علمِ حدیث کا مختصر تعارف

جناب سرور کائنات، فخر موجودات، شفیع المذنبین، خاتم النبیین، حضرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وازواجہ وبناتہ واتباعہ اجمعین کے بے شمار معجزات میں سے ایک بڑا معجزہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر پہلو کے معاملات تاریخ کے ریکارڈ میں موجود بھی ہیں اور محفوظ بھی۔ آپ جناب نبی کریمؐ کی حیات مبارکہ کے بچپن سے نہیں ولادت سے نہیں ولادت سے پہلے کے حالات سے لے کر حضورؐ کے وصال تک کسی لمحے کے معاملات معلوم کرنا چاہیں آپ کو تاریخ کے ریکارڈ پر ملیں گے۔ یہ جناب نبی کریمؐ کے معجزات میں ایک بڑا معجزہ ہے، اسلام کی صداقت کی دلیلوں میں ایک بڑی دلیل ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں اور محنت میں سے ایک بڑی محنت ہے۔

صحابہ کرامؓ کا کمال یہ ہے، ان کا کارنامہ یہ ہے کہ حضورؐ کی باتیں محفوظ کی ہیں، باتوں کے ساتھ ماحول محفوظ کیا ہے کہ یہ سفر کی بات ہے، یہ حضر کی بات ہے، یہ مکہ کی بات ہے، یہ خیبر کی بات ہے، اور ساتھ باڈی لینگویج بھی محفوظ کی ہے کہ یہ حضورؐ نے ہنستے ہوئے کہی تھی، یہ ڈانٹتے ہوئے کہی تھی، یہ حضورؐ نے ہونٹ ہلاتے ہوئے کہی تھی، یہ کھجوریں کھلاتے ہوئے کہی تھی، پوری کیفیات بھی محفوظ کی ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے ماحول کا فرق بھی محفوظ رکھا ہے۔ یہ بات گھر میں کی تھی، گھر والوں سے پوچھو۔ یہ لڑائی میں کی تھی، لڑائی والوں سے پوچھو۔ یہ مذاکرات میں کی تھی، مذاکرات والوں سے پوچھو۔ یہ دوستوں میں بیٹھ کر گپ شپ میں کی تھی، گپ شپ والوں سے پوچھو۔

اسماء الرجال ایک مستقل فن ہے، کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔ حدیث کے علوم میں ایک علم ہے ’’اسماء الرجال‘‘ بندوں کے نام۔ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے حالات محفوظ ہو گئے اس لیے کہ ان کا نام حضورؐ کی کسی حدیث کی سند میں آتا ہے۔ فلاں جگہ پیدا ہوا تھا، فلاں خاندان ہے، فلاں کام کرتا تھا، اس کی عادتیں یہ تھیں، مزاج یہ تھا، ماحول یہ تھا۔ محدثین نے نہ صرف محفوظ کیا ہے بلکہ اسکین بھی کیا ہے کہ یہ ایسا بندہ تھا، سچ زیادہ بولتا تھا جھوٹ کم بولتا تھا، بولتا تھا یا نہیں بولتا تھا، اس کی عادتیں یہ تھیں، یہ بے پرواہ آدمی تھا یا ذمہ دار آدمی تھا، اس کا پورا بائیوڈیٹا۔ اور ہزاروں نہیں لاکھوں انسان۔ چھٹی صدی کے، چوتھی صدی کے، تیسری صدی کے، پانچویں صدی کے۔

جناب نبی کریمؐ کے ارشادات، حضورؐ کے معمولات، حضورؐ کی کیفیات صحابہ کرامؓ نے جس اہتمام کے ساتھ محفوظ کیے ہیں اور امت کے محدثین نے ان کی درجہ بندی کر کے ان کی اسکریننگ کر کے جو کھرا کھوٹا سب واضح کیا ہے یہ اسلام کی صداقت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے، حضورؐ کے معجزات میں سے ایک بڑا معجزہ ہے، اور اس کو علمِ حدیث کہتے ہیں۔