دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے نام ایک اہم خط

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جون ۱۹۹۹ء

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟

گزارش ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کی جدوجہد، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اسلام کے نام پر سرگرمیوں سے روکنے، توہین رسالتؐ پر موت کی سزا اور دیگر نافذ شدہ بعض اسلامی قوانین کے حوالہ سے اس وقت عالمی سطح پر جو کشمکش جاری ہے اس کے بارے میں دو اہم خبریں پیش خدمت ہیں جو تازہ ترین صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ آنجناب سے گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں رائے عامہ کی راہنمائی فرمائیں اور اسلامی قوانین کے تحفظ کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ بے حد شکریہ!

ابوعمار زاہد الراشدی
سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل
نزیل ابوبکر اسلامک سنٹر، ساؤتھال، لندن


’’لندن (سٹاف رپورٹر) برطانوی وزیرمملکت جیف ہون نے پاکستان میں مذہبی عدم رواداری اور اقلیتی گروہوں کے خلاف مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ مذہبی اور انسانی حقوق کا مسئلہ متعدد بار حکومت پاکستان کے ساتھ اٹھا چکا ہے اور اب وہ اس پیش رفت کو بہت قریب سے مانیٹر کرے گا۔ ہاؤس آف کامنز میں پاکستان میں احمدیوں کے حوالے سے انسانی حقوق کے بارے میں پٹنی کے ممبر پارلیمنٹ ٹونی کولمین کے ایما پر ہونے والی بحث کو سمیٹتے ہوئے جیف ہون نے کہا کہ یہ امر باعث پریشانی ہے کہ انہیں ایک دوست ملک سے جس کے ساتھ برطانیہ کے تاریخی، ثقافتی، تجارتی اور دوسرے گہرے رشتے ہیں انسانی حقوق پر بات کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹونی کولمین کی طرح حکومت کو بھی احمدیوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں اور ہندوؤں سمیت دوسری مذہبی اقلیتوں کی پوزیشن پر تشویش ہے۔

جیف ہون نے کہا کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان کے وقت یقین دلایا تھا کہ وہاں ہر مذہب کے لوگوں کو آزادی ہوگی۔ پاکستان کاآئین اس کی عکاسی بھی کرتا ہے لیکن بعض قوانین تشویش کا باعث ہیں جن میں توہین مذہب کے قانون کی دفعہ ۲۹۵ سی بھی ہے جسے کئی بار مذہبی اقلیتوں کو ہدف بنانے کے لیے غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے پاکستان سے بار بار کہا ہے کہ توہین مذہب کے قانون میں ترمیم یا اسے ختم کرے جس کا ہدف احمدی بھی بنے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا اور جنیوا میں انسانی حقوق کے کمیشن کے اجلاس کے دوران یورپی یونین نے توہین رسالت پر سزائے موت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جیف ہون نے کہا کہ احمدی کمیونٹی کا کہنا ہے کہ انہیں مذہبی آزادی نہیں۔ اس طرح احمدیوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کو انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کے بارے میں بھی تشویش ہے کیونکہ توہین مذہب پر گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے جہاں اپیل کا حق نہیں۔ برطانوی حکومت نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ نئے قانون کو ذمہ داری سے منصفانہ طور پر لاگو کرے۔

جیف ہون نے شریعت بل پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے مذہبی اقلیتوں اور خواتین کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے پاکستان سے کہا گیا ہے کہ نیا قانون بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ برطانوی حکومت کو بڑھتی ہوئی مذہبی عدم رواداری خصوصاً ربوہ کا نام تبدیل کرنے پر بھی تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی عدم رواداری، اقلیتی مذہبی حقوق اور انسانی حقوق کا معاملہ سابق وزیرمملکت ڈیرک فیجٹ نے پاکستان کے وزیر قانون انور خالد کے ساتھ اٹھایا تھا جنہوں نے اقدام کا وعدہ کیا تھا، برطانیہ پیش رفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ برطانوی دفتر خارجہ کے حکام نے اقلیتوں کے مذہبی اور انسانی حقوق کا معاملہ گزشتہ ماہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے حکام کے ساتھ بھی اٹھایا تھا۔ ان میں توہین رسالتؐ اور انسداد دہشت گردی کا قانون بھی شامل تھا۔ پاکستانی حکام نے تسلیم کیا تھا کہ مذہبی عدم برداشت ثقافتی اور قانونی مسئلہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل پاکستان پر دباؤ رکھے ہوئے ہے کہ وہ قوانین کا منصفانہ استعمال کرے۔ بحث میں ٹونی کولمین کے علاوہ ٹوری پارٹی کی رکن وجیسیا بائملے نے بھی حصہ لیا۔‘‘

(روزنامہ جنگ، لندن ۔ ۱۱ جون ۱۹۹۹ء)

’’لندن (سٹاف رپورٹر) پاکستان کے پالیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات میاں انوار الحق رامے نے کہا ہے کہ پاکستان میں توہین رسالتؐ کے سلسلہ میں آئندہ جو بھی شکایت آئے گی تو کیس رجسٹر کرنے سے قبل ایک کمیٹی موقع پر جا کر حقائق کا جائزہ لے گی اور اگر شکایت درست ثابت ہوئی تو کیس رجسٹر کیا جائے گا۔ اس کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر، عدلیہ کا نمائندہ، مسلم کرسچین اتحاد کے نمائندے اور بعض مقامی معززین شامل ہوں گے۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد توہین رسالتؐ کے قانون کے غلط استعمال اور دشمنی یا عداوت کی بنیاد پر کیسوں کے غلط اندراج کو روکنا ہے۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذہبی امور کے وزیر راجہ ظفر الحق نے اس سلسلہ میں ایک سمری وزیراعظم کو بھیج دی ہے جس کی منظوری کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اس سے پاکستان کے خلاف بیرون ملک یہ پراپیگنڈا ختم ہو جائے گا کہ وہاں توہین رسالتؐ کے قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور اقلیتوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے لیکن حکومت خاموش ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ توہین رسالتؐ کے قانون کی دفعہ ۲۹۵ سی میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

انوار الحق رامے امریکہ کا دورہ ختم کرنے کے بعد گزشتہ روز لندن پہنچے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عیسائی راہنما بشپ جاوید البرٹ نے ان کے قیام امریکہ کے دوران اس خوشگوار تبدیلی کا معاملہ وہاں کے چرچ رہنماؤں کے سامنے پیش کیا تھا جبکہ کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ اس معاملہ کے ساتھ ساتھ کشمیر کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کے ساتھ ساتھ سینٹ میں نمائندگی دینے پر بھی غور کر رہی ہے، اس مقصد کے لیے سیاسی جماعتوں کو یا تو انہیں نمائندگی دینا ہوگی یا آئین میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔‘‘

(روزنامہ جنگ، لندن ۔ ۱۰ جون ۱۹۹۹ء)