سالانہ تعطیلات کا آخری ہفتہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ ستمبر ۲۰۱۲ء

سالانہ تعطیلات کا آخری ہفتہ خاصی مصروفیات میں گزارا۔ اتوار کو ظہر کے بعد لاہور کے ہمدرد سنٹر میں درس قرآن کریم کی تقریب تھی، لٹن روڈ کی تاجر برادری ماہانہ طور پر اس درس کا اہتمام کرتی ہے اور مختلف علماء کرام اس میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ اسی روز شام کو مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور مولانا عبد الرزاق آف فیصل آباد کے ہمراہ ساہیوال کے قریب ایک بستی میں واقع مدرسۃ البنات میں بخاری شریف کے سبق کے آغاز کی تقریب میں حاضری ہوئی۔

پیر کو صبح جمعیۃ طلبہ اسلام پاکستان کے سابق مرکزی صدر میاں محمد عارف ایڈووکیٹ کے ہمراہ لاہور سے کراچی پہنچا، جامعۃ الرشید کراچی میں درس نظامی کے فضلاء کے لیے دعوتی اور اصلاحی شعبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے ’’تکمیل علماء کورس‘‘ چل رہا ہے جسے اب ’’کلیۃ الدعوۃ‘‘ کا عنوان دے دیا گیا ہے۔ اس کے نصاب و نظام کے سلسلہ میں ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی کا یہ سفر ہوا۔ حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم کی صدارت میں یہ مشاورت ظہر سے عشاء تک اور پھر اگلے روز نماز فجر کے بعد سے آٹھ بجے تک جاری رہی جس میں ہم دونوں کے علاوہ مولانا مفتی محمد، مولانا ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی، ڈاکٹر ذیشان، مولانا ڈاکٹر اعجاز احمد صمدانی اور دوسرے اصحاب دانش بھی شریک رہے اور کلیۃ الدعوۃ کے نصاب و نظام کو اس سال کے لیے حتمی شکل دی گئی۔

دعوت و ارشاد کا شعبہ آج کے دور میں دین کی خدمت کا میری طالب علمانہ رائے میں سب سے اہم میدان ہے، مگر ابھی تک درس نظامی کے فضلاء کو اس طرف صحیح طور پر متوجہ نہیں کیا جا سکا اور تخصصات کے دائرے میں فضلاء کا زیادہ تر رجحان افتاء اور مناظرہ کی طرف ہی ہے۔ ان دونوں کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں ہے لیکن ان کے ساتھ ساتھ دعوت و ارشاد، علوم قرآن، علوم حدیث، فقہ، اسلامی تاریخ، خلافت راشدہ کا نظام، اسلامی معاشیات اور مغربی فکر و فلسفہ کے ساتھ اسلامی احکام و قوانین کا تقابلی مطالعہ جیسے موضوعات پر تخصصات کے کورس رائج کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ’’تخصص فی الافتاء‘‘ کو ہمارے ہاں عام طور پر ’’تخصص فی الفقہ‘‘ سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ تخصص فی الفقہ کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جس کی طرف ہماری سرے سے توجہ نہیں ہے۔ دارالعلوم کراچی اور جامعۃ الرشید ان امور کی طرف دھیرے دھیرے متوجہ ہو رہے ہیں جو انتہائی خوشی کی بات ہے، مگر اس سلسلہ میں ملک کے عمومی تعلیمی ماحول کو توجہ دلانے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔

منگل کو جامعۃ الرشید سے ناشتہ کے بعد روانہ ہو کر اس کے قریب احسن آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے علاقائی مرکز ’’دعوۃ اسلامک سنٹر‘‘ میں حاضری ہوئی جو ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر سید عزیز الرحمان کی سربراہی میں تعلیم و تربیت کی وقیع خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف ہمارے محترم دوست اور بزرگ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے ذوق و فکر کی صحیح نمائندگی اور ان ہی کی نہج پر مسلسل کام کر رہے ہیں، اللہ تعالٰی نظر بد سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ اس کے بعد مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہیدؒ کی مسجد توابین میں تھوڑی دیر کے لیے رکے، شہید کی قبر پر فاتحہ خوانی کے علاوہ ان کے فرزند عزیزم مولانا محمد عثمان شیخوپوری سے ملاقات کی اور حال احوال سے آگاہی حاصل کی۔

وہاں سے آدم ٹاؤن کراچی کے جامعہ انوار القرآن میں حاضری دی، جامعہ کے مہتمم اور پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی ان دنوں برطانیہ میں ہیں۔ ان کے فرزندان عزیز سے ملاقات ہوئی۔ یہاں سے جمعیۃ طلبہ اسلام کے سابق مرکزی راہنما محمد فاروق شیخ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگئے۔ ایک دور میں راقم الحروف، میاں محمد عارف ایڈووکیٹ اور محمد فاروق قریشی کی سالہا سال تک قریبی رفاقت رہی ہے جبکہ ایک عرصہ کے بعد ایسا موقع آیا کہ ہم تینوں ایک دن اکٹھے گزار سکے۔

اس کے بعد جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں حاضری ہوئی اور نئے سال کے داخلہ کے سلسلہ میں گہماگہمی دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا سید سلیمان بنوری اور دیگر حضرات کے ساتھ ملاقات کی اور ڈاکٹر صاحب محترم نے شفقتوں اور دعاؤں سے نوازا۔

ان شفقتوں سے شادکام ہو کر ہم نے دارالعلوم کورنگی کراچی میں ظہر کی نماز ادا کی، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ان دنوں بیرون ملک سفر پر ہیں اس لیے ان کی زیارت نہ ہو سکی البتہ دارالعلوم کے دیگر اساتذہ مولانا عزیز الرحمان، مولانا محمود اشرف عثمانی، مولانا اعجاز احمد صمدانی اور مولانا راحت علی ہاشمی سے کھانے پر اجتماعی ملاقات کے دوران دارالعلوم پر رمضان المبارک کے دوران پولیس اور رینجرز کے چھاپہ کے افسوسناک واقعہ کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ اس سانحہ پر ملک بھر کے دینی حلقے دل گرفتہ ہیں مگر اس سلسلہ میں قومی سطح پر جو احتجاج ہونا چاہیے تھا اس کی کوئی عملی شکل ابھی تک سامنے نہیں آئی جو خاص طور پر وفاق المدارس اور جمعیۃ علماء اسلام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ ملک بھر کے احباب ان میں سے کسی کی طرف سے پیشرفت کے منتظر ہیں۔

دارالعلوم کراچی میں ہی اراکان برما کے مظلوم مسلمانوں کے لیے محنت کرنے والے ساتھیوں مولانا عبد اللہ بری اور مولانا محمد صدیق اراکانی سے ملاقات ہوئی اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی۔ اراکان کا مسئلہ بدستور سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے، وہاں کے مسلمانوں کو اس ’’جرم‘‘ کی سنگین سزا دی جا رہی ہے کہ انہوں نے برصغیر کی تقسیم کے موقع پر پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا جو مسلم اکثریت کا علاقہ اور مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے ان کا حق بنتا تھا۔ لیکن نہ صرف ان کی اس خواہش کو رد کر دیا گیا بلکہ اس کے بعد سے وہ مسلسل عذاب میں ہیں اور انہیں برما کا شہری تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے۔ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ گاجر مولی کی طرح کٹنے والے ان مظلوم مسلمانوں تک ضروری امداد کے لیے کسی کو رسائی نہیں دی جا رہی۔ خدا کرے کہ انسانی حقوق کی دہائی دینے والے اداروں میں سے کوئی گروپ ان مظلوم مسلمانوں تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کر سکے۔

دارالعلوم میں ہی ایک پرانے دوست سے اچانک ملاقات ہوگئی، امجد حسین ہمارے ملک کے سابق گلوکار ہیں جنہوں نے ’’یہ میرا پاکستان ہے، یہ تیرا پاکستان ہے‘‘ کا نغمہ گا کر ملک گیر شہرت حاصل کی تھی۔ وہ ایک عرصہ سے نیویارک میں ہیں جہاں ان سے کئی بار ملاقات ہوئی ہے۔ وہ گلوکاری ترک کر کے حمد و نعت کا محبوب و مقبول مشغلہ اپنائے ہوئے ہیں اور جناب جنید جمشید کے ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہماری فرمائش پر مذکورہ بالا قومی نغمہ اس محفل میں بغیر میوزک کے سنایا اور اس کے بعد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں دو نعتوں کا نذرانہ پیش کر کے ایمان کی تازگی کا سامان فراہم کیا۔

میاں محمد عارف ایڈووکیٹ تو اس کے بعد دو روز کے لیے وہیں رک گئے جبکہ میں رات کو لاہور پہنچا جہاں سے بدھ کی صبح کو سرگودھا حاضری دی۔ جامعہ اسلامیہ محمودیہ میں بخاری شریف کے سبق کا آغاز تھا جس کی سعادت حاصل کی۔ جامعہ کے مہتمم مولانا اشرف علی ہمارے بہت پرانے اور باذوق ساتھی ہیں، ان کے ساتھ پرانی یادیں تازہ کیں۔ ظہر کے بعد مولانا محمد الیاس گھمن کے ادارہ مرکز اہل سنت میں علماء کے خصوصی کورس کے شرکاء کے سامنے کچھ معروضات پیش کیں، اس سے فارغ ہو کر مولانا اشرف علی کے ہمراہ عشاء تک گوجرانوالہ پہنچ گیا اور جمعرات کو جامعہ نصرۃ العلوم میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی اجتماعی دعا میں شریک ہو کر اب معمول کی تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں میں مشغول ہوگیا ہوں، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔