حاجی عبد المتین چوہان مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری مارچ ۱۹۹۶ء

ہمارے ایک پرانے دوست اور رفیق کار حاجی عبد المتین چوہان گزشتہ ماہ اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے جماعتی بزرگ حاجی محمد ابراہیم صاحب عرف حاجی کالے خان کے فرزند تھے۔ حاجی کالے خان جمعیۃ علمائے اسلام اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے قدیمی معاونین میں سے ہیں اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے قریبی رفقاء میں شمار ہوتے ہیں۔

عبد المتین مرحوم کے ساتھ راقم الحروف کا تعلق حفظ قرآن کریم کے دور سے تھا جب ہم دونوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں استاذ محترم حضرت قاری محمد یاسین صاحب مرحوم سے پڑھتے تھے۔ یہ غالباً سن ۱۹۵۸ء یا ۱۹۵۹ء کی بات ہے۔ عبد المتین مرحوم قرآن کریم یاد نہ کر سکے لیکن علمائے کرام اور جماعتی امور کے ساتھ ان کا تعلق آخر دم تک قائم رہا۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، اور حضرت سید نفیس شاہ صاحب کے ساتھ عقیدت و محبت کا خصوصی تعلق تھا اور جمعیۃ علمائے اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کاموں میں بطور خاص دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا کرتے تھے۔ طباعت و اشاعت کا خصوصی ذوق تھا، پوسٹرز، اسٹیکرز اور کارڈز کی اچھی سے اچھی طباعت کی کوشش کرتے اور ان کاموں پر اچھی خاصی رقم صرف کر دیتے۔

مجلس آرائی بھی عبد المتین مرحوم کا محبوب مشغلہ تھا، نجی محفلوں کا اہتمام بھی کرتے جہاں دوستوں میں گپ شپ ہوتی، بے تکلفی ہوتی اور ہنسی مزاح میں زمانے کی ستم ظریفیوں اور پریشانیوں سے تھوڑی دیر کے لیے نجات مل جاتی، جبکہ عمومی محافل کے لیے بھی کوشاں رہتے۔ ابھی وفات سے چند روز قبل مدرسہ اشر ف العلوم گوجرانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل قاری محمد یوسف عثمانی کے ساتھ مل کر ایک خوبصورت محفل حمد و نعت کا اہتمام کیا جس کے تذکرے خاصی دیر تک گوجرانوالہ کی محفلوں میں ہوتے رہیں گے۔ طبیعت ہنس مکھ تھی، ظرافت اور مزاح کے ہتھیاروں سے ہر وقت مسلح رہتے تھے، دوستوں کو نشانہ بنا کر لطف لیتے اور خود نشانہ بن کر محظوظ ہوتے، مزاج میں حد درجہ بے تکلفی تھی۔

بازار سید نگری گوجرانوالہ میں البدر جنرل اسٹور ان کی دکان ہے، کبھی کبھار مسائل و مصائب کے ہجوم سے طبیعت زیادہ پریشان ہوتی تو دکان پر ان کے پاس چلا جاتا اور چائے کی پیالی کے ساتھ گپ شپ اور ہنسی مزاح کے ایک چھوٹے سے دور میں طبیعت کی ساری پریشانی کافور ہو جاتی۔ اب تو دوستوں کی وہ محفل ہی اجڑ گئی ہے جہاں کبھی کبھار زمانے کی پریشانیوں سے بھاگ کر پناہ لے لیا کرتے تھے۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور حاجی کالے خان صاحب اور ان کے خاندان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔