مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب اور شمس العلماء حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس اللہ سرہما کی جدائی کا غم ابھی مندمل نہیں ہو پایا تھا کہ علمی دنیا کو ایک اور محقق عالم، وسیع المطالعہ مصنف اور نکتہ رس خطیب کی مفارقت کا غم بھی اٹھانا پڑ گیا ہے۔ یہ شخصیت حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ کی ہے جن کے بارے میں گزشتہ روز اخبارات میں غیر نمایاں طور پر ایک کالمی خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کا ملتان میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجون۔

نجمہ محبوب اور وحید مراد کی موت اور آخری تقریبات کے ایک ایک لمحہ کی تفصیلات شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کرنے والے اخبارات کے نزدیک اس خبر کی اہمیت یقیناً اتنی نہیں ہوگی۔ لیکن علم و تحقیق، جذبہ و خلوص اور ایمان و معرفت سے تعلق رکھنے والی دنیا کے لیے مولانا سید نورالحسن شاہ بخاریؒ کی وفات جس قدر صدمہ اور علمی و دینی نقصان کا باعث ہے اس کا اندازہ دینی و علمی شعور سے بہرہ ور افراد ہی کر سکتے ہیں۔

مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زبان و قلم اور ذہانت و فراست کی دولت سے مالا مال کیا تھا اور انہوں نے ان خداداد صلاحیتوں کے عملی مظاہرہ کے لیے جس میدان کا انتخاب کیا وہ بہت کم خوش نصیبوں کے حصہ میں آتا ہے۔ مرحوم نے مذہب اہل سنت کی ترویج و اشاعت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت و ناموس کے تحفظ و دفاع کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور پھر زبان و قلم دونوں ہتھیاروں کے ساتھ اس میدان میں عمر بھر سینہ سپر رہے۔ ان کی خطابت آج کے معیار پر اگرچہ پوری نہ اترتی تھی کہ آواز، لے اور تھرکنے کے فن سے نا آشنا تھے۔ مگر معلومات کی وسعت، نکتہ رسی اور تحقیق و تجزیہ کے اعتبار سے ان کی تقریر فن خطابت و تکلم کا شاہ پارہ ہوتی تھی- جن لوگوں نے مرحوم کو جوانی کے زمانہ میں تبلیغی اجتماعات اور مدارس کے سالانہ جلسوں میں سنا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مرحوم صحابہؓ دشمنی کے نوکیلے تیروں کو تحقیق و تجزیہ کی مضبوط ڈھال پر روک کر جب نکتوں کے جوابی تیروں کی بارش کرتے تھے تو صحابہؓ دشمنی کی صفوں میں کیسی کھلبلی مچ جایا کرتی تھی۔ مولانا سید نور الحسن شاہ صاحب بخاریؒ نے دفاع صحابہؓ کے مقدس مشن میں جہاں زبان کی قوت کو بے دریغ استعمال کیا وہاں قلم کی بھرپور صلاحیتیں بھی اس میدان میں صرف کر دیں۔ ان کی ضخیم علمی و تحقیقی کتابیں اور مختلف جرائد میں ان کے مضامین و مقالات ان کے زور بیان اور قلم کی کاٹ پر شاہد عدل ہیں۔

مولانا مرحوم کی زندگی کے اہم کارناموں میں مذہب اہل سنت کی تقریر و تصنیفی خدمات کے علاوہ تنظیم ’’اہل السنۃ والجماعۃ پاکستان‘‘ کا قیام و تنظیم بھی ہے۔ انہوں نے حضرت علامہ دوست محمد صاحب قریشی نور اللہ مرقدہ اور حضرت مولانا عبد الستار تونسوی کے ساتھ مل کر رفض و بدعت کی روک تھام اور اہل سنت کی بیداری کے لیے تنظیم اہل السنۃ کے پلیٹ فارم پر جو شبانہ روز محنت کی ہے وہ پاکستان کی دینی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ مگر افسوس کہ آج تنظیم اہل السنۃ والجماعۃ بھی حضرت مولانا عبد الستار تونسوی مدظلہ العالی کی شخصیت کا نام ہی رہ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں تادیر سلامت رکھیں اور اپنے مرحوم رفقاء کے مشن کی تکمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ آج ہم سے رخصت ہوئے ہیں اور اپنے خلوص و للہیت، علم و فضل اور جہد و عمل کی انمٹ روایات چھوڑ گئے ہیں، وہ روایات ہی ان کا اصل ورثہ ہیں اور اس ورثہ کا تحفظ بعد والوں پر ان کا سب سے بڑا حق ہے۔ مشاہیر کی موت پر رسماً یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی موت ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارے کی موت ہے لیکن مولانا سید نور الحسن بخاریؒ نے تحقیق و تصنیف کی دنیا میں تنہا جتنا کام کیا ہے اور جس استقامت و حوصلہ کے ساتھ کیا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات حقیقتاً صادق آتی ہے کہ ان کی موت فی الواقع ایک فرد کی نہیں بلکہ ادارے کی موت ہے۔

حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ صاحب درخواستی، قائد جمعیۃ حضرت مولانا عبید اللہ انور اور جمعیۃ کے دیگر راہنماؤں مولانا محمد اجمل خان صاحب، علامہ خالد محمود، مولانا غلام ربانی، مولانا محمد رمضان اور راقم الحروف نے مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی موت کو علمی و دینی حلقوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان، رفقاء اور متوسلین کو صبر جمیل کی ارزانی فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ ادارہ ہفت روزہ ترجمان اسلام اس صدمہ جانکاہ میں حضرت العلام مولانا عبد الستار تونسوی، تنظیم اہل السنۃ کے جملہ ارکان اور مرحوم کے تلامذہ، رفقاء اور اہل خاندان کے غم میں شریک ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔