نسبتوں کا سفر

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ مئی ۲۰۲۱ء

چند روز قبل رمضان المبارک کے دوران ہی حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے خواب میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے ذاتی استعمال کی دو چیزیں مرحمت فرمائیں۔ تعبیر رویا کی ایک دو کتابوں کے متعلقہ حصوں پر نظر ڈالنے کے بعد تعبیر یہ سمجھ میں آئی کہ کسی سفر اور مہم جوئی کی طرف اشارہ ہے۔ رمضان المبارک کے دوران سفر سے حتی الوسع گریز کرتا ہوں اور عام طور پر اس کے تقاضوں پر معذرت ہی کر دیتا ہوں مگر خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے رمضان المبارک کے ماحول کے بارے میں ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ ایک آدھ دن اس ماحول میں گزرنے کا موقع مل جائے تو برکت و سعادت کی بات ہو گی۔ حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد دامت برکاتہم سے مجمل سا وعدہ بھی چلا آ رہا تھا۔

منڈھیالہ وڑائچ گوجرانوالہ کے مولانا قاری سمیع الحق خانقاہ سراجیہ کے خاص خدام میں سے ہیں، ان کے مشورہ سے اس بار پروگرام کی ترتیب بن گئی اور انہوں نے اپنی گاڑی پر آنے جانے کا نظم بنا لیا۔ پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات حافظ امجد محمود معاویہ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا عمر حیات شریک سفر تھے۔ سفر کے آغاز پر ذہن میں پروگرام صرف یہی تھا کہ خانقاہ سراجیہ میں ایک دو روز گزار کر واپسی کریں گے مگر اصل فیصلے تو کبھی انسان کے بس میں نہیں رہے، چنانچہ یہ سفر باقاعدہ ایک تحریکی مہم جوئی کی صورت اختیار کر گیا اور چند روز قبل والے خواب کی نقد تعبیر نے ذہن و قلب دونوں کو سرشار کر دیا۔ ہم اٹھارہ رمضان المبارک کو نماز فجر کے بعد الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ سے روانہ ہوئے اور اکیسویں شب کو رات ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ پہنچ گئے جبکہ عام معمول سے ہٹ کر ایک بات یہ بھی ہوئی کہ ہمیں اس سفر کے لیے رخصت عزیزم ڈاکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ نے کیا اور واپسی پر بھی خیرمقدم کے لیے وہی دروازے پر کھڑا تھا۔

ہمارا پہلا پڑاؤ قائد آباد میں تھا جہاں مرکز دارالحبیب میں نماز ظہر کے بعد ایک نشست کا اہتمام تھا، رمضان المبارک اور قرآن کریم کے حوالہ سے گفتگو کے بعد جامعہ قاسم العلوم میں مقامی علماء کرام کے ساتھ نئے اوقاف قوانین اور تحفظ ناموس رسالتؐ کے بارے میں مشاورت کی، وہاں سے واں بچھراں رئیس الموحدین حضرت مولانا حسین علی قدس اللہ سرہ العزیز کی مسجد میں حاضر ہوئے جو والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے استاد گرامی اور شیخ و مرشد تھے۔ قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد حضرت کے پڑپوتے محترم میاں محمد عرفان سے ملاقات اور مختصر گفتگو ہوئی اور عصر تک ہم خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف پہنچ گئے۔ حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد کی معیت میں دو روز تک سلسلہ نقشبندیہ کے اوراد و معمولات میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ رات کو تراویح میں قرآن کریم کے آخری چھ پارے ’’ورتل القرآن ترتیلًا‘‘ کے ماحول میں سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ خانقاہ شریف میں رمضان المبارک کے دوران تراویح میں ہر عشرہ میں قرآن کریم مکمل کیا جاتا ہے، روزانہ کم و بیش تین ساڑھے تین گھنٹے اسی بابرکت ماحول میں گزرتے ہیں اور برکتوں و سعادتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

بزرگان کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی قبور پر فاتحہ خوانی کی سعادت کے ساتھ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی زیارت کا شرف بھی مل گیا جو خانقاہ سراجیہ میں بڑے ادب و احترام کے ساتھ محفوظ رکھا ہوا ہے اور رمضان المبارک میں سعادت مندوں کو زیارت کروائی جاتی ہے۔ محترم حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد مدظلہ کے ساتھ متعدد ملاقاتوں اور مختلف امور پر تبادلہ خیالات نے سفر کی چاشنی میں اضافہ کیا۔ خواجہ صاحب محترم شدید علالت کے بعد صحتیاب ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں اور دینی و روحانی ماحول میں اپنے بزرگوں کی روایات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق دیں، آمین۔

پیر کے روز ہم نماز فجر کے بعد کے معمولات میں شریک ہو کر جوہرآباد کی طرف روانہ ہوئے جہاں مولانا حافظ فیصل احمد اپنے رفقاء سمیت ہمارے منتظر تھے۔ حافظ فیصل احمد اور ان کے بھائی مفتی حسین احمد جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فضلاء میں سے ہیں، ان کے علاوہ مولانا جنید احمد اور جامعہ کے بعض دیگر فضلاء سے بھی ملاقات ہوئی۔ جامع مسجد نمرہ میں ظہر کے بعد مختلف طبقات کے حضرات سے متعلقہ مسائل پر اجتماعی گفتگو کا موقع ملا اور رمضان المبارک و قرآن کریم کے بعض پہلوؤں کے علاوہ کرونا کی تباہ کاریوں پر اجتماعی توبہ و استغفار کی ضرورت پر زور دیا جبکہ تحفظ ناموس رسالتؐ اور تحفظ مساجد و مدارس کے حوالہ سے قدرے تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر میں نے جوہر آباد والوں کو یہ یاد دلانا ضروری سمجھا کہ قیام پاکستان کے بعد کراچی ہمارا وفاقی دارالحکومت تھا جسے دفاعی اور بعض دیگر ضروریات کے حوالہ سے مناسب نہ سمجھتے ہوئے خوشاب کے علاقہ کو وفاقی دارالحکومت کے لیے چنا گیا اور اس کے لیے یہاں عمارات و مراکز کی تعمیر کا آغاز بھی ہو گیا۔ قائد آباد اور جوہر آباد اسی منصوبہ بندی کے تحت نئے شہر کے طور پر آباد کیے گئے۔ قائد آباد کا نام قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے حوالہ سے اور جوہر آباد رئیس الاحرار حضرت مولانا محمد علی جوہرؒ کی یاد میں تجویز کیا گیا۔ مولانا جوہرؒ کی قومی خدمات اور جذبۂ حریت کا مختصر تذکرہ کیا اور بتایا کہ تحریک آزادی میں ان کی مخلصانہ قیادت اور قربانیوں کا اللہ رب العزت کی طرف سے انہیں یہ انعام ملا کہ وہ بیت المقدس کے الخلیل قبرستان میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قدموں میں مدفون عالم برزخ کی بہاروں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ نئے وفاقی دارالحکومت کے طور پر اس علاقے میں عمارتوں اور مراکز کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا کہ دفاعی نقطۂ نظر سے راولپنڈی کے نواح کو دارالحکومت کے لیے زیادہ موزوں سمجھا گیا اور جنرل محمد ایوب خان مرحوم کے دور صدارت میں اسلام آباد کے نام سے موجودہ وفاقی دارالحکومت وجود میں آگیا، اللہ تعالیٰ اسے مسلسل ترقیات و برکات کے ساتھ حقیقی طور پر اسلام آباد کی حیثیت دے، آمین یا رب العالمین۔

جوہر آباد سے ہم نے میانہ گوندل جانا تھا جہاں جمعیۃ علماء اسلام منڈی بہاء الدین کے ضلعی امیر مولانا قاری عبد الواحد نے دعوت افطار پر علاقہ کے علماء کرام سے اجتماعی ملاقات کا اہتمام کر رکھا تھا، مگر راستہ میں پہلے سے کسی پروگرام کے بغیر ذہن کا رخ ڈھڈیاں شریف کی خانقاہ قادریہ کی طرف مڑ گیا جہاں ہمارے اکابر میں سے عظیم بزرگ حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ اور ان کے ساتھ حضرت مولانا عبد الوحید رائے پوریؒ اور حضرت پیر جی مولانا عبد الجلیل رائے پوریؒ آرام فرما ہیں، ہم اس روحانی مرکز میں جا پہنچے، بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے بعد صاحبزادہ مظفر رائے پوری سے ملاقات کی اور مداح رسولؐ رانا عبد الرؤف خان کی بیمار پرسی کر کے اگلی منزل کی طرف چل پڑے۔ میانہ گوندل میں مولانا قاری عبد الواحد کی دعوت پر سرکردہ علماء کرام جمع تھے، افطاری ان کے ساتھ کی اور ان سے دینی جدوجہد کے تقاضوں پر مختصر گفتگو کا موقع بھی مل گیا۔

اس طرح یہ سہ روزہ حضرت مولانا حسین علیؒ، حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، حضرت مولانا محمد علی جوہرؒ، اور حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کی روحانی و فکری نسبتوں کے ماحول میں بسر ہوا جس کے پیچھے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صدرؒ کے ساتھ چند روز قبل کی خواب میں ملاقات بھی جھلک رہی تھی، اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہمیں ان کی نسبتوں پر استقامت اور برکات و ثمرات کے تسلسل سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
Flag Counter