میمو کمیشن اور منصور اعجاز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۱۲ء

ان دنوں میمو کمیشن کا اجلاس جاری ہے اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ منصور اعجاز لندن سے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو انتہا پسندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے امریکہ سے امداد طلب کی تھی اور پاکستان کے آرمی چیف کو ان کے منصب سے الگ کرانے کی تحریک کی تھی۔ میمو کمیشن کی کاروائی جاری ہے اس لیے ہم ان امور کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، عدالتی کمیشن کی رپورٹ اور فیصلوں کے سامنے آنے سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔ البتہ منصور اعجاز کے بیان کے ایک جزوی پہلو کے حوالہ سے کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کیس کے ایک وکیل زاہر بخاری نے ان کے عقیدہ کے بارے میں غلط بیانی کی ہے اور وہ کلمہ طیبہ پڑھ کر عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں، چنانچہ روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ فروری کی رپورٹ کے مطابق منصور اعجاز نے عدالت کے سامنے کلمہ طیبہ پڑھا اور کہا کہ وہ مسلمان ہیں۔

منصور اعجاز کے بارے میں اب تک یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ قادیانی ہے اور قادیانی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اگر وہ اپنے مسلمان ہونے کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس سے خوشی ہو گی، لیکن صرف کلمہ طیبہ پڑھ لینے سے ان کا قادیانی نہ ہونا تسلیم نہیں کیا جا سکتا اس لیے کہ کلمۂ طیبہ قادیانی حضرات بھی پڑھتے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ نعوذ باللہ مسلمان صرف وہی ہیں اور مرزا غلام احمد کو نہ ماننے والے دنیا بھر کے مسلمان ان کے نزدیک کافر ہیں۔اس لیے قادیانیوں کے حوالہ سے کسی شخص کو مسلمان تسلیم کرنے کے لیے امت مسلمہ نے اجماعی طور پر یہ شرط عائد کر رکھی ہے کہ قادیانی ہونے کے شک کے پس منظر میں خود کو مسلمان تسلیم کرانے کے لیے کلمۂ طیبہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان اور مرزا غلام احمد قادیانی سے براءت کا اظہار بھی ضروری ہے اس کے بغیر ایسے کسی شخص کو مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جبکہ اس شرط کو دستور پاکستان میں بھی مسلمان ہونے کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اس لیے ہم میمو کمیشن سے درخواست کریں گے کہ منصور اعجاز کو مسلمان تسلیم کرنے سے پہلے ان سے دستور پاکستان میں درج اس حلف نامہ پر دستخط لیے جائیں جو اس مقصد کے لیے دستور میں باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا ہے، کیونکہ مسلمان ہونے کے لیے اس دستوری حلف نامہ پر دستخط کے بغیر منصور اعجاز کو مسلمان تسلیم کرنا ملت اسلامیہ کے اجماعی موقف کے ساتھ ساتھ دستور پاکستان سے بھی انحراف ہو گا۔