دینی مدارس کی اسناد اور رجسٹریشن کا مسئلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور رجسٹریشن کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس بیک وقت سامنے آئے ہیں اور دین کی تعلیم دینے والی درس گاہیں ایک بار پھر ملک بھر میں گفتگو اور تبصروں کا موضوع بن گئی ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سے قبل عبوری فیصلے میں دینی مدارس کی اسناد رکھنے والوں کو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی مگر الیکشن کے پہلے مرحلے سے صرف دو روز قبل حتمی فیصلہ صادر کر کے یہ قرار دے دیا کہ دینی مدارس کے وفاقوں سے شہادۃ ثانیہ رکھنے والے افراد نے چونکہ مطالعہ پاکستان، انگلش اور اردو کے لازمی مضامین کا میٹرک کے درجے میں امتحان نہیں دیا، اس لیے اس سند کو میٹرک کے مساوی تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور اس سند کے حاملین بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔ اگرچہ اس فیصلے کا فوری اطلاق ان حضرات پر ہوا ہے جو اس رٹ میں فریق تھے، لیکن اٹارنی جنرل کا یہ کہنا اہمیت رکھتا ہے کہ جن لوگوں نے دینی مدارس کی اسناد کی بنیاد پر بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا ہے، وہ کامیاب ہونے کے باوجود اس فیصلے کی رو سے نااہل ہو جائیں گے، بلکہ یہ فیصلہ سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ان ارکان پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے جنھوں نے دینی مدارس کی اسناد کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیا ہے اور منتخب ہوئے ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کم وبیش دو سو ارکان اس فیصلے کی زد میں آ سکتے ہیں، چنانچہ ایک معروف قانون دان جناب محمد اسلم خاکی صاحب نے اپنی ایک سابقہ رٹ کو جلد از جلد زیر بحث لانے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دے دی ہے۔ ان کی رٹ میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دینی مدارس کی اسناد کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے چونکہ صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے برابر تسلیم کیا ہے، اس لیے تعلیمی مقاصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ان اسناد کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور چیف الیکشن کمشنر نے گزشتہ انتخابات میں شہادۃ العالمیۃ کی سند کو ایم اے کے برابر تسلیم کرتے ہوئے اس کے حاملین کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ لینے کی جو اجازت دی تھی، وہ درست نہیں تھی اس لیے عدالت عظمیٰ اس اجازت نامے کو منسوخ کرتے ہوئے دینی اسناد پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے۔ یہ رٹ ابھی موجود ہے اور اس پر فیصلہ ہونا باقی ہے، اسی لیے رٹ کے محرک نے دوبارہ درخواست دائر کر دی ہے کہ اس رٹ کو جلد زیر بحث لایا جائے اور اس پر فیصلہ صادر کیا جائے۔

دوسری طرف بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں گومگو اور تذبذب کی فضا قائم رکھنا موجودہ حکومت کی طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے تاکہ متحدہ مجلس عمل کو دباؤ میں رکھا جائے اور اسے حکومت کے خلاف کسی عملی تحریک کا حصہ بننے سے روکا جائے۔ ان سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ متحدہ مجلس عمل نے اے آر ڈی کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس قائم کرنے اور احتجاجی تحریک منظم کرنے کا حال ہی میں فیصلہ کر لیا ہے، اس لیے دینی مدارس کی اسناد کی قانونی حیثیت کا مسئلہ دوبارہ سامنے آ گیا ہے تاکہ متحدہ مجلس عمل حکومت کے خلاف کسی عملی تحریک کا حصہ نہ بنے اور اگر وہ حکومت کے خلاف تحریک کے فیصلے میں سنجیدہ ہے تو اسمبلیوں میں اپنے کم وبیش دو سو ارکان کو نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ اس طرح دینی مدارس کی اسناد کا مسئلہ فنی اور تعلیمی دائرے سے نکل کر سیاسی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے جو بہرحال ایک توجہ طلب بات ہے اور اس پر دینی مدارس کے وفاقوں کی اعلیٰ قیادت اور اس کے ساتھ ہی متحدہ مجلس عمل کی ہائی کمان کو بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

جہاں تک فنی مسئلے کی بات ہے، ہمارے خیال میں جب دینی مدارس کے وفاقوں نے میٹرک کی سطح پر مطالعہ پاکستان، اردو اور انگلش کے مضامین کو اپنے نصاب میں شامل کر کے اس پر عمل درآمد شروع کر رکھا ہے تو اس تبدیلی کو سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں بالکل نظر انداز کیے جانے کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ ہمارے خیال میں یہ بات سپریم کورٹ کے علم میں سرے سے لائی ہی نہیں گئی اور دینی مدارس کی اسناد کا دفاع کرنے والے وکلا اس سلسلے میں پورے حقائق عدالت عظمیٰ کے سامنے نہیں رکھ سکے، ورنہ شاید فیصلے کی حتمی صورت یہ نہ ہوتی۔ اب بھی وفاقوں کی قیادت سے ہماری گزارش یہ ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ میں اس کیس کی خود پیروی کریں اور مذکورہ فیصلے پرنظر ثانی کی اپیل کے لیے ملک کے نامور وکلا سے صلاح مشورہ کر کے دینی مدارس کی اسناد کے دفاع کے لیے پیش رفت کریں۔

جہاں تک رجسٹریشن کا تعلق ہے، ہمارے خیال میں یہ بات اطمینان بخش ہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن سابقہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو خود دینی مدارس کا مطالبہ تھا اور وہ اس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے لیے نہ صرف تیار تھے بلکہ ہزاروں مدارس نے اس سے قبل سوسائٹی ایکٹ کے تحت اپنی رجسٹریشن کرا رکھی ہے، البتہ اس سلسلے میں ۱۸۶۰ کے سوسائٹی ایکٹ میں ایک نئی شق کا اضافہ قابل غور ہے جس کے تحت دینی مدارس کے لیے رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور سالانہ کارکردگی اور آڈٹ شدہ حسابات کی رپورٹ کی کاپی رجسٹریشن آفس میں جمع کرانے کا انھیں پابند کیا گیا ہے۔ ہمارے خیال میں ان تینوں امور میں بظاہر کوئی حرج کی بات نہیں ہے اور یہ باتیں نتائج کے حوالے سے دینی مدارس کے لیے فائدہ کا باعث ہی ہوں گی، البتہ فرقہ وارانہ تعلیم کی دینی مدارس میں ممانعت کی شق مبہم ہے، اس لیے کہ فرقہ وارانہ تعلیم کا ایک پہلو یہ ہے کہ ملک میں مختلف مذہبی فرقے آباد ہیں اور ان کے دینی مدارس کام کر رہے ہیں، اس لیے ان فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے، امن عامہ کے لیے مسائل کھڑے کرنے اور قومی وحدت کو مجروح کرنے کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور ایسی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور ان کی روک تھام کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو علمی وتحقیقی مباحث سے تعلق رکھتا ہے جس میں اپنے مسلک کی علمی وضاحت اور دلائل کی بنیاد پر اس کی ترجیح کی طرز اختیار کی جاتی ہے۔ نہ صرف پاکستان کے دینی مدرسوں میں ایسا ہوتا ہے، بلکہ دنیا بھر میں تمام مذاہب کی مذہبی درس گاہوں میں اس کا صدیوں سے اہتمام چلا آ رہا ہے اور نئے آرڈیننس میں ان دونوں پہلووں کے درمیان فرق کی وضاحت ضروری ہے ورنہ یہ مسئلہ بھی وہی صورت اختیار کر سکتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورت میں اس وقت دنیا کو درپیش ہے کہ دہشت گردی کی کسی سطح پر کوئی تعریف طے نہیں ہے اور اسے مکمل طور پر ابہام میں رکھا گیا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والے اس ابہام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جس مخالف کو چاہتے ہیں، دہشت گرد قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کا محاذ کھول دیتے ہیں۔ اسی طرح فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی حدود اگر واضح طور پر طے نہ کی گئیں تو نہ صرف یہ کہ علم وتحقیق کے راستے مسدود ہو جائیں گے بلکہ یہ بات مکمل طور پر حکومت اور متعلقہ افسران کی صواب دید پر ہوگی کہ وہ جس مدرسہ کو چاہیں، فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث قرار دے کر اسے بند کرنے کا حکم جاری کر دیں۔

ہمارے خیال میں وفاق المدارس العربیۃ پاکستان اور دینی مدارس کے دیگر وفاقوں کی قیادتوں کو اس مسئلہ کے حوالے سے صورت حال کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے اس کا فوری طور پر حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے ورنہ یہ بیورو کریسی کے ہاتھ میں دینی مدارس کے خلاف ایک ایسا ہتھیار ثابت ہوگا جس سے ملک کی تمام دینی درس گاہیں مکمل طور پر متعلقہ محکموں اور افسروں کے رحم وکرم پر ہوں گی اور دینی مدارس کی جس آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کی ایک عرصہ سے جنگ لڑی جا رہی ہے، وہ فرقہ وارانہ تعلیم پر پابندی کی اس مبہم شق کے باعث بیورو کریسی کے ہاتھوں میں گروی ہو کر رہ جائے گی۔