قرآن کریم کا معجزہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جولائی ۱۹۹۹ء
اصل عنوان: 
قرآن و سنت کی تعلیمات اور ہمارا اجتماعی طرز عمل

۴ جون ۱۹۹۹ء کو شمالی لندن کی مرکزی جامع مسجد (فنس بری پارک) میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں نے سورۃ العنکبوت کی دو آیات تلاوت کی ہیں جو اکیسویں پارے کے پہلے رکوع کی آخری آیتیں ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ مشرکین مکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر و بیشتر نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرمؐ کو سینکڑوں معجزات عطا فرمائے ہیں جن میں سے بعض معجزات ایسے ہیں جو مشرکین کی فرمائش پر دیے گئے اور ایسے معجزات بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کسی فرمائش کے بغیر اپنی حکمت سے عطا فرمائے:

  • سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ایک کافر نے بند مٹھی آنحضرتؐ کے سامنے کر کے کہا کہ اگر آپ یہ بتا دیں کہ اس بند مٹھی میں کیا ہے تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر یہ خود بتا دیں تو؟ اس نے کہا کہ یہ تو اور بھی اچھا ہے۔ چنانچہ اس کی مٹھی میں جو کنکریاں تھیں وہ نبی کریمؐ کے ارشاد پر خود بول اٹھیں اور بلند آواز سے کلمۂ شہادت پڑھا۔ یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا جو ایک کافر کی فرمائش پر ظاہر ہوا۔
  • اسی طرح شق قمر کا معجزہ ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک رات مطلع صاف تھا، چاند مکمل تھا اور جناب رسول اکرمؐ چاند کی روشنی میں کھلے آسمان تلے تشریف فرما تھے۔ مکہ کے چند سرکردہ حضرات آئے اور کہا کہ ہم آپ پر ایمان لانے کے لیے تیار ہیں مگر شرط یہ ہے کہ یہ چاند آپ کی سچائی کی گواہی دینے کے لیے دو ٹکڑے ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ڈالی کہ آپ اشارہ کریں، آپؐ نے انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا تو چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ اب وہ کافر سردار ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، آنکھیں مل رہے تھے اور بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ رہے تھے، مگر ایمان مقدر میں نہیں تھا اس لیے جب یہ یقین ہوگیا کہ چاند واقعی دو ٹکڑے ہے جو صاف نظر آرہا ہے تو کہنے لگے کہ بڑے بڑے جادوگر دیکھے ہیں مگر کسی کا جادو آسمان پر نہیں چلتا اور یہ تو اتنا بڑا جادوگر ہے کہ اس کا جادو آسمان پر بھی چلتا ہے۔

تو اللہ رب العزت نے جناب رسول اکرمؐ کو کفار مکہ کی فرمائش پر بھی متعدد معجزات عطا فرمائے مگر اس کے باوجود ان کے مطالبات کا سلسلہ جاری رہتا تھا اور طرح طرح کے معجزات کی فرمائش کرتے رہتے تھے جن میں سے بعض فرمائشوں کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی ہے:

  • مثلاً ایک بار انہوں نے تقاضا کیا کہ اللہ تعالیٰ خود ہمارے سامنے آکر آپؐ کی نبوت کی شہادت دے یا کم از کم اللہ تعالیٰ کے فرشتے آکر ہمیں بتائیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔
  • ایک موقع پر یہ تقاضا کیا کہ اگر آپ رسولِ خدا ہیں تو آپ کے آگے آگے فرشتوں کو ہونا چاہیے جو پروٹوکول کی ڈیوٹی دیں اور لوگوں کو خبردار کریں کہ اللہ کے نبی آرہے ہیں۔
  • ایک تقاضا یہ تھا کہ اگر آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو مکہ مکرمہ میں آپ کا سونے کا محل ہونا چاہیے، انگور اور کھجور کا باغ ہونا چاہیے اور نہریں اور چشمے ہونے چاہئیں تاکہ لوگوں کو دور سے پتہ چلے کہ یہ پیغمبر کا ڈیرہ ہے۔
  • اسی طرح کفار مکہ کی ایک یہ فرمائش بھی قرآن کریم نے بیان کی ہے کہ آپ یہ کتاب جو تھوڑی تھوڑی کر کے ہمیں سناتے ہیں اسے ہم نہیں مانتے۔ ہم تو اس کتاب کو مانیں گے کہ آپ ہمارے سامنے خالی ہاتھ آسمان کی طرف چڑھ جائیں اور پھر وہاں سے واپس آئیں تو آپ کے ہاتھ میں کتاب ہو، اس کتاب پر ہم ایمان لائیں گے۔

الغرض اس طرح کے بے تکے سوالات اور تقاضے مشرکینِ مکہ آنحضرتؐ سے کرتے رہتے تھے۔ سورۃ العنکبوت کی جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے انہی سوالات کا جواب دیتے ہوئے دو باتیں فرمائی ہیں۔ پہلے مشرکین کا سوال نقل کیا ہے کہ ’’وہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد پر ان کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اترتیں؟‘‘ اگرچہ نشانیاں تو بہت سی نازل ہوئیں جو مشرکین نے بھی دیکھیں مگر ان کا مطلب تھا کہ جو نشانیاں ہم کہتے ہیں وہ کیوں پوری نہیں ہوتیں؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے پہلی بات یہ فرمائی کہ ’’قل انما الآیات عند اللہ‘‘ اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ یعنی نشانیاں اور معجزات دینا اس کے اختیار میں ہے اور اس کی حکمت بھی وہی جانتا ہے کہ کون سی نشانیاں دینی ہیں اور کونسی نہیں، میرا کام نشانیاں پیش کرنا نہیں اور نہ ہی یہ میری ڈیوٹی میں شامل ہے۔ ’’انما انا نذیر مبین‘‘ میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ لوگوں کو خدا کے عذاب سے ڈراؤں اور اس کے احکام کو کھول کر بیان کر دوں۔ نشانیاں اور معجزات دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، چاہے دے اور چاہے نہ دے اور اس کی حکمت بھی وہی جانتا ہے۔

اب آپ خود غور کر لیجئے کہ چاند کا دو ٹکڑے کرنا بھی کفار مکہ کا مطالبہ تھا اور مکہ مکرمہ میں سونے کا ایک محل بھی انہی کا تقاضا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کا چاند دو ٹکڑے کر دیا مگر مکہ مکرمہ میں سونے کا محل نہیں دیا حالانکہ ہمارے حساب سے وہ اس سے زیادہ مشکل نظر آتا ہے، اگرچہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہ وہ مشکل ہے اور نہ یہ مشکل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ مکہ مکرمہ میں سونے کا ایک محل بنا دیتے تو کون سی مشکل بات تھی مگر ایسا نہیں کیا اور اسی میں حکمت تھی۔ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں ہزاروں حکمتیں ہوتی ہیں، کوئی حکمت ہماری سمجھ میں بھی آجاتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلہ کی ہر حکمت ہم سمجھ جائیں، البتہ یہ ایمان رکھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم یا کام حکمتوں سے خالی نہیں ہوتا۔ حوالہ اس وقت ذہن میں نہیں ہے لیکن حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے حوالہ سے کسی جگہ پڑھا تھا کہ مکہ مکرمہ میں جناب نبی اکرمؐ کو سونے کا محل نہ دینے کی ایک حکمت ہماری سمجھ میں بھی آتی ہے کہ اگر یہ سونے کا محل بن جاتا تو قیامت تک کے لیے مخالفین کو ایک ہتھیار مل جاتا کہ جتنے لوگ بھی آنحضرتؐ پر ایمان لائے وہ ان کی سچائی اور اسلام کی حقانیت کی وجہ سے نہیں بلکہ سونے کا محل دیکھ کر ایمان لائے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آسمان کا چاند تو مشرکین مکہ کی فرمائش پر دو ٹکڑے کر دیا مگر مکہ مکرمہ میں سونے کا ایک محل بنا کر نہیں دیا۔

مکہ مکرمہ کے کفار کے اس سوال کے جواب میں دوسری بات اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی کہ ’’کیا ان کو یہ بات کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے جو ان پر تلاوت کی جاتی ہے، اس کتاب میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔‘‘ گویا اللہ رب العزت نے یہ فرمایا کہ قرآن کریم جیسے عظیم معجزے اور نشانی کے بعد یہ اور کس معجزہ کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ ظاہر بات ہے کہ ایک بہت بڑی بات سامنے آجانے کے بعد چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے پڑنا عجیب سا لگتا ہے اور بے وقوفی معلوم ہوتی ہے اور قرآن کریم میں سوال کے انداز میں مشرکین کہ کی اسی بے وقوفی کا ذکر کیا گیا ہے۔

قرآن کریم جناب رسول اکرمؐ کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے اور قیامت تک زندہ رہنے والا معجزہ ہے۔ باقی بہت سے معجزے وقتی تھے جن پر ہمارا ایمان ہے۔ مثلاً ہم نے چاند کو دو ٹکڑے نہیں دیکھا مگر ہمارا اس پر ایمان ہے، یا ہم میں سے کسی نے آپؐ کی مبارک انگلیوں سے پانی کا چشمہ پھوٹتے نہیں دیکھا مگر ہمارا ایمان ہے، ہم نے آپؐ کی برکت سے چند افراد کا کھانا سینکڑوں حضرات کو سیر ہو کر کھاتے نہیں دیکھا مگر ہمارا ایمان ہے۔ اسی طرح اور معجزات ہیں جو ہم نے دیکھے نہیں مگر ان میں سے جو بھی صحیح روایات کے ساتھ ثابت ہیں ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ البتہ قرآن کریم ایک ایسا معجزہ ہے جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، قرآن کریم کو دیکھ بھی رہے ہیں اور اس کے اعجاز کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں اور قیامت تک لوگ اس زندہ معجزہ کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے رہیں گے۔

قرآن کریم کا ایک اعجاز ہے کہ یہ سینوں میں محفوظ ہو جاتا ہے اور پھر محفوظ رہتا بھی ہے۔ دنیا میں صرف یہی ایک کتاب ہے جس کے حافظ لاکھوں کی تعداد میں دنیا میں ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ یہ قرآن کریم کی خصوصیت ہے جس کا ذکر خود قرآن کریم نے سورۃ العنکبوت کی مذکورہ آیات سے کچھ پہلے کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اہل علم کے سینوں میں محفوظ رہتی ہیں ’’فی صدور الذین اوتوا العلم‘‘۔ اس پر حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ نے بڑی دلچسپ بات لکھی ہے، فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی اصل جگہ سینہ ہے جبکہ کتابت امر زائد ہے۔ یعنی قرآن کریم کا اصل مقام یہ ہے کہ اسے سینے میں محفوظ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے اسے دوسرے اسباب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو بے نیاز ذات ہے اس لیے اس کا کلام بھی بے نیاز ہے اور ظاہری اسباب کا محتاج نہیں۔ آج دنیا میں کاغذ، قلم، سیاہی، ڈسک، کیسٹ، سی ڈی اور اس طرح کے اسباب ختم ہو جائیں اور ان کا وجود باقی نہ رہے تو دنیا کی ہر کتاب ختم ہو جائے گی، ہر تحریر اور کلام فنا ہو جائے گا مگر قرآن کریم پھر بھی موجود رہے گا جو ان اسباب سے بے نیاز ہے اور لاکھوں اہل ایمان کے سینوں میں محفوظ ہے۔

اسی طرح قرآن کریم کے اعجاز کا ایک اور پہلو بھی دیکھ لیں۔ دنیا میں لاکھوں کتابیں شائع ہوتی رہتی ہیں مگر کسی کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوتا ہے تو وہ پہلے سے مختلف ہوتا ہے، تیسرے ایڈیشن میں اور زیادہ فرق ہو جاتا ہے۔ مگر قرآن کریم کے جو چند نسخے سب سے پہلے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تحریر کیے گئے ان میں سے دو نسخے اصلی حالت میں آج بھی موجود ہیں۔ ایک ترکی میں ہے جو استنبول کے توپ کاپی میوزیم میں ہے اور دوسرا یہاں لندن کی انڈیا آفس لائبریری میں ہے۔ اس لندن والے نسخہ کی میں نے بھی زیارت کی ہے جس کے آخر میں لکھا ہے ’’کتبہ عثمان بن عفان‘‘ کہ اس قرآن کریم کو حضرت عثمانؓ نے لکھا ہے۔ اس پر بعض عثمانی، صفوی اور مغل حکمرانوں کی مہریں بھی ہیں جن کے پاس باری باری یہ قرآن کریم رہا ہے اور پھر مغل دور کے اختتام پر انگریزوں نے وہاں سے لندن منتقل کر دیا تھا۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ چودہ سو سال قبل لکھے جانے والے اصل نسخے موجود ہیں اور آج مراکش سے انڈونیشیا تک کسی مسلم مطبع کا چھپا ہوا قرآن کریم لے کر تقابل کر لیں آپ کو (عبارت کے اعتبار سے) کوئی فرق نہیں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے اسی اعجاز کا ذکر کر رہے ہیں اور مشرکین مکہ سے پوچھ رہے ہیں کہ اتنے بڑے معجزہ کے بعد اور کون سی نشانی مانگتے ہو؟

ان آیات کریمہ کے بارے میں ایک روایت بھی آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں جو امام سیوطیؒ نے مسند دارمی کے حوالے سے ’’لباب النقول فی اسباب النزول‘‘ میں نقل کی ہے کہ مدینہ منورہ میں جہاں مسلمانوں کے ساتھ یہودی اور بت پرست بھی رہتے تھے اور مخلوط معاشرہ اور شہر داری تھی اس لیے سب ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے، خوشی غمی کی محفلوں میں اکٹھے ہوتے اور ایک دوسرے کی باتیں بھی سنتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ صحابہ کرامؓ یہودیوں سے پرانے دور کی اور انبیاء سابقینؑ کی کوئی بات سنتے تو آپس میں بھی اس پر بحث و گفتگو کرتے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ بعض صحابہ کرامؓ کو اونٹ کے کولہے کی ایک ہڈی ملی جس پر تورات کے کچھ احکام درج تھے۔ اس زمانہ میں کاغذ عام نہیں ہوتا تھا اور زیادہ تر ہڈیاں، چوڑے پتھر، بڑے پتے اور درخت کی چھال وغیرہ لکھنے پڑھنے کے کام آتے تھے۔ اونٹ کے کولہے کی ہڈی کو اس دور کا تختہ سیاہ سمجھ لیں۔ وہ حضرات اسے اٹھا کر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے، خیال ہوگا کہ حضورؐ خوش ہوں گے مگر آپؐ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور مسند دارمی کی روایت کے مطابق ارشاد فرمایا کہ ’’کفی بقوم ضلالۃ ان یرغبوا عما جاء بہ نبیھم الی ما جاء بہ غیرہ الی غیرھم او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ یہ روایت امام ابن جریرؒ نے تفسیر طبری میں بھی نقل کی ہے اور اس ارشاد نبویؐ کا معنیٰ یہ ہے کہ کسی قوم کے گمراہ ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی ہدایات و تعلیمات کی بجائے دوسروں کی تعلیمات کی طرف توجہ دینا شروع کر دے۔ اس کا محاورہ کا ترجمہ میں یوں کرتا ہوں کہ جب کوئی امت اپنے پیغمبر کی تعلیمات کے ہوتے ہوئے دوسروں کی طرف دیکھنا شروع کر دے تو اس کی گمراہی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ فرما کر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی ’’کیا ان لوگوں کو یہ بات کافی نہیں ہے کہ آپؐ پر ہم نے کتاب اتاری ہے جو ان پر تلاوت کی جاتی ہے، بے شک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے‘‘۔

گویا اس آیت کریمہ میں جہاں کافروں کے لیے یہ پیغام ہے کہ قرآن کریم کے آجانے کے بعد اور کسی نشانی اور معجزہ کا مطالبہ معقولیت کی بات نہیں ہے وہاں ہم مسلمانوں کے لیے بھی اس میں پیغام ہے کہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کی سنت کے ہوتے ہوئے راہنمائی کے لیے کسی اور طرف دیکھنا گمراہی ہے۔ اور آج ہم دنیا بھر کے مسلمان اپنی حالت پر غور کریں تو یہی گمراہی ہم پر مسلط ہے کہ قرآن کریم ہمارے گھروں میں ہے، زبانوں پر ہے اور سینوں میں ہے۔ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت سے ہماری الماریاں بھری ہوئی ہیں مگر ہم اپنے اجتماعی معاملات میں راہنمائی کے لیے ادھر ادھر جھک مارتے پھر رہے ہیں۔ کبھی ماسکو کی طرف دیکھتے ہیں، کبھی واشنگٹن کی طرف دیکھتے ہیں، کبھی لندن کا رخ کر لیتے ہیں، کبھی بیجینگ کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور کبھی پیرس سے راہنمائی کے طالب ہوتے ہیں۔ یہ گمراہی ہے اور جب تک اس گمراہی سے نجات حاصل کر کے ہم قرآن و سنت کی تعلیمات پر قناعت نہیں کریں گے اور انہیں سینے سے نہیں لگائیں گے ہدایت اور کامیابی کی منزل کی طرف گامزن نہیں ہو سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: