بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ڈالے جائیں گے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
فروری ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۹ و ۱۰

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’کل پاکستان نظام شریعت کانفرنس‘‘ ۴ مارچ ۱۹۸۸ء کو مینارِ پاکستان کے وسیع گراؤنڈ میں منعقد ہو رہی ہے اور مرکزی دفتر میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور آزاد قبائل میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کے علمبردار پورے جوش و خروش کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔

مینارِ پاکستان کا یہ گراؤنڈ وہی تاریخی میدان ہے جس میں ۱۹۴۰ء میں مسلم لیگ نے دو قومی نظریہ کے تحت مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبے پر مشتمل ’’قراردادِ پاکستان‘‘ منظور کی تھی اور اس کے لیے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ مسلم لیگی راہنماؤں نے الگ وطن کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ مسلمان چونکہ دوسری اقوام سے الگ تہذیب و تمدن اور مکمل نظام زندگی رکھتے ہیں اس لیے انہیں اپنے نظامِ زندگی کو عملی طور پر اپنانے کے لیے الگ وطن کی ضرورت ہے۔ یہی نظریۂ پاکستان تھا جس کی حمایت کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی بنیاد رکھی گئی تھی اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی سربراہی میں علماءِ حق کے اس گروہ نے مسلم لیگ کے شانہ بشانہ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لے کر قیامِ پاکستان کی منزل حاصل کرنے کی جدوجہد میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

پاکستان بن گیا تو مسلم لیگ پر سیاست غالب آگئی، مسلمانوں کے الگ نظام زندگی کا تصور ذہنوں سے اوجھل ہوتا گیا، مفاد پرستی اور ہوسِ اقتدار نے تحریکِ پاکستان کے نعروں اور دعوؤں کو طاقِ نسیاں کی نذر کر کر دیا اور مسلم لیگی قیادت نے اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے پاکستان کی وحدت، سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور نظریاتی تشخص ہر چیز کو داؤ پر لگا دیا۔ مگر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اپنے مشن پر قائم رہی اور اس نے نفاذِ اسلام کی منزل کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔ جمعیۃ کے پہلے امیر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی کوششوں سے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ منظور ہوئی جس نے پاکستان کے دستور کی اسلامی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے متعین کر دیا۔ اس کے بعد قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی امارت و قیادت میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے نئے سفر کا آغاز کیا۔ مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے ایوبی دور کی اسمبلیوں میں کلمۂ حق بلند کیا۔

پاکستان کے دولخت ہوجانے کے بعد باقی ماندہ پاکستان کے لیے دستور کی تیاری میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ، مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور شیخ الحدیث مولانا عبد الحق مدظلہ نے بھرپور حصہ لیا اور دستور کو زیادہ سے زیادہ اسلامی حیثیت دینے کی جنگ لڑی۔ مولانا مفتی محمودؒ نے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اسلامی اصلاحات کا آغاز کر کے نظریۂ پاکستان کا عملی رخ متعین کیا۔ اور اب سینٹ آف پاکستان میں جمعیۃ کے راہنماؤں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبدا للطیف کا پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی نظریاتی ریاست بنانے کی اسی تاریخی جدوجہد کے تسلسل کی ایک کڑی ہے جس نے اسلام کے قانونی نظام کی عملی اور متعین صورت قوم کے سامنے پیش کر دی ہے۔

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اس کے بانیوں اور قائدین نے جن دعوؤں اور وعدوں کے ساتھ تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا وہ ان کی تکمیل کی جدوجہد میں مسلسل مصروف عمل ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کی بے وفائی، دیگر دینی قوتوں کی بے توجہی اور اسباب و وسائل کے فقدان کے باوجود جمعیۃ کے قدم آگے بڑھے ہیں اور اس نے ہر دور میں پیش رفت کی ہے۔ ۴ مارچ کی ’’نظام شریعت کانفرنس‘‘ اسی جدوجہد کی ایک کڑی ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ ہماری رفتار سست ہے، ورک مربوط نہیں ہے اور اسباب و وسائل کی فراوانی ہمیں میسر نہیں ہے۔ لیکن یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ جدوجہد کا رخ صحیح ہے، سیاسی و گروہی مصلحتوں کی دھند نے منزل کو آنکھوں سے اوجھل نہیں کر دیا اور حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم، حضرت مولانا سمیع الحق مدظلہ العالی، حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ العالی، اور حضرت مولانا محمد اجمل قادری مدظلہ العالی کی قیادت میں علماء حق، دینی کارکنوں اور اسلامی جذبات سے بہرہ ور مسلمانوں کا یہ قافلہ پورے خلوص اور دل جمعی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔

کل پاکستان نظام شریعت کانفرنس کے موقع پر ہم جماعتی قائدین اور کارکنوں کی خدمت میں یہی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وقت کی تیز رفتاری میں اضافہ ہوگیا ہے، باطل قوتوں کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور وطن عزیز پاکستان کے اسلامی تشخص، قومی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے خلاف سازشوں کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے اپنی محنت کی رفتار اور طریق عمل پر نظر ثانی کریں، شب و روز کے معمولات کی ترجیحات بدلیں اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد کو وقت کا اہم ترین تقاضا اور دیگر تمام کاموں سے زیادہ اہم اور ضروری سمجھتے ہوئے نظم و ضبط، حوصلہ و استقامت، ایثار و قربانی اور تدبر و فراست کے ساتھ یہ عزم کرتے ہوئے پیش قدمی کے نئے دور کا آغاز کریں کہ

بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ہی ڈالے جائیں گے