تیار کر سکیں۔ ملک بھر کے احباب سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں بروقت متحرک ہوں اور کوشش کریں کہ کسی حلقہ کا کوئی امیدوار اس تحریری وعدہ کی سعادت سے محروم نہ رہ جائے۔