مولانا مفتی محمودؒ کی آئینی جدوجہد اور اندازِ سیاست

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ اپریل ۱۹۸۱ء
اصل عنوان: 
مخالف کو ان کا موقف تسلیم کیے ہی بنتی

قائدِ محترم حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی علمی، دینی اور سیاسی جدوجہد پر نظر ڈالتے ہوئے ان کی جو امتیازی خصوصیات او رنمایاں پہلو دکھائی دیتے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ مرحوم نے قومی سیاست کے دھارے میں شامل ہو کر خود کو اس میں جذب نہیں کر دیا بلکہ وہ اس دھارے کو اپنے عزائم اور مقاصد کی طرف موڑنے میں کامیاب بھی رہے۔ اور اگر آپ آج سے پچیس سال قبل کی قومی سیاست کا آج کی قومی سیاست سے موازنہ کریں گے تو ان نمایاں تبدیلیوں کے پس منظر میں مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد جھلکتی نظر آئے گی۔

مفتی صاحب مرحوم کی جدوجہد کا سب سے تابناک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جو رائے قائم کی سوچ سمجھ کر قائم کی اور پھر اس پر نہ صرف پوری استقامت کے ساتھ پختہ رہے بلکہ بالآخر اسے منوا کر دم لیا۔ مثلاً 1956ء کے آئین اور 1973ء کے آئین پر ایک نظر ڈالیے، دونوں کے درمیان جہاں جہاں فرق ہے اس پر نشان لگائیے اور پھر حقائق و واقعات کے حوالے سے اس امر کی چھان بین کیجیے کہ 1956ء کے آئین کو 1973ء کے قالب میں ڈھالنے میں سب سے زیادہ کس کی کوششوں کا دخل ہے۔ 1956ء کا آئین جب نافذ ہوا تو اسلام کے بعض علمبرداروں نے یہ فتویٰ دے دیا کہ یہ آئین بالکل اسلام کے مطابق ہے اور اسلام کا مستقبل اب اس آئین کے ساتھ ہی وابستہ ہوگیا ہے۔ مگر مولانا مفتی محمودؒ نے اپنے رفقاء شیخ حسام الدین اور علامہ خالد محمود کی معیت میں اس آئین پر نظر ڈالی اور اسلامی نقطۂ نظر سے اس میں ترامیم پیش کیں اور اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس آئین کی متعدد دفعات قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔ مفتی صاحب مرحوم اور ان کی جماعت و رفقاء اپنے اس موقف پر قائم رہے جبکہ اسلام کا نام لینے والے کئی گروپوں نے 1971ء تک مسلسل 1956ء کے آئین کا راگ الاپا اور اسلام کو اس کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دینے پر مصر رہے۔

مفتی صاحب مرحوم نے آئین میں مسلمان کی تعریف، صدر اور وزیر اعظم کے مسلمان ہونے کی شرط، اور قرآن و سنت سے متصادم قوانین نہ بننے کی ضمانت کو ضروری قرار دیا۔ اور وہ رائے عامہ کے محاذ پر مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ان امور کو 1973ء کے آئین میں شامل کرانے میں کامیاب ہوئے۔ جبکہ اسلامی نظام کے دیگر علمبرداروں کو نہ صرف یہ کہ ان مطالبات پر آواز اٹھانے میں جھجھک رہی بلکہ جب مولانا مفتی محمود مرحوم نے ایوب خان کی گول میز کانفرنس میں مسلمان کی تعریف کو آئین میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تو ان حضرات کو زبانی تائید کی بھی توفیق نہ ہوئی۔ آئین میں ان امور کو شامل کراتے وقت اگرچہ مفتی صاحب مرحوم کو سب اسلامی طبقات کی حمایت حاصل ہوگئی تھی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان امور کو ایک مطالبہ کی صورت میں پیش کرنے اور رائے عامہ کو اس کے حق میں مسلسل ہموار کرنے کی جدوجہد کی سعادت صرف حضرت مفتی صاحب مرحوم، ان کی جماعت اور رفقاء کو حاصل ہوئی۔

مفتی صاحب مرحوم کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ آئین میں جن امور کی شمولیت کے مطالبہ کو 1957ء میں محض مجذوب کی بڑ سمجھا جاتا تھا اور 1969ء تک بڑے بڑے اسلام پسندوں کو ان مطالبات کی حمایت کی توفیق نہ ہوئی، وہی مطالبات 1973ء کے آئین میں نہ صرف شامل ہوئے بلکہ اس آئین کی سب سے امتیازی خصوصیت بنے۔ اسی طرح 1970ء کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے اس بحران پر نظر ڈالیے جس کے نتیجہ میں ملک دولخت ہوا۔ انتخابات کے بعد پنجاب اور سندھ سے اکثریت حاصل ہونے کے باعث مسٹر بھٹو مرحوم نے نعرہ لگایا کہ ملک میں صرف تین سیاسی قوتیں موجود ہیں (۱) فوج (۲) عوامی لیگ، اور (۳) پیپلز پارٹی۔ مفتی صاحب مرحوم نے اس دعوے کو چیلنج کیا اور کہا کہ ملک میں ایک چوتھی قوت بھی موجود ہے اور وہ سرحد و بلوچستان میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعتیں ہیں۔ اور پھر مفتی صاحب مرحوم نے لاہور میں اقلیتی پارلیمانی گروپوں کا کنونشن کر کے اس قوت کے وجود کا احساس دلایا اور اس سیاسی قوت کو اس طریقہ سے منظم کیا کہ خود مسٹر بھٹو کو نہ صرف اس طاقت کا وجود تسلیم کرنا پڑا بلکہ نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیۃ علمائے اسلام کے ساتھ سہ فریقی معاہدہ تک بات پہنچی اور دو صوبوں میں حکومتیں بھی اس سیاسی قوت کے حوالہ کرنا پڑیں۔

الغرض مولانا مفتی محمودؒ کی یہ امتیازی خصوصیت تھی کہ وہ اپنے موقف پر سختی کے ساتھ قائم رہتے تھے اور اس کے حق میں دلائل و براہین کا انبار لگانے کے ساتھ ساتھ حالات اور جدوجہد کو اس طرح ترتیب دیتے تھے کہ مخالف کو اس موقف کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہ رہتا۔

مفتی صاحب مرحوم کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں، جو ایک عرصہ سے سادگی، اصول پرستی، شرافت اور دیانت سے نا آشنا ہو چکی تھی، انہی سنہری اصولوں کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا اور پھر ان کو اس وضع سے نبھایا کہ حق پرستی کی روایات ایک بار پھر نئے وجود سے مشرف ہو کر تاریخ کے ماتھے کا جھومر بنیں۔

  • یہ مفتی صاحبؒ کی سادگی تھی کہ قومی اسمبلی کے ممبر سے لے کر وزیر اعلیٰ اور قائدِ حزبِ اختلاف تک کئی مناصب پر فائز ہوئے لیکن اپنا اور گھر کا معیار زندگی وہی رکھا جو ابتداء سے چلا آرہا تھا۔ کیا مجال ان مناصب میں کوئی منصب مفتی صاحب مرحوم کے گھر کے ماحول، ان کے رہن سہن، ان کے بچوں کے لباس اور خورد و نوش کے معیار اور طرز میں کوئی تبدیلی لا سکے ہوں۔ اقتدار اور لیڈری کا نشہ نہ ان پر طاری ہوا اور نہ انہوں نے اسے اپنے بچوں کے قریب آنے دیا۔
  • مفتی صاحبؒ جب سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے تو اس وقت قومی اسمبلی کے ممبر بھی تھے۔ کہنے لگے کہ بیک وقت دو تنخواہیں لینا ٹھیک نہیں ہے، بحیثیت ایم این اے تنخواہ وصول کرتے رہے مگر وزیر اعلیٰ کی تنخواہ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔
  • وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کے لیے الگ بنگلہ کا اہتمام کیا جانے لگا تو انکار کر دیا اور سرکاری گیسٹ ہاؤس میں ہی وزارت اعلیٰ کا دور مکمل کیا۔
  • مفتی صاحب مرحوم جب خان عبد الولی خان کی جگہ حزب اختلاف کے قائد چنے گئے تو اس حیثیت سے ملنے والے تمام الاؤنسز خود جناب ولی خان کے گھر جا کر ان کی بیگم کو پیش کر دیا کہ وہ جیل میں ہیں، میں ان کا قائم مقام ہوں، یہ الاؤنسز ان کے ہیں۔
  • جماعتی زندگی کا عالم یہ تھا کہ وہ جماعت کے قائد تھے اور تمام تر سرگرمیاں جماعت ہی کے لیے تھیں۔ وہ دورے بھی کرتے رہے، ہوائی جہاز کا سفر بھی شب و روز رہتا تھا اور دیگر اخراجات بھی ہوتے تھے مگر خال خال مواقع کے علاوہ وہ یہ تمام اخراجات اپنے وسائل سے پورے کرتے اور پھر جماعت سے تقاضہ بھی نہ ہوتا۔
  • ایوب خان مرحوم کے دور میں مناصب کی پیشکش ہوئی مگر اصولوں کو قربان کرنے پر تیار نہ ہوئے۔
  • جب وزارتِ اعلیٰ سے استعفٰی دیا تو کئی روز تک منتیں کی جاتی رہیں کہ وزارت اعلیٰ پر واپس آجائیں مگر مطالبات کی منظوری سے قبل واپسی کو مسترد کر دیا۔ اس دوران بھٹو مرحوم نے کہا کہ مفتی صاحب ہم نے اب تک آپ کو حکومت کب کرنے دی ہے، حکومت کا مزہ تو آپ کو اب آئے گا۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ ہم حکومت میں مزے لینے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں۔ اس لیے مطالبات تسلیم ہوئے بغیر استعفیٰ کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے بعد بھی متعدد بار اقتدار میں شمولیت کی پیشکش ہوئی مگر کوئی پیشکش بار آور نہ ہوئی۔
  • اور یہ بھی اصول پرستی کا مظاہرہ تھا کہ اسلامی نظام کے نفاذ اور انتخاب کے واضح اعلان کی شرط پر جب موجودہ حکومت میں شامل ہوئے تو دونوں امور کا اعلان ہوتے ہی بلاتاخیر اقتدار سے باہر نکل آئے کہ ہمارا مقصد پورا ہوگیا ہے۔
  • مفتی صاحب مرحوم کی اصول پرستی کے اس پہلو سے تمام جماعتی احباب بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ دوستوں کے جائز کاموں میں ان کی سفارش اور مدد سے گریز نہیں کرتے تھے۔ لیکن جونہی کسی دوست نے ان سے کوئی ایسی بات کہہ دی جو ان کے اصول اور وضع داری سے ٹکراتی ہو تو دوٹوک معذرت کردی کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا، میں آپ کے اس کام کے لیے اپنا اصول نہیں توڑ سکتا۔ وقتی طور پر بعض دوست ناراض بھی ہو جاتے مگر بعد میں جب معاملہ سمجھتے تو ناراضگی خودبخود ختم ہو جاتی۔
  • شرافت و دیانت کی کیفیت یہ تھی کہ اپنے بڑے سے بڑے مخالف کے ساتھ بھی اختلاف کا اظہار ایک دائرے میں رہ کر کرتے، اختلاف کو ذاتی مخالفت کا رنگ دینے سے گریز کرتے اور اختلاف بھی طعن و اعتراض کی زبان میں نہ ہوتا بلکہ دلائل و براہین کے حوالے سے بات کرتے۔

الغرض حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز نے پاکستان کی قومی سیاست میں یہ اثر چھوڑا کہ اسلام کی وکالت کو مرعوبیت، جھجک اور خوفِ ملامت کے دائرہ سے نکال کر اعتماد، بے باکی اور جرأت کی شاہراہ پر گامزن کیا۔ اور سیاسی زندگی میں سادگی، اصول پرستی اور شرافت کی قدیم روایات کو ازسرِنو زندہ کر کے آنے والی نسلوں کے لیے نشانِ راہ قائم کر دیے۔