حضرت مولانا محمد حیاتؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ اگست ۱۹۸۰ء

گزشتہ دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سابق امیر حضرت مولانا محمد حیاتؒ انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا محمد حیاتؒ کا نام آج کی نسل کے لیے شاید متعارف نہ ہو کہ وہ تعارف و مقبولیت کے مروجہ معیار پر پورے نہ اترتے تھے۔ نہ آواز میں کرارہ پن، نہ لباس میں کروفر، نہ بود و باش اور خورد و نوش میں بڑائی کی کوئی علامت۔ زندگی کے ہر پہلو میں سادگی، خلوص اور ایثار کا خوگر بھلا آج کے دور میں تعارف و مقبولیت کا زینہ کیسے طے کر سکتا ہے؟ لیکن جن لوگوں نے مولانا محمد حیاتؒ کو ریاضت و مجاہدہ کے اس دور میں دیکھا ہے جب وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر قادیان میں کفر و ارتداد کے خلاف مورچہ لگائے بیٹھے تھے، یا جن لوگوں نے قادیانی مناظرین کو مولانا محمد حیاتؒ کے بنے ہوئے دلائل کے جال میں بے بسی کے ساتھ تڑپتے پھڑکتے دیکھا ہے، یا جن لوگوں کو مولانا محمد حیاتؒ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے اور ان سے قادیانی دلائل کے تار و پود سے آگاہی حاصل کرنے کا موقع ملا ہے ان سے مولانا مرحوم کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ مخفی نہیں ہے۔

مولانا محمد حیاتؒ ایک اولوالعزم انسان تھے جنہوں نے علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی پیروی میں علمی محاذ پر قادیانیت کے تعاقب کو اپنا مشن بنایا اور پھر اپنا تمام تر علم و فضل، قوت و توانائی اور صلاحیتیں اس کے لیے وقف کر دیں۔ احرار کی قیادت نے انہیں قادیان میں اپنے مشن کے لیے بھیجا تو ان کی جرأت و استقامت نے ’’فاتح قادیان‘‘ کے خطاب کو ہمیشہ کے لیے ان کے سینے کا تمغہ بنا دیا۔ دیکھنے میں ایک بھولا سا جاٹ مگر عزم و ہمت کا پیکر یہ مرد درویش اپنے وقت کا عظیم مناظر تھا۔ ایسا مناظر کہ اس کا نام سن کر مخالف مناظرین کی روح کانپ جایا کرتی تھی۔ وہ ایسا استاذ تھا جس کی سادہ سی باتیں اور منطقی طرز کی گفتگو اپنے تلامذہ کے دلوں میں اعتماد و حوصلہ کا دریا موجزن کر دیتی تھی۔ جو اپنے شاگردوں کو دل کی گہرائی سے ابھرنے والی دعاؤں سے بھی نوازتا تھا اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اعزاز و اکرام سے بھی بہرہ ور کرتا تھا۔

استاذ محترم حضرت مولانا محمد حیاتؒ آج ہم سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن ان کی یاد دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی شفقت و مروت کے مناظر مجھ جیسے تلامذہ کی نگاہوں کے سامنے ہمیشہ گھومتے رہیں گے اور ان کی جرأت و استقامت کی روایات دعوت و عزیمت کی تاریخ میں ایک روشن باب کے طور پر محفوظ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے، ان کی لغزشوں پر قلم عفو پھیر دے اور ہم ناکاروں کو ان کی سادگی، خلوص اور ایثار کے عظیم ورثہ کا حقدار بنائے، آمین یا رب العالمین۔