ڈاکٹر غلام محمد مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

ڈاکٹر غلام محمد مرحوم جمعیۃ علمائے اسلام کے صوبائی نائب امیر تھے۔ ایک عرصہ تک جمعیۃ علمائے اسلام ضلع گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل اور ضلع کی دینی سیاست کا ایک اہم اور فعال کردار رہے ہیں۔ ان کے والد حکیم غلام حیدر مرحوم حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ سے روحانی تعلق رکھتے تھے۔ نوشہرہ ورکاں ضلع گوجرانوالہ کے قریب ظفر آباد نامی بستی کے رہائشی تھے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم ۱۹۷۲ء میں جمعیۃ علماء اسلام میں آئے اور ضلعی جمعیۃ کے مبلغ کی حیثیت سے سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس دور میں جمعیۃ کی عملی ذمہ داریاں میرے پاس ہوتی تھیں اور مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں میرا دفتر جمعیۃ کا ضلعی و شہری ہیڈکوارٹر ہوا کرتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک سو روپے ماہانہ وظیفے پر مبلغ کی حیثیت سے کام شروع کیا اور غالباً ایک سو روپے کی مالیت کا ایک سیکنڈ ہینڈ سائیکل خرید کر انہیں دیا گیا جس پر انہوں نے ضلع بھر میں گاؤں گاؤں گھوم کر جمعیۃ کو منظم کیا۔ پھر انہیں جمعیۃ کا ضلعی سیکرٹری جنرل چن لیا گیا اور ایک مدت تک وہ اس حیثیت سے سرگرم عمل رہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم شہر میں ہوتے تو میرا دفتر ہی ان کا دفتر ہوتا تھا۔ اور اکثر ایسا ہوتا کہ ان کی جیب میں خرچ کے لیے پیسے نہ ہوتے تو میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا جتنے پیسے نکلتے ہم آدھے آدھے تقسیم کر لیتے۔ اس حوالے سے میں نے کبھی ان کی زبان پر شکوہ نہیں سنا۔

ڈاکٹر صاحب پنجابی زبان کے اچھے خطیب تھے، ٹھیٹھ پنجابی زبان میں بات کرتے، مزاج میں ظرافت تھی اس لیے ان کی باتیں لوگ دلچسپی کے ساتھ سنتے تھے۔ ایک عرصہ تک مکی مسجد گوجرانوالہ کے خطیب رہے، اور بھی بہت سی مساجد میں خطابت کی مگر مزاج میں خودداری اور حریت تھی اس لیے کسی بھی مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ زیادہ دیر تک نہ چل سکے۔ ہومیو پیتھک کے معالج تھے اور جمعیۃ کی قائم کردہ فری ڈسپنسری میں خدمات سرانجام دیتے تھے۔

جرگہ اور پنچایت کے آدمی تھے، کم و بیش ربع صدی تک ضلعی امن کمیٹی میں جمعیۃ کی نمائندگی کی، مشکل سے مشکل حالات میں بھی بڑے حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ معاملات کو ڈیل کرتے اور اکثر سرخرو ہوتے۔ علامہ محمد احمد لدھیانوی اور ڈاکٹر غلام محمد کی جوڑی کا تذکرہ ایک دور میں ضلعی انتظامیہ اور دوسرے مسالک اور جماعتوں کے ہاں اکثر اس حوالے سے رہتا تھا۔ فرقہ وارانہ تنازعات کو سلجھانے میں ان کی فراست پر اعتماد کیا جاتا تھا اور مشکل معاملات ان کے سپرد کیے جاتے تھے۔ انہوں نے ساری زندگی تنگی و ترشی میں گزاری لیکن کبھی اپنے چند مخصوص دوستوں کے سوا کسی کے سامنے اس کا اظہار نہیں کیا۔ کافی عرصہ سے بسترِ علالت پر تھے، عید الاضحیٰ کے بعد جمعہ کے روز ان کا انتقال ہوگیا۔ عصر کے بعد حضرت صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی مدظلہ کی امامت میں ہم نے نمازِ جنازہ پڑھی۔

جب ہم جنازہ کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے کہ پیچھے سے ان کے گاؤں کے ایک شخص کی آواز سنائی دی جو اپنے ساتھ والے شخص سے باتیں کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ’’ڈاکٹر نے اپنی غریبی کدے کسے نوں دسی نئیں‘‘۔ یعنی ڈاکٹر صاحب نے اپنی غریبی کبھی کسی کو نہیں بتائی۔ میرے خیال میں یہ ڈاکٹر غلام محمد مرحوم کی اس خودداری کو خراجِ عقیدت تھا کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی انہوں نے اپنی وضعداری کو قائم رکھا اور صبر و حوصلہ کے ساتھ حالات کا سامنا کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور متوسلین کو صبر جمیل کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔