تعلیم نسواں کی اہمیت و تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
مدرسہ ابوبکر صدیقؓ، جدہ، سعودی عرب
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۰ء

(مدرسہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ، جدہ، سعودی عرب میں خواتین کی نشست سے خطاب جسے تحریری شکل دی گئی۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میرے لیے یہ خوشی اور سعادت کی بات ہے کہ مدرسہ ابوبکر صدیقؓ جدہ میں دین کے حوالے سے آپ سے چند باتیں کہنے کا موقع مل رہا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارا جمع ہونا قبول فرمائے، کچھ مقصد کی باتیں کہنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر دینِ حق کی جو بات علم میں آئے سمجھ میں آئے اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق سے بھی نوازے۔ کسی لمبی تمہید کے بغیر دو تین باتیں آپ سے عرض کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات تو اس خوشی کا اظہار ہے کہ آپ اس سمر کورس (Summer Course) میں شریک ہیں جو دین کی تعلیم اور دینی معلومات کے حوالے سے ہے۔ آج کے دور میں جبکہ ہر مسلمان اپنے اپنے معاملات میں بے حد مصروف ہے یہ جو ریفریشر کورسز اور سمر کورسز وغیرہ ہیں یہ بہت ضروری ہیں اور بہت زیادہ فائدہ مند بھی ہیں۔ اگرچہ اصل ضرورت تو باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی ہے لیکن باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا وقت اور گنجائش نہ ہو اور اس کی مہلت نہ ملے تو کم از کم اس طرح کے چھوٹے کورسز یعنی ایک ہفتے کا، ایک مہینے کا، دو ماہ کا، ان سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہے۔ دین کی معلومات حاصل کرنے سے ذوق بنتا ہے، حصولِ علم کا شوق پیدا ہوتا ہے اور انسان مزید علم و معلومات حاصل کرنے کے مواقع تلاش کرتا ہے۔

چنانچہ اس بات پر میں خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ خواتین اور بچیاں دینی معلومات کے حصول کے لیے اِس ایک مہینے کے سمر کورس میں شریک ہیں۔ میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ اِس کورس سے جتنا زیادہ استفادہ کر سکیں جتنی زیادہ معلومات حاصل کر سکیں اور جتنا زیادہ اپنے دینی علم میں اضافہ کر سکیں اس کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ اور اسے اپنے دین و دنیا اور اپنی آخرت کے لیے بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

ضروریاتِ دین کا علم حاصل کرنا

دینی تعلیم اور دین کے بارے میں معلومات کا حصول ہمارے فرائض میں سے ہے۔ جبکہ ضروریاتِ دین کا علم فرضِ عین کا درجہ رکھتا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم و مسلمۃ کہ علم کا حاصل کرنا مسلمان مرد اور عورت دونوں کے لیے ضروری ہے۔ ضروریاتِ دین سے مراد وہ علم ہے جس کا حاصل کرنا ہرمسلمان پر فرض ہے۔

(۱) عقائد

پہلا یہ کہ مسلمان کے عقائد صحیح ہوں اور اسے صحیح و غلط عقیدے میں فرق کی پہچان ہو۔ یعنی وہ توحید و شرک اور حق و باطل میں تمیز کر سکتا ہو اور سنت و بدعت کا فرق سمجھ سکتا ہو۔

(۲) عبادات

ہر مسلمان کو فرائض اور واجبات کا علم ہو کہ میرے ذمے دین کی طرف سے کون سی باتیں فرض ہیں اور کونسی باتیں واجب ہیں۔ مثال کے طور پر:

  • نماز کیسے صحیح ادا ہوتی ہے؟
  • روزہ اپنی شرائط کے ساتھ کس طرح صحیح طور پر رکھا جاتا ہے؟
  • حج کس پر فرض ہے اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
  • صاحبِ نصاب کسے کہتے ہیں؟ زکوٰۃ کس کس مد میں کتنے فیصد ادا ہوتی ہے اور اس کے صحیح مصارف کیا ہیں؟

ان باتوں کی معلومات حاصل کرنا ضروریات دین کا حصہ ہے۔ ظاہر بات ہے کہ نماز کا طریقہ صحیح معلوم نہیں ہوگا تو نماز صحیح نہیں پڑھی جائے گی۔ نماز فاسد ہونے کے مسائل صحیح طور پر معلوم نہیں ہوں گے تو نماز خراب ہونے کا پتہ نہیں چلے گا۔ یہی صورت حال دوسری عبادات یعنی روزہ، حج اور زکوٰۃ کی بھی ہے۔

(۳) حلال و حرام

اسی طرح حلال و حرام کا فرق معلوم ہونا ہر مسلمان کا فریضہ اور ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ کونسی چیز حلال ہے، کونسی چیز حرام ہے اور کونسی چیز مکروہ ہے۔ کونسی چیز کھانا جائز ہے اور کون سی چیز استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ باتیں معلوم ہوں گی تو ایک مسلمان حلال و حرام میں فرق کر سکے گا، اگر معلوم نہیں ہوں گی تو ظاہر ہے یہ فرق نہیں کر سکے گا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں مجرم ٹھہرے گا۔ چنانچہ حلال و حرام کے مسائل معلوم ہونا بھی مسلمان مرد و عورت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور فرض عین ہے۔

(۴) معاملات و حقوق

اور پھر معاملات کا مسئلہ یعنی باہمی لین دین، ایک دوسرے سے تعلقات، رشتوں کی پہچان اور برتاؤ وغیرہ۔ یعنی ماں باپ، بیٹا بیٹی، بہن بھائی، میاں بیوی اور دیگر رشتہ دار ، اسی طرح پڑوسی اور محلے دار وغیرہ۔ ان سب کے آپس کے تعلقات اور ایک دوسرے کے ساتھ معاملات وغیرہ کا لحاظ رکھنا بھی دین کا حصہ ہے اور ان میں کمی و کوتاہی پر بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں گرفت ہوگی۔ ماں باپ کی حق تلفی ہو یا اولاد کی، رشتہ داروں کی حق تلفی ہو یا پڑوسیوں کی، ان کے بارےمیں پوچھاجائے گا۔ بیوی خاوند کی حق تلفی کرے گی تب پوچھا جائے گا، خاوند بیوی کی حق تلفی کرے گا تب پوچھا جائے گا۔ آپس کے وہ معاملات جن کے متعلق قیامت کے دن پوچھا جائے گا اور جن کا حساب دینا ہوگا ان کا جاننا ضروری ہے اور مسلمان کے فرائض میں شامل ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ نظام زندگی صحیح طور چل سکتا ہے اور نہ ہی اخروی نجات کی توقع کی جا سکتی ہے۔

(۵) اخلاقیات

اس کے بعد اخلاقیات کا درجہ آتا ہے۔ ایک ہے معاملات کے شرعی و قانونی تقاضے پورے کرنا، اور ایک ہے اس سے بڑھ کر احسن طریقے سے ، رواداری اور قربانی کے جذبے کے ساتھ دوسروں کو سہولت دے کر معاملات کرنا۔ یعنی حسن سلوک، رحم دلی اور در گذر وغیرہ کی خصوصیات کا حامل ہونا۔ اس کا بھی ہمارے دین سے گہرا تعلق ہے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اس کا بہترین مظہر ہے۔

میں نے عرض کیا کہ (۱) ایمانیات یعنی عقائد ، (۲) عبادت یعنی فرائض و واجبات ، (۳) حلال و حرام ، (۴) حقوق و معاملات ، (۵) اخلاقیات، یہ دین کے پانچ اہم شعبے ہیں جن کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ یعنی وہ علم جس کے ساتھ مرد یا عورت ایک اچھے مسلمان اور انسان کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکے۔

مرد و عورت کے لیے علم کی یکساں اہمیت

علم کی اہمیت جس طرح ایک مرد کے لیے ہے اسی طرح ایک عورت کے لیے بھی ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیئس سال تک جو دینی تعلیم دی اس سے مردوں نے بھی فائدہ اٹھایا اور عورتوں نے بھی۔ جس طرح مردوں نے آپؐ کی تعلیم سے استفادہ کر کے آگے اور لوگوں کو تعلیم دی اسی طرح عورتوں نے بھی آپؐ کی تعلیم سے استفادہ کر کے آگے دوسروں تک یہ علم پہنچایا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست استفادہ کرنے والوں میں مرد ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور عورتیں بھی سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ حضورؐ سے روایت کرنے والوں میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی۔ محدثین نے روایات بیان کرتے ہوئے مرد و عورت میں یہ فرق نہیں کیا کہ مرد کی روایت زیادہ وزنی ہے اور عورت کی روایت کی حیثیت وہ نہیں ہے۔ یعنی جو درجہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی روایت کا ہے وہی درجہ حضرت عائشہؓ کی روایت کا بھی ہے۔ جو حضرت عمر فاروقؓ کی روایت کا درجہ ہے وہی حضرت حفصہؓ کی روایت کا درجہ ہے۔ جو درجہ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کا ہے وہی درجہ حضرت ام شفاءؓ کی روایت کا ہے۔ چنانچہ علم کے حصول میں اور علم کے آگے پہنچانے میں، روایت لینے میں اور روایت بیان کرنے میں، تعلیم حاصل کرنے میں اور تعلیم دینے میں، مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں بہت سے علمی حلقے تھے۔ ان میں سے چند علمی حلقے بڑے سمجھے جاتے تھے جن میں ایک بڑا حلقہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی تھا۔

(۱) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا حلقہ،

(۲) حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا حلقہ،

(۳) حضرت ابو الدرداءؓ کا حلقہ،

(۴) حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا حلقہ،

(۵) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا حلقہ،

(۶) ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا حلقہ و غیر ذلک۔

حضرت عائشہؓ کا مقام

حضرت عائشہؓ صحابہ کرامؓ کے چھ بڑے محدثین میں اور سات بڑے مفتیان میں شمار ہوتی ہیں۔ یعنی حضرت عائشہؓ حدیث رسولؐ کے چھ بڑے راویوں میں سے ایک ہیں اور سات بڑے مفتیان میں سے ایک ہیں۔ اس لیے جب مجھے بہنوں او ربیٹیوں سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے تو یہ بات ضرور بتاتا ہوں کہ حضرت عائشہؓ اتنی بڑی مفتیہ تھیں کہ اپنے معاصر مفتیوں کے فتوؤں پر نقد کر کے ان کے مقابلے میں فتویٰ دیتی تھیں ، یہ کہہ کر کہ اُن کا فتویٰ غلط ہے اور میرا فتویٰ صحیح ہے۔ اور پھر حضرت عائشہؓ کا فتویٰ چلتا بھی تھا اور دلائل کی بنیاد پر تسلیم بھی کیا جاتا تھا۔ اس پر امام سیوطیؒ کا ایک مستقل رسالہ ہے ’’الاصابہ فی ما استدرکت عائشۃ علی الصحابہ‘‘ کہ حضرت عائشہؓ نے اپنے معاصر مفتیوں یعنی حضرت عمرؓ فاروق، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ جیسے چوٹی کے صحابہ کے فتاویٰ پر نقد کی اور ان کے مقابلے میں فتاویٰ صادر کیے۔ حضرت عائشہؓ نے جو فتوے اپنے معاصر مفتیوں کے فتوؤں پر نقد کر کے دیے وہ امام سیوطیؒ نے اپنے اس رسالے میں جمع کیے ہیں۔ حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ نے حضرت عائشہؓ کی سیرت پر اردو میں جو کتاب لکھی ’’سیرتِ عائشہؓ‘‘ انہوں نے اس میں امام سیوطیؒ کا یہ رسالہ اردو ترجمے کے ساتھ شامل کیا ہے۔

صحابہ کرامؓ میں جہاں مردوں کے علمی مراکز تھے اور تعلیمی درس گاہیں تھیں وہاں خواتین کی درس گاہیں بھی تھیں۔ ان میں ایک بڑی درس گاہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی تھی۔ تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں حضرت عائشہؓ کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ حضورؐ کے وصال کے بعد تقریباً چالیس سال تک حضرت عائشہؓ کا یہ معمول رہا کہ وہ اپنے حجرے میں صبح نماز کے بعد اپنے معمولات اور اشراق وغیرہ سے فارغ ہو کر کمر ے کا دروازہ کھولتی تھیں جس کے اندرپردہ لٹکا ہوتا تھا۔ دروازہ کھل جانے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اماں جان اپنی مسند پر بیٹھ گئی ہیں۔ طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ لوگ آتے تھے اور دروازے کے باہر کھڑے ہو کر سلام کہتے اور تعارف کراتے کہ میں فلاں شخص ہوں اور اِس مسئلے کے لیے آیا ہوں۔ حضرت عائشہؓ اجازت دیتیں تو آنے والا ایک شخص ہوتا یا ایک سے زیادہ، وہ آکر کمرے کے اندر پردے کے دوسری طرف بیٹھ جاتے۔ کوئی قرآن کریم کی آیت کا مطلب پوچھتا، کوئی کسی حدیث کے متعلق دریافت کرتا، کوئی وراثت کا مسئلہ پوچھتا اور کوئی اپنے کسی شرعی معاملے میں راہنمائی لیتا۔ چنانچہ ظہر تک یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا اور ظہر کے بعد یہ دروازہ بند ہو جاتا تھا۔ کم و بیش چار عشروں تک ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ معمول رہا۔

تاریخ میں ایک دلچسپ واقعہ مذکور ہے۔ حضرت عائشہؓ کے ایک بھانجے تھے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ۔ حضرت عائشہؓ کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی لیکن ان کی کنیت ام عبد اللہ مذکور ہے جو ان کے اسی بھانجے کے حوالے سے ہے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت عروہ بن زبیرؓ نے حضرت عائشہؓ کی گود میں پرورش پائی۔ ماں اور خالہ ایک ہی بات ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ ام عبد اللہ کہلاتی تھیں۔ پھر ایک زمانے میں حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ امیر المؤمنین ہوئے اور مسلمانوں کے حکمران بنے۔ حضرت عائشہؓ کے پاس دولت بہت آتی تھی اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہؓ کو دل بھی بڑا دیا تھا کہ آپؓ بہت سخی تھیں۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ یہ دو صفات کم ہی جمع ہوتی ہیں کہ دولت بھی ہو اور دل بھی۔ کسی کے پاس دولت ہوتی ہے تو دل نہیں ہوتا اور اگر دل ہوتا ہے تو دولت نہیں ہوتی۔ لیکن حضرت عائشہؓ کو اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں عطا فرمائے تھے۔ آپؓ کے پاس بہت ہدیے اور عطیات آتے تھے لیکن شام کے وقت گھر میں کچھ نہیں ہوتا تھا۔ حضرت عائشہؓ کی ایک شاگرد تھیں عمرہ بنت عبد الرحمنؓ جو حضرت عائشہؓ کی علمی جانشین بھی تھیں۔ یہ تابعیہ ہیں اور حضرت اسعد بن زرارۃؓ کی پوتی ہیں۔ عمرہؒ حضرت عائشہؓ کا مزاج بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایک دفعہ کسی نے ایک لاکھ درہم ہدیہ بھیجا۔ یہ ہدیہ تھا صدقہ نہیں تھا۔ ایک درہم ساڑھے تین ماشے چاندی کا ہوتا تھا۔ میں نے کچھ عرصہ قبل اس کا حساب لگوایا تھا یہ تقریباً ایک یورو کے برابر بنتا ہے، یعنی آج کل کے حساب سے یہ امریکی ڈالر سے بڑا اور برطانوی پاؤنڈ سے چھوٹا ہے۔ عمرہؓ فرماتی ہیں کہ سارا دن ہماری یہ ڈیوٹی رہی کہ یہ برتن بھر کر فلاں گھر میں دے آؤ، فلاں یتیم کے گھر میں، فلاں بیوہ کے گھر میں، فلاں مسکین اور ضرورت مند کے گھر میں، فلاں معذور کے گھر میں اور فلاں مجاہد کے گھر میں۔ ہم گھر کے جتنے افراد تھے وہ سارا دن یہی کام کرتے رہے۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ شام سے پہلے وہ ساری رقم تقسیم ہو چکی تھی۔ شام کو جب روزہ کھولنے کا وقت آیا تو عمرہ کہتی ہیں کہ گھر میں روزہ کھولنے کے لیے کچھ نہیں تھا، میں نے کہا کہ اماں جان گھر میں تو روزہ کھولنے کے لیے کھجور بھی نہیں ہے۔ حضرت عائشہؓ نے ڈانٹا کہ پہلے بتاتی کہ میں دس پندرہ درہم بچا لیتی جس سے ہم کھجوریں منگوا لیتے، اب میرے پاس کچھ نہیں ہے اس لیے اب ہم پانی سے روزہ کھولیں گے۔

یہ حضرت عائشہؓ کا مزاج تھا۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے ایک دن کہہ دیا کہ خالہ سارے پیسے لوگوں میں بانٹ دیتی ہیں اور اپنے لیے بھی نہیں رکھتیں اور گھر کا بھی خیال نہیں کرتیں۔ اس لیے میں اب خالہ کا ہاتھ روکوں گا یعنی خالہ کو سارے پیسے تقسیم نہیں کرنے دوں گا۔ اس پر حضرت عائشہؓ ناراض ہوئیں اور فرمایا کہ اللہ مجھے دیتا ہے اور میں اللہ کے بندوں کو دیتی ہوں، یہ عبد اللہ کون ہوتا ہے میرا ہاتھ روکنے والا۔ اس قدر ناراض ہوئیں کہ قسم اٹھالی کہ آج کے بعد عبد اللہ سے کلام نہیں کروں گی اور عبد اللہ کو میرے گھر میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس سے مسئلہ پیدا ہوگیا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ بھانجے تھے اور گود میں پرورش پائی تھی۔ انہیں پریشانی لاحق ہوگئی، پہلے خود پیغامات بھیجتے رہے اور پھر سفارشی درمیان میں ڈالتے رہے لیکن حضرت عائشہؓ نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، عبد اللہ کو یہ کہنے کا حوصلہ کیسے ہوا کہ یہ مجھے اللہ کی دی ہوئی دولت کو اللہ کے بندوں میں تقسیم نہیں کرنے دے گا۔ محدثین لکھتے ہیں کہ جب ناراضگی حد سے بڑھی اور معاملہ لمبا ہوگیا تو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے دوستوں سے مشورہ کیا کہ اماں جان کو کیسے راضی کروں۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ ہماری نظر میں تو ایک ہی صورت ممکن ہے، وہ یہ کہ اگر حضورؐ کے ننھیال کے خاندان یعنی حضرت آمنہؓ کے خاندان میں سے کوئی بزرگ شخص اگر حضرت عائشہؓ کی خدمت میں آگیا تو اس کی بات حضرت عائشہؓ رد نہیں کر سکیں گی، اس کے علاوہ تو یوں لگتا ہے کہ اور کسی کی بات وہ نہیں مانیں گی۔ یعنی بنو نجار سے کوئی بزرگ اگر آگئے تو بات بن جائے گی۔

چنانچہ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے حضورؐ کے ننھیال خاندان میں سے دو بزرگ تلاش کیے اور حضورؐ کی خدمت میں سفارش کے لیے لائے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کو حضرت عائشہؓ کی طرف سے گھر کے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی، کسی طرح اندر آئیں گے تبھی معافی کی درخواست کر سکیں گے۔ ان بزرگوں میں ایک مسور بن مخرمہؓ اور دوسرے عبد الرحمان بن سمرہؓ تھے۔ انہوں نے دروازے سے باہر کھڑے ہو کر کہا، السلام علیکم ام المؤمنین۔ حضرت عائشہؓ نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا کون۔ انہوں نے بتایا کہ ہم کچھ آدمی آپ کی خدمت میں آئے ہیں، کیا ہم اندر آجائیں؟ حضرت عائشہؓ نے اجازت دے دی۔ باباجی نے پوچھا کیا ہم سارے ہی آجائیں؟ حضرت عائشہؓ نے کہا، ہاں ٹھیک ہے آجائیں۔ اب ان سب میں حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ بھی تھے۔ چنانچہ اس حیلے سے وہ عبد اللہؓ کو اندر لے کر گئے۔ باباجی نے عبد اللہ سے کہا کہ ہم بات کریں گے اور جب بات کے دوران ایک خاص مقام پر پہنچیں گے تو تم پردے کے پیچھے اندر چلے جانا اور خالہ جی کے قدموں میں جا کر گر جانا۔ چنانچہ اس حیلے اور تدبیر سے خالہ کو راضی کیا گیا۔ حضرت عائشہؓ نے قسم توڑی اور کفارہ ادا کیا، ایک روایت میں یہ ہے کہ اس کفارے میں چالیس غلام آزاد کیے۔

جن لوگوں نے حضرت عائشہؓ سے سب سے زیادہ استفادہ کیا میں اس وقت ان میں سے چند افراد کا حوالہ دوں گا۔ ایک تو حضرت عروہ بن زبیرؓ ہیں جو کہ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے چھوٹے بھائی تھے۔ دوسرے حضرت عائشہؓ کے بھتیجے حضرت قاسم بن محمدؓ، اور تیسری وہ خاتون عمرہؓ ؒبنت عبد الرحمن جن کا میں نے پہلے ذکر کیا۔ ان تینوں کو حضرت عائشہؓ کے علوم کا وارث سمجھا جاتا ہے۔ عروہؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں قرآن مجید کی تفسیر، حدیث، عرب قبائل کے نسب نامے، شعر و ادب، وراثت اور طب، ان علوم میں حضرت عائشہؓ سے بڑا کوئی عالم نہیں دیکھا۔ جتنے اشعار حضرت عائشہؓ کو یاد تھے اس زمانے میں شاید کسی اور کو اتنے یاد ہوں۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ تابعین کے امام سمجھے جاتے ہیں۔

مجھ سے کوئی پوچھتا ہے کہ عورتوں کی تعلیم کا نصاب کیا ہونا چاہیے تو میں کہا کرتا ہوں کہ وہی جو حضرت عائشہؓ کا تھا۔ یعنی عورتیں کیا کچھ پڑھ سکتی ہیں تو میں کہا کرتا ہوں کہ وہی کچھ جو حضرت عائشہؓ نے پڑھا تھا۔ اور انہوں نے یہ سب کچھ حضورؐ کے گھر میں ہی پڑھا تھا۔ کم عمری میں وہ حضورؓ کے گھر آگئی تھیں اور پھر ۹ سال تک علم حاصل کیا۔ اسی طرح ایک بڑے صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ہیں جو کہ حضر ت عائشہؓ کے معاصرین میں سے ہیں۔ عروہؓ کا شمار چھوٹو ں میں تھا، وہ حضرت عائشہؓ کے بھانجے تھے اور شاگرد بھی تھے۔ ایک شاگرد تو یہ بات کہے گا ہی کہ میرا استاد سب سے زیادہ علوم کا حامل ہے۔ اصل رائے تو وہ ہے جو ایک معاصر اپنے معاصرین میں سے کسی کے بارے میں دے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ خود فقیہ ہیں، حدیث کے بڑے راویوں میں سے ہیں اور بڑے صحابہؓ میں سے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ما اشکل علینا اصحاب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم قط الا وجدنا فیہ عندہا علما کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم صحابہ کرامؓ کسی مشکل میں پھنسے ہوں اور حضرت عائشہؓ کے پاس راہنمائی اور علم نہ ملا ہو۔یہ حضرت عائشہؓ کی علمی عظمت کا ایک معاصر کی طرف سے اعتراف ہے۔

میں یہ عرض کر رہا تھا کہ نبی کریمؐ سے استفادہ کرنے والوں میں جہاں مرد تھے وہاں عورتیں بھی تھیں، جہاں مردوں کی درسگاہیں تھیں وہاں عورتوں کی درسگاہیں بھی تھیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پردے کا اہتمام تعلیمی سلسلے میں حائل ہے۔ میں یہ کہا کرتا ہوں کہ حضرت عائشہؓ نے چالیس سال تک پڑھایا اور امت کے ایک بڑے حصے نے ان سے استفادہ کیا لیکن اس میں پردہ کبھی رکاوٹ نہیں بنا، تعلیم بھی ہوئی اور پردہ بھی رہا۔

حضرت عائشہؓ ہر سال حج پر جاتی تھیں۔ ایک مقصد تو حج ہوتا تھا جبکہ دوسرا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان لوگوں کی رہنمائی کی جائے جو حج کے موقع پر دنیا بھر سے آتے تھے اور انہیں مسائل وغیرہ پوچھنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ چنانچہ اہل علم کو اس لیے بھی جانا چاہیے کہ لوگوں کی راہنمائی ہو۔ کہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا تھا کہ منیٰ میں چار پانچ بزرگوں کے بڑے علمی مراجع ہوتے تھے۔ یہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، حضرت ابو الدرداءؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت عائشہؓ کے خیمے ہوتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اس سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ حضرت عائشہؓ کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ حج کے موسم میں سب سے بڑا اور بھرپور علمی مرکز حضرت عائشہؓ کا خیمہ ہوتا تھا۔ ترتیب یہ ہوتی تھی کہ ایک بہت بڑا خیمہ لگایا جاتا تھا جس کے درمیان میں ایک چھوٹا گول خیمہ ہوتا تھا جس میں ایک دو آدمیوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ حضرت عائشہؓ خود اس چھوٹے خیمے میں بیٹھتی تھیں جبکہ لوگ باہر بڑے خیمے میں آتے تھے اور آکر عرض کرتے تھے کہ اماں جان یہ مسئلہ ہے آپ کی راہنمائی چاہیے۔ اور پھر ایک وقت آیا کہ منیٰ میں دو بڑے علمی خیمے ہوتے تھے۔ ایک حضرت عائشہؓ کا اور دوسرا حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا۔ چنانچہ راہنمائی میں تعلیم میں فتوے میں اور لوگوں کو دین سکھانے میں حضرت عائشہؓ کا کردار دوسرے اکابر صحابہؓ سے کم نہیں تھا۔

امام مالک بن انسؒ کی محدثہ بیٹی

امام مالک بن انسؒ محدثین میں ایک بڑے محدث گزرے ہیں اور اہل سنت کے چار بڑے ائمہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ امام دار الھجرہ اور امام مدینہ کے ناموں سے جانے جاتے ہیں۔ امت کے صف اول کے محدث ہیں اور صف اول کے فقیہ ہیں۔ امام صاحبؒ نے ساری زندگی مسجد نبوی میں حدیث پڑھائی جہاں بڑے بڑے محدثین ان کے سامنے بیٹھ کر ان سے حدیث پڑھا کرتے تھے۔ قاضی عیاضؒ نے لکھا ہے کہ ان کی مسند کی ترتیب یہ تھی کہ شاگرد آتے تھے اور حدیث سناتے تھے، سنانے والا کوئی غلطی کرتا تو امام صاحبؒ اس کی نشاندہی کرتے اور کسی بات کی وضاحت کی ضرورت ہوتی تو بتاتے۔ امام مالکؒ کی مسند کے ساتھ ایک پردہ لٹکا ہوتا تھا جس کے پیچھے ایک خاتون بیٹھتی تھیں۔ یہ امام صاحبؒ کی اپنی بیٹی تھیں۔ ہوتا یوں تھا کہ کبھی پڑھنے والے سے کوئی غلطی ہو جاتی اور امام صاحبؒ کا اس طرح دھیان نہ جاتا تو امام صاحب کی بیٹی پردے کے پیچھے سے تپائی کھٹکھٹا کر توجہ دلاتیں کہ غلطی ہوگئی ہے۔ وہ خود منہ سے کچھ بولتی نہیں تھیں لیکن توجہ دہی کے لیے تپائی پر ہاتھ مار کر بتاتی تھیں کہ پڑھنے والے نے ٹھیک نہیں پڑھا۔ اس پر امام صاحب کہتے اعد کہ پھر پڑھو بھئی۔ اس طرح غلطی پکڑی جاتی تھی۔ تو میں کہا کرتا ہوں کہ یہ امام صاحب کی بیٹی اتنی بڑی محدثہ تھیں کہ شاگرد کی غلطی تو پکڑتی ہی تھیں، خود استاد کو بھی چیک کرتی تھیں کہ انہوں نے غلطی پکڑی ہے یا نہیں۔ قاضی عیاضؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ امام مالکؒ کا بیٹا نہیں پڑھ سکا تھا لیکن بیٹی اس درجے کی محدثہ تھی۔ جب کبھی بیٹا سامنے سے گزرتا تو حسرت سے امام صاحبؒ فرماتے کہ دیکھو وہ میرا بیٹا جا رہا ہے اور یہ میری بیٹی بیٹھی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ علم کی یہ عظمت جس کو چاہیں عطا فرماتے ہیں۔

خیر القرون کی خواتین کا علمی معیار

حضرت امام محمد بن ادریس الشافعیؒؒ بھی اہل سنت کے چار بڑے ائمہ میں سے ہیں، امام اہل سنت ہیں اور ہمارے سر کا تاج ہیں۔ ان کی والدہ کا قصہ امام تاج الدین السبکیؒ نے ’’الطبقات الکبریٰ للشافعیۃ‘‘ میں نقل کیا ہے۔ میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ اس زمانے یعنی خیر القرون میں عورتوں کے علم کی سطح اور معیار کیا ہوتا تھا۔ قرآن مجید نے بہت سے مقدمات میں گواہ کا نصاب بیان کیا ہے کہ دو مرد گواہ ہوں، اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ فإلم یکونا رجلین فٰرجل وامرء تان ممن ترضون من الشھداء (البقرہ: ۲۸۲) اگر دو گواہ (میسر) نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (گواہ بناؤ) ایسے گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ قصہ یہ تھا کہ قاضی صاحب کی عدالت میں ایک مقدمہ تھا جس میں ایک مرد اور دو عورتیں گواہ تھے۔ ان دو عورتوں میں سے ایک حضرت امام شافعیؒ کی والدہ تھیں۔ قاضی صاحب نے مقدمہ کے دوران گواہی سنی۔ قاضی صاحب کو خیال ہوا کہ میں نے ان عورتوں سے اکٹھی گواہی سنی ہے اگر میں ان سے الگ الگ گواہی سنوں اور جرح کروں تو ممکن ہے کہ کوئی فرق موجود ہو جو واضح ہو جائے۔ قاضی صاحب نے امام شافعیؒ کی والدہ سے کہا کہ بی بی آپ ذرا فاصلے پر بیٹھیں میں ان سے پہلے پوچھوں گا اس کے بعد آپ کو بلا کر آپ سے پوچھوں گا۔ امام شافعیؒ کی والدہ اڑ گئیں کہ قاضی صاحب آپ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ قرآن مجید آپ کو اجازت نہیں دیتا۔ قاضی صاحب نے کہا اچھا! قرآن مجید میں یہ مسئلہ کہاں ہے؟ امام شافعیؒ کی والدہ نے کہا کہ قرآن مجید میں جہاں اللہ رب العزت نے گواہی کا ذکر کیا ہے کہ ایک مرد اور دو عورتیں ہوں یعنی دوسرے مرد کی جگہ دو عورتیں گواہ ہوں تو اس کی ساتھ حکمت بیان کی ہے کہ ان تضل احداھما فتذکر احداھما الاخرٰی (البقرہ: ۲۸۲) تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کرادے۔

میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے یہاں یہ بات ذکر کرنا چاہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی نفسیات میں بھی فرق رکھا ہے اور ان کی ذمہ داریوں میں بھی۔ میں اپنے تجربے کی ایک بات بتاتا ہوں کہ عورت مرد کی بہ نسبت جلدی یاد کرتی ہے۔ جو چیز مرد ایک سال میں یاد کرے گا عورت عام طورپر اس سے کم عرصے میں چھ یا سات مہینے میں یاد کر لے گی۔ میری بہنیں اور بیٹیاں اگر محسوس نہ کریں تو میں عرض کروں کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو بہت زبردست کیمرہ دیا ہے۔ میاں بیوی کہیں سے آرہے ہوتے ہیں تو راستے میں عورت نے کسی کو اگر ایک نظر بھی دیکھا ہوگا تو اسے آنکھوں کا رنگ بھی یاد ہوگا، ناک کی طرز بھی یاد ہوگی، کپڑے کا ڈیزائن بھی یاد ہوگا، دانت اگر نظر آئے ہوں گے تو ان کی چہرے کے ساتھ مناسبت بھی یاد ہوگی۔ اور پھر گھر آکر تبصرہ کرے گی کہ اس کی ناک ایسی تھی، اس کے کان ایسے تھے اور اس کی آنکھ ایسی تھی۔ اور مرد بیچارے کے وہم و گمان بھی نہیں ہے کہ وہ کس کی بات کر رہی ہے۔ مردوں میں یہ صلاحیت اس درجہ کی نہیں ہے۔ میں عرض کر رہا تھا کہ عورتیں بہت جلدی یاد کرتی ہیں اور یہ بات کریڈٹ کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بات ڈس کریڈٹ کی بھی ہے کہ وہ جلدی بھول جاتی ہیں۔ عورتوں کے متعلق ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ اصل بات کے ساتھ بہت سی غیر متعلقہ باتیں بھی کرتی ہیں۔ عام طور پر مرد جو بات دو منٹ میں کرے گا ، عورت دس منٹ میں کرے گی۔ تو قرآن مجید نے عورت کی نفسیات کے پیش نظر یہ حکمت بیان کی کہ ایک عورت اگر بھول جائے تو دوسری اسے یاد کرا دے۔ یا اس طرح کہہ لیں کہ اگر ایک عورت غیر متعلقہ باتیں کر کے اصل موضوع سے ہٹنے لگے تو دوسری اسے یاد کرا دے کہ نہیں بہن اصل بات اتنی تھی۔

چنانچہ امام شافعی ؒ کی والدہ نے کہا کہ قاضی صاحب ہم تو اکٹھی ہی گواہی دیں گی، یہ بھولے گی تو میں بتاؤں گی اور میں بھولوں گی تو یہ بتائے گی۔ یہ پٹری سے اترے گی تو میں اسے اصل بات کی طرف واپس لاؤں گی اور میں اگر غلط بات کروں گی تو یہ لقمہ دے گی۔ میں بات یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ ایک خاتون قرآن مجید سے استنباط کر کے عدالت کے قاضی صاحب کو بتا رہی ہے کہ دو خاتون گواہوں کو الگ الگ کرنے کا ان کا طریق کار ٹھیک نہیں ہے۔ اور یہ ایسا مضبوط استدلال ہے کہ قاضی صاحب کو ماننا پڑا کہ بی بی تم ٹھیک کہتی ہو میں غلط تھا۔ چنانچہ اس زمانے میں عورتوں کے علم کا معیار یہ تھا۔

اسی طرح قرون اولیٰ میں عورتوں کے علم کا ایک اور واقعہ عرض کر دیتا ہوں۔ یعنی عورت کا اس زمانے میں قرآن و سنت سے استنباط، حدیث، فقہ، تفقہ، استفتا ء وغیرہ میں عورتوں کے علم کا معیار کیا تھا۔ حافظ ابن کثیرؒ نے واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ نے جمعہ کے خطبے میں ایک حکم نامہ جاری کیا۔ فرمایا کہ لوگ شادی میں مہر کی بڑی بڑی رقمیں مقرر کر دیتے ہیں اور بعد میں ان کی ادائیگی میں جھگڑے ہوتے ہیں، اس لیے میں یہ مسئلہ حل کر دیتا ہوں۔ یہ آج کے دور میں بھی ہوتا ہے کہ شادی کے وقت تو لوگوں کو دکھانے کے لیے مہر کی بڑی بڑی رقمیں مقرر کر دی جاتی ہیں لیکن بعد میں حیلے بہانے کر کے عورت سے معاف کرانے کی فکر ہوتی ہے، اور ہمارے ہاں عام طور پر بیوی کو مہر عملاً ادا نہیں کیا جاتا۔ تو حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ شادی کے وقت چونکہ خوشی کا موقع ہوتا ہے تو بے فکری میں اور شادی کے شوق میں لوگ بڑی بڑی رقمیں مقرر کر لیتے ہیں لیکن جب ادائیگی کی نوبت آتی ہے تو جھگڑے ہوتے ہیں، تنازعات ہوتے ہیں اور معاملات بگڑ جاتے ہیں۔ فرمایا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ چار سو درہم سے زیادہ مہر کی رقم پر پابندی لگا دوں۔ پھر حضرت عمرؓ نے اعلان فرما دیا کہ آج کے بعد کسی شادی میں مہر کی رقم چار سو درہم سے زیادہ مقرر نہیں کی جائے گی۔ اس زمانے کے چار سو درہم آج کے تقریباً چار سو یورو کے برابر بنتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوگیا کہ کسی شادی میں ایسا کیا گیاہے تو چار سو درہم سے زائد رقم ضبط کر کے بیت المال میں جمع کروا دی جائے گی۔ خلیفۃ المسلمین حضرت عمر کا آرڈر تھا اس لیے نافذ ہوگیا۔ جمعے کے بعد فارغ ہوئے تو واپسی پر راستے میں ایک بی بی نے راستہ روک لیا کہ امیر المؤمنین ذرا ٹھہریے۔ امرأۃ قرشیۃ ، اس خاتون کا نام روایت میں نہیں ہے۔ قریش کی ایک خاتون نے راستہ روک کر کہا کہ آپ نے مہر پر پابندی لگا دی ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ جی لگا دی ہے۔ خاتون نے پوچھا، آپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ چار سو درہم سے زیادہ مہر کی رقم مقرر نہ کی جائے۔ حضرت عمرؓ نے کہا، جی یہی اعلان کیا ہے۔ خاتون نے پوچھا، آپ نے کہا کہ زائد رقم ضبط کر لی جائے گی۔ حضرت عمرؓ نے کہا، ہاں ایسا ہی کہا ہے۔ خاتون نے کہا، آپ کو ایسا کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ ایک خاتون امیر المؤمنین حضرت عمرؓ سے کہہ رہی ہے کہ کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا کہ آپ نے مہر پر پابندی لگا دی ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا، خاتون، یہ قرآن میں کہاں ہے؟

امام بخاریؒ حضرت عمرؓ کے اوصاف کے بارے میں بتاتے ہیں کہ کان وقافاً عند کتاب اللّٰہ یعنی حضرت عمرؓ کا یہ مزاج تھا کہ قرآن مجید کا حکم سامنے آتے ہی ان کو بریک لگ جاتی تھی۔ اور جب تک بات کی پوری تسلی نہیں ہوتی تھی آگے نہیں بڑھتے تھے۔ تو حضرت عمرؓ نے خاتون سے پوچھا کہ قرآن میں یہ بات کہاں ہے؟ اس خاتون نے قرآن مجید کی آیت پیش کی اور استدلال کیا کہ جب قرآن خاوندوں سے ہم عورتوں کو پیسے دلواتا ہے تو یہ اصطلاح استعمال کرتا ہے اٰتیتم احداھن قنطارًا فلا تاخذوا منہ شیئا (سورہ النساء : ۲۰) اگر تم خاوندوں نے اپنی عورتوں کو انبار برابر رقم بھی دے دی ہے تو وہ رقم واپس نہ مانگنا شروع کر دو۔ جو رقم دے دی بس دے دی۔ قنطار ڈھیر کو کہتے ہیں کہ جو چیز گنی نہ جا سکے۔ عورت نے کہا کہ حضرت قرآن تو ہمیں ڈھیروں کے حساب سے دلواتا ہے لیکن آپ نے شرط لگا دی ہے کہ چار سو درہم سے زیادہ مت دو۔ حافظ ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ وہیں سے مسجد میں واپس گئے اگلے جمعے کا انتظار نہیں کیا، جو لوگ موجود تھے ان سے کہا کہ ٹھہرو بھئی، میں نے ابھی ایک اعلان کیا تھا اور چار سو درہم سے زائد مہر کی رقم پر پابندی لگائی تھی۔ ایک خاتون نے مجھے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے ابھی توجہ دلائی ہے ۔ خدا کی قسم میرا دھیان ادھر نہیں تھا، اس عورت نے توجہ دلائی ہے تو میرا دھیان ہوا ہے۔ امرأۃ اصابت واخطأ رجل کہ عورت ٹھیک کہتی ہے، مرد سے غلطی ہوگئی ہے۔ میں اپنا آرڈر واپس لیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے ایک خاتون کے توجہ دلانے پر اپنا آرڈر واپس لیا۔

میں یہ عرض کر رہاتھا کہ اس زمانے میں ہماری عورتوں کے علم کا معیار یہ تھا کہ حضرت عمرؓ کے سامنے بحث کر رہی ہے استدلال کر رہی ہے اور حضرت عمرؓ کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر رہی ہے۔ میں نے یہ چند باتیں آپ خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے کی ہیں کہ آپ کوئی انوکھا یا عجیب کام نہیں کر رہیں۔ علم حاصل کرنا، علم میں آگے بڑھنا، علم کو فروغ دینا، شرعی دائرے میں رہ کر لوگوں کی راہنمائی کرنا ، اس میں آپ خواتین کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مردوں کا۔

امت مسلمہ کی ہزاروں محدثات کے حالات

حدیث کی روایات نقل کرنے میں جہاں سینکڑوں صحابہؓ تھے وہاں سینکڑوں صحابیات بھی تھیں۔ جیسے مردوں نے احادیث روایات کیں ویسےہی عورتوں نے بھی احادیث روایت کی ہیں۔ آکسفورڈ سنٹر آف اسلامک اسٹڈیز کے نام سے آکسفورڈ، انگلینڈ میں ایک اسلامی سنٹر ہے۔ وہاں ہمارے ایک دوست ڈاکٹر محمد اکرم ندوی حدیث کے متخصص ہیں۔ انہوں نے دکتورہ (پی ایچ ڈی) بھی حدیث ہی میں کی ہے، بڑے عالم ہیں۔ انہوں نے دس سال محنت کر کے امت مسلمہ کی محدثات پر کام کیا ہے۔ یعنی وہ خواتین جنہوں نے حدیث پڑھی اور پھر حدیث پڑھائی، جنہوں نے روایت لی اور پھر روایت آگے دی۔ انہوں نے گزشتہ چودہ سو سال میں آٹھ ہزار محدثات کے حالات قلمبند کیے ہیں۔ میں بھی اس کتاب کی ترتیب کے دوران بعض مشوروں میں شریک رہا ہوں۔ الوفاء فی اخبار النساء کے نام سے یہ پانچ پانچ سو صفحات پر مشتمل چالیس جلدوں کی کتاب ہے اور بیروت سے شائع ہو چکی ہے۔

الشیخہ امۃ اللہ محدثہ دہلویہؒ

حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ پاکستان کے ماضی قریب کے بڑے محدثین میں سے تھے۔ انہوں نے کسی جگہ اپنے درس میں ایک خاتون محدثہ کا ذکر کیا کہ مجھے ان سے شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ نے بھی اپنے ایک خطبے میں ان خاتون محدثہ کا ذکر کیا کہ مجھے بھی اماں جان کی خدمت میں حاضری اور روایت حدیث کا شرف حاصل ہے۔ پاکستان کے ایک بہت بڑے محدث گزرے ہیں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، وہ حافظ الحدیث تھے اس معنٰی میں کہ اپنے معاصر محدثین میں حدیث کے سب سے بڑے حافظ تھے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ حضرت آپ سے بڑا بھی کوئی حافظ الحدیث ہے؟ فرمایا میں نے جتنے محدثین سے ملاقاتیں کی ہیں ان میں سے کسی کو بھی مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد نہیں ہیں لیکن مکہ مکرمہ میں ایک عورت محدثہ کو مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد تھیں۔ وہ خاتون جن کی شاگردی پر حضرت مولانا یوسف بنوریؒ فخر کر رہے ہیں، جن کی شاگردی کا حضرت قاری محمد طیب صاحبؒ فخر سے ذکر کر رہے ہیں، جنہیں حضرت عبد اللہ درخواستیؒ اپنے سے بڑا حافظ الحدیث بتا رہے ہیں۔ یہ خاتون تھیں الشیخہ امۃ اللہ محدثہ دہلویہ۔ دہلی کے ایک بڑے محدث حضرت شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ ہجرت کر کے مکہ مکرمہ آگئے تھے، یہ خاتون ان کی بیٹی تھیں اور شاگرد و جانشین بھی تھیں۔ ان خاتون نے سو سال سے زیادہ عمر پائی اور ۸۰سال کے لگ بھگ حدیث پڑھائی۔ آخر عمر میں ان کی کیفیت یہ تھی کہ دور دراز سے حدیث کے جو اساتذہ عمرہ یا حج پر آتے تھے وہ اماں جان کو تلاش کرتے تھے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، روایت سناتے تھے سنتے تھے اور پھر ساری زندگی فخر کرتے تھے کہ مجھے الشیخہ امۃ اللہ سے روایت حدیث کی اجازت حاصل ہے۔ ان کا سن ۱۹۴۵ء میں انتقال ہوگیا تھا۔ بحمد اللہ تعالیٰ مجھے بھی مکہ مکرمہ کے ایک بڑے محدث الشیخ ابو الفیض محمد یاسین الفادانی المکی الشافعیؒ کے واسطے سے الشیخہ أمۃ اللہؒ سے روایت حدیث کی اجازت حاصل ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ تک میری قریب ترین سندِ حدیث ہے۔

میں نے بتایا کہ علم تفسیر کا ہو، حدیث کا ہو، فقہ کا ہو یا دین کا کوئی علم بھی ہو، عورتیں مردوں سے کم نہیں رہیں۔ حصول علم دین کے لیے عورت کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مرد کا حق ہے۔ بلکہ عورت کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ مرد اگر علم حاصل کرے گا تو اپنی ذات کے لیے کرے گا لیکن اگر عورت علم حاصل کرے گی تو پورے گھرانے کے لیے کرے گی۔ اگر عورت عالمہ ہے تو اس کا گھرانہ بھی عالم ہے اس لیے کہ گھر کا انتظام تو عورت نے ہی کنٹرول کرنا ہے۔ گھر سے باہر کی حکمرانی مرد کی ہے اور گھر کے اندر کی حکمرانی عورت کی ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجہا کہ گھر کے اندر کی حکمرانی عورت کی ہے۔ تعلیم و تربیت بھی اس کے ہاتھ میں ہے اور گھر کا نظام بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔ عورت اگر عالمہ ہے دین جانتی ہے دینی معلومات رکھتی ہے تو گھر کا ماحول بھی اس کے مطابق ہوگا۔

ان گزارشات کے ساتھ میں ایک بار پھر آپ بہنوں اور بیٹیوں سے یہ عرض کروں گا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ حضرات کو موقع دیا ہے ، زیادہ سے زیادہ استفادہ کی کوشش کریں اور اس کام کو جتنا زیادہ پھیلا سکیں، پھیلائیں۔ یہ ہمارے گھروں کی ضرورت بھی ہے اور بحیثیت مجموعی امت کی ضرورت بھی ہے کہ خواتین کی زیادہ سے زیادہ علم کے ساتھ مناسبت ہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔

درجہ بندی: