مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۹ء

سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد اس کے نتیجے کے طور پر اس خطے میں ’’نظام عدل ریگولیشن‘‘ کے نفاذ کے اعلان سے سوات اور ملحقہ علاقوں میں امن کے قیام کی امید دکھائی دینے لگی ہے۔ تحریک طالبان کے سربراہ مولوی فضل اللہ نے دس دن کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ مولانا صوفی محمد نے مینگورہ میں بہت بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مطالبہ پورا ہو گیا ہے، اب وہ اپنی تمام کوششیں سوات میں امن قائم کرنے پر صرف کریں گے اور اس وقت تک سوات میں رہیں گے جب تک مکمل طو رپر امن قائم نہیں ہو جاتا۔ اب تک سامنے آنے والی خبروں کے مطابق متعلقہ علاقوں کے لوگ ا س معاہدے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، بازار کھلنے لگے ہیں اور زندگی کی رونقیں بحال ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

مالاکنڈ ڈویژن میں یہ مطالبہ گزشتہ دو عشروں سے جاری تھا کہ وہاں مروجہ عدالتی سسٹم کی بجائے شرعی عدالتوں کا نظام قائم کیا جائے اور اس کے لیے مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘‘ نے ایک عوامی تحریک منظم کر رکھی تھی جس کے نتیجے میں ایک مرحلے میں کم وبیش تیس ہزار کے لگ بھگ مسلح افراد مینگورہ کی سڑکوں پر کئی دنوں تک دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے اور ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انھیں شرعی عدالتی نظام فراہم کیا جائے جہاں قاضی حضرات قرآن وسنت کے مطابق ان کے مقدمات کے فیصلے کریں۔ یہ مطالبہ تو پاکستان کے دینی حلقوں کا پورے ملک کے لیے چلا آ رہا ہے، لیکن سوات وغیرہ کے مطالبہ میں یہ شدت اس لیے تھی کہ وہاں پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے باقاعدہ الحاق تک شرعی عدالتوں کا نظام موجود تھا اور جن لوگوں نے وہ دور دیکھ رکھا ہے، انھیں یاد تھا کہ ان عدالتوں میں سادگی اور سرعت کے ساتھ فیصلے ہوتے تھے، خرچ اخراجات بھی نہیں ہوتے تھے اور پھرچونکہ فیصلے ان کے عقیدہ ومذہب کی روشنی میں ہوتے تھے، اس لیے ان کے لیے قابل قبول بھی ہوتے تھے۔ لیکن نئے عدالتی نظام کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا گیا اور بالآخر وہ مجبور ہوئے کہ اپنے لیے اسی پرانے عدالتی نظام کا مطالبہ کریں جو ریاستی دور میں وہاں موجود ورائج تھا۔ جناب آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی وزارت اعلیٰ کے دور میں اس مطالبہ کو اصولی طور پر پذیرائی بخشی گئی اور ’’نفاذ شریعت ریگولیشن‘‘ کا نفاذ عمل میں لایا گیا، لیکن اس کی عملی صورت حال یہ تھی کہ اس ریگولیشن میں شرعی اصطلاحات کے سوا شرعی عدالتوں کے نظم کا کوئی حصہ موجود نہیں تھا اورمروجہ عدالتی نظام پر ہی شرعی اصطلاحات کا لیبل چسپاں کر کے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی تھی، مگر یہ فریب زیادہ دیر تک نہ چل سکا اور مولانا صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت محمدی نے اسے مسترد کر کے نئے شرعی نظام عدل کے نفاذ کا مطالبہ شروع کر دیا۔ اس دوران نائن الیون کا سانحہ ہوا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کا شکار ہوئی تو طالبان کی حمایت میں عوامی ریلی نکالنے پر مولانا صوفی محمد گرفتار ہو گئے اور افغانستان کی نئی صورت حال کے نتیجے میں پاکستان کے قبائلی علاقے اور خاص طور پر وزیرستان اور سوات کے خطے بھی بدامنی کا شکار ہوتے چلے گئے۔ تحریک طالبان کے نام سے پاکستان کے ان علاقوں میں ایک نئی تحریک وجود میں آئی جس کی سربراہی مولوی فضل اللہ کر رہے ہیں۔ اس تحریک اور اس کے جواب میں حکومت پاکستان کے فوجی آپریشن نے مسلح تصادم کی صورت اختیار کر لی اور پورے علاقے کا امن تباہ ہو کر رہ گیا۔

تحریک طالبان کی طرف سے اعلان ہوتا رہا کہ خطے میں شرعی عدالتوں کا نظام رائج کر دیا جائے تو وہ مسلح مزاحمت ختم کر دیں گے جبکہ حکومت کی طرف سے نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے بار بار وعدے کے باوجود اسے شاید اس لیے مسلسل ٹالا جاتا رہا کہ اس سے پہلے طالبان کی طرف سے ہتھیارڈالنے کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ یہ آنکھ مچولی کئی ماہ سے جاری تھی اور اس دوران صوبہ سرحد کی حکومت کے ساتھ مولانا صوفی محمد کے مذاکرات کا سلسلہ بھی چلتا رہا جس کے نتیجے میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ مولانا صوفی محمد کی شرائط کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ کے ضلع کوہستان میں شرعی نظام عدل نافذ کیا جائے گا۔ اس پر تحریک طالبان کے سربراہ مولوی فضل اللہ نے دس روز کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے اور ان کے ساتھ مولانا صوفی محمد کے مذاکرات تادم تحریر جاری ہیں۔ موجودہ صورت حال میں مولانا صوفی محمد کاموقف یہ نظر آ رہا ہے کہ نفاذ شریعت کے لیے جدوجہد اور اس کا مکمل نفاذ ہماری اصل منزل ہے، لیکن اس کے لیے تحریک کا پرامن ہونا اور سرکاری فورسز کے ساتھ مزاحمت ترک کرنا ضروری ہے اور وہ مولوی فضل اللہ اوران کے رفقا کو اسی موقف پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جہاں تک مروجہ عدالتی نظام کی بجائے شرعی نظام عدل کے نفاذ کا تعلق ہے، ہم تحریک نفاذ شریعت محمدی اور تحریک طالبان کے اس موقف اور مطالبہ کے ہمیشہ سے حامی رہے ہیں کہ ان کا یہ موقف اور مطالبہ درست ہے، لیکن اس کے لیے تحریک کے طریق کار پر بھی ہم نے ہمیشہ تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے لیے ہتھیاراٹھانے اور سرکاری فورسز کے ساتھ مسلح مزاحمت کو کبھی جائز نہیں سمجھا، حتیٰ کہ مولانا صوفی محمد کے دور میں بھی جبکہ وہ پرامن تحریک کے داعی تھے اور اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے راے عامہ اور عوامی دباؤ کی قوت کو استعمال کر رہے تھے، ہم نے اس دور میں بھی ان کے ہاتھوں میں ہتھیار دیکھ کر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اگرچہ یہ فرق ضرور رہا ہے کہ مولانا صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت محمدی کے کارکنوں کے ہاتھوں میں اسلحہ زیادہ تر دباؤ کے لیے رہا ہے اور اس کے استعمال کی نوبت کم آئی ہے، لیکن مولوی فضل اللہ کی تحریک طالبان کے ہاتھوں میں ہتھیار نہ صرف استعمال ہوئے ہیں بلکہ بہت افسوس ناک حد تک استعمال ہوئے ہیں، لیکن اس سب کچھ کے باوجود ان کے اس موقف اور مطالبہ سے ہمیں اتفاق رہا ہے اور آج بھی ہے کہ مروجہ عدالتی نظام ہمارے معاشرہ کے لیے قطعی طو رپر موزوں نہیں ہے اور اس سے جرائم میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کوانصاف نہیں ملتا، برس ہر برس مقدمہ کے فیصلے کے انتظار میں گزر جاتے ہیں، بے پناہ اخراجات ہوتے ہیں، دشمنیاں کم ہونے کی بجائے بڑھتی جاتی ہیں اور جھوٹ اور فریب کا ہر طرف دور دورہ ہو گیا ہے۔ یہ صرف مالاکنڈ ڈویژن اور سوات کے لوگوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور ہر جگہ برطانوی عدالتی نظام کے یہ اثرات عام نظر آ رہے ہیں۔

برطانوی عدالتی نظام کی ناکامی اس وقت بھی محسوس کی جا رہی تھی جب اس کی باگ ڈور خود برطانوی حکومت کے ہاتھ میں تھی اور بہت سے انصاف پسند انگریز افسران بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ہمارا عدالتی نظام ہندوستان کے لوگوں کے لیے موزوں نہیں ہے اور اس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہم ایک شہادت پیش کرنا چاہ رہے ہیں جو برطانوی سول سروس (آئی سی ایس) کے ایک اہم انگریز افسر پنڈرل مورن نے تحریر کی ہے۔ پنڈرل مورن قیام پاکستان سے قبل ضلع امرتسر کے ڈپٹی کمشنر رہے ہیں اور انھوں نے اسی بنیاد پر سول سروس سے استعفا دے دیا تھا کہ وہ برطانوی نظام کو جنوبی ایشیا کے عوام کے ساتھ زیادتی کا باعث سمجھ رہے تھے۔ ڈپٹی کمشنری سے استعفا کے بعد وہ ریاست بہاول پور کے وزیرمال رہے۔ انھوں نے ’’اجنبی حکمران‘‘ کے نام سے اپنی یادداشتیں قلم بند کی ہیں جن کا اردو ترجمہ سید محمد نقوی بی اے نے کیا اور اسے لارک پبلشرز، اورنگ زیب مارکیٹ، بندر روڈ کراچی نے شائع کیا۔ کتاب او رمصنف کا تعارف کراتے ہوئے ناشرنے لکھا ہے کہ:

’’یہ کتاب ایک زیرک اور روشن خیال انگریز پنڈرل مورن نے، جو آئی سی ایس کا رکن اور امرتسر کا ڈپٹی کمشنر تھا، قصے کے دل چسپ پیرایے میں لکھی ہے۔ وہ اس ملک کے لیے برطانوی اور مغربی جمہوریت کی بجائے ایک پنچایتی اور مشرقی نظام کا حامی تھا اور اسی وجہ سے اسے استعفا دینا پڑا۔‘‘

جبکہ خود پنڈرل مورن نے اس کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے کہ

’’سمجھ میں نہ آتا تھا کہ انگریزی قانون کا نظام جو سیدھے سادے ہندوستانیوں کے لیے قطعاً ناموزوں ہے، ان پر کیوں مسلط کر دیا گیا ہے۔ شروع زمانے کے انگریز افسر بھی اسے بارہا مطعون کر چکے ہیں۔ وارن ہیسٹنگز کا خیال تھا کہ ہندوستانیوں پر ایک ایسا نظام قانون مسلط کر دینا بدترین ظلم ہے جو ہندوستان کے حالات کو پیش نظر رکھ کر نہیں بنایا گیا۔ میکالے نے لکھا تھا: ’’زمانہ ماضی کے ایشیائی اور غیر ایشیائی جابر حکمرانوں کے مظالم کا مقابلہ جب سپریم کورٹ کے انصاف سے کیا جائے تو ان کے مظالم ایک نعمت معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ مٹکاف کو بھی ہماری عدالتیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں جو اتنے ’’عظیم الشان کارخیر‘‘ کے لیے قائم کی گئی ہیں اور وہ جانتا تھا کہ لوگ ان عدالتوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس نے ایک سو سال پہلے کی عدالتوں کی جو تصویر کھینچی تھی، آج بھی حرف بہ حرف اس عدالت پر پوری اترتی ہے کہ ’’ہماری عدالتیں کیا ہیں! بے ایمانی کا اکھاڑہ ہیں .... بیچ میں جج بیٹھتا ہے اور چاروں طرف سازشوں کا مجمع لگتا ہے..... ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے دھوکہ دے اور کسی طرح اسے انصاف نہ کر نے دے۔ وکیل تو سچ بولنا جانتے ہی نہیں۔‘‘

شروع میں ہی یہ ثابت ہو چکا تھا کہ انگریزی قانون اور عدالتیں یہاں کے لیے ہرگز موزوں نہیں۔ یہ بھی معلوم تھا کہ کس چیز کی ضرورت ہے اور بارہا اس کی وضاحت بھی کر دی گئی تھی۔ گورنروں، کونسلوں اور انتظامی بورڈوں نے کئی مرتبہ بڑی سہانی پالیسیاں بنائیں اور خوب صورت قراردادیں منظور کیں۔ بعضوں نے لکھا ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ سیدھے سادے کاشت کاروں کے لیے حصول انصاف کے طریقے آسان بنائے جائیں کیونکہ یہ لوگ قانونی موشگافیاں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ فنی باریکیوں، لفاظی اور پیچیدگیوں سے پیچھا چھڑائیں اور ہر قاعدے، ضابطے اور کاروائی کو آسان اور مختصر بنا دیں۔ ہمیں ایسی عدالتیں قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جن میں ناقابل فہم فارموں کا گورکھ دھندا نہ ہو کیونکہ یہ فارم گنوار کاشت کاروں کی سمجھ سے باہر ہوتے ہیں اور ان کا مطلب صرف پیشہ ور وکیل سمجھتے ہیں۔ عدالتیں ایسی ہوں جو ہر داد خواہ کے لیے کھلی ہوں، جہاں ہر شخص اپنے مقدمہ کی پیروی خود کر سکے اور اپنے حریف کے دو بدو کھڑا ہو کر الزام ثابت کر سکے یا اپنی صفائی پیش کر سکے۔‘‘

ہم سمجھتے ہیں کہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام بھی وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو پنڈرل مورن نے لکھا تھا بلکہ پاکستان کے کسی بھی حصے کے عوام سے ان کے دل کی بات پوچھی جائے تو ان کا جواب اس سے مختلف نہیں ہوگا اور پنڈرل مورن کے ذکر کردہ تجزیہ کے مطابق ملک کے کسی بھی علاقے کی صورت حال کا تجزیہ کیا جائے تو رپورٹ وہی سامنے آئے گی جو پنڈرل مورن نے کم وبیش پون صدی قبل دے دی تھی، البتہ سوات اور ملحقہ علاقوں کے عوام کے جذبات میں زیادہ شدت کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے لوکل سطح پر پنچایتی طرز کا سادہ، سستا اور آسان سایہ عدالتی نظام نصف صدی تک خود اپنے ہاں دیکھ رکھا ہے، لیکن وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کو صرف اس لیے ہضم نہیں ہو رہا کہ اسے عرفی زبان میں ’’شرعی نظام‘‘ کہا جاتا ہے اور اس کے دنیا کے کسی حصے میں دوبارہ قیام کا موقع دینے کا مطلب عالمی سطح پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ گزشتہ دو صدیوں سے دنیا میں اسلامی نظام کے اثرات اور اس کی دوبارہ واپسی کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے مغربی استعمار جو مسلسل محنت کر رہا ہے، اسے بریک لگ گئی ہے بلکہ یوٹرن کے خدشات محسوس کیے جانے لگے ہیں۔ ہمارے خیال میں سوات کے معاہدۂ امن پر بہت سے بین الاقوامی حلقوں اور دانش وروں کے جزبز ہونے اور جھنجھلاہٹ دکھانے کی وجہ بھی یہی ہے۔

ہمیں مولانا صوفی محمد کے بہت سے نظریات وافکار سے اختلاف ہے جن کا ہم کھلے بندوں اظہار کر چکے ہیں اور ان کی جدوجہد کے طریق کار پر ہمارے تحفظات بدستور موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم موجودہ معروضی تناظر میں انھیں تین باتوں پر خراج تحسین پیش کرنے کے ضروری سمجھتے ہیں کہ: ۱۔ وہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کو ان کی خواہش کے مطابق شرعی عدالتی نظام دلوانے میں کامیاب رہے ہیں، ۲۔ انھوں نے نفاذ شریعت کے لیے مسلح جدوجہد کو پرامن تحریک میں تبدیل کرنے کے مقصد کی طرف موثر پیش رفت کی ہے اور ۳۔ ان کی کوششوں سے اس خطہ میں امن کے قیام کی امید روشن دکھائی دینے لگی ہے۔ ہم صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب امیر حیدر خان ہوتی اورمولانا صوفی محمد کو اس اہم پیش رفت پر مبارک باد دیتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس معاہدے کی منزل تک پہنچنے کی جس طرح ہمت اور حوصلہ عطا فرمایا ہے، اسے تکمیل تک پہنچانے اور موثر بنانے کے مراحل بھی اسی حوصلہ وہمت اور جرات وتدبر کے ساتھ سر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں تاکہ مالاکنڈڈویژن کے عوام اپنی خواہش کے مطابق شرعی قوانین کے سایے میں پرامن زندگی بسر کر سکیں۔ آمین یا رب العالمین۔