برطانیہ کا ایک دینی ادارہ: جامعہ الہدٰی نوٹنگھم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جون ۱۹۹۷ء

گزشتہ روز برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں مسلمان بچیوں کے ایک تعلیمی ادارہ ’’جامعۃ الہدٰی‘‘ کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا جس میں ان بچیوں کے لیے دو سالہ تعلیمی نصاب کا خاکہ تجویز کیا گیا ہے جو سولہ سال کی عمر تک سرکاری مدارس میں لازمی تعلیم کے مرحلہ سے گزر کر سکول و کالج کی مزید تعلیم کی متحمل نہیں ہوتیں اور ان کے والدین چاہتے ہیں کہ یہ نوجوان بچیاں سکول و کالج کے مخلوط و آزاد ماحول سے محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ کچھ دینی تعلیم بھی حاصل کر لیں۔

جامعۃ الہدٰی کا قیام گزشتہ سال عمل میں لایا گیا تھا جو ’’مدنی ٹرسٹ‘‘ نے شہر کے وسط میں محکمہ صحت کی ایک بڑی عمارت خرید کر قائم کیا ہے۔ ساڑھے چار ایکڑ رقبہ پر محیط اس تین منزلہ عمارت میں اڑھائی سو کے لگ بھگ کمرے ہیں اور ایک بڑے تعلیمی ادارے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ عمارت کافی ہے۔ مدنی ٹرسٹ نوٹنگھم کے چیئرمین میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے معروف مذہبی راہنما مولانا ڈاکٹر اختر الزمان غوری ہیں جو کچھ عرصہ سے برمنگھم میں قیام پذیر ہیں اور سیکرٹری مولانا رضاء الحق سیاکھوی ہیں جو میرپور کے سیاکھ کے علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں، آزاد کشمیر کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد ابراہیم سیاکھویؒ کے پوتے ہیں اور نوٹنگھم کی مدنی مسجد کے منتظم و خطیب ہیں۔

جامعۃ الہدٰی کے لیے ان حضرات نے علی گڑھ اور دیوبند سے ہٹ کر ’’ندوۃ العلماء لکھنو‘‘ کی راہ اختیار کی ہے، دینی اور دنیوی علوم کو مجتمع کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے ندوۃ العلماء کے سربراہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کو جامعہ کا سرپرست بنایا ہے۔ چنانچہ مولانا ندویؒ نے گزشتہ سال خود نوٹنگھم تشریف لا کر جامعہ کا افتتاح فرمایا اور جامعہ کی پہلی تعلیمی کلاس کے آغاز پر بھی انہوں نے لکھنو سے ٹیلی فون پر جامعۃ الہدٰی نوٹنگھم کی طالبات کو پہلا سبق پڑھا کر تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ جبکہ جامعہ کے تعلیمی نصاب و نظام کی تیاری کے لیے ندوۃ العلماء لکھنو کے استاذ مولانا سید سلمان الحسینی تشریف لائے اور نصاب کمیٹی کے ابتدائی اجلاسوں کی صدارت کی۔

جامعۃ الہدٰی کے لیے نصاب کمیٹی نے سات سالہ کورس تجویز کیا ہے جو گزشتہ سال شروع ہو چکا ہے اور اس کی پہلی کلاس ایک سال مکمل کر کے دوسرے سال میں داخل ہونے والی ہے۔ جبکہ دوسری کلاس چھٹیوں کے بعد ستمبر میں آجائے گی، اس کلاس میں گیارہ سال کی عمر کی بچیاں داخل کی جاتی ہیں جو سات سال میں یہ کورس مکمل کریں گی۔ اس کورس میں لازمی تعلیم کے سرکاری کورس کے علاوہ قران کریم، حدیث، فقہ، عربی زبان، اردو زبان، تاریخ اسلامی، عقائد، اسلامی ثقافت، نفسیات و تربیت اور سیرت نبویؐ کے مضامیں شامل کیے گئے ہیں۔ حتی کہ جب طالبات اس کورس سے فارغ ہوں گی تو سرکاری نصاب کے علاوہ قرآن کریم کی تفسیر ابن کثیر اور مشکوٰۃ شریف پڑھنے کے علاوہ بخاری شریف، مسلم شریف، ترمذی شریف اور ابوداؤد شریف کے منتخب ابواب پڑھ چکی ہوں گی۔

آئندہ سال سے دو سال کا ایک مختصر کورس شروع کرنے کا پروگرام بھی بنایا گیا ہے اور جس اجلاس کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے وہ اس کی تفصیلات طے کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاذ مولانا عبد الحفیظ مکی نے اجلاس کی صدارت کی جبکہ اس میں مدنی ٹرسٹ کے سیکرٹری مولانا رضاء الحق اور ان کے رفقاء مولانا اورنگزیب خان، جناب محمد امین اور مولانا محمد قاسم کے علاوہ ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری، اسلامک کمپیوٹنگ سنٹر لندن کے ڈائریکٹر مولانا مفتی برکت اللہ اور راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں سرکاری سکولوں سے فارغ ہونے والی سولہ سالہ طالبات کے لیے ’’عالم کورس‘‘ کے نام سے دو سالہ کورس تجویز کیا گیا جس میں عربی زبان، قرآن و حدیث، اردو، تاریخ اسلام، سیرت نبویؐ اور اسلامی عقائد کے علاوہ کمپیوٹر ٹریننگ بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کورس کا ہدف یہ ہے کہ ایک مسلمان لڑکی قرآن کریم کا مکمل ترجمہ پڑھنے کے علاوہ حدیث اور فقہ کی کتابوں سے استفادہ کر سکے۔

جامعۃ الہدٰی میں طالبات کے لیے اقامتی انتظامات کیے گئے ہیں جن کے تحت تعلیم حاصل کرنے والی طالبات بورڈنگ میں رہنے کی پابند ہیں۔ ان کے لیے معیاری رہائش اور خوراک کے علاوہ شب و روز کی مصروفیات اور ان کی دینی و اخلاقی تربیت کا اہتمام موجود ہے جس کے لیے تربیت یافتہ اسٹاف مہیا کیا گیا ہے، جبکہ طالبات سے خوراک وغیرہ کے اخراجات کی فیس لی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ جامعۃ الہدٰی یورپ میں اسلامی تعلیمات کے پہلے باضابطہ خط و کتابت کورس ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کا بھی ہیڈ آفس ہے جس کا آغاز ورلڈ اسلامک فورم نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ دعوۃ اکیڈمی کے تعاون سے دو سال قبل کیا تھا اور اسلامی عقائد و اعمال، عبادات، اخلاق، تاریخ اور دیگر ضروری معلومات پر مشتمل کورس اردو اور انگلش دو زبانوں میں جاری کیا تھا جسے برطانیہ کے محکمہ تعلیم کے متعلقہ شعبہ نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ یہ کورس یورپ کے کسی ملک میں اسلامی تعلیمات کا پہلا منظور شدہ کورس ہے جس کے مکمل ہونے پر اسلامک اسٹڈی کا سرکاری ڈپلومہ بھی ملے گا۔ اس کورس کی انتظامی و مالی ذمہ داریاں ابتداء سے ہی مدنی ٹرسٹ نوٹنگھم نے سنبھال رکھی ہیں۔ ابتدائی ایک سال مدنی مسجد میں اس کا دفتر رہا اور گزشتہ سال سے جامعۃ الہدٰی میں اسے منتقل کر دیا گیا ہے۔ کورس میں اس وقت یورپ کے مختلف ملکوں کے دو ہزار سے زائد طلبہ اور طالبات شریک ہیں جبکہ دس پونڈ کی داخلہ فیس کے علاوہ اس کی کی کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی اور اس کے تمام اخراجات مدنی ٹرسٹ برداشت کرتا ہے۔

جامعۃ الہدٰی برطانیہ کے ان دینی تعلیمی اداروں میں سے ہے جو مسلمانوں کی نئی نسل کا رشتہ دین کے ساتھ جوڑنے اور اسے اسلامی تہذیب و ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے مسلسل مصروف عمل ہیں اور اخلاقی باختگی اور جنسی انارکی کے اس سمندر میں بلاشبہ چھوٹے چھوٹے جزیروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ ادارے مغرب میں مقیم مسلمانوں کی اولاد کو مغربی ثقافت کے رنگ میں مکمل طور پر رنگے جانے سے بچا لیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ان اداروں کے لیے دعاؤں کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی اور ان سے ہر ممکن تعاون بھی کیا جائے۔