دارالعلوم تعلیم القرآ ن پلندری کا سالانہ جلسہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ جولائی ۲۰۰۵ء

سات جولائی کو دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری کے سالانہ جلسہ میں شرکت کا موقع ملا۔ اس دینی درسگاہ کو ریاست آزاد جموں و کشمیر کے دینی مدارس میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس کی وجہ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان دامت برکاتہم کی ذات گرامی ہے جو گزشتہ ساٹھ برس سے زیادہ عرصہ سے اس خطے میں دینی رہنمائی اور علمی قیادت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور اپنے علمی مقام و مرتبہ اور مسلسل دینی خدمات کے باعث نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے ملک میں دینی حلقوں کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دار العلوم تعلیم القرآن پلندری کا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد اس لحاظ سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں آزاد کشمیر اور پاکستان کے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ علاقہ کی ممتاز سیاسی شخصیات بھی شریک ہوتی ہیں اور آزادیٔ کشمیر کی جد وجہد کے بارے میں اپنے جذبات کے اظہارکے ساتھ ساتھ دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری کی دینی خدمات کا تذکرہ اور اس کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتی ہیں۔ چنانچہ جمعرات کو ظہر کے بعد کی جس نشست میں مجھے اظہار خیال کی دعوت دی گئی اس نشست کی صدارت کشمیر کونسل کے رکن ڈاکٹر نجیب نقی کر رہے تھے اور مہمان خصوصی ریاست آزاد جمو ں وکشمیر کے صدر سردار محمد انور خان تھے، جبکہ سردار محمد سوار خان، سردار محمد حسین اور سردار ممتاز خان ایڈوکیٹ نے بھی اس نشست سے خطاب کیا اور یہ سب لوگ آزاد کشمیر اور خاص طورپر پلندری کے علاقے کی اہم سیاسی شخصیات ہیں۔ ان حضرات نے آزادیٔ کشمیر اور کشمیری مجاہدین کی جد وجہد کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہم آہنگی اور یک جہتی کا اعلان کیا، حضرت مولانا محمد یوسف خان کو ان کی ملی و دینی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا اور دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری کی مسلسل دینی جدوجہد کو سراہا ۔

سردار محمد سوار خان نے کہا کہ مولانا محمد یوسف خان نے صرف دینی و علمی میدان میں ہی اپنی شخصیت نہیں منوائی بلکہ تحریک آزادیٔ کشمیر میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقسیم ہند سے قبل ڈوگرہ سامراج کے خلاف کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد میں مولانا محمد یوسف خان نے قائدانہ کردار ادا کیا اور ڈوگرہ سامراج کے مظالم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں، پھر جب اس خطے کو ڈوگرہ سامراج سے آزادی دلانے کے لیے مسلح جدوجہد کا فیصلہ ہوا تو ’’وار کونسل‘‘ اسی درسگاہ میں قائم ہوئی جو آج دارالعلوم تعلیم القرآن کی شکل میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور اسی جہاد آزادی کے نتیجے میں آزاد جموں وکشمیر کی موجودہ ریاست قائم ہوئی۔

صدر آزاد کشمیر سردار محمد انور خان نے مولانا محمد یوسف خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دو باتوں کا بطور خاص تذکرہ کیا۔ ایک یہ کہ اس ماحول میں جبکہ پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل وقتال کا سلسلہ جاری ہے اور مسجدوں اور امام بارگاہوں میں حملے ہورہے ہیں، آزاد کشمیر اس فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد سے پاک ہے، ان کے نزدیک اس کی بڑی وجہ مولانا محمد یوسف خان کی شخصیت اور ان کا حلم و تدبر ہے جو آزاد کشمیر میں فرقہ وارانہ تشدد کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مولانا موصوف کے ایثار کا بھی اس میں دخل ہے، اس پر سردار محمد انور خان نے ایک واقعہ سنایا کہ آزاد کشمیر میں اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل پر بعض حلقوں کی طرف سے اعتراض سامنے آیا کہ کونسل میں بعض مسالک کی نمائندگی زیادہ ہے اور ان کی کم ہے تو اس پر حضرت مولانا محمد یوسف خان نے کسی کے کہے بغیر خود اپنا استعفیٰ حکومت کو بھجوا دیا کہ جن حلقوں کو نمائندگی کم ہونے پر اعتراض ہے میری جگہ ان کے کسی بزرگ کو مقرر کر کے اعتراض دور کر دیا جائے۔ یہ مولانا موصوف کا ایثار تھا مگر کم و بیش سب حلقوں نے ان کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کونسل میں ان جیسی علمی ودینی شخصیت کی موجودگی نہایت ضروری ہے۔

سردار محمد انور خان کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور وہ پاک فوج میں میجر جنرل کے منصب پر فائز تھے جہاں سے استعفیٰ دے کر وہ سیاست میں آگئے اور ریاست جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔ میرا خیال تھا کہ مخصوص فوجی مزاج اور کروفر ابھی تک ان کی شخصیت کا حصہ ہوگا مگر یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ وہ فوج میں میجر جنرل کے منصب تک پہنچنے کے باوجود اپنی علاقائی اور خاندانی روایات سے پوری طرح وابستہ ہیں، وہ جس سادگی کے ساتھ جلسہ گاہ میں آئے، جس بے تکلفی کے ساتھ پوری نشست میں بیٹھے رہے اور جس اعتماد کے ساتھ ریاستی اور ملی مسائل پر گفتگو کی اس سے یہ قطعی طور پر محسوس نہیں ہوتا کہ وہ سیاست میں نووارد ہیں اور ان کی سیاسی عمر صرف چار سال کے عرصہ پر محیط ہے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حوالے سے گفتگو کی اور آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا۔ عالم اسلام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت عالمی یلغار کی زد میں ہیں جو سیاسی بھی ہے، عسکری بھی ہے اور تہذیبی بھی ہے۔ معاشی اور عسکری محاذوں پر اس وقت ہم کمزور حالت میں ہیں اور یلغار کرنے والوں کو بالادستی حاصل ہے لیکن فکری محاذ پر ہم کمزور نہیں ہیں اور اس یلغار کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کر سکتے ہیں البتہ اس محاذ پر ہماری پوری توجہ نہیں ہے جبکہ اہل علم و دانش کو سنجیدگی کے ساتھ اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ آزادیٔ کشمیر کی جد وجہد کی تازہ ترین صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دو باتیں بنیادی اور ضروری ہیں۔ ایک یہ مقبوضہ کشمیر کے عوام جس جبروتشدد کا شکار ہے اس سے ان کو نجات دلائی جائے اور بھارتی فوج کو مقبوضہ کے شہروں، بستیوں اور آبادیوں سے نکال کر چھاؤنیوں میں بھجوایا جائے۔ عالمی برادری کو اس سلسلہ میں کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت سے کہنا چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی آبادیو ں سے فوج کونکالے۔ دوسری بات یہ کہ کشمیر کے مسئلہ کا کوئی ایسا حل قبول نہیں کیا جائے گا جس میں کشمیری کی مرضی شامل نہ ہو، کشمیر ی عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کیا جانے والا کوئی بھی حل کامیاب نہیں ہوگا۔

دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری کے اس جلسہ میں سیاکھ ضلع میر پور کے مولانا مسعود الحق سیاکھوی سے ملاقات ہوئی اور ان سے اس ’’آپریشن‘‘ کی کچھ تفصیلات معلوم ہوئیں جو گزشتہ ہفتہ کے دوران اسامہ بن لادن کی تلاش میں سیاکھ کی بستی اور اس کی قدیم درسگاہ میں کیا گیا۔ سیاکھ منگلا ڈیم کے کنارے ایک پرانی بستی ہے جہاں مولانا محمد ابراہیم سیاکھویؒ نے ایک عرصہ تک عوام کی دینی رہنمائی کی۔ وہ بزرگ عالم دین تھے جنہیں نہ صرف اس علاقہ میں بلکہ پورے کشمیر میں احترام اور رہنمائی کا مقام حاصل تھا، ان کے بھائی مولانا عبد اللہ سیاکھویؒ کشمیر کے بڑے خطباء میں شمار ہوتے تھے اور ڈوگرہ استعمار کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد اور پھر آزادیٔ کشمیر کی تحریک میں ان کا کردار نمایا ں ہے۔ منگلا ڈیم کے قیام بعد جب علاقے کی ایک بڑی تعداد نے نقل مکانی کی تو مولانا محمد ابراہیم سیاکھوی کے فرزند مولانامنظور عالم برطانیہ چلے گئے جہاں وہ نوٹنگھم میں مسلمانوں کی دینی وعلمی خدمت کرتے رہے۔ انہی کے فرزند مولانا رضاء الحق سیاکھوی نو ٹنگھم اور شیفلڈ میں ’’جامعہ الہدیٰ‘‘ کے نام سے دو بڑے تعلیمی ادارے چلارہے ہیں جو برطانیہ کے بڑے دینی اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ مولانا مسعود عالم سیاکھوی ان کے چھوٹے بھائی ہے، دارالعلوم پلندری کے فضلاء میں سے ہیں، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بھی پڑھتے رہے ہیں، وہ اور ان کی اہلیہ دونوں برطانوی نیشنلٹی رکھتے ہیں لیکن انہوں نے برطانیہ کی پر سہولت زندگی پر اس بات کو ترجیح دی ہے کہ وہ منگلا ڈیم کے کنارے پر واقع بستی سیاکھ میں اپنے دادا کے قائم کردہ مدرسہ کو آباد رکھیں۔ چنانچہ سالہاسال سے وہ اس مسجداور مدرسہ کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں اور مدرسہ کی تعمیر و ترقی میں شب وروز مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتہ قبل اچانک صبح کے وقت سینکڑوں افراد نے ان کے مدرسہ پر دھاوا بول دیا جن میں خفیہ ایجنسیوں کے علاوہ غیر ملکی افراد بھی شامل تھے۔ وہ کئی گھنٹے مدرسہ کی تلاشی لیتے رہے، انہوں نے اساتذہ اور طلبہ کو ہراساں کیا اور خوف و ہراس پھیلایا ، ان کا کہنا تھا کہ ان کو فراہم کی جانے والی معلومات کے مطابق اسامہ بن لادن اس مدرسے میں چھپے ہوئے ہیں۔ مگر جب بسیار تلاش کے باوجود انہیں کچھ نہ ملا تو وہ خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے۔ جلسہ میں صدر آزاد کشمیر کی موجودگی میں دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری کے مہتمم مولانا سعید یوسف خان نے اس واقعہ پر شدید احتجاج کیا جس پر صدر آزاد کشمیر نے وعدہ کیا کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لیں گے اور اس کی تحقیقات کرائیں گے۔