مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ مارچ ۲۰۰۴ء

مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ کی وفات کی خبر مجھے سیالکوٹ سے ظفروال جاتے ہوئے فون پر ملی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک عرصہ سے علیل اور صاحبِ فراش تھے۔ جنازے میں تو شرکت نہ ہو سکی مگر ان کی یاد جب بھی ذہن میں آتی ہے دل سے بے ساختہ ان کے لیے دعا نکلتی ہے۔ ان کا تعلق اہل حدیث مکتبہ فکر سے تھا اور وہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے رفقاء میں سے تھے۔ البتہ تمام زندگی مجلس احرار اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ گزری اور وہ تحفظِ ختم نبوت کے محاذ پر ہمیشہ سرگرم عمل رہے۔

میں نے جب مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ کو پہلی بار دیکھا تو یہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کا دورِ حکومت تھا۔ ۱۹۶۲ء کے آئین کے نفاذ کے ساتھ مارشل لاء ختم ہوگیا تھا، سیاسی سرگرمیوں کی بحالی کا زمانہ تھا، دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مجلسِ احرارِ اسلام بھی خود کو ازسرنو منظم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔ میں ان دنوں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں زیر تعلیم تھا اور دفتر احرار گوجرانوالہ میں آنا جانا رہتا تھا۔ میں احرار کے دورِ عروج کی تاریخ کا مطالعہ کر چکا تھا اس لیے احرار رہنماؤں کے ساتھ طبعی مناسبت زیادہ تھی۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزند جانشین مولانا سید ابوذر عطاء المنعم بخاریؒ مجلس احرار اسلام پاکستان کی تنظیم نو میں پیش پیش تھے اور انہیں اس وقت موجود بزرگ احرار رہنما شیخ حسام الدینؒ اور ماسٹر تاج الدین انصاریؒ کی سرپرستی اور پشت پناہی حاصل تھی۔ اتفاق سے زندگی میں پہلی بار جو جلسہ میں نے سنا وہ گوجرانوالہ میں جی ٹی ایس کے اڈہ کے ساتھ مین روڈ پر میاں افتخار الدین مرحوم کی یاد میں ہونے والا جلسہ تھا جس کی صدارت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ نے کی اور خطاب کرنے والوں میں شیخ حسام الدینؒ اور آغا شورش کاشمیریؒ شامل تھے۔ اس جلسہ میں آغا شورش کاشمیریؒ کی خطابت کی گھن گرج کا نقشہ آج تک ذہن میں محفوظ ہے اور ان کا ایک جملہ ذہن کی دیوار پر ایک بینر کی طرح ابھی تک آویزاں ہے۔ انہوں نے مارشل لاء دور کی سیاسی پابندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ

’’ایک طویل عرصہ کے بعد آپ سے مخاطب ہوں، اس دوران وہ صدر ایوب بنے بیٹھے رہے اور ہم صبرِ ایوب بنے بیٹھے رہے‘‘۔

حکیم عبد الرحمان آزاد مرحوم کے ساتھ میرا ابتدائی تعلق اس دور میں قائم ہوا جب وہ مجلس احرار اسلام مغربی پاکستان کے صدر تھے اور جانباز مرزا مرحوم ان کے سیکرٹری جنرل تھے۔ جبکہ میں ایک عام دینی کارکن اور طالب علم تھا اور میرے لیے اس دور میں جمعیۃ علمائے اسلام، مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں ہوا کرتا تھا۔ میں سب کے جلسوں میں جاتا، سب کی محافل میں شرکت کرتا اور سب کے پروگراموں میں ایک کارکن کے طور پر کام کرنے میں خوشی محسوس کرتا۔ میرے لیے یہ بات اطمینان کا باعث ہے کہ کم و بیش چالیس برس کا عرصہ گزرنے اور درمیان میں نشیب و فراز کے کئی صبر آزما مراحل گزر جانے کے باوجود اب بھی میری قلبی کیفیت وہی ہے بلکہ اس میں مزید وسعت پیدا ہوئی ہے کہ دینی جدوجہد کے کسی بھی شعبہ میں کوئی پیش رفت دیکھتا ہوں تو جماعتی بلکہ مسلکی دائروں کو بھی دیکھے بغیر تعاون کی حتی الوسع کوشش کرتا ہوں۔

حکیم عبد الرحمان آزادؒ کے ساتھ میرا عملی تعلق ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران قائم ہوا جب میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی نیابت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ حکیم صاحب مرحوم کو ضلع گوجرانوالہ کے لیے کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا اور مجھے ان کی نیابت سونپی گئی۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ گزشتہ ایک صدی سے دینی تحریکات کا مرکز چلی آرہی ہے۔ اس مناسبت سے تحریک ختم نبوت کی عملی سرگرمیاں زیادہ تر میرے ذریعہ سرانجام پاتی تھیں جوحکیم عبد الرحمان آزاد مرحوم کی بزرگانہ رہنمائی میں ہوتی تھیں۔ میری یہ کسی دینی تحریک میں پہلی شمولیت تھی جبکہ وہ پرانے جہاندیدہ اور تجربہ کار احراری تھے۔ انہیں ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ڈکٹیٹر کے خطاب سے نوازا گیا تھا جو آخر وقت تک ان کے نام کے ساتھ تعارف کے طور پر وابستہ رہا۔ میں نے اسی دور میں ان سے بہت کچھ سیکھا اور انہوں نے بھی بھرپور شفقت سے نوازا۔ تحریکوں کا اتار چڑھاؤ، عوام کے جذبات کو صحیح طور پر استعمال میں لانے او رمذاکرات کی میز پر گفتگو کے داؤ پیچ لڑانے کے فن سے وہ آشنا تھے۔ اور میری خوش قسمتی تھی کہ اس تحریک میں مجھے حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور حضرت حکیم عبد الرحمان آزادؒ جیسے جہاندیدہ بزرگوں کی عملی رہنمائی اور سرپرستی حاصل تھی۔ اس لیے نہ صرف عوام کو بلکہ خود مجھے بھی اس تحریک میں نووارد ہونے کا لمحہ بھر احساس نہ ہوا اور بحمد اللہ تعالیٰ ہم اپنے ضلع میں تحریک کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ کے ساتھ دیگر دینی تحریکات میں بھی شرکت کا موقع ملتا تھا اور وہ کسی بھی دینی جدوجہد میں گوجرانوالہ کی قیادت میں صف اول میں ہوتے تھے جبکہ تحریک ختم نبوت کے ساتھ ان کی وابستگی کا رنگ ہی اور ہوتا تھا۔ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے تھے، انہوں نے قادیانیوں کے ساتھ کئی کامیاب مناظرے بھی کیے، مجلس تحفظ ختم نبوت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کو باہم مربوط رکھنے اور مشترکہ جدوجہد منظم کرنے میں ہمیشہ سرگرم رہتے۔ گفتگو کا لہجہ نرم رکھتے مگر موقف میں لچک نہیں ہوتی تھی۔ کارکنوں کی قدر کرتے تھے اور ان کا تحفظ بھی کرتے تھے۔ تحریک ختم نبوت کے ایک کارکن عبد الرزاق خان نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ وہ شہر کی دیواروں پر ختم نبوت کے حوالہ سے اشتہار لگا رہے تھے کہ پولیس انہیں گرفتار کر کے لے گئی اور تھانے میں بند کر دیا۔ حکیم صاحب کو پتہ چلا تو ڈی سی کو فون کیا کہ ان کارکنوں کو اشتہار لگانے کے لیے میں نے بھیجا تھا اس لیے اگر گرفتار کرنا ہے تو مجھے گرفتار کرو، ان غریب کارکنوں کو کیوں پکڑ لیا ہے، اس پر ان کارکنوں کو چھوڑ دیا گیا۔

۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی مجھے مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا بلکہ سیالکوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ اسلم قریشی کے اچانک غائب ہونے پر یہ تحریک ہم نے ملک کر منظم کی تھی اور اس میں حکیم صاحب مرحوم نے قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ ہمارے ساتھ گوجرانوالہ ڈویژن کی سطح پر سیالکوٹ کے پیر بشیر احمد گیلانی مرحوم، جناب نعیم آسی مرحوم، مولانا محمد زندر قاسمیؒ اور ان کے علاوہ بریلوی مکتب فکر کے مولانا عبد اللطیف چشتیؒ اور ہمارے محترم دوست مولانا خالد حسن مجددی بھی سرگرم رہے۔ بحمد اللہ تعالیٰ یہ معرکہ ہم نے اس طرح سر کیا کہ ملک گیر تحریک کے دباؤ پر صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ قادیانیوں کو اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے اور اسلامی اصطلاحات و شعائر کے استعمال سے روک دیا جس کے نتیجے میں قادیانیوں کو اپنا ہیڈکوارٹر لندن میں منتقل کرنا پڑا اور پاکستان میں اپنی سرگرمیاں محدود کرنا پڑیں۔ اس تحریک میں مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ کا کلیدی کردار تھا اور وہ اس کے سرگرم رہنماؤں میں سے تھے۔

مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ کی عمر میرے اندازے میں نوے برس سے اوپر ہوگی۔ وہ مسلکاً اہل حدیث تھے مگر اپنے مسلک پر پختگی کے ساتھ کاربند رہنے کے باوجود مسلکی تعصب سے کوسوں دور تھے۔ حضرت والد صاحب مدظلہ کے ساتھ بہت محبت رکھتے تھے اور مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ تم میرے بھتیجے لگتے ہو جبکہ میری بھی کوشش ہوتی تھی کہ انہیں چچا کا احترام دوں اور ان سے دعائیں حاصل کروں۔ آج حکیم صاحب ہم سے رخصت ہوگئے ہیں اور ان کے ساتھ ہی وہ پرانی کھیپ تقریباً ختم ہوگئی جس کے جلو میں ہم لوگ پورے اعتماد کے ساتھ دینی تحریکات میں حصہ لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات قبول فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
Flag Counter