مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ

اختلاف رائے اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

رائے کا اختلاف فطری بات ہے، جہاں علم ہو گا اور عقل ہو گی وہاں اختلاف بھی ہو گا۔ اختلاف کا ہونا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اختلاف کا نہ ہونا فطرت کے منافی ہے۔ ہماری امت کے دو سب سے بڑے بزرگوں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کے درمیان بھی اختلاف ہوتا رہا ہے جو ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے ان دو بڑے بزرگوں کے درمیان متعدد امور میں اختلافات کا ذکر روایات میں ملتا ہے جن میں سے صرف تین واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو خلافت صدیق اکبرؓ کے مختصر دور میں پیش آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۲۱ء

حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت اور اہم کارنامے

سیدنا صدیق اکبرؓ کی حیات مبارکہ، مقام و فضیلت اور خلافت و حکومت کے حوالہ سے گفتگو کے بیسیوں پہلو ہیں اور ہر ایک میں ہمارے لیے سبق اور راہنمائی موجود ہے، مگر آج حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے عنوان سے تین چار سوالات کا مختصر جائزہ لینا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ خلافت کسے کہتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ کس نے بنایا تھا؟ تیسرا یہ کہ ان کی خلافت کی نظریاتی بنیاد کیا تھی؟ اور چوتھا یہ کہ بحیثیت خلیفہ انہوں نے کون سے اہم کارنامے سرانجام دیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۲۱ء

غیر مسلموں سے معاہدہ اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

سیدنا صدیق اکبرؓ کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کا واقعہ پوری اہمیت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی ’’اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ‘‘ کے حوالہ سے اس کا تذکرہ کیا ہے جو بلاشبہ ہمارے لیے ایمان کی تازگی کے ساتھ ساتھ زندگی کے بیسیوں معاملات میں راہنمائی کے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہجرت کا ایک اور سفر بھی ہمارے لیے اسی طرح سبق آموز ہے مگر عام طور مجالس میں اس کا تذکرہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۲۱ء

سیدنا صدیق اکبرؓ اور خلافت راشدہ

حضرت ابوبکر صدیقؓ سب سے افضل صحابی ہیں اس لیے جناب نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں ہی ان کے حوالہ سے یہ ماحول بن گیا تھا کہ کم و بیش سبھی حضرات کا یہ اندازہ تھا کہ آنحضرتؐ کی جانشینی کے منصب پر وہی فائز ہوں گے، اس پر بہت سی شہادتیں احادیث و تاریخ میں موجود ہیں جن میں سے تین چار کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ احد کی جنگ میں جب مسلمانوں کے لشکر میں افراتفری مچی جس کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور ایک مرحلہ میں یہ مشہور ہو گیا کہ رسول اللہ شہید ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۲۱ء

رسول اکرمؐ کا منافقین کے ساتھ طرز عمل

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسے اپنا مرکز بنایا تو یہود اور مشرکین کے مختلف قبائل کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک ایسے طبقہ سے بھی واسطہ پڑا جو کلمہ پڑھ کر بظاہر مسلمانوں میں شامل ہوگیا تھا لیکن دل سے مسلمان نہیں ہوا تھا، اور دل سے اس کی تمام تر ہمدردیاں اور معاونتیں کفار کے ساتھ تھیں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر موجود ہے۔ غزوہ احد میں یہ لوگ تین سو کی تعداد میں عبد اللہ بن ابی کی سرکردگی میں میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۱۵ء

قومی بدعہدی پر اجتماعی توبہ و استغفار کی ضرورت

غزوۂ تبوک کے موقع پر منافقین نے جہاد میں شرکت سے گریز کرنے اور پیچھے رہ جانے کے ساتھ ساتھ جو مختلف حرکتیں کی تھیں سورہ التوبہ میں انہیں ایک ایک کر کے بیان کیا گیا ہے، اور ان آیات میں اسی تسلسل میں ایک اہم بات بیان فرمائی گئی ہے۔ بعض مفسرین کرامؒ نے ان آیات کے ضمن میں ثعلبہ بن حاطب نامی ایک شخص کا واقعہ بیان کیا ہے اور محققین نے اس کے ساتھ یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ثعلبہ بن حاطبؓ نامی معروف بزرگ بدری صحابی ہیں اور بدری صحابہؓ میں سے کسی بزرگ کے ساتھ نفاق کی نسبت درست نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اگست ۲۰۱۱ء

مانع حمل تدابیر اور اسلام

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ شادی، نکاح کی بات ہو رہی ہے۔ اور اس بات کا ذکر ہو رہا تھا کہ مانع حمل تدابیر اختیار کرنا، اس کے بارے میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے۔ میاں بیوی کے، مرد و عورت کے ملاپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور بچے کی پیدائش سے بسا اوقات مرد و عورت بچتے ہیں کہ اپنا تقاضا تو پورا کریں لیکن بچہ نہ پیدا ہو، حمل نہ ہو۔ ہر زمانے میں یہ خواہش رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۰ء

مرد و عورت کا میل جول

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کسی عورت کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ یعنی شرعی مسافت کا سفر کرے مگر اس کے ساتھ محرم ہو۔ محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ تین دن سے مراد شرعی مسافت ہے جو آج کل ۴۸ میل یا ۸۰ کلو میٹر کے لگ بھگ بنتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ عورت اپنے گھر میں بھی کسی مرد کے ساتھ تنہا نہ ہو جبکہ ساتھ کوئی محرم نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۰ء